بس اب توبہ کر لیتے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

باز اور شکروں کی موجودگی کے باوجود چڑیا کے بچے پرورش پاتے رہتے ہیں۔ اگ شیر کی فطرت میں شکار لکھ دیا گیا ہے۔ تو ہرن کی نسل بھی نہیں رکی۔ شیر دھاڑتے رہتے ہیں۔ اور اسی جنگل میں ہرن کے چھوٹے چھوٹے بچے اٹکھیلیاں کرتے نظر آتے ہیں۔ آندھی کی زد پہ پڑے چراغ، ٹمٹماتے ہیں، جلتے بجھتے ہیں۔ لیکن آندھیاں سب چراغ نہیں بجھا سکتیں۔ کیڑے مکوڑے جونہی زمین سے سر نکالتے ہیں۔ پرندے انہیں اچک کر کھا جاتے ہیں۔ مگر کیڑے مکوڑے ختم تو نہیں ہوئے۔

وقت کے فرعون کو ایک خواب کا خوف تھا۔ اس نے سب بچے ہلاک کر دیے، مگر اصل بچہ اس کے گھر میں پرورش پاتا رہا۔ کشتی کا کام بچانا تھا۔ مگر کشتی والوں نے اسے سمندر میں پھینک دیا۔ مچھلی کا کام کھا جانا تھا۔ مگر اس نے یونس علیہ السلام کو محفوظ پناہ گاہ دے دی۔

آگ کی فطرت میں جلانا ہے۔ لیکن معاملہ خلیل اللہ کا ہو۔ تو یہی آگ گل و گلزار ہو جاتی ہے۔ ذرا غور کریں، ہم انہیں نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ مگر مکھی، مچھر اور چوہے اب بھی پیدا ہوتے ہیں۔ جراثیم اور بیکٹیریا کے خلاف بڑے پیمانے پر کام ہورہا ہے۔ مگر جراثیم اور بیکٹیریا اب بھی پیدا ہو رہے ہیں۔ بلکہ جراثیم کش لیبارٹریز، اور دوائیاں نئے جراثیم پیدا کر رہی ہیں۔ طب مشرق و مغرب میں بڑی ترقی ہوئی ہے، لیکن دوسری طرف بیماریوں میں بھی بے انتہا اضافہ ہوا۔

الغرض انسان کل بھی دکھی تھا۔ آج بھی سکھی نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اصل علاج خالق کے قرب میں ہے۔

کائنات میں مخلوقات کی اپنی خصلتیں ہیں۔ کوئی سیر ہے۔ تو اس کے اوپر سوا سیر بھی موجود ہے۔ مگر اصل طاقت، اصل محرک اللہ کی ذات ہے۔ وہ جسے چاہے، جو چاہے، جس قسم کا چاہے۔ وہ کام لے لے۔ معزز قارئین، قدرت کبھی ظلم نہیں کرتی۔ فطرت کبھی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتی۔ بعض تکالیف انسانیت کو جھنجھوڑنے کے لیے بھی آیا کرتی ہیں۔ ہو سکتا ہے ہماری ان تکالیف کا موجب ہمارے قصور یا گناہ ہو۔ شاید فطرت ہمیں ایک موقع دینا چاہتی ہو۔

شاید قدرت ہمیں پھر اپنی طرف لوٹتا دیکھنا چاہتی ہوں۔ ہو سکتا ہے ہم کائنات کی بھول بھلیوں میں قادر کو بھول گئے ہوں۔ یہاں تک کہ قدرت کو ہمیں جھنجھوڑنا پڑا ہو۔ تو پھر دیر کس بات کی ہے۔ آئین لوٹ جاتے ہیں۔ اس کے قریب ہو جاتے ہیں۔ ۔ ۔ اس کے حضور رو لیتے ہیں۔ گڑگڑا کر اپنے گناہوں کی معافی مانگ لیتے ہیں۔ توبہ کر لیتے ہیں۔ کیونکہ قدرت بھی اشاروں کنایوں میں ہم سے توبہ کا تقاضا کر رہی ہے۔ آئیں کل کا انتظار چھوڑ دیتے ہیں۔ آئیں اسی در سے مانگ لیتے ہیں۔ جس در سے آج تک کوئی خالی ہاتھ نہیں لوٹا۔ وہ کائنات کا مالک ہے۔ وہ توبہ کو پسند بھی کرتا ہے۔ اور قبول بھی کرتا ہے۔ اللہ ہماری توبہ کو قبولیت بخشے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply