ای لرننگ اور درپیش چیلنج

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ای۔ لرننگ کیا ہے؟ آن لائن تعلیم کے کسی بھی سلسلے کو ای لرننگ کہا جاتا ہے جس میں یو ٹیوب؛ زوم؛ واٹس اپ اور دیگر ذرائع ہیں۔ پوری دنیا اس وقت عالمی وبا کورونا سے نبرد آزما ہے اور تمام ممالک نے اس وبا کی روک تھام کے لیے لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا۔ اس لاک ڈاؤن سے جہاں زندگی کے تمام شعبے متاثر ہوئے، وہیں تعلیم کا شعبہ بھی متاثر ہوا ہے۔ تاہم اس کا متبادل آن لائن لرننگ اختیار کیا گیا ہے جس کے خاصے حد تک مثبت نتائج ملے ہیں لیکن پاکستان میں اس حوالے سے بہت چیلنج درپیش ہیں۔

کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے پہلے کئی لوگ مختلف یوٹیوب چینلز سے تعلیم حاصل کرتے تھے اور ٹیکنیکل تعلیم میں بھی بہت کچھ سیکھنے کو ملتا تھا لیکن اب چونکہ وبا نے پوری دنیا کو لپیٹ میں لے لیا ہے تو کلاس روم ختم کر کے پوری دنیا آن لائن تعلیم کی طرف آ رہی ہے جس کا مقصد طلبا کا وقت ضائع ہونے سے بچانا ہے اور تعلیم بھی جاری رکھنی ہے۔

کئی ممالک جو ٹیکنالوجی میں بہت آگے ہیں مثلاً چین، امریکا، روس، جرمنی، فرانس وغیرہ۔ وہاں پر آن لائن تعلیم کا رجحان خاصہ بہتر ہے۔ لیکن اس میں پریشانی اور مایوسی والا عنصر بھی ایک چیلنج ہے۔ طالب علم گھر میں بیٹھ کر بور ہو رہے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی انٹرٹینمنٹ اور تفریح کا بھی وقت دے رہی ہیں، تاکہ طلبا کی دلچسپی آن لائن تعلیم سے ختم نا ہو۔

پاکستان کے بڑے اداروں میں مثلاً پنجاب یونیورسٹی، قائد اعظم یونیورسٹی، ایگریکلچر یونیورسٹی وغیرہ نے مختلف ایپلیکیشن کا سہارا لیا اور کچھ اداروں نے وٹس ایپ پر ہی کلاسز کا آغاز شروع کر دیا۔ جس میں ٹیچر اپنے لیکچر آڈیو ؛ ویڈیو فارمیٹ میں بھیجتے ہیں۔ اسائنمنٹ ورک بھی آن لائن جمع کروایا جاتا ہے اور ایگزام اور ٹیسٹ بھی آن لائن کنڈکٹ کیے جاتے ہیں۔ جس میں کوئی مشق طلبا کو حل کرنے کے لیے دے دی جاتی ہے یا پھر کوئی آن لائن کثیر الانتخابی سوالات پوچھ لیے جاتے ہیں۔

وٹس ایپ کی اگر بات کی جائے تو پوری کلاس کا ایک گروپ بنایا جاتا ہے جس میں تمام طلبا و طالبات اور فوکل پرسن بھی موجود ہوتا ہے ہر سبجیکٹ ٹیچر الگ کلاس بناتا ہے یا ہر کلاس کا ایک گروپ ہوتا ہے اور تمام ٹیچر اسی گروپ میں موجود ہوتے ہیں۔ شہروں کی حد تک یہ سسٹم کار آمد ہے لیکن دیہاتوں میں تو اتنی ٹیکنالوجی دستیاب نہیں ہے کہ آپ ایک ایپلیکیشن جو آن لائن ہے اس کو چلا سکیں اور تعلیم حاصل کر سکیں۔ اس کا متبادل وٹس ایپ ہے جو کہ تقریباً ہر پاکستانی کی پہنچ میں ہے تو اس میں جو سوالات کی بھر مار اور ڈیٹا کی زیادتی جس سے اصل مواد ضائع ہو سکتا ہے یا ملتا نہیں ہے۔

اس کے علاوہ طلبا کو انوالو کس طرح کرنا ہے اور ان کو کام کرنے کی طرف راغب کیسے کرنا ہے یہ سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ یونیورسٹی کی حد تک ایک سبجیکٹ ٹیچر آل ان آل ہوتا ہے تو سب طلبا و طالبات کام بڑے دھیان سے کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں لیکن سالانہ امتحانات والے بات سننے کو تیار نہیں ہوتے تو اس کے اداروں کی کیا منصوبہ بندی ہے اور کس طرح ان بچوں کو تعلیم کی طرف لانا ہے۔ اسی طرح اگر بات کی جائے سرکاری اور پرائیویٹ اداروں کی تو سرکاری اداروں نے تو کوئی پریشانی لی ہی نہیں۔

ایک ٹی وی چینل چلانا اور فیک تصاویر بھجوانا یہ کہاں کی تعلیم ہے۔ اور اگر آپ نے کوئی چینل یا ویب سائٹ لانچ کی ہے تو کیا اساتذہ کو اس بارے آگاہی ہے؟ اگر نہیں تو سب سے پہلے اساتذہ کو ٹریننگ دی جائے اور پھر بچوں تک چینل کی آگاہی اور طریقہ کار اپنایا جائے۔ اس کے لیے مختلف ایس او پیز کو فالو کرتے ہوئے بچوں کو یا والدین کو بلا کر سکھایا جاسکتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کرے کون؟

پرائیویٹ اداروں کی جہاں تک بات کی جائے تو وہ کسی حد تک سیریس نظر آتے ہیں لیکن اساتذہ کو تنخواہیں نہیں دے رہے۔ اگر تنخواہیں دے رہے ہیں تو وٹس ایپ گروپ یا ایپلیکیشن کی ٹریننگ نہیں ہے۔ طلبا میں اس حد تک آگاہی نہیں ہے۔ سب سے پہلے سٹاف کی تنخواہیں دی جائیں پھر ٹریننگ دی جائے اور پھر بچوں کا باقاعدہ سکھایا جائے کہ کس طرح کام کرنا ہے۔

اس صورت احوال میں جو چیلنجز درپیش ہیں تو ان کو حل کرنے کے لیے ہر ادارے کے پاس آئی ٹی سپیشلسٹ ہونا چاہیے جو ساری ورکنگ کو کنٹرول کر رہا ہوں۔ اور ہر ٹیکنیکل مسئلے کا حل ڈھونڈ کر دے اور ویب سائٹ کو ایپلیکیشن کو ایک مناسب انداز میں چلائے۔

دیہاتوں میں جو چیلنج درپیش ہیں اس کے حل کے لیے واٹس اپ ایک بہترین حل ہے۔ نا صرف پرائیویٹ بلکہ سرکاری ادارے بھی اس لرننگ سسٹم کو سمجھیں اور اس پر عمل شروع کردیں تاکہ بچوں کی چھٹیاں ایک تو ضائع ہونے سے بچ جائیں اور دوسرا وہ سکول کے کام میں مصروف رہنے سے کتابوں کے ساتھ جڑے رہیں گے۔

حاصل کلام: دنیا گلوبل ویلیج کی جانب رواں دواں ہے۔ قوموں ساتھ مقابلے کے لیے ٹیکنالوجی میں ہمیں اپنا نام بنانا ہو گا اور آن لائن تعلیم آج نہیں تو کل ہمیں شروع کرنی ہی تھی تو وبا نے ایک پلیٹ فارم مہیا کر دیا ہے۔ اب اس کے لیے اچھا ذریعہ کمیونیکیشن اپنایا جائے اور پھر اساتذہ کی ٹریننگ اچھی کی جائے۔ ساتھ سپیشلسٹ ہائر کیے جائیں تا کہ سسٹم ناکام نا ہو اور پھر بچوں کو پیرنٹس کے ساتھ کوآرڈینیشن کر کے انوالو کیا جائے تاکہ تعلیم کا معیار بہتر ہو سکے اور بچوں کا قیمتی وقت ضائع ہونے سے بچ جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *