نفرت کے قبیلوں کے لوگ

محبت کی وادی کے اس پار نفرت کے جزیرے ہیں۔ اور انسان کبھی اس پار کبھی اس پار، نفرت اور محبت کی پنڈولم پر لٹکتا ہوا ایک پتلا ہے۔ اس چھوٹی سی زندگی میں کچھ بھی نہیں سیکھ سکے لیکن اگر سیکھا تو وہ یہ ہے۔ کہ انسان کے لیے، اگر دنیا میں کچھ نقصان دہ ہو سکتا ہے تو وہ نفرت ہے جس طرح محبت ایمان کو تقویت دیتی ہے بالکل اسی طرح نفرتیں کفر تک لے جاتی ہیں۔

Read more

بس اب توبہ کر لیتے ہیں

باز اور شکروں کی موجودگی کے باوجود چڑیا کے بچے پرورش پاتے رہتے ہیں۔ اگ شیر کی فطرت میں شکار لکھ دیا گیا ہے۔ تو ہرن کی نسل بھی نہیں رکی۔ شیر دھاڑتے رہتے ہیں۔ اور اسی جنگل میں ہرن کے چھوٹے چھوٹے بچے اٹکھیلیاں کرتے نظر آتے ہیں۔ آندھی کی زد پہ پڑے چراغ، ٹمٹماتے ہیں، جلتے بجھتے ہیں۔ لیکن آندھیاں سب چراغ نہیں بجھا سکتیں۔ کیڑے مکوڑے جونہی زمین سے سر نکالتے ہیں۔ پرندے انہیں اچک کر کھا جاتے ہیں۔ مگر کیڑے مکوڑے ختم تو نہیں ہوئے۔

Read more

بچے روز کھانے کو مانگتے ہیں

ہر شخص دعا کا طالب ہے کیونکہ وہ خدا کا طالب ہے۔ میں نے چند دن قبل اسے ایک ٹیکسٹ میسج کیا تھا۔ اور درخواست کی تھی کہ قاری صاحب; دعاؤں میں یاد رکھا کریں۔ آپ نیک بندے ہیں۔ قرآن پڑھاتے ہیں۔ اس خطرناک بیماری کے ختم ہونے کے لئے بھی دعا کیا کریں

آج دو دن بعد جب ہم سحری کر رہے تھے۔ تو میرے فون پر قاری صاحب کا جوابی میسج آیا تھا۔ میسج تو ٹوٹی پھوٹی رومن اردو میں لکھا گیا تھا۔ لیکن ان الفاظ کا درد اور کرب کم ازکم مجھ کمزور انسان کے لیے ناقابل برداشت تھا۔ قاری صاحب نے لکھا تھا۔ ”میں آپ کو روز دعا دیتا ہوں، بلکہ میں تو سب مسلمانوں کے لیے دعائیں مانگتا ہوں۔ لیکن آج کل میں اپنے بچوں کی وجہ سے بہت پریشان ہوں۔ یہ مجھ سے روز کھانا مانگتے ہیں۔ ان کو روز بھوک لگ جاتی ہے۔

Read more

چند سیکنڈ میں رن وے تک : ائر بس 320 کے کریش ہونے کے تناظر میں ایک سچی کہانی

کراچی میں جناح ائرپورٹ کے رن وے کے قریب پی آئی اے ائر بس 320 کے کریش ہونے کے تناظر میں ایک سچی کہانی۔

اس کی عمر 34 سال تھی۔ وہ لندن میں پی ایچ ڈی کی سٹوڈنٹ بھی تھی۔ اللہ نے اس کو تین خوبصورت بیٹے عطا کیے تھے۔ برطانیہ میں کرونا وائرس کے خطرناک دنوں میں وہ بہت اداس رہتی تھی۔ ہر روز شام کو اپنے گھر کی بالکونی پر کھڑے ہو کر وہ اپنے شوہر سے کہتی ”میں پاکستان جانا چاہتی ہوں۔ مجھے پاکستان لے چلو“۔

Read more