میں کرنل کی بیوی ہوں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں کرنل کی بیوی ہوں! یہ سن کر تمام بیویاں اکتاہٹ کا شکار ہوچکی ہیں، بھلا ہم کیا کسی سے کم ہیں۔ چونکہ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی، جس میں کرنل صاحب کی بیوی نے راستہ بند ہونے کی وجہ سے پولیس اہلکار کی تذلیل کی تھی۔ اب اس واقعے کے بات سب شوہروں نے بلا جھجک کہہ دیا کہ بھئی بیوی تو بیوی ہوتی ہے، کرنل کی ہو یا سویلین کی ہو۔

چنانچہ یہ خواتین کی نفس کا لالچ سمجھیے یا ان کی عادت سمجھیے کیونکہ اصل زندگی میں بھی یہ اپنی سہلیوں پر اکثر رعب جمانے کے لیے نت نئے طریقوں کی تلاش میں رہتی ہیں۔ مثال کے طور پر ”میں فلاں کی بیوی، بہن، بہو اور بیٹی ہوں“ ۔ چونکہ اپنی شان میں کھلے الفاظ میں ستائش خواتین کے اعصاب کو دلی طور پر تسکین کا باعث بنتی ہے۔

چلیے مزید جائز لیں، تو اکثر خواتین امور خانہ داری کے کاموں میں کچھ دلچسپ کر لیتی ہیں، تو اس کا ذکر اپنی پڑوسن سے ضرور کرتی ہیں۔ تم جانتی ہوں، ”میں نے کل کرنل باسمتی چاول کی بریانی بنائی تھی، وہ سب کو بہت پسند آئی تھی“ ۔ اس طرح یہ اپنی رعب جمانے کا کوئی موقع نہیں چھوڑتیں۔ بہر حال جو بھی کہیے، پہلے خواتین نے کرنل باسمتی چاول مشہور کیے تھے، اب کرنل صاحب کی بیوی مشہور ہوگئی ہیں۔

لیکن ایک حیرت انگیز بات آپ کے علم میں ہوگی کہ نوکری کے دوران شوہر کی رینکنگ بھلے اوپر نیچے ہوتی رہے، لیکن بیوی کی رینکنگ ہمیشہ ایک درجہ اوپر ہی رہتی ہے۔ چونکہ تحقیق سے یہ باتیں اکثر ثابت ہوتی رہتی ہیں کہ خوبصورت خواتین کے شوہر جلدی مر جاتے ہیں، بعض لوگ کہتے ہیں کہ شادی کے بعد شوہر کی عمر طویل ہوجاتی ہے۔ البتہ شوہر کی عمر طویل ہوتی نہیں، ان کو اپنی عمر طویل لگنے لگتی ہے۔ کئی مرتبہ تو ایسا بھی ہوتا ہے، بیوی صرف اس وقت ہی پیاری لگتی ہے جب اللہ کو پیاری ہو جاٰئے تاکہ دوسرا راستہ نکل سکے۔ کیونکہ بیوی کرنل کی ہو یا سویلین کی اپنی پیاری کسی کو نہیں لگتی ہے۔

یقیناً ان باتوں سے تو تجربہ کار افراد اتفاق کرتے ہوں گے مگر شرط یہ ہے کہ ان تجربہ کار افراد میں خواتین شامل نہ ہوں۔ ویسے گھریلو جھگڑوں اور فساد سے باہر والوں کا کافی فائدہ ہوتا ہے۔ اس کی ایک مثال مقررین ہوتے ہیں، جو اکثر مزاحیہ تقریر ”کاش آپ میرے والد ہوتے“ اس موضوع پر تقریر کر کے داد وصول کرتے تھے، لیکن اب ”میں کرنل کی بیوی ہوں“ اس موضوع پر تقاریر کر کے ماحول گرما دیں گے۔ کیونکہ ان مقررین کے نزدیک موضوع کوئی بھی ہو، ان کو اپنی انعامی رقم سے مطلب ہوتا ہے۔

آخر کار سب شوہر اور بیوی کے جھگڑوں سے متاثر ہیں، جس سے آپ کے بچے بھی طور پر محفوظ نہیں رہ سکتے۔ ایک مرتبہ تو اردو کے پرچے میں سوال آیا کہ لفظ ”شدہ“ کے چار لاحقے لکھیں، تو بچے نے لکھا ”شادی شدہ، گم شدہ، ختم شدہ، تباہ شدہ“ جبکہ اس جواب کے نتیجے میں بچے کو پورے نمبروں کے ساتھ اضافی نمبر بھی ملے۔ استاد نے کہا تم نے ذہانت کا بھرپور استعمال کیا ہے۔ البتہ خاتون استاد ہوتی، تو فیل ہونا مقدر تھا۔
لہذا کرنل صاحب کی بیوی کو چھوڑیں، اپنی فکر کیجیئے، کیونکہ آپ کے حالت مزید خراب ہو اس سے پہلے سدھر جائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply