ڈاکٹر ظفر مرزا کی لاک ڈاؤن دھمکی، عوامی ردعمل اور شاہ جی کی فکر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

” یہ قصہ ہے تین درویشوں ( ڈاکٹر ظفر مرزا، پاکستانی عوام اور شاہ جی) کا جو اپنی دنیا میں بستے ہیں، مگر ایک دوسرے سے کسی نہ کسی اعتبار سے جڑے ہوئے ہیں۔“

ابھی ابھی خبر ملی ہے کہ ڈاکٹر ظفر مرزا (معاون خصوصی برائے صحت ) نے عید الفطر کے موقع پر عوام کے غیر ذمہ دارانہ رویے کو دیکھتے ہوئے عندیہ دیا ہے کہ اگر عوام نے اپنی روش تبدیل نہ کی تو وہ ایک دفعہ پھر سے سخت قسم کا لاک ڈاؤن لگا دیں گے۔

اس خبر کو پڑھتے ہی شاہ جی کافی پریشان ہو گئے، چونکہ شاہ جی اک حساس طبیعت کے مالک ہیں اور عوام کا درد بھی رکھتے ہیں لہٰذا سوچنے لگے کہ کیوں نہ اس دفعہ عوام سے ان کی رائے لاک ڈاؤن سے پہلے ہی لے لی جائے اور کوشش کر کے اسے ارباب اختیار تک بھی پہنچا دیا جائے تاکہ لاک ڈاؤن کے مضرات سے عوام کو حتی الامکان بچایا جاسکے۔ اسی سلسلہ میں شاہ جی نے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد سے اک ملاقات کا اہتمام کیا۔ ان میں سے چیدہ چیدہ افراد کے ساتھ کی گئی گفتگو شامل ہے۔

طالب علم سے گفتگو ؛

شاہ جی: ”بیٹا مجھے آپ کے تعلیمی نقصان کا اندازہ ہے، کیا آپ بتانا پسند کریں گے کہ اس لاک ڈاؤن نے آپ کی تعلیم کا کس طرح سے حرج کیا؟“

طالب علم : جی میں تو انتظار کر رہا ہوں کہ میں کب 18 سال کا ہوں اور شفقت محمود صاحب کو نہ صرف خود ووٹ دوں بلکہ تمام طلبا و طالبات کو بھی اس بات کی ترغیب دوں۔ ہم نے تو کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ پڑھنا اتنا آسان ثابت ہوگا، نہ کلاسز کی جھنجھٹ اور نہ ہی امتحان کا خوف اور اگلی کلاس میں پروموٹ بھی ہو گئے، ہم طلبا و طالبات کا مطالبہ ہے کہ حقیقی نتائج حاصل کرنے کے لئے لاک ڈاؤن کم ازکم 5 ایک سال کے لئے مزید بڑھا دینا چاہیے۔ لگے رہو منا بھائی۔

سرکاری ملازم سے گفتگو؛

شاہ جی: آپ چونکہ ایک سرکاری ملازم ہیں، لہٰذا آپ کے کام اور ذمہ داری تو مزید بڑھ گئی ہوگی اس لاک ڈاؤن کی وجہ سے؟

سرکاری ملازم: کچھ نہ پوچھیں جناب، پہلے آفس چلے جایا کرتے تھے، دوستوں سے صبح صبح حال احوال پوچھ لیتے تھے، ساتھ چائے کے دور بھی چلتے (سرکاری خرچ پر ) تھے، حکومتی امور پر تبادلہ خیال کیا کرتے تھے، پھر چھٹی کا انتظار۔ لیں جناب اب تو بس وہ بیتے دن ہی ہو گئے، مگر سچ پوچھیں تو عیاشی ہوگئی ہے ہماری۔ کام تو پہلے بھی کچھ خاص نہ کرتے تھے مگر دفتر ضرور جانا پڑتا تھا حاضری لگانے کے واسطے، اللہ زندگی دے ظفر مرزا صاحب کو کہ ہماری نوکری بھی ہے، جاتے بھی نہیں اور تنخواہ بھی باقاعدگی سے مل رہی ہے۔ یعنی ”آم کے آم گٹھلیوں کے دام“۔

دکانداروں سے گفتگو؛

شاہ جی : مجھے اندازہ ہے کہ آپ وہ طبقہ ہو جس نے سب سے زیادہ مشکلات دیکھی ہیں اس لاک ڈاؤن کی وجہ سے؟

دکاندار: روتے ہوئے، شاہ جی مت پوچھئے۔ کلیجہ منہ کو آتا ہے، پہلے پہل تو بہت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا سمجھ ہی نہ آتی تھی کہ کیا کریں، مگر پھر آخرکار ہم نے بھی ”جگاڑ“ نکال لی۔ یعنی شٹر اٹھاؤ اور شٹر گراؤ۔ نہیں سمجھے؟ آئیں میں سمجھاتا ہوں آپ کو، وہ کیا ہے کہ ہم اپنی دکانوں کے باہر کھڑے ہو جاتے ہیں، جونہی کوئی گاہک آتا نظر آتا ہے فوراً سے شٹر اٹھاتے اور اسے اندر داخل کردیتے ہیں اور شٹر پھر سے نیچے گرا دیتے۔

ایمانداری کی بات ہے، اس سے کام میں بڑی برکت ہوئی ہے، عام دنوں میں تو گاہک کو اگر اپنی مطلوبہ شے نہ ملتی تو وہ بڑے سکون سے کہیں اور چلا جاتا تھا، مگر اب تو ہم اسے کچھ نہ کچھ بیچ کر ہی دکان سے نکالتے ہیں۔ اللہ بھلا کرے حکومت کا، اس لاک ڈاؤن کی بدولت ہمیں کاروبار کرنے کا اک نیا ڈھنگ آ گیا اور مزے کی بات بتاؤں ایف بی آر والے چکر سے بھی چھٹی۔ ویسے میرے گھر کے 4 افراد ”احساس“ پروگرام میں بھی شامل ہیں۔

پولیس سے گفتگو؛

شاہ جی: ارے کوتوال صاحب، ان دنوں آپ کی ڈیوٹی بہت سخت ہو چلی ہے۔ لاک ڈاؤن کے حکومتی اعلان کے بعد تو اب آپ پہلے سے بھی زیادہ مصروف ہو گئے ہیں۔ حکومت لاک ڈاؤن کو ایک دفعہ پھر سے انتہائی سختی کے ساتھ نافذ کرنے کا سوچ رہی ہے۔ آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟

کوتوال صاحب: بس کچھ مت پوچھئے شاہ جی، ہماری عوام نہیں سنتی، مگر میں نے بھی ایسا ڈنڈا گھمایا ہے کہ آپ کی سوچ ہے۔ جی جی بتلاتا ہوں آپ کو۔ سنیں تو ذرا۔ جوں ہی حکومت نے ہر قسم کی معاشی اور معاشرتی پابندی عائد کی، میرا مولا جٹ بھی گھوم گیا۔ ہم نے جرمانے تو کیے ہی (کسی کو اب آپ بتا نہ دیجئے گا یہ بات ) ، اس کے ساتھ ساتھ حوالات کی سیر الگ کروائی اور ضمانت تو ہم کسی کی قبول ہی نہیں کرتے سوائے بانی مملکت خداداد کے۔ اللہ کا بڑا فضل ہے جی، میں تو کہتا ہوں کے حکومت کو چاہیے کہ لاک ڈاؤن لگا دے دوبارہ، الحمدللہ میرا گھر بھی اب تکمیل کے آخری مراحل میں پہنچ چکا ہے۔ گھر کی فنیشنگ میں بھی کوئی کسر باقی نہیں رہنی چاہیے، بس آپ دعا کریں کے جلد لاک ڈاؤن شروع ہو جائے۔

بڑے کاروباری حضرات سے گفتگو؛

شاہ جی: سیٹھ صاحب آپ نے بڑی ہمت اور حوصلے کا مظاہرہ کیا ہے، مجھے اندازہ ہے کہ آپ کا بہت نقصان ہوا ہے، اب آپ کیا ارادہ رکھتے ہیں۔ اگر حکومت نے دوبارہ سے لاک ڈاؤن لگا دیا تو؟

سیٹھ صاحب: بس جی آپ تو جانتے ہی ہیں کہ ہم تو خدمت خلق پر ایمان رکھتے ہیں، ہم نے تو جب فیکٹری بند تھی اس وقت بھی اپنے ورکرز کا بہت خیال رکھا، راشن کے تھیلے بنا کر لوگوں کے گھروں میں پہنچائے۔ آپ بیشک میری تصاویر دیکھ لیں جو ان دنوں کی ہیں۔ جی جی حکومت نے ہمیں ایک پیکج بھی دیا ہے، الحمدللہ ہمارے کئی کروڑوں کے قرضوں کی ادائیگی آگے پڑ گئی ہے اور مزید چھوٹ بھی ملنے کا امکان ہے۔ آپس کی بات ہے اتنی بچت اور آسانی تو کاروبار کے دنوں میں بھی نہ تھی جیسی اب ہے اور پھر ایف بی آر والے چند سالوں تک فیکٹری کا رخ بھی نہیں کریں گے۔

خاتون خانہ سے گفتگو؛

شاہ جی: بہن آپ نہ صرف صبر والی ہیں بلکہ انتہائی مدبر بھی ہیں، آپ نے مشکل دنوں میں انتہائی دانشمندانہ طریقے سے گھر کا نظم و نسق چلایا ہے، مگر ابھی شاید آپ کو مزید امتحانات کا سامنا کرنا ہوگا۔ حکومت دوبارہ سے لاک ڈاؤن لگانے کی تیاری میں ہے، کیا یہ اک مناسب فیصلہ ہے؟

خاتون خانہ : بھائی صاحب بات بہت سیدھی سی ہے۔ مجھے تو لاک ڈاؤن کے صرف فوائد ہی ملے ہیں۔ اب یہی دیکھ لیں صبح صبح اٹھ کر بچوں کو اسکول کے لئے تیار نہیں کرنا پڑتا، چونکہ شوہر بھی گھر پر ہی ہیں لہذا ان کے ناشتے وغیرہ کا مسئلہ بھی نہیں۔ وہ سب کے لئے منے بھائی کے تندور سے ناشتہ لے آتے ہیں۔ قسم لے لیں اس سے زیادہ فراغت کے لمحات زندگی میں پہلے کبھی بھی نہ تھے۔ بلکہ میں تو حکومت کی انتہائی شکرگزار ہوں کے اس نے ہمیں دو دو تحفے دیے۔

ایک لاک ڈاؤن کی صورت میں اور دوسرا ارطغرل غازی کی صورت میں۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے پچھلے دو ماہ کا گھر کا کرایہ بھی معاف ہوگیا اور بجلی گیس کا بل بھی۔ ہم سارے گھر والے شام ہوتے ہی پی ٹی وی کے آگے آ بیٹھتے ہیں۔ بلکہ اب تو مجھے اپنے آپ میں حلیمہ سلطان دکھائی دیتی ہے اور رضوان کے ابا تو بالکل ارطغرل غازی جیسے ہو گئے ہیں۔ اور بھائی اگلی بات بتاتے مجھے ذرا شرم سی آ رہی ہے، وہ کیا ہے کہ رضوان کے ساتھ اب جلد ہی کوئی کھیلنے کے لئے بھی آنے والا ہے۔ اللہ قسم اگر یہ لاک ڈاؤن مزید ہوا تو ہماری فیملی بھی مکمل ہو جائے گی۔

چاچا خیر دین سے گفتگو؛

شاہ جی: چاچا میں بہت مایوس ہوا ہوں، شہر کے لوگوں سے۔ انہیں کوئی احساس ہی نہیں کے وہ کس خطرہ سے کھیل رہے ہیں۔ اسی وجہ سے میں گاؤں آیا ہوں آپ کے پاس۔ آپ نے تو اک زمانہ دیکھا ہے اور آپ کا تجربہ بھی بہت ہے۔ آپ کے خیال سے یہ کرونا کا مرض جس تیزی سے پھیل رہا ہے، ہم اپنے آپ کو اس سے کس طرح محفوظ رکھ سکتے ہیں؟

