حکم کمپنی بہادر کا۔۔۔ ملک ٹھیکیدار کا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حضور عالی مقام جناب ملک ریاض صاحب عظیم ٹھیکیدار کا اقبال بلند ہو۔ حضور آپ کا یہ خادم آج آپ کی تعریف میں وہ قلابے ملائے گا کہ صالح ظافر جیسا تجربہ کار اور کہنہ مشق صحافی بھی ہم سے حسد کرے گا، مگر حضور اس کو حسد کرنے کے لئے آپ کا ہم پر عنایات کا احسان کم از کم دس کارنر پلاٹ کی صورت ہونا چاہیے کہ گناہ بے لذت سے کیا فائدہ۔

حضور کی مادی دنیا کی ترقیوں سے جل بھن کر کچھ لوگ ایک پھکڑ ناول نگار کا حوالہ دیتے ہیں۔ آپ کو تو خیر نہیں پتا ہوگا کہ آپ کا پڑھنے لکھنے سے کیا علاقہ مگر آپ کو یاد ہوگا ایک جج نے اپنے ایک فیصلے میں اس ناول نگار کے ناول کی ایک لائن لکھ کر اسے مشہور کر دیا تھا۔ وہ لائن تھی کہ ہر اندھی دولت کے پیچھے جرم ہوتا ہے۔ عظیم المرتبت ٹھیکیدار صاحب، یہ لوگ نہیں جانتے کہ محنت اور ترقی کیا ہوتی ہے، اب بھلا ہاتھ پر ہاتھ رکھنے سے تھوڑی کوئی امیر ہوتا ہے؟

کبھی کبھی یہ ہاتھ تھوڑا زور لگا کر دوسروں کے گالوں پر بھی رکھنے پڑتے ہیں تاکہ ان سے ان کی اپنی زمینوں کا قبضہ چھڑایا جا سکے۔ خدا کی پناہ کہ آپ اس ملک کو ترقی کی راہ پر لے جانا چاہتے ہیں اور ایک سٹیٹ آف دی آرٹ قسم کی سوسائٹی اس قبضہ والی زمین پر بناتے ہیں مگر لوگ بھی ایسے جاہل ہیں کہ اپنے باپ دادوں کی زمین خالی نہیں کرتے۔ ایسے خاک ترقی ہو گی بھلا۔

ابھی کل ہی ایک حسد کے مارے والے کو سنا کہ دو تین دہائیاں قبل ملک ریاض سکوٹر پر فراٹے بھرتا کام ڈھونڈتا پھرتا تھا۔ مطلب اب سکوٹر پر پھرنا بھی گناہ ہو گیا؟ آپ دو دہائیوں ں میں سکوٹر سے جہازوں تک پہنچ گئے مگر یہ کم ظرف ابھی تک سکوٹر کو رو رہے ہیں۔ اور آپ کی دریا دلی کے بھی کیا کہنے کہ جیسے آپ اپنا سکوٹر ہر ضرورت مند دوست کو استعمال کے لئے دیتے تھے اسی طرح آپ اپنا جہاز بھی اپنے دوستوں کو استعمال کے لئے دیتے ہیں۔ اللہ اللہ کیا کہنے آپ کی سخاوت کے۔

کل سے سوشل میڈیا میں آپ کے خلاف ایک شورش بپا ہے کہ آپ کی بیٹی نے دو ماڈلز کے گھر جا کر دھماچوکڑی مچائی ہے مگر آپ کے رعب و دبدبے کی وجہ سے مین سٹریم میڈیا یہ خبر نہیں چلا رہا حالانکہ آپ نے وضاحت بھی دے دی ہے کہ یہ سب آپ کو بدنام کرنے کی مذموم سازش ہے۔ ہمیں آپ کی انصاف پسند طبیعت سے یہی امید ہے کہ آپ میڈیا کے ٹائیکونز سے کہیں کہ بے دھڑک ہو کر یہ خبر چلاؤ، اس کی وجہ سے اشتہاروں کی مد میں کوئی کٹوتی نہیں کی جائے گی۔

ہم میڈیا کے حق پرست اور سچائی کا علم بلند رکھنے والے مالکان سے بھی امید رکھتے ہیں کہ جس طرح باقی ہر معاملے میں وہ اپنی لمبی ناک گھسیڑ کر بیٹھ جاتے ہیں اسی طرح اس معاملے میں بھی گرما گرم پروگرام کریں گے اور ہر گھنٹے کی نیوز میں اس خبر کو چلائیں گے تاکہ عوام کو پتا چل جائے کہ اس خاتون کا عزت مآب ملک ریاض ٹھیکیدار سے کوئی تعلق نہ ہے اور ان کا نام عبث طور پر لیا جا رہا ہے۔

ہمیں تو حیرت ہے کہ آپ کے ہزاروں کام جو سماجی بہتری کے لئے کیے گئے ہیں ان کو پس پشت ڈال کر آپ کے بارے میں انتہائی منفی تاثر روا رکھا جاتا ہے۔ ہم آپ کی جانب سے ان سب کو کہے دیتے ہیں کہ کھاتا ہے تو لگاتا بھی ہے، تم بھی اربوں کھا کر لاکھوں لگا دو، کس نے روکا ہے؟ محترم جناب ملک ریاض صاحب، یہ آپ کو ٹھیکیدار ٹھیکیدار کہہ کر اپنے تئیں آپ کا مذاق اڑانے کی کوشش کرتے ہیں مگر ان بیچاروں کو کیا پتا کہ اماں کہتی تھیں کہ دھندے سے بڑا کوئی دھرم نہیں ہوتا۔ ان لوگوں نے کون سا کبھی ایک ٹکے کا بھی کاروبار کیا ہے۔

آپ نے سنا ہوگا کہ یہ مخالفین آپ کی بدگوئی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ سب سیاستدان آپ کی جیب میں ہیں اور کوئی بھی میڈیا کی طرح آپ کے خلاف بولنے کی جرات نہیں کر سکتا۔ جناب عالی، اس طرح کی باتیں کر کے یہ آپ کے اور آپ سے بھی اعلیٰ ادارے کے درمیان پھوٹ ڈلوانا چاہتے ہیں تاکہ آپ دونوں عظیم اداروں والے آپس میں لڑ پڑیں کہ زیادہ سیاستدان کس کی جیب میں ہیں۔ ہم آپ کو یہی صائب مشورہ دیں گے کہ آپ عوام کالانعام کی اس طرح کی سازشوں پر بالکل کان نہ دھریں اور چپ کر کے سیاستدانوں کی جیبیں بھر کر انہیں اپنی جیب میں رکھیں کیونکہ کل کو انہوں نے ہی حکومت میں آ کر آپ کے کام نکالنے ہیں۔

ہم آپ سے دست بدستہ درخواست کرتے ہیں کہ پاکستان کا ٹھیکہ بھی آپ لے لیں تاکہ روز روز کے جھنجھٹ پالنے سے آپ کو چھٹکارا حاصل ہو اور آپ ایک ہی دفعہ یکسوئی سے عوام کی بہتری کے لئے سڑکیں اور سوسائٹیاں بنا سکیں جس میں عوام مہنگے مہنگے پلاٹ خرید کر آپ کو دعا اور ڈیلرز کو بددعا دے سکیں۔

(حضور وہ دس کارنر پلاٹس کا وعدہ یاد رکھئے گا، بندہ ساری عمر اسی طرح آپ کی شان میں نغمے گاتا رہے گا) ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *