ڈاکٹر محمد اجمل سے وابستہ چند یادیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سنہ 1967 میں گورنمنٹ کالج لاہور میں سال اول میں داخل ہوا تو ایک مضمون فلسفہ کا لیا۔ شعبہ فلسفہ ان دنوں کالج کی مین بلڈنگ سے باہر پنجاب یونیوسٹی سے متصل بلاک میں ہوتا تھا۔ نیچے کی منزل میں فلسفہ اور اوپر کی منزل میں نفسیات کا شعبہ تھا۔ ڈاکٹر اجمل صاحب ان دنوں نفسیات کے صدر شعبہ تھے۔ میں کالج میں داخل ہونے سے پہلے ڈاکٹر صاحب کے مجلہ راوی میں چھپنے والے ایک دو مضمون پڑھ چکا تھا جن میں “آہ ہماری روایات” بہت پسند آیا تھا۔ کلاسیں پڑھنے شعبہ فلسفہ جاتے تو کبھی کبھار ڈاکٹر صاحب کی زیارت بھی ہو جاتی۔ میں ان کی شخصیت سے بہت مرعوب ہوا تھا۔

جب میں بی اے میں پہنچا تو ڈاکٹر صاحب کالج کے پرنسپل بن چکے تھے۔ میں بی اے کے دوسرے سال میں کالج کے ہفت روزہ گزٹ کے اردو سیکشن کا مدیر مقرر ہو گیا۔ ان دنوں ڈاکٹر صاحب کی ایک مخصوص عادت کا سامنا کرنا پڑا جس کا میں بہت تذکرہ سن چکا تھا۔ وہ عادت تھی وقت کی پابندی نہ کرنا، نہ اپائنٹمنٹ کی پروا کرنا۔ گزٹ کے آخری شمارہ کے لیے ڈاکٹر صاحب کا انٹرویو لینے کا پروگرام بنا۔ ڈاکٹر صاحب سے ملاقات کا وقت لیا۔ جب مقررہ وقت پر دفتر پہنچا تو معلوم ہوا کہ ڈاکٹر صاحب تو کہیں گئے ہوئے ہیں۔ کوئی دو تین بار وقت لیا لیکن ہر بار اسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا۔ اب کاپی پریس میں بھیجنے کی ڈیڈ لائن قریب آتی جا رہی تھی اور میری پریشانی بڑھتی جا رہی تھی۔

آخر ایک رات نو بجے میں نے نیو ہوسٹل سے اپنے دوست شیخ افضال احمد کو ساتھ لیا اور ہم پرنسپل لاج پر جا پہنچے۔ ہماری خوش قسمتی کہ اس وقت ڈاکٹر صاحب گھر پر موجود تھے۔ ڈاکٹر صاحب نے کرم فرمائی کی اور ہمیں اندر بلا لیا۔ تقریباً دو گھنٹے سے زاید وقت تک وہ انٹرویو جاری رہا جو بعد میں گزٹ میں شائع ہوا۔ اس کے بعد گزٹ کے ادارتی بورڈ کا گروپ فوٹو ہونا تھا۔ ڈاکٹر صاحب سے وقت لے کر فوٹوگرافر کو بلوایا گیا۔ پرنسپل کے آفس کے باہر پورچ میں کرسیاں لگائی گئیں۔ ڈاکٹر صاحب دفتر سے نکل کر باہر آ کر اپنی نشست پر تشریف فرما ہو گئے۔ حسب معمول ان کے لبوں میں سگرٹ دبا ہوا تھا جس سے ابھی شاید ایک دو کش ہی لیے گئے تھے۔ فوٹوگرافر کے کہنے پر ڈاکٹر صاحب کے چہرے پر کسی قدر پریشانی دکھائی دی پھر اچھا کہہ کر انھوں نے سگرٹ ایک طرف پھینک دیا۔

Dr. Muhammad Ajmal (Centre)

جب میں ایم اے میں داخلہ کے لیے کالج پہنچا تو معلوم ہوا کہ شعبہ فلسفہ کا مقام تبدیل ہو چکا ہے۔ پرانی بلڈنگ تمام کی تمام شعبہ نفسیات کو دے دی گئی ہے اور شعبہ فلسفہ بخاری آڈیٹوریم کے باہر اکنامکس ڈیپارٹمنٹ کے پاس شفٹ ہو چکا ہے۔ پروفیسر محمد سعید شیخ صاحب فلسفہ کے صدر شعبہ تھے۔ وہ کالج میں مجلس اقبال کے بھی صدر تھے۔ میں مجلس اقبال کا سیکریٹری مقرر ہوا۔ یہ شاید پہلا موقع تھا کہ ایم اے کا طالب علم سیکریٹری بنا تھا۔ اس سے پہلے بی اے سال دوم کا طالب علم ہی سیکریٹری مقرر کیا جاتا تھا اور میرے پیش رو میرے بہت ہی پیارے اور قریبی دوست وحید رضا بھٹی تھے جن کے ساتھ میں جائنٹ سیکریٹری رہا تھا۔

انھی دنوں ہمیں معلوم ہوا کہ پرنسپل صاحب سعید شیخ صاحب کی جگہ کسی اور پروفیسر صاحب کو مجلس اقبال کا صدر لگانا چاہتے ہیں، شاید نوٹیفکیشن بھی جاری ہو گیا تھا۔ میں وحید کو ساتھ لے کر ڈاکٹر صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے عرض کی کہ مجلس اقبال کی صدارت ہمیشہ شعبہ فلسفہ کے پاس رہی ہے۔ شیخ صاحب سے پہلے ڈاکٹر حمید الدین صاحب صدر تھے۔ اس لیے ہماری درخواست ہے کہ آپ شیخ صاحب کو تبدیل نہ کریں۔ ڈاکٹر صاحب نے از رہ مہربانی ہماری درخواست قبول کر لی۔ بعد میں پروفیسر سعید شیخ صاحب نے میری سرزنش کی کہ میں نے یہ کیا حرکت کی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اجمل صاحب ان کو پسند نہیں کرتے، اس لیے وہ انھیں تبدیل کرنا چاہ رہے تھے۔ اب وہ سوچیں گے کہ شاید میں نے تم لوگوں کو ان کے پاس بھیجا ہے۔ شیخ صاحب کی یہ بات سن کر میں ڈاکٹر اجمل صاحب کے کمال شفقت کا اور بھی قائل ہو گیا کہ اپنی ناپسندیدگی کے باوجود انھوں نے ہم طالب علموں کی درخواست کو قبول کرتے ہوئے اپنا نوٹیفکیشن واپس لے لیا تھا۔

مجلس اقبال کی سیکریٹری شپ کے دوران میں مجھے دو بار ڈاکٹر صاحب کی اسی عادت کا سامنا کرنا پڑا۔ پہلا ہی اجلاس ناصر کاظمی کی یاد میں ہونے والا تعزیتی اجلاس تھا۔ ڈاکٹر صاحب کو صدارت کی دعوت دی گئی جو انھوں نے بخوشی قبول کر لی۔ اجلاس شروع ہونے سے پہلے جب میں ڈاکٹر صاحب کو لانے کے لیے پرنسپل لاج پہنچا تو معلوم ہوا کہ ڈاکٹر صاحب تو اسلام آباد تشریف لے گئے ہیں۔ اس کے بعد دوسرا موقع وہ تھا جب اپریل کے مہینے میں علامہ اقبال کی یاد میں مجلس اقبال کا ایک خصوصی اجلاس اولڈ ہال میں منعقد کیا گیا۔ ڈاکٹر صاحب نے اس کی صدارت فرمانے کا بھی وعدہ فرمایا لیکن عین وقت پر وہ دستیاب نہ ہو سکے۔

16 دسمبر 1971ء – سقوط ڈھاکہ کی خبر ملنے پر طلبا کی دھاڑس بندھاتے ہوئے

بہت برس بعد کسی نے یہ واقعہ سنایا کہ جب ڈاکٹر صاحب نفسیات کے صدر شعبہ مقرر ہوئے تو ان کے اعزاز میں ایک تقریب منعقد کی گئی۔ قاضی محمد اسلم مرحوم تشریف لا چکے تھے اور لوگوں سے کہہ رہے تھے کہ اجمل میرا شاگرد ہے، مجھے معلوم ہے یہ آج بھی وقت پر نہیں پہنچے گا۔ قاضی صاحب کی بات سچ نکلی اور ڈاکٹر صاحب کافی تاخیر سے تشریف لائے تھے۔

خیر کچھ عرصہ بعد ڈاکٹر صاحب کی تعیناتی پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے طور پر ہو گئی۔ اس زمانے کی ایک بہت اندوہناک یاد لوح ذہن پر نقش ہے۔ پنجاب یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین کے عہدے داروں نے ڈاکٹر صاحب کے ساتھ انتہا درجے کی بدسلوکی کی اور انھیں دفتر سے گھیسٹے ہوئے مال روڈ پر لے گئے تھے۔ کمرشل بلڈنگ کے سامنے میں نے اپنی آنکھوں سے یہ سانحہ رونما ہوتے دیکھا تھا۔ ڈاکٹر صاحب کے پاوں سے جوتا نکل چکا تھا اور وہ ننگے پاوں گھسٹ رہے تھے۔

اس عرصے میں ان کا گورنمنٹ کالج کے اپنے شاگردوں پر عنایات کا سلسلہ جاری رہا۔ ایک واقعہ تو ایسا ہے کہ آج بھی اسے یاد کرکے حیرت ہوتی ہے۔ اس زمانے میں بی اے آنرز کا ایک سلسلہ ہوتا تھا۔ تیسرے سال میں انگریزی ادب میں گورنمنٹ کالج میں دو ہی طالب علم تھے، وحید رضا بھٹی اور اطہر طاہر۔ امتحانات ہوئے تو کسی وجہ سے ایک پرچہ ملتوی ہو گیا۔ ہم دوستوں نے وحید کو ساتھ لیا اور مری چلے گئے۔ واپس آئے تو پتہ چلا پرچہ تو ہو گیا ہے۔ اب بہت پریشان ہوئے۔

باصر کاظمی ان دنوں گورنمنٹ کالج سٹوڈنٹس یونین کا سیکریٹری تھا، وحید رضا اسے ساتھ لے کر ڈاکٹر صاحب کے پاس گیا اور انھیں اپنا مسئلہ بتایا کہ یونیورسٹی نے مناسب طریقے سے اطلاع نہیں دی۔ ڈاکٹر صاحب نے چودھری یعقوب، جو ان دنوں ایکٹنگ کنٹرولر امتحانات تھے، کو بلا کر کہا بھئی ان کا امتحان لے لیں۔ چودھری صاحب نے کہا سر کوئی قانون نہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا قانون نہیں تو بنا لیں۔ اب چودھری صاحب بڑے پریشان ہوئے۔ انھوں نے کہا سر آپ اپنا صوابدیدی اختیار استعمال کرتے ہوئے آرڈر جاری کر دیں۔ اس طرح وحید کو پیپر دینے کا موقع مل گیا۔ دفتر کے لوگ سوچتے تھے کہ پتہ نہیں کتنی بڑی سفارش ہے، حالانکہ کوئی سفارش نہیں تھی، بس گورنمنٹ کالج کا تعلق تھا۔ وحید کے پاس میرا خیال ہے کہ اس طرح کی اور بھی بہت سی یادوں کا ذخیرہ ہے۔

Dr. muhammad Ajmal

ڈاکٹر صاحب ایک بہت ہی وسیع المطالعہ شخص تھے۔ یونیورسٹی لائبریری کے لوگ بتاتے تھے کہ وہ واحد وائس چانسلر تھے جو باقاعدگی سے لائبریری آتے تھے۔ ان کے شوق مطالعہ کا ایک واقعہ میرے دوست ڈاکٹر عبد الغفور چودھری صاحب نے سنایا۔ وہ ان دنوں آئی ای آر میں سٹوڈنٹ تھے۔ کسی کام سے وائس چانسلر آفس جانے کا اتفاق ہوا۔ ان کے ہاتھ میں امریکن سنٹر کی لائبریری سے لی ہوئی دو کتابیں تھیں۔ ڈاکٹر صاحب کی نظر کتابوں پر پڑی تو کہا، کیا میں یہ کتابیں دیکھ سکتا ہوں؟ انھوں نے کتابیں میز پر رکھ دیں۔ کتابوں کی فہرست مشمولات دیکھنے کے بعد فرمایا کیا میں یہ کتابیں کچھ روز کے لیے لے سکتا ہوں۔ چودھری صاحب نے کہا، سر بصد شوق۔ فرمایا آپ فلاں دن یہ کتابیں شیخ کریم صاحب سے لے لیجیے گا۔

اسی کی دہائی میں ڈاکٹر صاحب سے ایک بار پھر ملاقاتوں کا موقع میسر آیا۔ کئی بار شعبہ فلسفہ بھی تشریف لائے۔ 1989 میں انھیں اقبال میموریل لیکچر دینے کی دعوت دی گئی۔ اس سلسلے میں کئی بار شعبہ کے دیگر اساتذہ کے ہمراہ ان کے گھر پر بھی جانے کا اتفاق ہوا۔ ڈاکٹر صاحب کو گفتگو کا کمال ملکہ حاصل تھا۔ ایسی سحرانگیز عالمانہ گفتگو کرتے تھے کہ سننے والے کا جی نہیں بھرتا تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ وہ خود بھی اپنی گفتگو سے لطف اندوز ہو رہے ہوتے تھے۔ ایک بار ملاقات میں ٹامس مان کے ناول Transposed Heads پر بہت اچھی بات کی۔ اس کی ساری کہانی بیان کی اور اس کا بہت عمدہ تجزیہ پیش کیا۔

ایک ملاقات میں ڈاکٹر ابصار احمد صاحب نے بھٹو صاحب کے متعلق ڈاکٹر صاحب کی رائے دریافت کی تو ان کا پہلا جملہ یہ تھا: As a ruler he was terrible.

اس کے بعد ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ متعدد بار انھوں نے حفیظ پیرزادہ سے کہا کہ وہ بطور فیڈرل سیکریٹری کام جاری رکھنے کے خواہش مند نہیں ہیں، اس لیے انھیں واپس بھجوا دیا جائے۔ پیرزادہ صاحب نے وجہ دریافت کی تو ڈاکٹر صاحب نے کہا مجھے ڈر لگتا ہے۔ اس پر پیرزادہ صاحب نے کہا ڈاکٹر صاحب آپ کے ساتھ تو کچھ ہوا ہی نہیں، ہمیں پوچھیں ہمارے ساتھ روزانہ کیا ہوتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *