ففتھ جنریشن کے سپاہی یا ڈیجیٹل دہشت گرد

پاکستان تحریک انصاف کا گزشتہ روز کا جلسہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دھمکیوں، تشدد، ریاستی جبر اور بدترین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے باوجود لوگوں کو باہر نکلنے سے کبھی نہیں روکا جا سکتا۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں قانون یا آئین کا احترام نہیں ہے اور خاص طور پر 9 مئی کے واقعے کے بعد جب ایک خاص سیاسی جماعت کو سانس لینے کی بھی اجازت نہیں ہے ایسے میں چاروں صوبوں سے جان ہتھیلی پر

Read more

مافیاز یا پاکستان

25 جولائی 2018 کی صبح ایک باپ نے بیٹے سے پوچھا ”عمران خان وزیراعظم بن گیا تو کیا کرے گا؟“ بیٹے نے جواب دیا ابا جان وہ ایک ہجوم کو قوم بنانے کے لیے لڑے گا اور مافیاز کو انجام تک پہنچائے گا۔ اداروں میں اصلاحات کرے گا۔ باپ نے پوچھا بیٹا تو سڑکیں اور نالیاں کون بنائے گا؟ بیٹے نے جواب دیا اگر وہ ہمیں ایک قوم بنانے میں کامیاب ہو گیا تو یہ سڑکیں اور نالیاں لوگ خود ہی بنا لیں گے۔ کون جانے کتنے لاکھوں باپ اور بیٹوں میں یہ مکالمہ ہوا ہوگا کیوں کہ نوجوانوں نے ہی عمران خان کو وزیراعظم بنایا اور دو پارٹی سسٹم کا خاتمہ کیا۔

ہر کسی کی یہی سوچ اور امید تھی کہ عمران خان مافیاز کو لگام ڈالے گا لیکن کسی نے یہ نہیں سوچا تھا کہ مافیاز اتنے طاقتور ہیں۔ دیکھنے کو یہ ایک سنہرا خواب ہے جب کہ اس کی تعبیر انتہائی مشکل ہے۔ آج دو سال ہو گئے نہ ہی ہماری سڑکیں اور نالیاں بنی اور نہ ہی مافیاز پر قابو پایا جا سکا۔ عمران خان ایک محنتی اور قابل شخص ہے لیکن اس کا مقابلہ وقت کے فرعونوں سے ہے۔ یہ مافیاز وہ سانپ ہیں جن کو پچاس سال سے کھلا پلا کر بڑا کیا گیا ہے۔ ملک میں ہر چیز کی قیمت کنٹرول کرنے کے لیے ہر محکمے کا بیڑہ غرق کیا گیا اور آج یہ مافیاز اتنے بڑے اور طاقتور ہو گئے ہیں کہ ملک میں ہر چیز کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔ حکومت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آ رہی۔

Read more

کورونا وائس کے عالمی معیشت پر اثرات

کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا کے ہر ملک کی معیشت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اس وائرس سے سب سے زیادہ ترقی پذیر ممالک کی معیشت متاثر ہوئی ہیں۔ ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق 1930 یعنی 90 سال کے بعد پہلی بار عالمی معیشت کو اتنا بڑا جھٹکا پہنچا ہے۔ کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا میں 20 کروڑ سے زائد افراد بے روزگار ہوچکے ہیں جب کہ غربت کی شرح میں میں 1998 کے بعد پہلی بار

Read more

ہائے شاپنگ

کسی قوم کے رویوں اور برداشت کو دیکھنا ہو تو کہا جاتا ہے کہ سڑک پر لوگوں کو دیکھا جائے، ٹریفک سگنل پر لوگوں کا رویہ دیکھا جائے۔ ٹریفک سگنل پر لال بتی ہو یا ہری بتی، سائیکل والے سے کار والے تک سب کہ کوشش ہوتی ہے کہ اشارہ توڑ دیا جائے۔ اسی لیے لوگ سگنل کی بتیوں کی بجائے ٹریفک وارڈن کو دیکھتے ہیں۔ کورونا وائرس کے سبب ایک لمبا عرصہ گھروں میں رہنے کے بعد شاپنگ مالز،

Read more