زرتاج گل بمقابلہ فواد چوہدری

یہ دور سوشل میڈیا کا ہے اور اس بارے میں کوئی حتمی رائے یا اندازہ قائم کرنا قطعی ممکن نہیں کہ کب تک سوشل میڈیا کی حکمرانی انسانی اقدار اور اقوام کی سوچ پر حاوی رہے گی، البتہ یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ کم از کم مستقبل قریب میں اس کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ حقیقتاً بہت پرانے گم ہوئے روابط اسی سوشل میڈیا کی مرہون منت بحال ہوئے۔ بچپن کے ساتھی پچپن برس میں دوبارہ سے ایک

Read more

قاضی فائز عیسی کیس: قانون دیکھتا، سنتا اور بولتا ہے

”کون کہتا ہے کہ قانون اندھا ہوتا ہے، قانون کو نہ صرف دکھائی دیتا ہے بلکہ سنائی بھی دیتا ہے اور اگر یہ چاہے تو بہ آواز بلند اپنے وجود کا احساس بھی دلا سکتا ہے۔ ۔ ۔“ آصف زرداری، ڈاکٹر عاصم حسین، شرجیل میمن، نواز شریف، شہباز شریف، خواجہ برادران، آیان علی، رانا ثناءاللہ، ملک ریاض، فریال تالپور، اومنی گروپ، مفتی عبدالقوی، پشاور بی آر ٹی کرپشن کیس، پاکستان نیوی آبدوز کیس، شوکت ترین، جرنل (ر ) پرویز مشرف،

Read more

تعلیم کا حصول اور قوموں کی ترقی

ترقی یافتہ ممالک میں تعلیم صرف ذریعہ معاش کے لئے ہی نہیں بلکہ معاشرتی ترقی کے لئے بھی ایک اہم اور بنیادی جزو کی سی حیثیت رکھتی ہے۔ Covid 19 سے جہاں دنیا بھر کی دیگر سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں وہاں تعلیم کے شعبے کو بھی بے انتہا چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سب سے زیادہ متاثر طبقہ طالب علم ہیں، جنہیں اس عالمی وبا کی وجہ سے بے انتہا مشکلات درپیش ہیں۔ ۔ ۔ دنیا میں تمام

Read more

یونیورسٹی ڈگری اور قرآن کی شرط : ایک سیاسی فیصلہ

”اب کسی بھی طالب علم کو اس وقت تک یونیورسٹی کی ڈگری تفویض نہیں کی جائے گی، جب تک وہ قرآن کو ترجمہ کے ساتھ یونیورسٹی میں ہی مکمل نہیں پڑھ لے گا“
حکومتی اعلامیہ، پنجاب حکومت۔

ایک سوال جو کہ صدیوں سے دماغ میں اٹھ رہا تھا مگر اس کا کوئی مستند جواب نہ مل پاتا تھا، وہ یہ تھا کہ آخر ہم مسلمانوں کے زوال کی اصل وجہ کیا ہے؟ واللہ آج یہ خبر پڑھ کر اور اپنے کانوں سے سن کر مکمل یقین آ گیا کہ ہم مسلمانوں کے اس دنیا میں ذلیل و خوار ہونے کے اصل عوامل ہیں کیا۔

Read more

پوسٹ مارٹم رپورٹ

پوسٹ مارٹم رپورٹ 1
” آئندہ 20۔ 15 روز میں ہم ونٹیلیٹرز میں خود کفیل ہو جائیں گے“ ، فواد چوہدری۔

آج فواد چوہدری صاحب کے منہ سے یہ خبر سن کر سمجھ نہ آیا کی ہماری کیفیت کیا ہو رہی تھی، کبھی تو یوں محسوس ہوتا کہ دل بلیوں اچھل رہا ہے۔ خوشی کے مارے کہ اب موت سے نبرد آزما ہونے کے 20 % مواقع بڑھ گئے ہیں اور کبھی اس خوف سے روح کپکپانے لگتی کہ اب 80 % تیاری پکڑ لی گئی ہے حکومت کی طرف سے ان ونٹیلیٹرز کو دنیا کی سستی ترین جانیں سپرد کرنے کی۔

Read more

ہم بھیڑیے، ہم وحشی، ہم درندے

الفاظ نہیں ہیں میرے پاس کے اپنے جذبات کا اظہار کر سکوں۔ بلکہ شاید اپنے غم و غصہ کا یا پھر اپنی بے بسی کا۔
کئی دفعہ سمجھایا اپنے آپ کو کہ اب ایسا کچھ نہیں لکھوں گا، جو لوگوں کو اداس کردے، کیونکہ میرے اکثر قاری مجھ سے اس بات کا شکوہ کرتے ہیں کہ میں انہیں اداس کردیتا ہوں، وہ میری تحریریں پڑھ کر پریشان ہو جاتے ہیں، ان کی امیدیں ٹوٹ سی جاتی ہیں۔

مگر کیا کروں مجھے شاید نظر ہی یہ سب کچھ آتا ہے، میں سنتا ہی سب برا ہوں۔ پورا ماہ رمضان المبارک خاموش رہا، باوجود اس کے کہ بہت کچھ سنا، دیکھا اور پڑھا، مگر پھر بھی اپنے لب سی لئے۔ مگر اب نہیں، بس بہت ہوگیا، اب میں بولوں گا بھی اور لکھوں گا بھی اور شور بھی مچاؤں گا۔

Read more

پانی سے چلنے والی گاڑی کا مقدمہ

بابا جی کے حجرے میں بیٹھے کب دن گزر گیا مظہر کو پتہ ہی نہ چلا، 55 سالہ مظہر اس وقت اپنے خیالوں میں اتنا مگن تھا ک کب سورج ڈھل گیا، اسے معلوم ہی نہ ہوا۔ وہ اپنے خیالوں کی دنیا سے شاید کبھی بھی نہ لوٹتا اگر بابا جی اسے نہ پکارتے۔ ۔ ۔ مظہر گریڈ 14 کا ایک سرکاری ملازم تھا، تنخواہ کل ملا کر 35000 روپے تھی، مگر مظہر اور اس کے بیوی بچوں کا رہن

Read more

ڈاکٹر ظفر مرزا کی لاک ڈاؤن دھمکی، عوامی ردعمل اور شاہ جی کی فکر

” یہ قصہ ہے تین درویشوں ( ڈاکٹر ظفر مرزا، پاکستانی عوام اور شاہ جی) کا جو اپنی دنیا میں بستے ہیں، مگر ایک دوسرے سے کسی نہ کسی اعتبار سے جڑے ہوئے ہیں۔“

ابھی ابھی خبر ملی ہے کہ ڈاکٹر ظفر مرزا (معاون خصوصی برائے صحت ) نے عید الفطر کے موقع پر عوام کے غیر ذمہ دارانہ رویے کو دیکھتے ہوئے عندیہ دیا ہے کہ اگر عوام نے اپنی روش تبدیل نہ کی تو وہ ایک دفعہ پھر سے سخت قسم کا لاک ڈاؤن لگا دیں گے۔

Read more

رمیش کی چپل

ابے کیا کر ریا یے یہاں کھڑا ہوکر، چل بھاگ یہاں سے اور دوبارہ یہاں نظر نہ آنا ورنہ ٹانگیں توڑ ڑالوں گا تیری سالے۔ ہری چند نے اپنی چپلوں کی دکان کے باہر کھڑے 9 سالہ رمیش کو ڈانٹتے ہوئے کہا۔ ۔ ۔ اب تو یہ روز کا معمول بن چکا تھا، رمیش صبح صبح دکان کے باہر آ کھڑا ہوتا اور جب تک ہری چند اسے وہاں سے دھتکار نہ دیتا، مجال ہے کہ رمیش کا ایک بھی

Read more

کہانی: روزہ

بانو بار بار دروازے کی طرف نگاہ اٹھاتی اور مایوس ہو کر دوبارہ واپس گھر میں موجود واحد چارپائی پر جا بیٹھتی۔ اس گھر کے صرف 3 مکین تھے، بانو، چارپائی، اور اختر۔ جو دن رات اس چارپائی پر پڑا اپنی بیوی بانو کو دیکھتا رہتا۔ اختر کی آنکھوں میں ایک بے بسی سی رچ بس گئی تھی۔ وہ چاہتے ہوئے بھی کچھ نا کر پاتا۔ معذوری ہی کچھ ایسی تھی کے وہ اپنا جسم بھی خود سے نا ہلا پاتا۔ اور اب تو ویسے بھی 80 برس کا ہو چلا تھا اوپر سے بیماری۔

Read more