ٹڈی دل :شکست سے دوچار جنگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے ملک میں جہاں کرونا وبا نے اپنے خونی پنجے گاڑے ہوئے ہیں اور اس کی وجہ سے پاکستانی معیشت دنیا کے باقی ممالک کی طرح سکڑتی جا رہی ہے اور ہماری حکومت کو ابھی اس وبا پر قابو پانے میں مشکل پیش آ رہی ہے وہیں پاکستان کو ایک اور ہولناک خطرے کا سامنا ہے اور یہ ہے مستقبل قریب میں منڈلاتا قحط کا خطرہ۔ بقول شاعر

ایک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا

پچھلے تقریباً ایک سال سے ٹڈی دل پاکستان میں داخل ہوئی ہے اور اس وقت سے اس کی تباہ کن کارروائیاں جاری ہیں۔ اقوام متحدہ کے متعلقہ ادارے اس کے متعلق پچھلے سال مئی میں وار ننگ جاری کر چکے تھے۔ تاہم حکومت اس خطرے کو سنجیدگی سے لینے پر تیا ر نہیں ہوئی اور جنوب مغرب سے داخل ہونے والے ٹڈی دل کے بے قابو لشکر سندھ اور بلوچستان کی فصلوں اور درختوں کا صفایا کرتے ہوئے پنجاب اور جنوبی خیبر پختونخوا آن پہنچے ہیں۔

یہ علاقہ دنیا کے چند زرخیز ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے اور ٹڈی دل کے لیے یہ ایک آئیڈیل چراگاہ ثابت ہو رہا ہے۔ اس کے خلاف کارروائیاں نہ ہونے کے برابر ہیں لہذا لگتا ہے ٹڈی دل نے یہاں قیام کا فیصلہ کر لیا ہے۔ چونکہ اس کا نشانہ زراعت سے وابستہ بے یارو مددگار کسان ہیں اس لیے اس مسئلہ کو نہ تو میڈیا پر بھرپور کوریج مل پائی ہے اور نہ ہی یہ حکومت کی نمایاں ترجیحات میں شامل ہو پایا ہے۔

اس کا مقابلہ کرنے والے ڈیپارٹمنٹ نام نہاد کارروائیوں میں مصروف رہے ہیں اور ٹڈی دل کو تلف کرنے کی بجائے ایک جگہ سے اڑا دیا جاتا رہا اور وہ اڑ کر دوسرے ضلع کا صفایا کرنے لگ جاتی اور پچھلے ضلع والے اس کو اپنی کامیابی قرار دے دیتے۔ حالانکہ ٹڈی دل ایک دو دن میں ہی اپنا ٹارگٹ پورا کر کے یعنی متعلقہ فصلوں کو چٹ کر کے خود ہی کوچ کر جاتی ہے اب تو پنجاب کے کئی اضلاع میں یہ حالات ہیں کہ ٹڈی دل جانوروں کے چارہ جات اور درختوں کے پتے بھی چٹ کر چکی ہے اور لائیو سٹاک جو دیہی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اس کی تباہی سامنے دکھائی دے رہی ہے۔

ربیع میں قابل ذکر نقصان پہنچانے کے بعد خریف میں بھی ٹڈی دل تباہی پھیلانے کے لیے تیار ہے اور اس کی کئی نئی پشتیں بھی اس کے ساتھ ملتی جا رہی ہیں۔ گندم کی پیداوار انتہائی کم رہی ہے اور کسان جو پورے سال کے کھانے کے لئے اپنی گندم محفوظ رکھتا تھا کمزور مالی حالات کی وجہ سے وہ بھی بیچ رہا ہے اس طرح محکمہ خوراک کسانوں کو زیادہ داموں گندم نہیں بیچنے دے رہا۔

ایک فصل بیچ کر نئی فصل لگائی جاتی ہے اور کسان اس سے نہ صرف شادی بیاہ کرتے ہیں بلکہ اپنے بچوں کو شہروں میں تعلیم دلواتے ہیں۔ تاہم ٹڈی دل کے مہلک حملوں کے بعد کسان اس قابل نہیں ہے کہ وہ نئی فصلیں کاشت کر سکے یا شہروں میں پڑھتے اپنے بچوں کو رقوم بھجوا سکیں۔ گندم کے علاوہ مکئی، باجرہ، گوار، چنے جوار، سورج مکھی، چاول، اور سبزیاں بھی ٹڈی دل کے حملوں سے تباہی سے دو چار نظر آتی ہیں۔ پنجاب گورنمنٹ نے اگرچہ ایمرجنسی لگائی ہوئی ہے اور اس سلسلہ میں پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کو ٹڈی دل کے ساتھ لڑنے کا ٹاسک دیا ہوا ہے مگر پی ڈی ایم اے اس حوالے سے مکمل ناکامی سے دو چار ہے اور کسانوں کو ٹڈی دل کے مقابلے کے لئے تنہا چھوڑ دیا گیا ہے۔

اس حوالے سے اگرچہ پی ڈی ایم اے سب اچھا کی رپورٹ دے رہا ہو گا۔ لیکن دیہات میں اس کی پہنچ زیرو ہے اور کسان اس محکمہ کے کیے گئے اقدامات سے مکمل طور پر لاعلم ہیں اور حکومت سے خفا ہیں کہ ان کو اس بڑی قدرتی آفت میں بے یارو مدد گار چھوڑ دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے وزیراعلی پنجاب اور چیف سیکٹری پنجاب کو سارے معاملات خود دیکھنے ہوں گے اور یہ نہ ہو کہ وہ سب اچھا کی رپورٹیں وصول کرتے رہیں اور پانی سر سے اونچا ہو جائے۔

زراعت اور لائیو سٹاک کی تباہی نہ صرف کسان کی تباہی ہے بلکہ یہ دونوں شعبے مجموعی قومی پیداوار میں بہت بڑا حصہ ڈالتے ہیں اور اس طرح دیہات میں ایک بڑی آبادی کو نوکریاں بھی مہیا کرتے ہیں۔ دیہات کے غریب ترین طبقات پھٹی کی چنائی، گندم کی ہارویسٹنگ، چاول مکئی اور سبزیوں کی کاشت اور برداشت سے اپنی روزی کا بندوبست کرتے ہیں۔ مگر ٹڈی دل کے خلاف بظاہر ناکام جنگ سے ان غریب ترین طبقات کو بھوک کا سامنا کر سکتا ہے۔

اس حوالے سے قوم کی امید ہمیشہ کی طرح پاک فوج ہے کہ وہ ان معاملات کو دیکھیں اور تیزی سے نمودار ہوتے اس بحران سے غریب کسانوں کو بچا لیں۔ فوج جس طرح سیلاب کی صورت سول انتظامیہ کا ساتھ دیتی ہے ایسے ہی اب ٹڈی دل کا خاتمہ ترجیحی بنیادوں پر کرنا پڑے گا۔ اگر فصلوں کو بچا لیا گیا تو سمجھیں ملکی معیشت بچ گئی۔ ماہرین آنے والے قحط سے خبردار کر رہے ہیں اگر ہم ٹڈی دل کا خاتمہ نہ کرسکے۔ اس کے اثرات غذائی اجناس کے مہنگے ہونے سے پہلے ہی محسوس کیے جا رہے ہیں۔

یہی موقعہ ہے کہ ہم اپنے تمام وسائل اس محاذ پر جھونک دیں اور اپنے ملک کو قحط کے ممکنہ خطرے سے بچا لیں۔ اس حوالے سے ہمارے دوست ملک چین نے حال ہی میں اپنے ماہرین بھی بھیجے ہیں اور کافی مقدار میں کیمیکل وغیرہ مہیا کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ اب ہمارے ارباب اختیار پر منحصر ہے کہ وہ کس حد تک چیتن کی پیشکش سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ این ڈی ایم اے کو اب براہ راست ٹڈی دل کے خلاف آپریشن کی کارروائی کرنی ہوگی کیونکہ صوبوں کے پاس اس کو ختم کرنے کے لیے نہ تو وسائل نظر آتے ہیں اور نہ ہی کوئی عزم۔

کسانوں کے لئے فوری پیکج کا اعلان کیا جائے زراعت کے لئے بجلی پر تمام تر ٹیکس ختم کیے جائیں۔ کسانوں کو اچھے بیج مہیا کیے جائیں اور کسانوں کی کوآپریٹو سوسائٹیز کو فعال کیا جائے۔ اس وقت لگتا ہے وفاق اور صوبوں میں کسانوں کی حالت زار بیان کرنے والی کوئی موثر آواز نہیں ہے اور نہ ہی ان میں اتنی تنظیم ہے کہ تاجروں کی طرح شہروں کو بند کروا کر اپنے مطالبات تسلیم کروا لیں۔ تاہم ہمیں یہ بات ملحوظ خاطر رکھنی چاہیے کہ کسان کی بدحالی پورے ملک کے معاشی استحکام کو تہہ و بالا کر دے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply