ارطغرل: ڈاکٹر البرٹ جان کے لکھے مضمون پر آئے کمینٹس کا جائزہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کل مقبول ہوئی ڈراما سیریز ”ارطغرل“ حالیہ دنوں میں ہر طرف زیر بحث ہے۔ میرے ساتھی وکیل مجھے بتا رہے تھے کہ کہ وہ اس کی ستر سے زائد اقساط دیکھ چکے ہیں اور سوشل میڈیا پر طرف ارطغرل ہی ڈسکس ہو رہا ہے، اس ہنگام ڈاکٹر البرٹ جان نے ارطغرل سیریز کو لے کر ایک مضمون لکھا جو ”ہم سب“ پر شایع ہوا۔ محترم ڈاکٹر البرٹ صاحب نے ارطغرل کے حوالے سے بطور مسیحی اپنا گلہ کیا کہ ڈرامے سے مسیحوں کے مذہبی جذبات مجروح ہو رہے ہیں اور اس حوالے سے وزیر اعظم عمران خان، جن کی خصوصی ہدایت پر یہ ڈراما دکھایا جا رہا ہے، سے گلہ کیا کہ وہ مسیحوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کر کے ”اپنوں پہ ستم“ کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

اس سے پہلے کہ ہم اس مضمون پر آنے والے کمنٹس پر بات کریں، بنیادی بات یہ ہے کہ ہر انسان اپنے ساتھ جڑی ہوئی ہر شناخت کے حوالے سے جذباتی ہوتا ہے اور سماجی علوم اس جذباتی وابستگی کو عصبیت کہتے ہیں۔ یہ عصبیت رنگ، نسل، زبان، قبیلہ، جغرافیائی حدود اور مذہب کی بنیاد ہر ہو سکتی ہے یا ہوتی ہے۔ راتوں کو جاگ کر ارطغرل کی ستر سے زائد قسطیں دیکھنے والے میرے وکیل دوست کی اس سیریز کے ساتھ مذہبی عصبیت ہے، اور وہ ارطغرل اور دوسرے کرداروں کے ذریعے اپنی مذہبی عصبیت میں سکون پاتے ہیں، جب کہ ڈاکٹر البرٹ صاحب بھی مذہبی عصبیت کے زیر اثر اس سیریز کو دیکھ کر دل کا قرار کھو دیتے ہیں اور ایک مضمون کی صورت میں اس کا اظہار کرتے ہیں۔

تاہم اس مذہبی عصبیت کے علاوہ میرے وکیل دوست اور ڈاکٹر البرٹ صاحب کی دیگر کئی عصبیتیں مشترک بھی ہیں، ان میں دونوں کی جغرافیائی حدود، کے حوالے سے عصبیت، دونوں کا پاکستانی ہونے کی حیثیت سے ایک شناخت ہونے کی عصبیت۔ ہو سکتا ہے ایک ہی جغرافیائی حد میں ہونے کی وجہ سے دونوں نسل، زبان اور رنگ کی بھی ایک ہی عصبیت رکھتے ہوں، تاہم ارطغرل چونکہ ایک ایسا ڈراما ہے جو دونوں کی مذہبی عصبیت کو مختلف طرح سے متاثر کر رہا ہے اور ایک اپنی مذہبی عصبیت کے زیراثر خلافت کے قیام سے فخر محسوس کر رہا ہے تو دوسرا اس میں اپنی توہین اور یہ کچھ ہمیں ڈاکٹر البرٹ صاحب کے لکھے گئے مضمون پر آنے والے کمنٹس میں نظر آیا۔

اس مضمون پر آنے والے پچانوے فی صد کمنٹس میں قارئین نے اپنی مذہبی بنیادوں پر عصبیت کے پیش نظر ہی کمنٹس دیے ہیں اور قارئین اپنے کمنٹس میں ڈاکٹر صاحب کو مخاطب کر کے یاد کرواتے ہیں کہ جب تم ہمارے مذہبی عقائد پر توہین آمیز فلمیں بناتے ہو اب اپنی باری آئی تو تمہیں تکلیف ہو رہی ہے۔ ایک قاری لکھتا ہے کہ یہ تو ڈراما ہے لیکن جب حقیقت میں مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دیا جاتا ہے تو ہم بھی برداشت کرتے ہیں۔ ایک قاری نے تو ایڈیٹر کو اپنے ہم نسل ہونے کی عصبیت کا طعنہ دے کر لکھا ہے کہ میں بھی کاکڑ ہوں اور آپ بھی کاکڑ ہیں، آپ ہماری دل آزاری کیوں کر رہے ہیں۔

بہت سارے کمنٹس تو ہرزہ سرائی ہیں۔ وہ اب عام ہے، لیکن باقی کمنٹس سے یہ مضبوط بنیاد فراہم ہوتی ہے کہ ارطغرل کے اکثریتی قارئین نے مطبوعہ مضمون کو مذہبی عصبیت کے زیر اثر ہی بڑھا ہے۔

اب عصبیت ایک بہت مثبت رویہ ہے اور اس میں انسان اپنی عصبیت کے حوالے سے فخر محسوس کرتا ہے تاہم عصبیت کا اگلا درجہ تعصب ہے جس میں اپنی عصبیت کے حوالے سے تفاخر اور دوسرے کی شناخت سے نفرت در آتی ہے، عصبیت انسان کو آگے بڑھنے اور معاشرے کی ترقی پر مائل کرتی ہے، جب کہ تعصب بعض اوقات انسان کو اس کی دیگر عصبیتوں سے بیگانہ کرتا ہے اور اس کا نتیجہ شخصیت کے گم ہو جانے کی صورت میں بھی نکل سکتا ہے۔

میں یہ سمجھتا ہوں کہ اب دور سماجی عصبیت کے حوالے سے سازگار کرنا چاہیے، اور دوسروں کی عصبیت کو حقیقت مان کر ہی ہم ایک معتدل معاشرہ بنا سکتے ہیں۔

ارطغرل: غیروں پہ کرم، اپنوں پہ ستم

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *