رمیش کی چپل

ابے کیا کر ریا یے یہاں کھڑا ہوکر، چل بھاگ یہاں سے اور دوبارہ یہاں نظر نہ آنا ورنہ ٹانگیں توڑ ڑالوں گا تیری سالے۔ ہری چند نے اپنی چپلوں کی دکان کے باہر کھڑے 9 سالہ رمیش کو ڈانٹتے ہوئے کہا۔ ۔ ۔ اب تو یہ روز کا معمول بن چکا تھا، رمیش صبح…

Read more

کہانی: روزہ

بانو بار بار دروازے کی طرف نگاہ اٹھاتی اور مایوس ہو کر دوبارہ واپس گھر میں موجود واحد چارپائی پر جا بیٹھتی۔ اس گھر کے صرف 3 مکین تھے، بانو، چارپائی، اور اختر۔ جو دن رات اس چارپائی پر پڑا اپنی بیوی بانو کو دیکھتا رہتا۔ اختر کی آنکھوں میں ایک بے بسی سی رچ بس گئی تھی۔ وہ چاہتے ہوئے بھی کچھ نا کر پاتا۔ معذوری ہی کچھ ایسی تھی کے وہ اپنا جسم بھی خود سے نا ہلا پاتا۔ اور اب تو ویسے بھی 80 برس کا ہو چلا تھا اوپر سے بیماری۔

Read more