جناب! ایک شعبہ تعلیم بھی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دنیا کرونا کی وبا سے بر سر پیکار ہے۔ بتایا یہ جا رہا ہے کہ اس سال تو اس وبا کے علاج کے لیے دوا کی تیاری ممکن نہیں ہے۔ سنگاپور، ووہان اور جرمنی میں اس وبا کے دوبارہ پھیلنے کی خبریں سننے کو مل رہی ہے۔ ہمارے وزیر اعظم بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں اس وبا کے ساتھ گزر کرنے کی عادت اختیار کرنی ہوگی۔ معیشت اور تجارت سے وابستہ طبقے لاک ڈاؤن کی وجہ سے بد حالی کا شکار ہیں۔ ہر ملک نے اپنے وسائل کے حجم کے مطابق اپنے عوام کو امداد فراہم کی ہے اور ہمارے یہاں بھی وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے نچلے طبقے کو امداد پہنچانے کی حتیٰ الامکان کوشش کی ہے۔

لیکن مخالف سیاسی جماعتوں کی حکومتوں نے حسب روایت طعنہ زنی اور الزام تراشی کا سلسلہ بھی جاری رکھا ہوا ہے۔ وفاقی حکومت نے اسمارٹ لاک ڈاؤن کی اصطلاح متعارف کرواتے ہوئے متوسط اور نچلے طبقات کے روزگار کا سلسلہ بحال کیا ہے اور مختلف صنعتوں کے لیے امدادی اور سہولیاتی پیکج کا اعلان کیا ہے۔ جس میں تعمیرات اور زراعت کو ہنگامی اور ترجیحی بنیادوں پر سہولیات فراہم کی گئیں کہ ان شعبوں سے عوام کی ایک کثیر تعداد منسلک ہے۔

افسوسناک پہلو یہ ہے کہ برسر اقتدار، حزب اختلاف اور میڈیا نے بھی ان شعبوں کے زوال پر نوحہ گری کی ہے جن سے کسی نہ کسی حوالے سے ان کے مفادات وابستہ ہیں، مگر تعلیم جسے عام حالات میں بھی مجموعی قومی پیداوار کا دو اعشاریہ پانچ فیصد سے زیادہ نہیں ملتا اور موجودہ حکومت نے تو وفاقی بجٹ 2019۔ 20 میں پچھلے مالیاتی سال کے تعلیمی اخراجات میں بھی بیس اعشاریہ پانچ فیصد کمی کردی تھی۔ جب کہ آئین کے آرٹیکل 25۔ A کے مطابق ریاست پانچ سال سے سولہ سال کی عمر تک مفت اور معیاری تعلیم دینے کی پابند ہے۔

ہاں حکومت نے نجی تعلیمی اداروں کو اس بات کا پا بند ضرور کیا ہے کہ وہ وبا سے پیدا ہونے والی غیر معمولی صورتحال میں فیسوں میں بیس فیصد کمی کریں۔ جس کے رد عمل میں نجی تعلیمی اداروں نے آسمان سر پر اٹھا لیا اور فوری طور پر اسکول کھولنے کا مطالبہ کر ڈالا، اور قادر الکلامی کا عالم یہ ہے کہ نجی اسکولوں کی ایک ایسوسی ایشن کے عہدیدار اپنے مطالبات پڑھ کر بیان کر رہے تھے، موصوف کے لیے چار سطریں بھی پڑھنا ایک مشکل مرحلہ تھا اور دعویٰ کر رہے تھے معیاری تعلیم کی فراہمی کا ۔

(1)

رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں مسلم لیگ (فنکشنل) کے مرکزی جنرل سیکرٹری اور سابق وفاقی وزیر اطلاعات محمد علی درانی اسلام آباد تشریف لائے تو ان سے ملاقات کا موقع ملا۔ انہوں نے ایک اہم پہلو کی جانب حکومت کی سنگین کوتاہی کی نشاندہی کی جسے انہوں نے چند روز قبل اپنے ویڈیو پیغام میں بھی نشر کیا۔ وہ متفکر تھے کہ کرونا وائرس کی صورتحال میں حکومت نے تجارت اور معیشت کی بحالی کی طرف تو توجہ دی ہے لیکن تعلیمی نظام جس پر ہمارے ملک کی بقاء کا دار و مدار ہے اس پر ابھی تک کوئی توجہ نہیں دی ہے۔

اکثر ممالک نے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کو فوری طور پر امداد فراہم کی ہے تاکہ ان طلباء اور ممالک کا مستقبل محفوظ رہ سکے۔ مگر ادھر تو حال یہ ہے کہ پنجاب بھر میں تمام بورڈز کے امتحانات منسوخ ہوچکے ہیں لیکن امتحانی فیس جمع کرانے والے طلباء کو ابھی تک فیس کی واپسی کی کوئی نوید نہیں سنائی گئی ہے۔ لیکن پی ایس ایل کے کینسل ہونے والے میچوں کی فیسیں واپس کی جا رہی ہیں۔ درانی صاحب کی تجویز تھی کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے طالب علموں کو بلا سود قرض فراہم کرے تاکہ یہ ضرورت مند نوجوان فیس اور تعلیمی اداروں کے داخلہ اخراجات ادا کرسکیں۔ جس کے لیے حکومت خود ان کی فیسیں ان کے تعلیمی اداروں میں جمع کروائے جسے یہ طالب علم حصول تعلیم کے بعد ملازمت ملنے کے بعد ادا کرسکیں۔

اکثر ممالک میں اسی ماڈل کو اختیار کرتے ہوئے ہائر ایجوکیشن کے طالب علموں کو کرونا کی وبا سے پہلے اور بعد میں بھی سہولیات دی جا رہی ہیں۔ کیونکہ اس وبائی آفت کے سبب متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے طالب علم معاشی مشکلات کی وجہ سرکاری اور نجی یونیورسٹیوں اور پروفیشنل اداروں کے اخراجات ادا کرنے سے قاصر ہیں اور اگر حکومت نے فوری توجہ نہ دی تو ہائر ایجوکیشن کا پورا نظام بیٹھ جائے گا جس سے ملک و قوم کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے کا اندیشہ ہے۔ کرونا کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے لیے ہائر ایجوکیشن کے نظام اور اس میں زیر تعلیم نوجوانوں کو بچانا ہوگا کیونکہ یہ افرادی قوت ملک کو سرمایہ، عزت اور ترقی فراہم کر سکتی ہے۔

سیاسی جماعتیں اور دیگر شعبے اس وبا کے لیے ان شعبوں کی تباہی کا رونا رو رہے ہیں جہاں داد نقد ملے۔ تاجروں اور صنعت کاروں کی مختلف انجمنوں نے دباؤ کے ذریعے سہولیات حاصل بھی کر لی ہیں، لیکن سفید پوش طبقہ جو ماچس کی ڈبیا کی خریداری سے لے کر بجلی گیس کے بلوں پر ٹیکس ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی آمدن کا ایک بڑا حصہ روشن مستقبل

(2)

کے لیے بچوں کی تعلیم پر خرچ کرتا ہے، ریاست کی کسی بنیادی ترجیح میں شامل نہیں ہے اور اس کے مسائل کے حل کے لیے ارباب اقتدار و اختیار کے پاس وقت ہے نہ شعور۔ اس ضمن میں ساری ذمہ داری حکومت پر ہی عائد نہیں ہوتی ہمارے ماہرین تعلیم، سماجی سائنسدانوں اور ہر ذمہ دار شہری کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنی تحریر و تقریر کے ذریعے حکومت کو توجہ دلائیں کہ:

تری تدبیر سے نو مید ہوئی ہے فطرت
راستے اور بھی ہیں رخت سفر تازہ کریں
اس زمانے کو بھی دیں اور زمانہ کوئی
پھر اٹھیں ولولۂ علم و ہنر تازہ کریں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply