پروفیسر ڈاکٹر اعجاز احسن: مسیحا روپ استاد کورونا سے ہار گیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سنتے آئے ہیں کہ ڈاکٹر مسیحا کا روپ ہوتا ہے۔ جب میڈیکل کالج میں قدم رکھا تو بہت سے نام سنے اور پھر کئی معجزے دیکھے۔ اس زمیں پر اعجاز احسن کو وہ مسیحا پایا جو کہ اوتار تو نہیں تھے لیکن نو آموز ڈاکٹرز، سنئیر سرجن اور دکھیارے مریض ان کے سامنے عقیدت سے سرنگوں رہتے تھے۔ ان کے ہاتھ کا قلم و نشتر اتنے احسن طریقے سے اعجاز رقم کرتا کہ مادر زاد روگی اپنے دکھوں کی پوٹ اتار پھینکتے اور بسترمرگ پر پڑے، راہ عدم کے مسافر، واپسی کی راہ پکڑتے۔ موت شرمسار ہو کر الٹے پاؤں لوٹ جاتی۔

ان کا تعلق ایک ایسے خاندان سے تھا جہاں انسانیت، اخلاق، آداب، عزت، محبت، عاجزی، حیاء، ایمانداری، وفاداری، اقدار اور روایات کو ایک خاص حیثیت حاصل تھی۔ بہت اصول پسند تھے لیکن کرختگی ودرشت مزاجی قریب بھی نہیں پھٹکی تھی۔ ان کے کردار میں خاندانی روایات اور مقامی رواجوں کا دخل تھا لیکن بہت سی خوبیاں وہ بھی تھیں جو کہ صرف کتابوں میں ہی ملتی ہیں۔ راؤنڈ کے دوران کسی مریض کو پژمردہ دیکھتے تو پروٹوکول بھول کر اس کے بیڈ پر ہی بیٹھ جاتے اور مکمل تسلی و تشفی کے بعد ہی آگے چلتے۔ شام کے راؤنڈ کے بعد مریضوں کے بارے میں مشورہ کرنے کے لئے ہسپتا ل کے ملازمین اور زیر تربیت ڈاکٹرز کو اکثر ان کی رہائش پر جانا پڑتا تھا۔ گھر کا ملازم ہمیشہ پہلے موسمی حالات کے مطابق چائے پانی سے تواضع کرتا اور پھر اگر ڈاکٹر صاحب موجود ہوتے تو ملاقات کروا دیتا ورنہ بتا دیتا کہ وہ گھر پر نہیں ہیں۔

ملک میں اقربا پروری، سیاسی دباؤ اور ترقی کا لالچ عام ہے۔ ایسی ہر برائی سے انہیں نالاں دیکھا۔ بھائی (اعتزاز احسن) وزیر داخلہ تھا، ذہنی رغبت ان کی بھی حکمران پارٹی کی طرف ہی تھی۔ پنجاب کے وزیر اعلی منظور وٹو نے خود کہا۔ بھائی کا بھی فون آیا۔ محترمہ کی بھی سفارش تھی۔ جواب تھا، ”مجھ پر الزام ہے کہ میں بھائی کی وجہ سے پرنسپل ہوں اور وہ شاید برسوں بعد مجھ سے رابطہ کر رہا ہے۔ یہ سمجھا رہا ہے کہ حکمرانوں سے بگاڑتے نہیں لیکن میں کیسے ایک گئے گزرے پرائیویٹ میڈیکل کالج کے سٹوڈنٹ کو ملک کے سب سے اعلیٰ کالج میں مائیگریشن کی اجازت دے دوں۔“

میرٹ خود بناتے۔ میٹرک سے ایف سی پی ایس پارٹ ون تک کے تمام نتائج سامنے رکھتے۔ پھر اپنے زیر سایہ تربیت حاصل کرنے کے خواہش مندوں کا انٹرویو کرتے۔

پہلی پوزیشن ایک عام سے ڈاکٹر نے حاصل کر لی۔ وہ بنیادی مرکز صحت میں جاب کر رہا تھا۔ دوسرے نمبر پر لاہور کے ایک مایہ ناز، قابل عزت آرتھوپیڈک سرجن جو کہ ان کے ساتھ پروفیسر بھی تھے، کا بیٹا تھا۔ وہ پہلے ہی میو ہسپتال میں موجود تھا۔ تقریباً دو ماہ تک ٹریننگ شروع نہ ہو سکی کہ جب تک پہلی پوزیشن والا تبادلہ کروا کر نہیں آئے گا باقی لڑکوں کو جوائن کر کے اس کی سنیارٹی خراب نہیں کر وں گا۔ پروفیسر صاحب نے سفارش کی تو کہا ”آپ کے سیکریٹری سے تعلقات ہیں اس کا تبادلہ کروا کر لے آؤ پھر اس کے بعد آپ کا بیٹا بھی کام میں شامل کر لیا جائے گا۔“

بہت اچھے سرجن تھے اور عقلمند، سمجھدار، انصاف پسند استاد بھی۔ ایک ساتھی پروفیسر کے بیٹے کے ممتحن تھے۔ سب کو پتا تھا کہ اعجاز صاحب سفارش نہیں مانتے۔ ایک ہی حل تھا کہ اس کو اچھی طرح کیس کی تیاری کروا دی جائے۔ ان کے رجسٹرار کی ہی ڈیوٹی لگا دی گئی۔ وہ ان کے طرز امتحان سے بہت اچھی طرح واقف تھا۔ تمام ممکنہ سوالا ت سمجھا دیے گئے۔ وہ فر فر جواب دے رہا تھا۔ فرمایا، ”اب تک کے جوابات سے میں مطمئن ہوں اور تم پاس ہو چکے ہو۔ اگر تم میرے تین سوالات کے جواب دے دو تو اعلیٰ پوزیشن تمہاری۔“ اس کیس کے متعلق ایک انتہائی آسان سوال پوچھ لیا۔ وہ پریشان ہو گیا، اسے حوصلہ دیا کہ پاس تو ہو ہی چکے ہو۔ سوچ کر جواب دو۔ ”بوکھلایا ہوا بولا“ یہ سوال تو انہوں نے بتایا ہی نہیں۔ ”رجسٹرار کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہنے لگے“ نقل کے لئے بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہے۔ یاد رکھو! استاد استاد ہی ہوتا ہے۔ مجھے سوجھ گیا تھا۔ ”اور فیل کر دیا۔

پروفیسر صاحب کی بیوی کا اپریشن ہوا۔ اپریشن میں حالت خراب ہو گئی۔ آئی سی یو میں دو دن تک ان کے سرہانے بیٹھے رہے۔ ایک بیٹی بیرون ملک تھی، دوسری مہمانوں کی خدمت میں مصروف۔ ایک زیر تربیت ڈا کٹر نے درخواست کی ”دو دن سے آپ گھر نہیں گئے۔ شیو بھی بڑھ چکی ہے آپ آج چلے جائیں۔ آج رات ماں جی کے پاس میں رہ لو ں گا۔“ پہلے انکار کر دیا پھر دوسرے ساتھیوں کے زور دینے پر یہ کہہ کر چلے گئے کہ اس کے بدلے کام یا امتحان میں کسی قسم کی رو رعایت کی امید نہ رکھنا۔ برسوں بعد جب اس کی باری آئی تو خود کو اس کے امتحان سے الگ کر لیا۔

امرتا پریتم نے لکھا ہے ”خدا کو زمیں پر اتار لینے کی تمنا تھی۔“ یہ خواہش اس کی بھی پوری نہ ہو سکی۔ کبھی ایسی خواہشات پوری بھی ہوئی ہیں۔ ہاں! کبھی کبھی اس کا پرتو زمیں پر مجسم نظر آتا ہے۔ بے شک ہمیشہ رہنے والا نام صرف اللہ کا ہی ہے۔ یہ جان بھی اسی کی ہے۔ وہ جب چاہے واپس لے سکتا ہے۔ موت بے شک برحق ہے۔ آج ہزاروں جانوں کو موت کے منہ سے نکالنے والے دلیر سرجن اعجاز احسن کورونا سے لڑتے ہوئے جان کی بازی ہار بیٹھے ہیں لیکن وہ زندہ ہیں، اپنے ہزاروں شاگردوں کی شکل میں جو نسل در نسل زندگی باٹتے رہیں گے۔ موت کو شکست دیتے رہیں گے۔

(پروفیسر ڈاکٹر اعجاز احسن علامہ اقبال میڈیکل کالج اور کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہورکے پرنسپل رہے ہیں۔ کالج آف فزیشن اینڈ سرجنز کے صدر بھی رہے۔ ان کی کتاب ٹیکسٹ بک آف سرجری پاکستان کے علاوہ کئی امریکی یونیورسٹیوں کے نصاب میں بھی شامل ہے۔ وہ اخبارات میں کالم بھی لکھتے تھے۔ )

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *