جان بچانے کے لئے کشتی نوح سے رابطہ کریں
ہم میں سے اکثر نے حضرت نوح علیہ السلام اور ان کی کشتی کے بارے میں پڑھ رکھا ہے یا سن رکھا ہے۔ ان کی ساڑھے نو سو سال کی انتہائی صبرآزما وعظ و نصیحت کے باوجود صرف اسی کے قریب لوگ ہی ایمان لائے۔ اس کے بعد اللہ کے حکم سے انہوں نے ایک کشتی تیار کی۔ کشتی کے سواروں میں ایمان لانے والوں کے علاوہ ہر ذی روح یعنی چرند، پرند اور تمام جانوروں کا ایک ایک جوڑا بھی شامل تھا تاکہ ان کی نسلیں آگے بھی چل سکیں۔ کشتی کے ان سواروں کے علاوہ باقی سب اللہ کی طرف سے آئے ہوئے پانی کے عذاب میں ڈوب گئے۔ ڈوبنے والوں میں حضرت نوح علیہ السلام کا بیٹابھی شامل تھا۔ یہ بدقسمت بھی ایمان نہ لانے والوں میں شامل تھا۔ مساجد میں نماز جمعہ کے خطبوں، مذہبی جلسوں اور بعض دوسرے مواقع پر واعظین اس قصہ کو بھر پور طریقے سے سناتے ہیں۔ صوبہ پنجاب کے ایک گاؤں میں لیکن اس کاذکر ذرا مختلف طریقے سے کیا گیا:
دیہی علاقے کے ایک وین اڈے پر ایک وین سے چار سواریاں اتریں۔ یہ ایک دن کی بات نہیں تھی، ان کا روز کا معمول تھا۔ وین یہاں سے دوسرے علاقوں کی طرف مڑ جاتی تھی اور ان کی منزل مقصود اس اڈے سے دو ڈھائی کلومیٹر دور ایک اور گاؤں تھا، جہاں یہ چاروں ایک سرکاری ادارے میں ملازمت کرتے تھے۔ آگے ان کو وین کے سوا کسی اور سواری کا بندوبست کرنا پڑتا تھا۔ سواری نہ بھی ہو تو ان کے لئے یہ سفر پیدل بھی طے کرنا کوئی اتنا مشکل نہیں تھا۔ اس لئے بوقت ضرورت وہ پیدل بھی آسانی سے یہ سفر طے کر لیتے تھے۔ ان کے لئے مشکل اور پریشانی والی بات اس دن ہوتی، جس دن وین لیٹ ہو جاتی تھی۔ سرکاری دفتر تھا، وقت پر حاضری بھی ضروری تھی۔ اس دن بھی وہ معمول کے مطابق وین سے اترے، لیکن آج وین خلاف معمول اپنے مقررہ وقت سے ذرا لیٹ ان کے مطلوبہ سٹاپ پر پہنچی تھی۔ آج دفتر سے لیٹ ہونے امکان نظر آ رہا تھا۔ ان میں سے تین پیدل ہی چل پڑے اور ایک کے پاس اپنی سائیکل تھی۔
انہوں نے سائیکل سوار اپنے ساتھی کو رشک بھری نظروں سے جاتے دیکھا اور سوچا کہ آج تو کوئی معجزہ ہی انہیں لیٹ ہونے سے بچا سکتا ہے۔ اور پھر معجزہ ہو گیا۔ ان کا باس اپنی کار پر دفتر جا رہا تھا۔ اس نے گاڑی روکی اور تینوں کو اپنے ساتھ بٹھا لیا۔ اب سائیکل سوار پیچھے رہ گیا اور لیٹ ہونے کے خدشے سے دوچار اس کے ساتھی افسر کے ساتھ وقت پر دفتر پہنچ گئے۔ وین چونکہ آج لیٹ پہنچی تھی، اس لئے سائیکل والے صاحب کوشش کے باوجود وقت پر دفتر نہ پہنچ سکے۔
اس کے باوجود وہ مطمئن تھا کہ وہ انہی تین ساتھیوں کے ساتھ ہی وین سے اترا ہے جو صاحب کی گاڑی کی وجہ سے وقت پر دفتر پہنچ گئے تھے، باس نے چونکہ اس کو بھی سائیکل پر آتے دیکھ لیا تھا اور اس کو یہ بھی علم ہے کہ یہ ان کے ساتھ ہی وین سے اترا ہے، اس لئے چند منٹ لیٹ ہو بھی جاؤں تو فکر مندی کی کوئی بات نہیں۔ لیکن باس تو باس ہوتا ہے، اس نے حاضری لگانے کے لئے رجسٹر اٹھایا تو اس کے خانے میں سرخ روشنائی سے سوالیہ نشان (؟) لگا ہوا تھا۔ اس کا مطلب تھا وہ لیٹ ہونے کی وجہ سے حاضری نہیں لگا سکتا اور اس کو لیٹ ہونے کی وجہ بھی بتانی ہے۔ اس نے افسردگی کے عالم میں سارا واقعہ اپنے ایک اور ساتھی کو سنایا۔ اسے زیادہ افسوس یہ نہیں تھا کہ اسے چند منٹ لیٹ ہونے کی وجہ سے حاضری نہیں لگانے دی گئی، بلکہ اس بات کا تھا کہ اس کے ساتھی محض باس کی کار کی وجہ سے اس سے جلدی پہنچ گئے اور سرخ رو ٹھہرے اور باس نے ساری حقیقت جاننے کے باوجود اس کے ساتھ امتیازی سلوک کیا۔
یاد رہے کہ سائیکل سوار ملازم صاحب کی ”گڈ بکس“ میں بھی نہیں تھا۔ اس کے ساتھی نے ساری بات سن کر کہا: آپ بھی بھولے بادشاہ ہیں یہ صاحب کی کار نہیں، یہ ”کشتی نوح“ ہے۔ جو اس پر سوار ہو گیا، وہ بچ گیا اور جو نہ ہو سکا، وہ ڈوب گیا۔ سائیکل والے ملازم نے اس مثال پر اپنے ساتھی کو خوب داد دی کہ میری توجہ اس حقیقت کی طرف نہیں گئی تھی۔ صاحب کی کار اب صرف کار نہیں رہی تھی، مشہور ہو کر ”کشتی نوح“ بن گئی اور برسوں اس کا ذکر ہوتا رہا۔ اب وہ کسی کباڑ خانے کی زینت ہو گی۔ سائیکل سوار ملازم اور باس دونوں اس دنیا سے جا چکے، باقی نام اللہ کا۔
یہ صرف ایک ادارے کی بات نہیں، اپنے اردگرد تمام دفاتر کو دیکھئے، زیادہ تر دفاتر میں صاحب کی کار ہو نہ ہو، اس نے ایک ”کشتی نوح“ ضرور بنوائی ہوتی ہے۔ جو اس پر سوار ہو جاتا ہے، محفوظ رہتا ہے اور باقی ڈوب جاتے ہیں۔ حضرت نوح علیہ السلام والی کشی میں تو صرف ایمان والے ہی سوار ہو سکتے تھے، لیکن ان دفاتر میں ایمان ضروری نہیں۔ بس آپ نے اس کشتی پر سوار ہونا ہے، اور اپنے آپ کو ڈوبنے سے بچانا ہے جس کا ”ملاح“ باس ہے۔
جو سوار نہیں ہو گا، وہ پورا نہ بھی ڈوبے، پھر بھی ساری سروس ڈبکیاں ہی کھاتا رہے گا۔ ان دفاتر سے آگے ”جہاں اور بھی ہیں“ ، وہاں بھی ہر دور میں ایک کشتی نہیں پورا ”سفینہ نوح“ تیار رہتا ہے۔ اس کے مسافر بدلتے رہتے ہیں، لیکن کپتان نہیں۔ سواریوں کا انتخاب جہاز راں کمپنی خود کرتی ہے۔ اصول وہاں بھی یہی ہے : جو اس پر سوار رہے گا، محفوظ و مامون رہے گا، باقی ڈوب جائیں گے، پورے نہ بھی ڈوبے، ڈبکیاں تو ان کے مقدر میں لکھ دی گئی ہیں۔


