امریکی محکمہ امیگریشن کے دفاتر 4 جون سے دوبارہ کھل رہے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکی محکمہ سیٹئزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز (USCIS) کے دفاتر کورونا کی وجہ سے اڑھائی ماہ سے زائد عرصہ بند رہنے کے بعد اگلے ماہ 4 جون سے دوبارہ کھل رہے ہیں۔ کورونا کے باعث امریکہ بھر میں امیگریشن کے دفاتر ”ان پرسن“ انٹرویوز، فنگر پرنٹس اور بائیو گرافکس سہولیات کی فراہمی کے لئے 18 مارچ کو عارضی طور پر بند کر دیے گئے تھے۔ اس دوران آن لائن سروسز اور انتہائی ہنگامی نوعیت کی اپوائنٹمنٹس کی سہولت موجود رہی۔ تاہم کورونا کی وجہ سے عارضی پابندی کے باعث محکمہ کو امیگریشن کیسیز کے حوالے سے ”بیک لاگ“ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

امیگریشن ڈپارٹمنٹ چار جون سے دوبارہ کھلنے کے بعد ملتوی کیے گئے انٹرویوز اور بائیو گرافکس کی اپونٹمنٹس ری شیڈول کرے گا۔ جس کے لیے نئے لیٹرز جاری کیے جائیں گے۔ امیگریشن کی طرف سے جاری اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ امریکی محکمہ سی ڈی سی کی جانب سے جاری ہدایات پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے گا۔ چھ فٹ کا سوشل فاصلہ برقرار رکھنے، منہ اور ناک ڈھانپنے کی پابندی بدستور برقرار رہے گی۔

دفاتر پہنچنے والے افراد کو کورونا سے بچاؤ کے لیے حفاظتی اقدامات کی پابندی کو یقینی بنانے کا کہا گیا ہے۔ جس کے تحت ”ان پرسن“ فنگر پرنٹس اور انٹرویوز کے لیے آنے والے افراد کو شیڈول ٹائم سے پندرہ منٹ پہلے جبکہ شہریت کا حلف اٹھانے والوں کو تیس منٹ پہلے دفاتر کے اندر داخل ہونا ہو گا۔

گزشتہ دو ہفتے کے دوران تمام ایسے افراد جو کووڈ۔ 19 سے متاثر ہوئے ہیں۔ یا ایسے افراد جنھیں کورونا سے متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔ اور ڈاکٹرز نے انہیں چودہ روز کے لئے آئسولیٹ ہونے کا کہہ رکھا ہے۔ انہیں دفاتر نہ آنے کا کہا گیا ہے۔ عوام کو یہ بھی باور کرایا گیا ہے کہ احتیاط کے طور زیادہ مناسب رہے گا اگر وہ اپنے ساتھ ایک بلیک یا بلیو رنگ کی بال پوائنٹ لے کر آئیں۔

دفاتر کے اندر داخل ہونے والوں کو ان کی صحت سے متعلق سوالات کیے جا سکتے ہیں۔ اور ان کی سکیننگ بھی ہو گی۔ انٹری پوائنٹ پر ہینڈ سینی ٹائیزر کی سہولت بھی فراہم ہو گی۔ ان اقدامات کا مقصد عوام الناس اور محکمے کے ملازمین کی صحت کو یقینی بنانا ہے۔

Photo courtesy: (USCIS Website)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *