خواب، ارادے اور اوقات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایم بی بی ایس کے دوران اکٹھے پڑھنے والے ہم کلاس فیلوز کا ایک وٹس ایپ گروپ ہے۔ اس میں ایک ہم جماعت دوست نے مجھ سے خواہش کی تھی کہ اپنی زندگی کے کچھ ”چسکے دار“ واقعات دوستوں کی ”دل پشوری“ کی خاطر تحریر کروں۔ میں نے نیا کیا تحریر کرنا تھا، زندگی تو پہلے ہی کھول کے رکھ چکا ہوں، جس کا پہلا حصہ ”پریشاں سا پریشاں“ کے عنوان سے کتابی شکل میں گزشتہ برس آ چکا تھا، دوسرا حصہ باوجود مکمل ہونے کے اس ”کورونا کرائسز“ کے باعث تا حال نہیں آ سکا ہے۔ اس دوسرے حصے کو ، جو پہلے ناول کی صورت لکھا تھا، میں ایک حد تک ”مثل برگ آوارہ“ کے عنوان سے قسط وار سوشل میڈیم پر ڈال چکا تھا جو میرے ای میل کے ڈرافٹس میں موجود ہیں۔ ان میں ہی سے کچھ اقساط دوستوں کے گروپ میں شیئر کر دیں۔

ایک ہم جماعت دوست نے تجویز دی کی سب اپنی اپنی زندگیوں کے ایسے واقعات لکھیں جو ان کی زندگی میں اہم رہے ہوں۔ پھر اس نے سب سے پہلے خود ہی لکھنا شروع کیا۔ جسے پڑھ کر معلوم ہوا کہ اس نے کس طرح خواب دیکھے، کس طرح ارادے باندھے، کس طرح محنت اور کوشش کی اور کس طرح اس نے اپنے ارادوں کے ساتھ اپنے خوابوں کی تکمیل کی اور پھر اسے پاکستان اور برطانیہ میں کن باوقار اداروں میں کن اہم عہدوں پر کام کرنے کا موقع ملا اور اب وہ کس طرح آسودہ حال، مطمئن اور شاداں ہے۔

مجھے ایسی ہی ایک داستان ایک اور ہم جماعت دوست، جس سے جب میں امریکہ کے ایک شہر میں ملنے گیا تھا، جہاں وہ معروف نیورو سرجن تھا، نے بھی سنائی تھی۔ کہ کس طرح اس نے امریکہ میں میڈیسن کے اس تخصص میں جگہ بنائی، جس میں غیر ملکی ڈاکٹروں کا موقع ہی نہیں دیا جاتا۔ پھر کس طرح اس نے پاکستان لوٹنا چاہا تھا مگر یہاں کے مقتدر افراد کے اطوار دیکھ کر کس طرح اس نے کچھ اور ہم پیشہ دوستوں کے ساتھ مل کر الشفا انٹرنیشنل ہاسپٹل اسلام آباد کو تعمیر کیے جانے کا آغاز کیا تھا۔ ڈیڑھ برس پہلے وہ ایک عام آپریشن کے دوران انتہائی پیچیدگی کا شکار ہوا لیکن بے ہوشی کے عالم میں بھی اپنے ارادے سے باہر نکلا اور اب رو بصحت ہے۔

میں نے اپنی زندگی پر غور کیا تو مجھے لگا۔ نہ میں نے کبھی کوئی خواب دیکھا، نہ کبھی ارادے باندھے، نہ کوئی مقام پانے کی خواہش کی، نہ کسی حیثیت کے حصول کی خاطر کوئی محنت کی۔ اسی لیے اپنے پیشے میں کوئی مقام بھی نہ پایا۔ میں سوچتا رہا کہ خواب تو سب دیکھتے ہیں، میں نے کیوں نہ دیکھا؟ انکشاف ہوا کہ میں نے بھی خواب دیکھا تھا، ملک میں انقلاب لانے کا ، لوگوں کی زندگیاں سنوارے جانے کا ، انصاف اور برابری کی فضا کے قیام کی خاطر کوشش کا ۔ اس کے لیے بائیں بازو کے گروہوں میں بھی شامل رہا تھا۔ اس کے لیے محنت بلکہ مشقت بھی کی تھی۔ مگر شاید وہ رومانس تھا مگر اس رومانس کے دوران مجھے فریڈرک اینگلز کی کتاب، ”ریاست، خاندان اور ذاتی جائیداد کا تصور“ پڑھنے کا موقع ملا تو اس کے نتائج کو زندگی کا حصہ بنا لیا تھا۔

ایسا بھی نہیں کہ میں محنت سے جی چراتا ہوں۔ میں نے شاید ایک ادیب و صحافی بننے کا بھی ہلکا ہلکا خواب دیکھا تھا۔ اس ضمن میں چونکہ باقاعدہ کام کرنے کا موقع نہیں ملا، چالیس برس کی عمر تک جو دال روٹی بنا سکتا تھا وہ اسی تعلیم کے بل پہ حاصل کردہ پیشے سے جس کو بس پورا کر کے گھر والوں کو دکھانا مقصود تھا جنہوں نے، خاص طور پر والدہ کو جن کی مجھے ڈاکٹر بنا دیکھنے کی آرزو تھی اور بڑے بھائی کو جنہوں نے والدہ کی آرزو پورے کرنے کے لیے مجھے بزور اس شعبے میں دھکیلا تھا۔

پھر جب صحافت میں کام کرنے کا موقع ملا تب ایک تو عادتیں راسخ ہو چکی تھیں۔ دوسرے ریڈیو میں کارنامے دکھانے کا میرا قطعی کوئی شوق نہیں تھا، تیسرے روس کے بین الاقوامی ریڈیو کی جو روش تھی اس میں ایک اچھا مترجم بن کے ہی دکھایا جا سکتا تھا جو میں نے روسی زبان کبھی سیکھے بغیر اپنی محنت اور لگن سے بن کے دکھایا بھی مگر یہاں بھی ایک خاندانی عادت آڑے آئی کہ غلط کو درست نہیں کہنا چاہے کچھ بھی ہو یعنی ملازمت کرنے کے آداب سے شناسائی ہی نہیں بلکہ یہ کہ وہ جینز میں ہے ہی نہیں۔

البتہ کتابیں لکھنے کے ضمن میں، میں نے جس قدر عرق ریزی سے ممکن رہا تحقیق بھی کی۔ مسلسل بارہ بارہ گھنٹے لکھا بھی۔ لیکن ایک معاملہ یہاں بھی وہی شاید جینز والا ہی رہا کہ شہرت کا قطعی کوئی شوق نہیں۔ میرے ہی اپنے ایک شعر کے مطابق اگر آج کچھ لوگ مجھے لکھنے کے حوالے سے جانتے ہیں تو وہ یوں ہے :

تنہائیوں کی کھوج تھی، میلے میں کھو گیا
رسوائیوں کا شوق تھا، مشہور ہو گیا

اب بنا کوئی دنیاوی خواب دیکھے، بنا ارادے باندھے، بنا محنت کیے، بنا ”یس سر، یس سر“ کیے جیسی جو زندگی بن سکتی ہے اسے ہی اوقات کہتے ہوں گے ۔ نہ کبھی اپنی کار رہی، اپنا ذاتی گھر تو خیر کبھی سوچا تک نہیں، مگر سہولیات ساری چاہتا ہوں۔ آج جس گرمی میں چاہے مجھے مجبوراً کیوں ہی رہنا پڑ رہا ہے، یہ میرے لیے بہت حد تک ناقابل برداشت ہے۔ اوقات کسی کے معاشی حالات اور معاشرتی حیثیت کا نام ہے شاید۔ خواب دیکھے ہوتے، ارادے باندھے ہوتے، محنت کی ہوتی تو اپنے ساتھ بہن بھائیوں کی زندگیوں میں بھی کوئی سہولت پیدا کر دی ہوتی۔

ذاتی کار ہوتی یا وافر وسائل ہوتے تو اس لاک ڈاؤن کے دوران بھی علی پور میں بندھ کے بیٹھے رہنا نہ پڑتا، یہاں وہاں جایا جا سکتا تھا۔ لیکن خواب بھی دیکھے ہوتے، ارادے بھی باندھے ہوتے، محنت بھی کی ہوتی تب بھی طبیعت میں جو تلون ہے، حالات کے مطابق ڈھلنے سے جو قطعی انکار ہے، تب بھی کیا ہوتا، یہی ہونا تھا جو ہو رہا ہے۔ یہی میری اوقات ہے جیسے ہر ایک کی کوئی نہ کوئی اوقات ہوتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *