کرونا وائرس کے تعلیم پر وار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرونا وائرس سے بچاؤ اس وقت پوری دنیا کے لئے چیلنج بن چکا ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کے مطابق کرونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث دنیا بھر میں 72 فی صد بچوں کی تعلیم متاثر ہوئی ہے۔ یونیسکو کہ مطابق دنیا بھر کے طالب علموں کی تعداد ڈیڑھ ارب سے زیادہ ہے۔

یونیسکو کے مطابق کورونا وائرس کی احتیاطی تدابیر کے پیش نظر 102 ممالک میں اسکول، کالج اور جامعات سمیت تعلیمی ادارے بند ہونے کے باعث 85 کروڑ سے زائد طلباء تعلیم سے محروم ہو کر گھروں تک محدود ہیں۔ اس کے باوجود تقریباً 100 ممالک میں تعلیم کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ یوں ایک اندازے کے مطابق اس وقت دنیا میں طلباء کی مجموعی تعداد کا نصف معمول کی تدریس سے محروم ہے۔

لاک ڈاؤن کے پیش نظر جہاں معیشت سمیت دیگر چیلنجز نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا وہیں تعلیمی شعبہ کو بھی ناقابل تلافی نقصان ہوا۔ تعلیمی اداروں کی بندش کا مسئلہ تمام ممالک کے لئے یکساں ہے مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ کرونا کے برعکس چھ ایسے ممالک بھی ہیں جنہوں نے تعلیمی ادارے ایک دن کے لئے بھی بند نہیں کیے، ان ممالک میں بیلاروس، ترکمانستان، تاجکستان، گرین لینڈ، نکاراگوا، پاپوانیوگنی شامل ہیں۔ حیران کن طور پر ایسے ممالک جہاں کرونا نے شدید متاثر کیا وہاں بھی جزو ی طور پر تعلیمی ادارے کھلے ہیں۔ بعض ممالک میں دنیا بھر سے زیادہ اموات دیکھنے میں آئی لیکن تعلیم کا سلسلہ نہ رک سکا۔

یقینی طور پر تعلیم کسی بھی ملک کی تعمیر و ترقی میں ریڑھ کی ہڈ ی کی حیثیت رکھتی ہے جن ممالک میں اس اہم فریضے کو غیر معمولی حالات میں بھی ترجیح دی جاتی ہے وہاں امن سکون خوشحالی ترقی مقدر بن جاتی ہے۔ ان ممالک نے آن لائن نظام تعلیم موجود ہونے کے باوجود ایس او پیز اور حفاظتی اقدامات اٹھا کر تعلیمی ادارے کھولے جو ان کی تعلیم سے متعلق اہمیت کی مثبت عکاسی کرتے ہیں۔ پاکستان میں سرکاری و نجی جامعات میں لاکھوں طلباء زیر تعلیم ہیں، لیکن گزشتہ دو ماہ سے ملک بھر کے تعلیمی ادارے لاک ڈاؤن کے باعث بند ہیں۔

حکومت کی جانب سے پہلے 31 مئی اور پھر 15 جولائی کو تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا ہے کہ نویں اور گیارہویں کلاسوں میں زیر تعلیم طلبا کو بالترتیب دسویں اور بارہویں جماعت میں سابقہ نمبرز کی بنیاد پر بغیر امتحانات پرموٹ کیا جائے گا اور جامعات کے طلبا آن لائن امتحانات دیں گے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے یہ اقدام اہل علم کے ذہنوں میں کئی سوال چھوڑ گیا ہے کہ اگر تعلیم ہماری بنیادی ترجیحات کا حصہ نہیں ہے تو تعلیمی تنزلی سے آنکھیں چرانا ہمارا شیوہ کیوں ہے، اگر ہم دنیا کے ممالک سے اپنا موازنہ کریں تو کوئی بھی پاکستانی جامعہ دنیا کی بہترین 500 جامعات کی فہرست میں شامل نہیں۔

حکومت کی جانب سے متبادل نظام تعلیم کے لیے جامعات کی سطح پر آن لائن کلاسوں کا انتخاب کیا گیا، اس ضمن میں طلبا کی جانب سے شدید رد عمل دیکھنے میں آیا جس کی بنیادی وجہ حکومت اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے میکنزم ترتیب نہ دیا جانا تھا کیونکہ ہم ترقی پذیر ملک کی حیثیت سے اس سسٹم کے لیے مکمل طور پر تیار نہ تھے۔ اسی پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت پنجاب کی جانب سے تعلیم گھر کیبل چینل اور آن لائن تعلیم کا ناکام پراجیکٹ شروع کیا گیا، جو آغاز میں ہی بری طرح ناکام ہو گیا ہے۔

کورونا کا جڑ سے صفایا ہونا فی الوقت ممکن نہیں، اس لیے اب کورونا کے ساتھ ہی زندگی گزارنے کی عادت ڈالنی ہوگی اور احتیاط کے ساتھ حوصلہ بھی رکھنا ہوگا لہٰذا دیگر شعبے کی طرح تعلیمی شعبے میں بھی کورونا کے بعد ایک بڑا انقلاب آنے والا ہے۔ بالخصوص اعلیٰ تعلیمی اداروں میں روایتی تعلیم کے جو طریقہ کار ہیں اس سے پرہیز کرتے ہوئے ایک نیا طریقہ کار اپنانے کا خاکہ شروع بھی ہوگیا ہے۔

اب جبکہ حکومت کی طرف سے نئے طریقہ تعلیم پر زور دیا جا رہا ہے اور کلاس روم درس و تدریس کی جگہ آن لائن تعلیم کا انتظام اور امتحان کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا ضروری قرار دیا جا رہا ہے تو ایسے وقت میں سب سے پہلے جامعات میں جدید ترین کمپیوٹر اور دیگر آلات کی فراہمی کے ساتھ آن لائن سسٹم کے بنیادی ڈھانچوں کو مستحکم کرنا ہوگا۔ یہاں اس حقیقت کا اعتراف بھی ضروری ہے کہ ملک کی سرکاری یونیورسٹیوں اور کالجوں میں اسی فی صد طلبہ دیہی علاقے کے متوسط اور کمزور طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور ان سبھوں کے پاس جدید ترین اسمارٹ فون سیٹ نہیں ہیں کہ وہ آن لائن یا دیگر سوشل میڈیا کے طریقہ کار کو اپنا سکیں۔

ایک بڑی دشواری یہ بھی ہے کہ دیہی علاقے کے طلبہ جو دیہات میں رہتے ہیں وہاں انٹرنیٹ کی سہولت نہ ہے، بالخصوص دیہی علاقے کی لڑکیوں کو آن لائن تعلیم یا پھر آن لائن امتحان تقریباً ناممکن ہے۔ اس لیے اگر اس کورونا کے بعد کی دنیا بدل رہی ہے اور تعلیمی شعبے میں بھی تبدیلی ضروری ہے تو اس سے پہلے بنیادی ڈھانچوں کو مستحکم کرنا ہوگا اور دیہی علاقے کے طلباء اور طالبات کو کم شرح پر اسمارٹ فون کی سہولت فراہم کرنی ہوگی او ر اس کے لیے حکومت کو ایک بڑے فلاحی بجٹ کا اہتمام کرنا ہوگا۔

سرکاری اور نجی سکولز میں حکومت کی طرف سے سینی ٹائزر اور ماسک کی فراہمی یقینی بنانی چاہیے۔ طلبا کو ایک فاصلے پر بیٹھا کر تدریس کا سلسلہ شروع کیا جائے۔

اب جب کہ بہت سے ممالک میں لاک ڈاؤن ختم ہو رہا ہے تو سکولز، کالجز اور یونیورسٹیز بھی کھل رہی ہیں۔ ایسے میں حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ تعلیمی نظام کو بھی تمام احتیاطی تدابیر کے ساتھ شروع کرے کیونکہ کرونا کے معدوم ہونے میں وقت لگے گا یا شاید یہ انسان کے مابین ہمیشہ رہے کیونکہ تاحال اس کی ویکسین کا کوئی پتا نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *