زراعت، کسان اور ٹڈی دل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

زراعت کا ہمارے ملک کی جی ڈی پی میں بیس فی صد سے زیادہ حصہ ہے اور تقریباً پچاس فی صد سے زیادہ مزدور طبقہ اس شعبے سے منسلک ہے۔ بلاشبہ اس شعبے کی اچھی کارکردگی ہمارے پاکستان کی فوڈ سیکیورٹی اور خوش حالی کی ضامن ہے۔ لیکن تحقیق و توجہ کی کمی، حکومت وقت کی اولین ترجیحات میں نہ ہونے اور اس شعبے کے ہیرو کسان طبقے کو درپیش مسائل نے زراعت کے حوالہ سے خوش حال مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

زراعت شاید ایسا واحد شعبہ ہو گا جس میں کسی سال مخصوص فصل کی اچھی پیداوار کسانوں کے لئے خوش حالی کے بجائے ذلالت کا باعث بنتی ہے۔ کسانوں کی اکثریت محنتی لیکن ان پڑھ ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی اور بھیڑ چال اپناتے ہوئے بغیر منصوبہ بندی کے ایک ہی فصل بو لیتے ہیں جس سے منڈیوں میں اس سال اس فصل کی بہتات ہو جاتی ہے اور اس طرح کسان اپنے خون پسینے کی کمائی کوڑیوں کے بھاؤ بیچ کر آڑھتیوں اور بیوپاریوں کے ہاتھوں اپنا استحصال کروانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

اس مسئلے کی وجوہ میں متعلقہ محکموں کی مناسب منصوبہ بندی کا فقدان، ریونیو کے پٹواریوں کا گرداوری کے ذریعے فصلوں کی کاشت اور متوقع پیداوار کا حقیقی تعین میں ناکامی اور حکومت وقت کا متوقع پیداوار کے حساب سے برآمدات یا سٹوریج کے حوالہ سے بروقت فیصلے نہ کر پانا شامل ہیں اور ان کوتاہیوں کی قیمت چھوٹے کسانوں کو استحصال کی صورت میں چکانی پڑتی ہے۔ مختلف فصلوں کی ممکنہ پیداوار کا حقیقی تعین کرتے ہوئے بروقت فیصلے کر کے اور فصلوں کی مناسب امدادی قیمت کو یقینی بنا کر اس مسئلہ کا حل نکالا جا سکتا ہے۔

زراعت کے شعبہ کی اپنی صلاحیت کے مطابق کارکردگی نہ دکھا پانے کی ایک اہم وجہ اس شعبے میں مناسب تحقیق کا نہ ہونا ہے کسان سال ہا سال سے مختلف فصلوں کے پرانے بیج استعمال کر رہے ہیں جو بیماریوں کے خلاف مدافعت کھو چکے ہیں اور اس سے پیداوار شدید متاثر ہو رہی ہے پچھلے کچھ سالوں سے پاکستان میں بیج پر تحقیق نہ ہونے کی وجہ سے کپاس کی پیداوار خاص طور پر متاثر ہوئی ہے۔ زراعت کے شعبے میں نئے بیجوں پر تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور آلات کے استعمال سے ملکی برآمدات میں یقینی طور پر اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

چھوٹے کسانوں کا ایک اہم مسئلہ فصل پر آنے والے اخراجات کے نہ ہونے کی وجہ سے سرمایہ داران اور آڑھتیوں کے سود کے چنگل میں پھنسنا بھی ہے۔ آڑھتی حضرات کسان کی مجبوریوں کو کیش کرتے ہوئے چھوٹے کسانوں کی بچت سود کی مد میں وصول کر لیتے ہیں اور چھوٹا کسان ساری عمر خود کفیل نہ ہو پاتا ہے۔ حکومت کی طرف سے بلا سود قرضوں کی آسان فراہمی یقینی بنا کر چھوٹے کسانوں کو ریلیف دیا جا سکتا ہے۔

اس کے علاوہ حکومت کی طرف سے دی جانے والی سبسڈی سے چھوٹے کسانوں کی ناواقفیت، محکمہ زراعت کے عملہ کا چھوٹے کاشتکاروں سے رابطے کا فقدان، جدید مشینری کی مشکل اور مہنگی دستیابی، پانی کی غیر منصفانہ تقسیم، ضروری انفراسٹرکچر کی کمی زراعت کے شعبے کی ترقی کی راہ میں حائل دیگر اہم مسائل ہیں۔ جن کا مناسب حل نکال کر اس شعبے میں انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے۔

موجودہ حالات میں کرونا کی وجہ سے لاک ڈاؤن میں زراعت کے شعبے کو استثنا دینا حکومت کا احسن قدم تھا جس سے ملکی معیشت اور زراعت سے وابستہ افراد کو سہارا ملا۔ لیکن ابھی کرونا والی مصیبت سے جان نہ چھوٹی تھی کہ ٹڈی دل کی صورت میں ایک اور عذاب ملک کے سر پر ہے۔ ٹڈی دل کے ممکنہ حملوں کی صورت میں پاکستان کی فوڈ سیکیورٹی اور زراعت کا شعبہ داؤ پر لگا ہے لیکن تا حال حکومت کی طرف سے اس مصیبت سے نمٹنے کے لئے کوئی خاطر خواہ اقدامات سامنے نہ آئے، جس کی وجہ سے کسانوں میں حکومت وقت کے خلاف غم و غصہ اور شدید مایوسی پائی جاتی ہے۔

عالمی ماہرین کے ایک محتاط اندازے کے مطابق اگر ٹڈی دل پر بروقت قابو نہ پایا جا سکا تو رواں سال پاکستان کو مجموعی طور پر 800 ارب روپے سے زائد کے نقصان کا اندیشہ ہے۔ ہمارے ملک کا کسان اور موجودہ معیشت خدانخواستہ اس نقصان کی ہرگز متحمل نہیں ہو سکتی۔ اگر ٹڈی دل کی افزائش اسی طرح جاری رہی تو خطے کو خدانخواستہ قحط کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ زراعت کے شعبے کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے جنگی بنیادوں پر ٹڈی دل کے خاتمے اور کسانوں کے دیگر مسائل کے حل کے لئے عملی اقدامات کرے تاکہ موجودہ چیلنج سے اچھی طرح نمٹا جا سکے اور ملکی غذائی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *