چابیاں
”آپ نے گھر کی چابیاں کہاں رکھی ہیں؟“
فریحہ نے اپنے شوہر سے پریشانی میں پوچھا۔
”یاد نہیں۔ ۔ ۔ ڈریسنگ ٹیبل پر ہی ہوں گی ، جہاں رکھا کرتا ہوں۔“
عرفان نے، جو گھر کے لاؤنج میں بیٹھا کتاب پڑھنے میں مصروف تھا، بیوی کی گھبراہٹ کی طرف دھیان نہ دیتے ہوئے، تسلی اور یقین کے ساتھ، نیم توجہی سے جواب میں گویا ہوا۔ ۔ ۔ اس کی نظریں کتاب کے اسی صفحے پر ہی رہیں۔ ۔ ۔
”وہاں نہیں ہیں۔ ۔ ۔
اسی لیے ہی پوچھا۔ ۔ ۔ ”
”وہیں ہوں گی ۔ ۔ ۔ اور کہاں جائیں گی۔ ۔ ۔
صفائی کے دوران ادھر ادھر ہو گئی ہوں گی ۔ ۔ ۔ یا پھر تم نے خود ہی ڈریسنگ ٹیبل کے خانے میں رکھ دی ہوں گی ۔ ۔ ۔ ”
عرفان نے جواب دیا۔
”ہر جگہ دیکھ چکی ہوں۔ ۔ ۔“
”مسئلہ کیا ہے؟ اچانک کیوں یاد آ گئی ہیں تمہیں میری چابیاں۔ ۔ ۔ ؟“
عرفان نے زیر مطالعہ کتاب بند کر کے ہلکی بیزاری سے فریحہ کی طرف متوجہ ہو کر پوچھا۔ ۔ ۔
”کچھ نہیں!“
فریحہ ادھ کہی بات کہہ کر، اندر کمرے میں چلی گئی اور گھر کے کام میں لگ گئی۔ ۔ ۔
اگلے دن شام کے وقت گھر سے باہر جانے کے لیے جب عرفان تیار ہو کر، ڈریسنگ ٹیبل سے حسب معمول اپنا پیسوں والا بٹوا، پین اور چشمہ اٹھا رہا تھا، تو فریحہ سے پوچھنے لگا:
”نظر آیا میرا کی چین۔ ۔ ۔ ؟“
فریحہ نے، جو کمرے میں بیٹھی سلائی کڑھائی میں مصروف تھی، جواب دیا:
”یہی تو کل میں بتا رہی تھی آپ کو۔ ۔ ۔“
”بتا تو رہیں تھیں۔ ۔ ۔ مگر اس کے بعد نظر نہیں آئیں کیا چابیاں؟“
”نہیں۔ ۔ ۔“
”کہاں گئیں۔ ۔ ۔ ؟“
”یہی تو پریشانی ہے۔ ۔ ۔“
”پریشانی کاہے کی۔ ۔ !
ڈھونڈھو ناں۔ ۔ ۔ یہیں کہیں ہوں گی ۔ ۔ ۔
گھر سے کہاں جائیں گی۔ ۔ !
یہ جو تم نے ڈریسنگ ٹیبل کے اوپر والے خانے میں آدھی دنیا لاد رکھی ہے ناں۔ ۔ ۔ اسی میں ہی کہیں اوپر نیچے ہوگئی ہوں گی ۔ ۔ ۔
میرے رومال اور یہ گھڑیاں وڑیاں ہٹا کر دیکھ لینا۔ ۔ ۔ ”
”دیکھ چکی ہوں۔ ۔ ۔ نہیں ہیں۔ ۔ !“
فریحہ نے پورے تیقن سے کہا۔
عرفان، جس کو اس وقت گھر سے باہر کسی کام سے جانا تھا، اس نے پھر بیوی کی فکر کو زیادہ سنجیدہ لینے کی زحمت نہیں کی اور گھر سے روانہ ہو گیا۔ ۔ ۔
”دروازہ بند کردو۔ ۔ ۔
آتا ہوں میں تھوڑی دیر میں۔ ۔ ۔ ”
اس گم ہونے والے ”کی چین“ میں شامل چابیوں میں عرفان کے دفتر کی ضروری چابیاں، گھر کے باہر والے دروازے کی چابی اور اپارٹمنٹ کی بلڈنگ کے صدر دروازے کی کنجیاں بھی تھیں۔ ۔ ۔ اس رات اس نے بیوی کی بات کو جزوی طور پر سنجیدہ لیا اور فریحہ سے اس وقت پوچھا، جب وہ کچن میں کام کر رہی تھی:
”سنو،
آخری دفعہ تم نے میری چابیوں کا چھلا کب دیکھا تھا! ؟ ”
”یاد نہیں ہے۔ ۔ ۔ شاید دو تین دن پہلے۔ ۔ ۔“
”پیر کی دوپہر کو جب میں آفس سے جلدی واپس آیا تھا تو گھر کا دروازہ میں نے ہی کھولا تھا۔ ۔ ۔ کیوں کہ تم اس دن شام کو میرے بعد گھر واپس آئی تھیں۔ ۔ ۔“
”ہاں۔ ۔ ۔“
فریحہ ہانڈی آدھے میں چھوڑ کر باورچی خانے سے لاؤنج تک آئی، جہاں بیٹھا عرفان اس سے بات کر رہا تھا۔
”اس دن تو چابیاں تھیں۔ ۔ ۔ میں نے خود گھر میں داخل ہو کر۔ ۔ ۔ جیب سے چابیاں، پین، بٹوا اور دیگر سامان نکال کر ڈریسنگ ٹیبل پر رکھا تھا۔ ۔ ۔“
عرفان نے کہا۔
”جی۔ ۔ ! اور اس کے بعد سے آپ آفس سے دو ہفتوں کی چھٹی پر ہیں۔ ۔ ۔ جس وجہ سے آپ کو چابیوں کی ضرورت ہی پیش نہیں آئی۔ ۔ ۔“
”ہاں ناں۔ ۔ ۔
اور اس درمیان میں گھر سے جس وقت بھی کسی کام سے باہر گیا ہوں، تو تم یا کوئی نہ کوئی گھر میں موجود ہوتا ہی ہے، اس لیے مجھے گھر کا دروازہ باہر سے بند کرنے کی ضرورت پیش ہی نہیں آئی۔ ۔ ۔ ”
”جی۔ ۔ !“
”سنیں۔ ۔ ۔
آپ کو غصہ تو آئے گا۔ ۔ ۔ مگر ایک بتاؤں! ؟ ”
فریحہ نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔ ۔ ۔
”بولو!“
عرفان نے متوجہ ہوتے ہوئے کہا۔ ۔ ۔
”مجھے معلوم ہے کہ آپ خوابوں پر یقین نہیں رکھتے۔ ۔ ۔ اور یہی کہیں گے کہ خواب تمام دن میں سوچی ہوئی باتوں کا چربہ ہوتے ہیں، مگر۔ ۔ ۔“
”مگر کیا۔ ۔ ۔ ؟“
عرفان تجسس سے مزید متوجہ ہو کر پوچھنے لگا۔ ۔ ۔
”مگر یہ کہ۔ ۔ ۔ میں نے کچھ دن قبل ایک خواب دیکھا تھا کہ آپ کی چابیوں کا پورا چھلا کہیں گم ہو گیا ہے اور ہم گھر کو باہر سے تالا لگا کر کہیں گئے ہیں۔ ۔ ۔ اور جب واپس آئے ہیں تو سارا گھر خالی ہے۔ ۔ ۔ یعنی آپ کی چابیاں باہر کہیں گر پڑی ہیں اور کسی اجنبی کو ہاتھ لگ گئی ہیں۔ ۔ ۔ جس نے موقع پاتے ہی ہمارے گھر کی چوری کر لی ہے اور سارا سامان چوری کر کے گھر کا صفایا کر لیا ہے۔ ۔ ۔“
فریحہ نے ڈر سے بھرپور لہجے میں شوہر کو اس خواب کا ماجرا سنایا۔ ۔ ۔
”تم بس مافوق الفطرت باتیں سوچ کر ہی پریشان ہوتی رہنا۔ ۔ ۔“
عرفان یہ خواب سن کر دل میں ہلکا گھبرایا بھی، مگر اس کے باوجود اپنے لہجے میں پر عزم تھا۔ ۔ ۔ (یا کم از کم اپنے آپ کو پر عزم محسوس کروا رہا تھا۔ )
”ہم عام لوگ ہیں۔ ہمارے خواب کوئی پیغمبروں کے خواب تھوڑی ہیں، جو ان میں بشارتیں اور اشارے ہوں۔ ۔ ۔ یہیں کہیں ہی ہوں گی چابیاں۔ ۔ ۔ فرصت میں ڈھونڈنا۔ ۔ ۔ مل جائیں گی۔ ۔ ۔ یا پھر بیڈ یا ڈریسنگ ٹیبل کے نیچے گر گئی ہوں گی ۔ ۔ ۔ کل کام والی آئے تو اسے کہنا جھک کر تلاش کر دے گی۔ ۔ ۔“
عرفان نے بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا۔ ۔ ۔
فریحہ گھبراہٹ کے باوجود پھر کھانا پکانے میں مشغول ہو گئی، مگر چابی کی پراسرار طور پر گمشدگی کا خوف دونوں کے ذہنوں میں ہر گزرتے لمحے کے ساتھ بڑھتا چلا گیا۔ فریحہ تو پہلے ہی اس بات پر آمادہ تھی کہ یہ خواب سچا ہے کہ چابیاں گم ہو گئی ہیں اور دعاگو بھی تھی کہ اس بات کا انجام خواب جیسا نہ ہو، جبکہ عرفان جیسے روشن خیال سیکولر سوچ کے مالک کو بھی، ناں چاہتے ہوئے بھی لاشعوری طور پر اس خوف نے گھیر لیا تھا کہ چابیاں اچانک کہاں جا سکتی ہیں۔ اس حد تک کہ اب رات کو سونے سے پہلے بھی کتنی دیر تک اس بابت سوچنا اس کا معمول بن گیا۔
عرفان بھی اپنے طور پر گھر میں ممکنہ مقامات پر چابی کی تلاش کے لیے ہاتھ پاؤں مارتا رہا، مگر اسے کہیں بھی چابیاں نہیں ملیں۔
اس گمشدگی کو دسواں دن تھا کہ گھر کے تمام افراد کو رشتہ داروں کے گھر بیک وقت جانا پڑا۔ سب کا جانا ضروری بھی تھا اور یہ ممکن نہیں تھا کہ کسی بھی ایک فرد کو گھر میں رکنے کو کہا جائے۔ عرفان کے لاشعور میں بسے ہوئے خوف نے اسے مجبور کیا کہ گھر کا تالا باہر سے نہ لگایا جائے، جس کی ڈپلیکیٹ کنجیاں تو موجود تھیں، جو فریحہ کے ’کی چین‘ میں تھیں، مگر عرفان کے دل میں یہ ڈر بیٹھ چکا تھا، کہ اگر اس خواب کی تعبیر کے عین مطابق اس کی چابیاں واقعی گھر سے باہر گر گئی ہیں، یا کسی نے جان بوجھ کر چرائی ہیں، تو پھر وہ چور ایسے کسی موقع کی تلاش میں ضرور ہوگا، کہ گھر کے سب افراد گھر کو تالا لگا کر کہیں جائیں اور وہ اپنی کارروائی کر سکے۔ اس لیے اسے یہ خوف تھا کہ چابیوں کی اس گمشدگی کا کلائمیکس بھی ہوبہو خواب ہی کی طرح نہ ہو۔ اس ڈر کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس نے بیوی سے کہا:
”سنو۔ ۔ ۔
آنٹی پڑوسن سے کچھ گھنٹوں کے لیے اس کے گھر کا تالا اور چابی تو لے آؤ! ؟ ”
”کیوں! ؟“
فریحہ نے پوچھا۔ ۔ ۔ جو روانگی سے پہلے والی تیاریوں میں مصروف تھی۔
”بس۔ ۔ ۔
وہ تالا لگا کر چلتے ہیں باہر والے دروازے کو۔ ۔ ۔ ”
”لگ رہا ہے نہ آپ کو بھی ڈر؟
صرف مجھے کہتے ہیں کہ خواب جھوٹے ہوتے ہیں۔ خوابوں پر اعتبار مت کیا کرو۔ ۔ ! ”
”بس ٹھیک ہے ناں۔ ۔ ۔
بحث مت کرو۔ ۔ ! لے آؤ تالا۔ ۔ ۔ اور اس کی چابی۔ ۔ ۔ ”
فریحہ نے پڑوسن کا دروازہ کھٹکھٹایا، جو اپنے گھر میں اپنی نوکرانی کے ساتھ اکیلی رہتی تھی۔ عرفان اور سب گھر کے افراد اپنے گھر کے صدر دروازے کو پڑوسیوں کا تالا لگا کر، تسلی سے اپنے رشتہ داروں کے گھر روانا ہو گئے اور رات کو بخیر واپس آ گئے۔ ۔ ۔
اب عرفان بھی جاگتے خواہ سوتے اپنی گمشدہ چابیوں کے حوالے سے سوچنے اور تصور کرنے لگا اور اس کے ذہن میں اس حوالے سے عجیب عجیب خیالات آنے لگے۔
آج اتوار کا دن تھا۔ ۔ ۔ چابیوں کا چھلا گم ہوئے آج لگ بھگ دو ہفتے بیت چکے تھے اور آج عرفان کے آفس سے چھٹی کا بھی آخری دن تھا۔ کل سے اسے دفتر جانا تھا۔ اگر آج اس کی چابیاں نہ ملتیں، تو اسے کل آفس میں بہت مشکل پیش آتی، کیونکہ اس کے دفتر کے کمرے اور تمام درازوں کی چابیاں اسی ایک ”کی چین“ میں تھیں۔ اتوار ہونے کی وجہ سے وہ دیر میں اٹھا، جبکہ فریحہ ہمیشہ کی طرح جلدی اٹھ کر گھر کے کاموں میں مصروف ہو گئی تھی اور ہر اتوار کی طرح وہ گھر کی تفصیلی صفائی میں محو تھی۔
عرفان صبح گیارہ بجے کے قریب جاگا۔ ۔ ۔ کمرے کی لائٹ آن ہونے اور بیگم کی جانب سے کی جانے والی صفائی کے دوران ہلکی پھلکی آوازوں سے اسے بیداری ہوئی۔ کچھ دیر کی ہلکی پھلکی جنبش کے بعد اس نے زبردستی اپنی آنکھیں کھولنے کی کوشش کی۔ ۔ ۔ انگڑائی لیتے ہوئے ایک بڑی جمائی لیتے ہوئے، اس نے ادھر ادھر دیکھا۔ ۔ ۔
فریحہ نے جب عرفان کو بیدار ہوتا ہوا دیکھا، جو کافی دیر سے شوہر کے جاگنے کا انتظار کر رہی تھے اور اس وقت ڈریسنگ ٹیبل کا شیشہ صاف کر رہی تھی، تو شوہر کی جانب مسکرا کر متوجہ ہوئی۔
عرفان نے ادھ کھلی آنکھوں سے چپ ہی چپ میں بیگم سے اس کے بے وقت مسکرانے کی وجہ پوچھی، تو فریحہ نے بغیر کچھ کہے دور سے اسے اپنے دائیں ہاتھ میں پکڑی گمشدہ چابیوں کا ”کی چین“ لہراتے ہوئے دکھایا۔
عرفان تسلی اور خوشی سے بیڈ پر جھٹ سے اٹھ کر بیٹھ گیا۔
ٹھنڈا سانس لیا۔ ۔ ۔ اور کچھ کہنے اور پوچھنے کے بجائے اس کی زبان سے بس یہی جملہ نکلا: ”کہاں سے ملیں؟“
”آپ کی جینز کی پیچھے والی جیب میں پڑی تھیں۔ آج واشنگ مشین لگائی اور کپڑے دھونے کے لیے نکالے تو ملیں۔ ۔ ۔“
”اور جینز کہاں تھی؟“
”لانڈری باکس میں۔ ۔ ۔“
عرفان نے اپنی ذرا سی بات بھولنے کے نتیجے میں اتنے دن خواہ مخواہ پریشان رہنے والی بیوقوفی پر اپنا ہاتھ اپنے سر پر مارا اور کمرے میں عرفان اور فریحہ کے قہقہے گونجنے لگے۔