چاچا خیر دین: پتر تمہارے گھر میں کسی کو کرونا ہوا؟ خاندان میں؟ دوست احباب میں؟ رشتے داروں میں؟ نہیں نا۔ او کملیا ہمارے 4 گاؤں کی آبادی کل ملا کر 2 لاکھ کے قریب ہے۔ یہاں کسی کو بھی نہیں ہوا۔ تو ایسے ہی پریشان ہوتا ہے۔ ہمارا تو ایمان ہے کے ”جو رات قبر میں ہے وہ باہر نہیں“ ، لہذا ہم نہیں ڈرتے کرونا شرونا سے، تو بھی نہ ڈرا کر، آ جا تجھے اک دعوت میں لے کے چلوں، ککڑ، بکرا بھی ہے۔ پوری 500 لوگوں کی دعوت ہے، وہ اپنے چوہدری کا منڈا آیا ہے دبئی سے۔ اسی کی واپسی کی خوشی میں ہے یہ دعوت۔

امام صاحب سے گفتگو؛

شاہ جی: مولانا صاحب میری بات کوئی نہیں سمجھ رہا کہ یہ کرونا وبا انتہائی خطرناک ہے اور ہمیں خاص احتیاط کی ضرورت ہے۔ آپ ہی لوگوں کو کچھ سمجھائیں، یہ آپ کی بات سنتے اور مانتے ہیں۔ ہمیں اس وقت سماجی فاصلے قائم کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ اس وبا پر قابو پایا جاسکے۔

مولانا صاحب: میاں توبہ کرو، تم بھی یہودیوں کی زبان بولنے لگ پڑے ہو۔ یہ تو سازش ہی ان کی ہے۔ ذرا رکو میں تمھیں سمجھاتا ہوں۔ اصل میں یہودی نہیں چاہتے کہ ہم مسجد میں عبادت کریں، اسی لئے انہوں نے یہ بیماری پھیلائی ہے تاکہ لوگ گھروں میں نماز پڑھیں اور ہماری مسجدیں ویران ہوجائیں۔ مگر آفرین ہے لوگوں پر جو اس صیہونی اور یہودی سازش کا حصہ نہیں بنے، بلکہ اب تو نمازیوں کی تعداد مزید بڑھ گئی ہے۔

ڈاکٹر ظفر مرزا صاحب، آپ کی مخاطب ایک ایسی قوم ہے جس کی سوچ کی عکاسی اوپر ہوچکی ہے۔ میری مانیں بھول جائیں یہ لاک ڈاؤن وغیرہ کا چکر۔ نہ ہی آپ میں یہ صلاحیت ہے کہ آپ چائنا اور تائیوان جیسی انتظامیہ رکھتے ہوں اور نہ ہی ہماری قوم ان کی عوام جیسی ہے۔ ہمارا حال تو کلاس کے اس بچے جیسا ہے جو اپنا اسکول کا کام بھی نہیں کرتا اور انتظار کرتا ہے کہ کب اسے سزا کے طور پر کلاس سے باہر نکال دیا جائے اور اس کی بالکل ہی چھٹی ہو جائے۔

آپ سے درخواست ہے کی خدارا فیصلے کرتے وقت ہماری قوم کو سامنے رکھا کریں نہ کہ چینی اور تائیوانی اقوام کو۔ چلنے دیجئے معاملات کو جیسے چل رہے ہیں، اس قوم کو کسی ارسطو کی ضرورت نہیں، یہاں ہر گلی کے نکڑ پر اک افلاطون بیٹھا ہے۔ جائیں آپ بھی جا کر کے اک اچھی سی رپورٹ تیار کریں جو آنے والے وقت میں ہمیں قرض کی نعمت سے مالا مال کردے۔
فی امان اللہ!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *