کرنل کی بیوی: تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مادر وطن میں چیک پوسٹوں کی اتنی بہتات ہے کہ بعض اوقات یہ چیک پوسٹوں کا دیس لگتا ہے۔ قومی شاہراہوں، بین الصوبائی شاہراہوں اور اندرون شہر شاہراہوں پر رکاوٹیں اور تحکمانہ انداز میں پوچھ گچھ، سامان تلاشی، جامہ تلاشی اور گاڑی تلاشی دیکھ کر انسان اپنے آپ کو ایک اجنبی، جاسوس اور خطرناک مفرور تصور کرنے لگتا ہے۔ صرف راولپنڈی اور اسلام آباد اور اس کے گردونواح میں سو سے اوپر چیک پوسٹیں ہیں جہاں پر موجود اہلکار شہریوں کا جینا دوبھر کیے ہوئے ہیں۔

گزشتہ دنوں مانسہرہ موٹر وے پر رونما ہونے والے کرنل کی بیوی کے واقعہ کی حقیقت کیا ہے؟ یہ تو تحقیقات کے بعد پتہ چلے گا۔ اس بات پر بھی کوئی دو رائے نہیں کہ ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکاروں کے ساتھ بد تمیزی نہیں ہونی چاہیے تھی۔ قانون کا احترام بہر حال واجب ہے۔

مگر اس حقیقت سے کس کو انکار ہے کہ ملک پاکستان کا آئین، شق نمبر 15 کے تحت ہر شہری اپنے ملک کے اندر آزاد نقل و حرکت ک کا حق رکھتا ہے۔ اس کے بر عکس جس شخص کو جہاں چاہے رینجر یا پولیس روک لے، پوچھ گچھ شروع کر دے آپ کو واپس گھر لوٹا دے۔ بعض اوقات منہ سونگھا جاتا ہے اور شریف خواتین سے نکاح نامہ تک مانگا جاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے ہمارے ملک میں پولیس کی حکومت ہو۔ کیا ملک پاکستان ایک پولیس سٹیٹ ہے؟

لوگوں کی آمد و رفت کے راستے کھلے رکھنے سے قومی سلامتی کو کیا خطرہ لا حق ہو جاتا ہے۔ اور اگر بالفرض ایسا کرنا اشد ضروری ہے تو کیا عوام الناس کو یہ حق حاصل نہیں کہ کم از کم ان کو اس کی آگاہی دی جائے؟

مانسہرہ موٹر وے پر زیر نظر واقعہ کے حوالے سے کیا ایسا کوئی نوٹییفیکیشن وفاقی یا صوبائی حکومت کی طرف سے جاری کیا گیا تھا کہ فلاں اور فلاں شاہراہ اتنے سے اتنے بجے تک بند کر دی گئی ہیں؟ اور شہریوں کو سفر کرنے کے لیے کوئی متبادل راستہ دیا گیا تھا۔ اور کیا شاہراہ پر ہر شہر کی طرف سے داخلے کے راستے پر کوئی اطلاعی تختی نصب کی گئی تھی؟

اگر ان سوالات کا جواب نفی میں ہے تو پھر جو شہری سڑک استعمال کرنے کا ٹیکس دیتے ہیں انھیں اس کو استعمال کرنے کا پورا حق ہے جو نہ ملنے کی صورت میں ایسے واقعات ہونا قدرتی امر ہے۔

اگر ایسا نہیں کیا گیا تو کیا ریاست یہ سمجھتی ہے کہ عام شہری یا تو بھیڑ بکری ہیں یا مال ڈنگر جن کو جب چاہیں جہاں چاہیں روک لیں، ہانک لیں، واپس گھر کی طرف لوٹا دیں یا ادھر ہی باندھ لیں؟

میں اکثر سوچتا ہوں کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہماری مجموعی قومی نفسیات میں شدت پسندی، اذیت پسندی اورتکبر تیزی سے فروغ پا رہا ہے؟ میں ایسا کیوں سوچتا ہوں؟

اس لیے کہ آئے روز میں اپنے اردگرد اس کے مظاہر دیکھتا ہوں۔

آپ اپنے کسی شہر کے تفریح پارک میں چلے جائیں، آپ کو پارک کے ارد گرد جو لوہے کی جیفری نظر آئے گی اس کے اوپر نوکدار سلاخیں نصب ہوں گی ۔ حالانکہ اگر اس کو نوک دار کی بجائے ہموار رکھا جائے تو پھر بھی وہ حفاظتی حصار کا کام کرے گی۔ میں جب حیدرآبادچھاؤنی میں تعینات تھا تو میرا دس سالہ بیٹا ایک ایسے پارک میں فٹ بال کھیلتے ہوئے اس جیفری پر گرا اور لوہے کی سلاخ اس کی ران کا گوشت ادھیڑتے ہوئے پار ہو گئی تھی۔

اسی طرح اہم جگہوں جیسے راولپنڈی میں جناح پارک، بحریہ ٹاؤن کے اندر اور پی سی ہوٹل جیسی جگہوں پر گاڑیوں کو غلط سمت میں جانے سے روکنے کے لیے روڈ کے اندر سے ایک چھریوں کاپلیٹ فارم باہر آتا ہے جن کی نوکیں آپ کی طرف ہوتی ہیں۔ اگر غلطی سے کسی گاڑی کے ٹائر اس کے اوپر آ جائیں تو اتنی بری طرح پھٹتے ہیں کہ ان کی مرمت بھی نہیں ہوسکتی۔ کیا ایسا کسی مہذب ملک میں ہوتا ہوگا؟

باڑ دار آہنی تار تو آپ نے اکثر گھروں کی دیواروں پر نصب دیکھی ہوگی۔ مگر اب اذیت پسند جذبے کے تحت اس کو چھوٹے چھوٹے ننھے بلیڈوں سے آراستہ کر دیا گیا ہے۔ اور شاید آپ نے یہ بھی دیکھا ہو کہ اکثر گھروں کی باؤنڈری وال کے اوپر شیشے کے نوکدار ٹکڑے لگا دیے جاتے ہیں۔ حالانکہ چور ڈاکو ان پر پاؤں رکھ کر تو اندر ڈاکہ ڈالنے نہیں آتے۔ اسی طرح بعض گھر والے باؤنڈری وال پر تانبے کی تار لگا کر اس میں بجلی کا کرنٹ دوڑا دیتے ہیں۔ حالانکہ جس نے ڈاکہ ڈالنا ہوگا وہ سب سے پہلے گھر کے باہر نصب بجلی کے مین سوئچ کو بند کیوں نہ کرے گا؟ اسی طرح کسٹم حکام ائرپورٹوں پرہمارے سامان کی تلاشی اس طرح لیتے ہیں جیسے ہم ایک غریب مسافر نہیں بلکہ کوئی بہت بڑے سمگلر ہوں۔

ہمارے ہٹ دھرمی اور نخوت پسندانہ رویے کی جھلک عید سے دو دن قبل کراچی ائر پورٹ پر دیکھنے میں آئی جب بد قسمت ائر بس کے پائلٹ نے بیلی لینڈنگ کی اجازت ملنے اور لینڈ کر جانے کے باوجود طیارے کو دوبارہ ٹیک آف کروایا اور فضا میں بلند ہو کر خراب شدہ فرنٹ لینڈنگ گیئر سے لڑنے لگا۔ اس وقت تک طیارے کے دونوں انجن پہلی بار رن وے سے ٹچ ہونے کی وجہ سے طاقت پیدا کرنا چھوڑ چکے تھے۔ پھر جو ہوا اس پر پورے ملک میں عید کے تہوار پر بھی صف ماتم بچھی ہوئی ہے۔

اسی طرح ایک وفاقی وزیر کے عید فطر کے دن کے بارے میں اعلان کے باوجو د روئیت ہلال کمیٹی اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہی۔ اور اعلان کر کے عوام کی جان چھوڑی ہے۔ حالانکہ کس جگہ چاند نظر آ رہا ہے اور کس جگہ چاند نظر نہیں آ رہا یہ قطعاً مذہبی مسئلہ نہیں، بلکہ علم فلکیات کا مسئلہ ہے۔

مہنگائی، بے روزگاری اور وبا نے ویسے بھی لوگوں کی زندگی اجیرن کی ہوئی ہے۔ عوام گھروں میں بند رہ رہ کر تنگ آچکی ہے۔ لوگ نفسیاتی مریض بن رہے ہیں۔ ایسے میں بلا وجہ کی سفری رکاوٹیں اور عمومی شدت پسندانہ روئیے، لوگوں کی نفسیات میں ہسٹیریائی کیفیات پیدا کر رہی ہیں۔ لہٰذا ارباب اختیار سے گزارش ہے کہ عام آدمی کی زندگی آسان بنائیں۔ بلا وجہ کی رکاوٹیں جن سے عام شہری کی زندگی اجیرن ہو ختم کر دیں۔ تا کہ عام لوگ نفسیاتی امراض سے بچیں کیونکہ ایک جسمانی اور ذہنی طور پر لاغر قوم کبھی نہیں بڑھ سکتی۔

کھیل تماشے، میلے، تھیلے، سینما رقص، موسیقی اور تھئیٹر کو فروغ دیں۔ یقین مانیں اس پر کوئی زیادہ بجٹ نہیں اٹھے گا۔ اور بہت سے بزنس مین اس شعبے کی طرف آئیں گے۔ البتہ اگر آپ اب کھیلوں اور فرحت بخش تفریح کے سامان کو لہو و لعب اور شیطانی کام سمجھنے لگ گئے ہیں تو پھر قوم کا اللہ ہی حافظ ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *