صدارتی نظام یا پارلیمانی جمہوریت؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"kaleem\"

نظام صدارتی ہو یا پارلیمانی! یہ سوال ان ملکوں یا معاشروں کے لئے ہے جہاں ارتقا ء کے بہت سے مدارج طے ہو چکے ہوں، جہاں انتخابات کے بعد ایک طرف جشن کے نعرے اور دوسری طرف دھاندلی کا ماتم نہیں کیا جاتا۔

دو نومبر کو روزنامہ جنگ میں شائع شدہ ایک کالم میں محترم کالم نگار نے پارلیمانی نظام کی مخالفت کرتے ہوئے صدارتی نظام حکومت یا صدارتی اور پارلیمانی نظام کے امتزاج کو نوشتہ دیوار قرار دیا ہے۔ اپنی اسی تحریر میں انہوں نے یہ بھی فرمایا ہے کہ پاکستان کو اس کی اسٹیبلشمنٹ نے قائم رکھا ہوا ہے۔ کچھ اقتباس پیش خدمت ہیں۔

’’چاہے وکلا اور گفتار کے غازی جو مرضی نعرے لگاتے رہیں، پاکستان کو بھی اس کی اسٹیبلشمنٹ نے، نہ کہ کسی کاغذ کے ٹکڑے نے قائم رکھا ہوا ہے، بدقسمتی سے یہی سچائی ہے۔ تاہم اس پر شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں ‘‘

’’نوا ز شریف کا کہنا ہے کہ وہ ایک منتخب وزیراعظم ہیں، چنانچہ انہیں حکومت کرنے دی جائے۔ دوسری طرف اسٹیبلشمنٹ ان پر اعتماد نہیں کرتی اور انہیں قومی معاملات چلانے کے لئے نااہل سمجھتی ہے۔ ‘‘

بحران کی وجہ متحار ب فریقین کے درمیان باہمی نکتے کی غیر موجودگی ہے۔ بدنام زمانہ آرٹیکل 58-2B کم از کم ایسی صورتحال میں ایک راستہ تو کھلا رکھتا تھا، لیکن ہم نے خالص جمہوریت کے عشق میں نڈھال ہو کر اسے ختم کر دیا۔ ‘‘

’’پارلیمانی نظام ہمیں راس نہیں، مارشل لا ہمارے لئے نقصان دہ ثابت ہوئے، ہمیں ان کے ادغام کی ضرورت ہے۔ ایک طاقت ور اور فعال صدر، جس کے پاس 58-2B کی طاقت موجود ہو اور اسے براہ راست ووٹنگ کے ذریعے منتخب کیا جائے۔ اس کے پاس سروسز چیفس کو نامزد کرنے کے اختیارات ہوں۔ اور وفاق کے روزمرہ کے معاملات چلانے کے لئے ایک وزیراعظم اور اس کی کابینہ ہو‘‘۔
میں ادارہ جنگ کی جرات کی داد دینا چاہتا ہوں کہ جوآئے روز ایسی تحریروں کو شائع کرتا ہے تاہم میں نے زیادہ ضروری سمجھا کہ ان سے اختلاف کی جسارت کر سکوں۔

سب سے پہلے تو میں یہ یاد دلانا چاہوں گا کہ یہ ملک کسی اسٹیبلشمنٹ نے نہیں بلکہ ایک سیاستدان نے بنایاتھا، وہ سیاستدان جو مکمل اور خالص جمہوریت پر عقیدے کی حد تک یقین رکھتا تھا۔ ایک کمزور اسٹیبلشمنٹ کی موجودگی کے باوجود یہ ملک اپنی مکمل جغرافیائی وحدت کے ساتھ اس وقت تک اقوام عالم کے درمیان ایک ممتاز مقام پر موجود رہا جب تک بزعم خود ایک عقل کل آمر نے اس ملک کے سیاستدانوں کو ایبڈو کے پنجرے میں محدو د نہیں کردیا۔ جیسے ہی اس آمر نے اس ملک کا اقتدار سنبھالا اس کی جغرافیائی وحدت پر ایسی ضرب لگی کہ ہم مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش تسلیم کرنے پر مجبور ہوئے۔ ظاہر ہے اس کی وجوہات اور بھی تھیں، خاص طو پر دوگنا اکثریت کے ساتھ شیخ مجیب الرحمن پاکستان کا وزیراعظم منتخب ہونے کا حق رکھتے تھے، لیکن جب پارلیمانی جمہوریت کے اصولوں کو پامال کرتے ہوئے ان کی راہ میں روڑے اٹکائے گئے تو ملک دو لخت ہوگیا۔ باقی دونوں آمروں کے ادوار تو کل کی بات ہیں، طوالت کے ڈر سے ان سے صرف نظر کرتا ہوں کیونکہ ایاز امیر صاحب کے بقول بھی مارشل لا ہمیں راس نہیں آئے۔

جہاں تک ان کی اس رائے کا تعلق ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نواز شریف پر اعتما د نہیں کرتی تو گزارش یہ ہے کہ قومی معاملات چلانے کے لئے قوم کا انتخاب نواز شریف ہیں یا وہ افراد جو ان کی ٹیم میں شامل ہیں، قوم اگر اپنے معاملات چلانے کا مینڈینٹ مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی، تحریک انصاف، جماعت اسلامی یا کسی اور سیاسی جماعت کو دیتی ہے تو کسی کوبھی یہ حق نہیں دیا جاسکتا کہ وہ عوام کے مینڈیٹ یا ان کے منتخب وزیراعظم کی قابلیت اور اخلاص کا پیمانہ طے کرے۔ اس کے لئے ایک طریقہ کار رائج ہے جو اس ملک کی پارلیمنٹ میں موجود عوام کے منتخب نمائندوں نے طے کیا ہے اور خاکسار کی رائے میں اسی پر اکتفا کیا جانا چاہیے۔ ارتقا ء کے اصولوں کے تحت اگر اس میں کوئی تبدیلی مقصود ہے تو اس کے لئے طریقہ کار موجود ہے۔

باقی رہا معاملہ 58-2B سے مسلح صدر اور پارلیمانی یا صدارتی نظام کی بحث کا تو میرے خیال میں زیر بحث مضمون میں ’’روزمرہ کے معاملات چلانے والا وزیراعظم ‘‘ اور ’’طاقتور صدر‘‘ اس ساری تحریر کا لب لباب ہے، محترم کالم نویس نے اگر اس سے پہلے ایک رکن پارلیمنٹ کی حیثیت سے اس موضوع پر لب کشائی کی ہے تو وہ میرے علم میں نہیں لیکن ایک بات بالکل واضح ہے کہ 58-2B کے اختیارات والے صدر کی موجودگی میں نظام پارلیمانی تونہیں ہوتا، اور آپ اسے جو مرضی کہیں۔ سب جانتے ہیں کہ 58-2B کی لعنت سے چھٹکارہ پانے کے بعد اس ملک میں جمہوری نظام اپنے دو ادوار مکمل کرنے کو ہے، سیاسی قیادت میں خامیاں موجود ہو سکتی ہیں اور وہ ساری دنیا میں ہوتی ہیں۔ امریکہ کے ایک صدر نے عراق پر فوجی چڑھائی کی اور دوسرے نے اسے ایک غلط فیصلہ قرار دیتے ہوئے فوج واپس بلائی، ایک نے افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجادی دوسرا طالبان کے ساتھ مذاکرات کی بات کرتا ہے لیکن کسی ایک امریکی نے دونوں میں سے کسی صدر کو غدار یا ملک میں رائج نظام کو غلط یا ناقص نہیں کہا، کیونکہ جمہوریت کا حسن یہی ہے کہ آپ اپنی غلطی سدھار سکتے ہیں لیکن آمریت آپ کو اس بات کی اجازت ہی نہیں دیتی کہ آپ غلط یا درست کا فیصلہ کر سکیں۔

یہ ممکن ہے کہ آپ براہ راست انتخاب کے تحت ایک صدر منتخب کر لیں، لیکن اگر اس صدر اور منتخب وزیراعظم کے سیاسی نظریات میں تھوڑا سا بھی فرق ہوا تو اس کانتیجہ ایک بحران کے سوا اور کچھ نہیں ہوگا۔ پیپلزپارٹی ہی کی مثال لیجئے کہ ساری عمر سیاسی وابستگی کا بھر م رکھنے والے فاروق لغاری نے اپنی ہی سیاسی جماعت اور سیاسی قیادت کو اقتدار سے نکال باہر کیا اور اس کی حقیقی وجہ کیا تھی یہ سب جانتے ہیں۔ سو خاکسار کی گزارش ہے کہ ملکی آئین اورریاستی نظام کو چوں چوں کا مربہ بنانے کی بجائے نظام کے تسلسل کے ذریعے پارلیمانی جمہوریت کو ہی مزید بہتری کی طرف گامزن رہنے دیا جائے کیونکہ جمہوری نظام کوئی بھی ہو اپنی اصل میں وہ اس وقت تک برا نہیں ہوتا جب تک اسے چلانے والے انسان غلطی کے مرتکب نہ ہوں۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *