عید کا چاند اور پاکستانی رویے
ماضی کی طرح اس بار بھی ہمارے فیصلہ سازوں نے ہمیں مایوس نہیں کیا اور اس بار پھر پاکستانی حکومتی انتظامیہ کے مختلف اداروں میں چاند کے بارے میں فیصلہ سازی کا عمل ٹی وی کی سکرین پر کیا جا رہا ہے۔ صرف ایک ترقی ہوئی ہے اور وہ یہ کہ پہلے کی طرح علما کے دو گروپ نہیں۔ یعنی پشاور کے مولانا پوپلزئی اور رویت ہلال کے چیئرمین منیب الرحمن اس بار آمنے سامنے نہیں بلکہ آج رویت ہلال کمیٹی بمقابلہ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی جس میں وزیر محترم انسانی ترقی کو دلیل کے طور پر استعمال کرتے ہوئے موجودہ سائنسی آلات کی بنیاد پر رویت ہلال کا فیصلہ چاہتے ہیں جبکہ مولانا منیب الرحمن کی سربراہی میں مذہبی طبقہ روایتی طریقے پر عمل کرنا چاہتا ہے چاہے اس میں شہر کی بلند ترین چھت پر دوربین کے استعمال کا تڑکا ہی کیوں نہ لگانا پڑے۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ مہذبانہ انداز میں اس بحث کو سال کے بقیہ مہینوں میں حکومتی کمروں کے اندر تک محدود رکھا جاتا، اور پھر ایک فیصلہ کر کے عوام تک اس کا اعلان کر دیا جاتا لیکن اگر ایسا ہو سکتا تو بات ہی کیا تھی۔ ہمارا مزاج بنتا جا رہا ہے کہ جب تک چوراہے میں بحث مباحثہ اور گالی گلوچ تک نوبت نہ آئے، کھانے کا مزہ ہی نہیں آتا اور اگر مسئلہ مذہبی بنیاد بھی رکھتا ہو تو پھر کیا ہی کہنے۔ ویسے ہمارے ہاں مذہبیت تقریباً ہر شعبہ زندگی کے ہر کونے تک پہنچ چکی ہے اور آپ کو تو پتہ ہی ہے کہ وطن عزیز تو بنا ہی اسلام کے لئے تھا۔
ذرا سوچئے کہ ہم مسلمان دن میں پانچ بار نماز پڑھتے ہیں۔ ان نمازوں کے مقررہ اوقات ہیں اور ان اوقات کا تعین زمین کی سورج کے گرد روزانہ کی گردش کے حوالے سے ہے۔ پچھلے چودہ سو سال میں مسلمانوں نے انسانی عقل کو استعمال کرتے ہوئے، زمین اور سورج کے باہمی تعلق کو سمجھا اور ایک دائمی کیلنڈر بنایا جو آج ہر مسجد میں دیکھا جا سکتا ہے اور اس پر عمل کرتے ہوئے فجر، ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی اذان دی جاتی ہے۔ آپ نے کبھی کسی موذن کو مسجد سے باہر سورج کے مقام کا مشاہدہ کرتے نہیں دیکھا ہو گا۔
ہمیں خدا کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ نماز کے اوقات کا یہ معاملہ موجودہ دور سے پہلے ہی طے پا گیا وگرنہ اس صورت کا تصور بھی ایک بھیا نک خواب ہوتا۔ اسی طرح جب مسلمان حجاز سے باہر نکلے، اور نئے نئے علاقوں میں پنج وقتہ نماز کے لئے مساجد کی تعمیر شروع ہوئی تو قبلہ کی درست سمت کے تعین کے لئے مسلمانوں نے اللہ کی دی ہوئی عقل استعمال کرتے ہوئے جغرافیہ کے علم میں مہارت حاصل کی اور پھر اس کا استعمال ایک عمومی بات بن گئی۔
اسی طرح اور بہت سی مثالیں موجود ہیں لیکن پچھلی چند صدیوں ہمارے خیالات میں جمود سا طاری ہو چکا ہے اور ہمارے علمائے کرام سائنس کی اس تیز رفتار ترقی کو عموماً مذہب کے خلاف یا اس سے خائف نظر آتے ہیں حالانکہ اسلامی تعلیمات اور سائنسی علوم کو علیحدہ چیزیں نہیں بلکہ جس خدا نے ہمیں قرآن دیا ہے اسی نے ہمیں انسانی ذہنی صلاحیتیں بھی دی ہیں جن کو استعمال کرنے کا چیلنج قرآن میں جگہ جگہ موجود ہے۔
موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کا بھی تذکرہ کر دیا جائے کہ قمری مہینے 29 یا 30 دن کے ہوتے ہیں، یہ تو سمجھ میں آتا ہے کہ علما کرام راہنمائی کریں کہ روزے کب رکھنے شروع کریں، عید کب ہو اور نمازوں کے اوقات کا تعین کب ہو، لیکن چاند نظر آیا یا نہیں اس کا علماء دین سے کیا تعلق ہے کم از کم میری سمجھ میں نہیں آتا۔ کیا یہ حکومت وقت کی ذمہ داری نہیں کہ ان کے بارے میں فیصلہ کرے اور پھر نافذ بھی کرے۔
چاہے آپ عید کسی دن بھی منائیں، میری طرف سے آپ کو اور اہل خانہ کو عید مبارک

