چھوٹے میاں صاحب کی چنی منی خواہش

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جرنیلی سڑک رضا علی عابدی کی شہرہ آفاق تصنیف ہے۔ وہ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ پشاوروالے کہتے ہیں کہ جی ٹی روڈ ان کے شہر سے شروع ہوتی ہے کلکتہ کے ایک باسی سے جب پوچھاکہ جناب کیا جی ٹی روڈ یہاں پر ختم ہوتی ہے تو وہ حیرانی سے بولا ختم۔ ۔ ۔ جناب جی ٹی روڈ شروع ہی یہاں سے ہوتی ہے۔ یعنی دونوں طرف کا دعویٰ ہے کہ جی ٹی روڈ ان کے ہاں سے شروع ہوتی ہے دوسرے معنی میں اس دعوی ٰ سے کلکتہ والے بھی خوش ہیں اور پشاور والے بھی خوش ہیں اور شاید اسی کو حکمرانوں کی حکمت کہتے ہیں۔

یہ بات شہبازشریف المعروف چھوٹے میاں صاحب کے اس بیان پر یاد آئی جس میں انہوں نے ایک چنی منی خواہش کا اظہار کیا کہ ملک میں نئے انتخابات ہونے چاہیں۔ اب خبر نہیں چھوٹے میاں صاحب پشاور والے ہیں یا کلکتہ والے بہرحال ان کی خوشی میں ہی ہم خوش ہیں کہ اس خوشی سے وہ خوش ہوتے ہیں۔

اب یہ نہیں پتہ کہ شہبازشریف یہ مطالبہ کس سے کر رہے ہیں؟ اگر خان صاحب ان کے مخاطب ہیں تو وہ ان سے یہ کیوں کہہ رہے ہیں؟ خان صاحب تو ان کے سب سے بڑے سیاسی حریف ہیں؟ کیا وہ یہ توقع رکھتے ہیں کہ خان صاحب اسمبلی توڑ کر نئے انتخابات کرانے کا اعلان کریں؟ اگر یہ سب نہیں تو پھر دوسرا خیال مقتدر حلقوں کا آتا ہے۔ یہ وہ حلقہ ہے جس کا تمغہ چھوٹے میاں صاحب ان دنوں بھی بڑے شوق سے سینے پر سجائے کوچہ سیاست میں پھر رہے ہیں اور یہ صدا لگا رہے ہیں۔ دے جا سخی اس خادم جمہوریت کو حق حکمرانی دے جا۔ دے جا سخی با با۔ ۔ ۔ دے جا۔ ۔ ۔

کہنے والے کہتے ہیں کہ میاں صاحب ان سخی بابوں سے کبھی اندھیرے میں ملتے تھے اب اجالے میں ان سے رابطہ ہوتا ہے لیکن انہیں اس پر عار نہیں کیونکہ اب وہ یہ کہتے ہیں کہ یہ غیر تھوڑے ہیں اپنے ہی تو ہیں۔ حالانکہ زیادہ دور جانے کی بھی ضرورت نہیں جب بڑے اور چھوٹے میاں صاحب خلائی مخلوق کا ڈھنڈورا پیٹتے تھے۔ اس ڈھولچی مشق میں بڑے صاحب کی تو دال نہیں گلی البتہ چھوٹے صاحب پتلی گلی کے ہی مستقل راہگیر رہے اور اس کی تصدیق ان کی اس بیان سے بھی ہوتی ہے جس میں وہ زبان پر یہ شکوہ لائے کہ 2018 کے انتخابات سے ایک مہینے پہلے ان کی کابینہ تک حتمی ہوچکی تھی لیکن پھر خان صاحب نے شیروانی پہن لی اور جناب دیکھتے رہ گئے۔ اس کا مطلب ہے بڑے میاں تو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ۔

حضور والا مانا کہ کرکٹ آپ کو بھی پسند ہے لیکن یہ کیا کہ وکٹ کے دونوں طرف کھیلا جائے۔ گوروں کے اس شریفانہ کھیل کو اتنا تو آلودہ نہ کریں کہ بڑے میاں صاحب کے لئے لندن میں رہنا مشکل ہو جائے یہی نہیں بلکہ ہمارے ہیٹرک یافتہ وزیراعظم کے دل میں یہ میل آ جائے کہ دھوکہ نہ دینے والا انہیں دھوکہ دے گیا لیکن وہ سیاست ہی کیا جس کے سینے میں دل ہو۔

ہمارے قابل قدر خادم اعلیٰ جس عمر میں ہیں وہاں جذبات پر کم اور ذاتیات اور وہ بھی اپنی ذات پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے لیکن یہاں معاملہ الٹ ہے۔ گزشتہ دنوں حضرت کے اوپر تلے دو انٹرویو دیکھنے کا موقع ملا۔ دونوں انٹرویو عہد کورونا کے تھے، ان انٹرویو میں ایسے لگتا تھا کہ شہنشاہ جذبات اب کالر مائیک پٹخ دیں گے اور کالی سکرین سے باہر نکل آئیں گے لیکن ایک خاتون اور ایک مرد اینکر کی مہربانی جو انہیں عین حالت جذبات میں غیر جذباتی کر دیتے جس سے ان کی یک دم بریکیں لگ جاتیں۔

اس پر وہ پہلے اینکر اور اینکرنی کو یہ جتلاتے کہ آپ نہایت سمجھدار اور باشعور صحافی ہیں قوم آپ کا پروگرام نہایت شوق سے دیکھتے ہیں لیکن آپ میرے ساتھ جو یہ حرکت کر رہے ہیں مجھے بات مکمل نہیں کرنے دے رہے اور بار بار ٹوک رہے ہیں یہ بہرحال شریف صحافیوں کا شیوہ نہیں ہے۔ اب میاں صاحب کو کیا معلوم کہ یہ اینکروکریسی کا دور ہے اس میں جس طرح کے ”شریف صحافی“ انہیں درکار ہیں وہ بازار صحافت میں نایاب ہیں۔

یہ تو ہوا تصویر کا ایک رخ، لیکن چنی منی خواہش کا دوسرا رخ دیکھیں تو اس میں موٹے دماغوں کے ساتھ پتلے دماغوں والوں کی بھی سمجھ شریف میں کچھ نہیں آ رہا کہ اس بے وقت کی راگنی کی آخر کیا ضرورت آن پڑی۔ اس کورونائی دور میں کہاں کا الیکشن اور کہاں کی سلیکشن؟ آپ تو نظریاتی سیاست کے علمبردار ہیں آپ تو پریس کانفرنس میں مگر مچھ کے آنسو بہا کر یہ کہتے پھرتے تھے کہ کسی وزیراعظم کو اس کی آئینی مدت پوری نہیں کرنے دی گئی۔ اگر مکمل موقع دیا جاتا تو جمہوریت کی جڑیں مضبوط ہوچکی ہوتیں لیکن اب آپ خو د ہی جمہوریت کے پودے کو اکھاڑ کر جڑیں دیکھنا چاہتے ہیں کہ جڑیں مضبوط ہوئی ہیں یا نہیں۔

جناب جمہوریت کو نوے کی دہائی میں لے جانا چاہتے ہیں جس میں ن لیگ نے دو بار محترمہ کی حکومت پر بلڈوزر پھیرا اور پھر دو بار آپ کی جمہوریت کی چھت سے بیم کھینچے گئے۔ اب آپ خان صاحب کی نئی نویلی حکومت کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑنا چاہتے ہیں ہاتھ بے شک دھوئیں لیکن کپتان کے بجائے کورونا سے لڑنے کے لئے اور ویسے بھی جمہوریت کے لئے اتنا ہی آپ کے دل میں درد اٹھتا ہے تو بسم اللہ کیجئے قومی اسمبلی میں آپ کے 84 سالم ارکان ہیں پہلے ان سے استعفیٰ دلوائیں اور پھر شوق سے جمہوری جوا کھیلیں کہ وقت پاس کرنے کے لئے اس سے بہتر اور کوئی کام نہیں۔ رہی بات عوام کی خدمت کی تو اپوزیشن میں رہ کر وہ کہاں ہو سکتی ہے۔ خادم اعلیٰ سمیت کوئی بہت بڑا خدائی خدمت گار ہی ہو گا جو اپنی جیب سے پیسے خرچ کرے اورعوام کی خدمت کرے۔

سیاسی پنڈتوں کے نزدیک میاں صاحب کی چنی منی مطالبے کی سنجیدگی کا اس سے بھی اندازہ لگا لیجیے کہ ریگولر میڈیا تو کجا سوشل میڈیا نے بھی اس کو اہم نہیں سمجھا۔ ہم تو اس لئے اس پر خیال آرائی کر رہے ہیں تاکہ سند رہے اور مورخ جب کبھی تاریخ لکھے تو وہ اس سنہرے ارشادات کو بھی پرکھے تاکہ خادم اعلیٰ کی دانش کا اندازہ ہو سکے۔ ویسے وہ خود بھی خاصے زیرک ہیں اسی لئے تو ایک انٹرویو میں ہفتہ پہلے ہی قوم کو 28 مئی کے یوم تکبیر کی پیشگی مبارک باد دے ڈالی کہ عید کے بعد ان کے ساتھ نجانے کیا ہو؟ عید تو خیر سے گزر گئی اب میاں صاحب جانیں اور شیخ رشید کا ٹارزن جانے۔ سانپ سیڑھی کا کھیل کھیلیں بھلے الیکشن سلیکشن کی سرکس لگائیں، ہماری بلا سے۔ دونوں ہی اپنی اپنی جگہ پر خوش ہیں پشاور اور کلکتہ والوں کی طرح!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *