کورونا کے متاثرین میں اضافہ کا ذمہ دار کون؟
جیسے ہی حکومت نے لاک ڈاؤن میں نرمی کا عندیہ دیا ایسا لگا گویا جیسے کورونا کا ایشو ہمارے ملک میں ہے ہی نہیں۔ تاجر برادری نے کھلم کھلا اعلان کر دیا کہ نہ صرف عید تک بلکہ عید کے بعد بھی وہ کاروبار بند نہیں کریں گے۔ عوام جو پہلے ہی اس انتظار میں تھے کہ کب بازار کھلیں اور وہ خریداری کے لئے جائیں۔ آپ نے یقیناً مشاہدہ کیا ہو گا شاید ایک یا دو فیصد نے ماسک یا گلوز پہنے ہوں باقی اٹھانوے فیصد عوام کورونا کو کوئی اہمیت ہی نہیں دے رہے اور یہی وجہ ہے کہ کورونا کے متاثرین کی تعداد 60 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔
گو کہ صحت یاب ہونے والوں کی تعداد بھی حوصلہ افزا ہے۔ ٹیسٹنگ کی صورتحال جو کہ تشویشناک حد تک کم ہے اسے بہتر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن ہر آنے والے دن کورونا کے متاثرین میں اضافہ ہو رہا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ کورونا کی بڑھتی ہوئی تعداد اور اموات کے باوجود عوام نے کورونا کو اہم سمجھنے سے انکار کر دیا ہے۔ ماہرین کو پہلے ہی خدشہ تھا کہ مئی کے مہینے میں کورونا کی تعداد میں اضافہ ہو گا لیکن بارہا آگاہ کرنے کے باوجود کوئی خاص حفاظتی اقدامات نہیں کیے گئے اور حکومت کی لاک ڈاؤن کھولنے کی جو مشروط اجازت دی گئی تھی ان پر عوام نے رتی بھر عمل نہیں کیا جس کی وجہ سے کورونا کے متاثرین کی تعداد میں خاطر خوا ہ اضافہ ہو او ر بتدریج ہو رہا ہے جو کہ لمحہ فکریہ ہے کیونکہ حکومت تو پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ نہ تو ہمارے پاس وینٹی لیٹرز ہیں اور نہ ہی اتنے ہسپتال اور بستر ہیں۔
ایسے حالات میں کورونا کے متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہونا شدید ملکی بحران کا سبب بننے کا پورا اندیشہ ہے۔ ماہرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق لاک ڈاؤن کھولنے کا فیصلہ دانشمندانہ نہیں تھا لیکن اب پچھتائے کیا ہوت۔ اب تو مستقبل کی فکر کرنے کی ضرورت ہے کہ جب تک کورونا کی وبا ختم نہیں ہوتی اس سے عوام کو بچانے کے لئے کون سے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جن سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔
یہاں پر ایک مرتبہ پھر ہمیں فوج کے ادارے کو خراج تحسین پیش کرنے کی ضرورت ہے جو عوام تک راشن پہنچنا نے کا فریضہ بخوبی سر انجام دے رہے ہیں یعنی وہ کام جو ان عوامی سیاسی نمائندوں کو کرنا چاہیے جو عوام سے زیادہ جڑت کا دعویٰ کرتے ہیں وہ کام ایک مرتبہ پھر فوج نے سر انجام دیا ہے۔ موجودہ حکومت اپنے نمائندوں کے ذریعے عوام تک رسائی کیوں نہیں کررہی اور کیوں اس میں تساہل برتا جا رہا ہے یہ تو وہ ہی بتا سکتے ہیں۔ عوام بخوبی جانتے ہیں کہ کورونا کے ایشو پر بلایا جانے والا قومی اسمبلی کا اجلاس بھی بے نتیجہ ہی رہا۔ جس سے ایک مرتبہ پھر عوام کو یقین ہو گیا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن سنجیدہ سے سنجید ہ مسئلے پر بھی ایک پیج پر اکٹھی نہیں ہو سکتیں۔
عوام کو اس کا ادراک ہے کہ حکومت کے لئے ممکن نہیں ہے کہ اتنی بڑی آبادی کو گھر بیٹھ کر کھلائے لیکن بغیر کسی مشاورت کے عوام کو موت کے منہ میں دھکیل دینا بھی تو ٹھیک نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ لاک ڈاؤن کھلنے سے پہلے اوربعد کے اعداد و شمار دیکھیں تو آپ کو واضح فرق دکھائی دے گا۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت ایک مرتبہ پھر مکمل لاک ڈاؤن اور سمارٹ لاک ڈاؤن کی تجاویز پر غور کر رہی ہے۔ عوام بارہا سوال کر رہے ہیں کہ اس لاک ڈاؤن کی مدت کتنی ہو گی گو کہ حکومت اور ماہرین اس کے خاتمے کی حتمی تاریخ دینے سے تو قاصر ہیں لیکن شنید ہے کہ جولائی کے اختتام تک لاک ڈاؤن کا دورانیہ طویل ہو سکتا ہے۔
عوام اس صورتحال میں خاصی مضطرب ہے بچے جو مارچ سے ہی گھروں میں بیٹھے ہیں ان کو گھروں میں پڑھانا خاصا مشکل کام ہے اور اس پر مصداق یہ کہ سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں نے آن لائن تعلیم دینے کا جو سلسلہ شروع کیا ہے اس سے بچوں کو خاطرخواہ فائدہ نہیں ہو رہا۔ پہلی بات تو یہ کتنے لوگ اس ٹیکنالوجی کے بارے میں جانتے ہیں اور کتنے لوگوں کی اینڈرائڈ اور آئی فون جیسے موبائل تک رسائی ہے اور سب سے اہم یہ کہ اس کا اندازہ کیسے لگایا جائے کہ بچوں کو سمجھ آ بھی رہا ہے یا نہیں۔
اس کے بعد یہ دیکھنا ہو گا کہ کیا یہ ٹیکنالوجی کی تعلیم سب کے لئے ہے کیا پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے دور دراز کے گاؤں کا بچہ بھی اس سہولت سے فائدہ اٹھا رہا ہے؟ اور اگر ایسا نہیں تو شہری اور دیہاتی بچوں کی تعلیم کے درمیان جو خلیج پہلے ہی موجود ہے ہم اس کو بڑھا رہے ہیں۔ تعلیم کے بعد زندگی کے ہر شعبہ میں آن لائن سسٹم کو فروغ دیا جا رہا ہے دیکھتے ہیں ہم اس میں کتنے کامیاب ہو تے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ آن لائن سسٹم کو ہمارے ملک کے عوام سمجھ سکیں اور عوام اس پر اعتبار کرنے لگیں اور اگر ایسا ہو گیا تو پھر ہم یقیناً کورونا کو گھر بیٹھے شکست دے سکتے ہیں۔
جن ممالک اور جن افراد نے کورونا کی شدت کو محسوس کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ امسال تو ہر کسی کو اپنی او ر اپنے پیاروں کی جان بچانے کی فکر کرنی چاہیے ا س کے بعد کورونا کے ختم ہونے پر زندگی کی بقیہ پلاننگ کرنی ہے۔ لیکن معلوم نہیں کہ نہ صرف ہمارے عوام بلکہ حکومت کے پاس بھی اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے کوئی پلاننگ ہے یا نہیں۔ قانو ن کے کمزور ہو نے کی وجہ سے ہمیں اپنے ملک میں سڑکوں پر جانے والا ہر انسان ماسک اور گلوز کے بغیر ہی ملے گا اور خدانخواستہ آپ نے نے اسے کہہ دیا کہ وہ انہیں استعمال کرے تو گویا جیسے آپ نے اس سے دشمنی مول لے لی۔
آپ کسی بھی سرکاری ادارے میں چلے جائیں آپ کو کورونا کے متعلق بنائی جانے والی ایس اوپیز کی دھجیاں بکھری نظر آئیں گی۔ آپ سیاستدانوں، ڈاکٹروں، داکانداروں، مزدوروں غرض کسی بھی دیکھ لیں کوئی بھی ان ایس او پیز پر پورا اترتا دکھائی نہیں دیتا۔ ایسا لگتا ہے کہ ہم نے خو دہی فیصلہ کر لیا ہے کہ کورونا ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ اب سوال یہ ہے کہ عوام کے جو رول ماڈ ل ہیں وہی کورونا کی ایس او پی پیز کا خیال نہیں رکھیں گے تو عوام بھلا کیوں اس پر عملدرآمد کر یں گے۔
اس لئے ضروری ہے کہ اگر حکومت صحیح معنوں میں کورونا کے خاتمے کے لئے پرعزم ہے تو ان ممالک کا مشاہدہ کرے جہاں کورونا نے عوام کو بری طرح متاثر کیا اور اب اگر انہوں نے اس سے نجات حاصل کر لی ہے تو اسی طرز کے خاطرخواہ اقدامات کرے تاکہ ہمارے ملک میں بھی زیادہ سے زیادہ لوگوں کو بچایا جا سکے۔ ایسا کرنا اس لئے بھی ضروری ہے کہ کچھ مہینوں کے بعد پھر عید آئے گی اور تب پھر عوام اور تاجر برادری کا پر زور مطالبہ ہو گا کہ انہیں کاروبار کرنے کا موقع دیا جائے۔ اس لئے ضروری ہے کہ ابھی اسے اس کی تیاری شروع کی جائے تاکہ اس وقت تک عوام کورونا کے ایس او پیز کو اپنانے کی عادی تو ہو جائے۔
ماہرین کے مطابق کورونا کا علاج صرف اور صرف اس کی ویکسین سے ہی ممکن ہو سکتا ہے اور اس کو بنانے کے لئے دنیا بھر میں کوششیں کی جا رہی ہیں۔ امید ہے کہ دنیا جلد از جلد اس پر قابو پالے گی اور پوری دنیا اس سے چھٹکارا حاصل کر لے گی۔ ہمارے عوام کا المیہ یہ کہ ہم بغیر تحقیق کی گئی اور سنی سنائی معلومات کو اہم سمجھتے ہیں اس لئے یہاں ہر کوئی کورونا کے حوالے سے اپنی معلومات رکھتا ہے اس لئے وہ انہی معلومات کو بغیر کسی پرکھ کے ہی درست سمجھتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ وہ حکومت کی بنائی گئی کورونا کی احتیاطی تدابیر اس طریقے سے نہیں کرتا جو ادارہ عالمی صحت طے کرتا ہے۔ میرے نزدیک یہی وجہ ہے کہ آئے دن کورونا کے متاثرین میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ یہاں قیاس آرائی کی جاتی رہی کہ جیسے ہی گرمی اپنے عروج پر ہو گی کورونا بالکل ختم ہو جائے گا لیکن کیا وجہ ہے کہ اب تو گرمی کی شدت ہے لیکن کورونا بجائے ختم ہونے کے بتدریج بڑھتا جا رہا ہے۔ آپ سوشل میڈیا کا مشاہدہ کریں تو ایسا لگے گا کہ ہمارے ملک کا ہر شہری کورونا کے بارے میں زیادہ معلومات رکھتا اور اسے ختم کرنے کی بہتر تجاویز رکھتا ہے اور سادہ لوح انہی معلومات پر اکتفا کیے ہوئے اپنے لئے مصیبت مول لے رہے ہیں۔ ایک اور غلط موازنہ جو ہم اپنے ملک اور دوسرے ممالک سے کرتے ہیں کہ یورپ اور امریکہ کے مقابلے میں تو ہمارے ہاں متاثرین بہت کم ہیں اور مزید کہتے ہیں انڈیا میں کورونا کے متاثرین اور اموات ہمارے ملک سے زیادہ ہیں۔ اس طرح گویا ہم اپنے آپ کو خوش فہمی میں رکھے ہوئے ہیں اور یہاں ہی ہم وہی غلطی دہرا رہے ہیں جو امریکہ اور اٹلی نے اس وقت کی تھی جب وہ کورونا کو صرف چین کا مسئلہ سمجھ رہے تھے اور تاحال حالت یہ کہ یورپ اور امریکہ میں زندگی گویا رک گئی ہے اور اس وقت برازیل میں مسلسل پانچویں دن اموات کی شرح دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔ اس لئے براہ کرم اس طرح کا موازنہ کرکے اپنے آپ کو کسی خوش فہمی میں نہ رکھیں کیونکہ یہ ہر ملک کی اپنی بقا کی جنگ ہے اور ہمیں صرف یہ فکر کی ضرورت ہے کہ ہم نے کورونا سے کیسے نجات حاصل کرنی ہے؟
میں سمجھتا ہوں کہ عوام ان ایس او پیز پر عملدرآمد کریں جو عالمی ادارہ صحت نے تجویز کی ہیں۔ حکمرانوں سے بھی التماس ہے کہ اپنے صوبے میں کورونا کے اقدامات کو بہتر اور دوسرے صوبے کے اقدامات کو سرے سے غلط قرار دینے سے آپ عوام کو ایک غلط پیغام دے رہے ہیں۔ یہاں ہمیں اس بات کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے کہ کورونا کے ایشو پر پوری دنیا اکٹھی ہوتی اور ایک دوسرے کی مدد کرتی نظر آ رہی ہے۔
وہ دشمن ملک جو کبھی ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنا پسند نہیں کرتے تھے آج ایک دوسرے کے قریب آچکے ہیں تو کیا مضائقہ ہے کہ ہم اپنے دیگر اختلافات کو علیحدہ کر کے کورونا کے ایشو پر اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ ہمیں یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ اختلافات کی سیاست ہم تب ہی کر سکیں گے جب ہم اور ہمارے عوام زندہ رہیں گے۔ اس لئے ضروری ہے کہ تمام اختلافات کو بھلا کر خیبر سے کشمیر تک ایک قوم بنا جائیں اور مل جل کر ایک اس عفریت سے چھٹکارا حاصل کر سکیں۔
تاجر برادری کے ساتھ ٹھوس بنیادوں پر مذاکرات کیے جائیں اور ان کے نقصا ن کا ازالہ کرنے کے لئے مناسب پیکج دیا جائے۔ عوام کو ہر قیمت پر عالمی ادارہ صحت کی ایس او پیز پر عملدرآمد کر نے کے لئے پابند کیا جائے اور کسی صورت بھی ماسک اور گلوز کے باہر نکلنے نہ دیا جائے۔ ایسا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ انہی ایس او پیز کو جاپان نے ایک عرصہ سے اپنایا ہوا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ وہ نہ صرف اپنے عوام بلکہ اپنے بزگوں کو بھی کورونا سے بچانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ اندیشہ تھا کہ جاپان کے بزرگ بڑی تعداد میں جاں بحق ہوں گے لیکن حیرت انگیز طور پر جاپان کے بزرگ محفوظ رہے۔ تحقیق کرنے پر علم ہوا کہ جاپان ویسی ہی ایس او پیز پرعرصہ دراز سے عمل کر رہا ہے جو عالمی ادارہ صحت نے کورونا سے بچاؤکے لئے بنائی ہیں اس لئے ہمیں بالکل وہی حکمت عملی اپنانی ہے تا کہ یہاں زیادہ سے زیادہ زندگیاں بچائی جا سکیں۔


