مہنگائی کنٹرول کی جا سکتی ہے

مہنگائی ہونے کی بہت سی وجوہ ہو سکتی ہیں، لیکن ان میں طلب و رسد کا بنیادی کردار ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں حکومت وقت کو اب تک بری طرح نا کامی کا سامنا ہے۔ اس تحریر کے ذریعے میں اپنی محدود سمجھ اور قلیل تجربے کی بنیاد پر مصنوعی مہنگائی اور گراں فروشی کو لگام ڈالنے کی تجاویز دینا چاہتا ہوں اور آپ سب سے بھی امید کرتا ہوں کہ آپ کے ذہن میں اس حوالے سے کوئی اچھی تجاویز ہیں، تو آپ ضرور شیئر کریں گے۔

1۔ طلب و رسد کسی بھی چیز کی قیمت کا تعین کرتی ہے، کوئی بھی چیز ہو، متعلق اداروں کا فرض بنتا ہے کہ وہ اس کی طلب و رسد کا حساب رکھیں اور رسد کم ہونے کی صورت میں قبل از وقت اقدامات لیتے ہوئے در آمد کا انتظام کریں اور زیادہ ہونے کی صورت میں بر آمد کرنے کا انتظام کریں۔ اس سے اس چیز کی قیمت کو استحکام دینے میں مدد ملے گی۔

Read more

زراعت، کسان اور ٹڈی دل

زراعت کا ہمارے ملک کی جی ڈی پی میں بیس فی صد سے زیادہ حصہ ہے اور تقریباً پچاس فی صد سے زیادہ مزدور طبقہ اس شعبے سے منسلک ہے۔ بلاشبہ اس شعبے کی اچھی کارکردگی ہمارے پاکستان کی فوڈ سیکیورٹی اور خوش حالی کی ضامن ہے۔ لیکن تحقیق و توجہ کی کمی، حکومت وقت کی اولین ترجیحات میں نہ ہونے اور اس شعبے کے ہیرو کسان طبقے کو درپیش مسائل نے زراعت کے حوالہ سے خوش حال مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

زراعت شاید ایسا واحد شعبہ ہو گا جس میں کسی سال مخصوص فصل کی اچھی پیداوار کسانوں کے لئے خوش حالی کے بجائے ذلالت کا باعث بنتی ہے۔ کسانوں کی اکثریت محنتی لیکن ان پڑھ ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی اور بھیڑ چال اپناتے ہوئے بغیر منصوبہ بندی کے ایک ہی فصل بو لیتے ہیں جس سے منڈیوں میں اس سال اس فصل کی بہتات ہو جاتی ہے اور اس طرح کسان اپنے خون پسینے کی کمائی کوڑیوں کے بھاؤ بیچ کر آڑھتیوں اور بیوپاریوں کے ہاتھوں اپنا استحصال کروانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

Read more

اہل کشمیر: ہم شرمندہ ہیں

کشمیر میں انڈیا کے 70 سال پہلے غاصبانہ قبضے سے اب تک کشمیریوں پر غضب اور بربریت کا ہر حربہ اپنایا گیا ہے۔ وہاں ہمارے مسلمان بہن بھائیوں کی جان مال اور عزت محفوظ نہیں ہے جو کہ ہر ممکنہ طریقے سے اچھالی جا ری ہے اور اب مودی نے کشمیر کی مقبوضہ حثیت ختم کر کے باقاعدہ اسے انڈیا کا حصہ قرار دے دیا ہے اور ظلم و بربریت کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلے

Read more

تعلیمی ایمرجنسی ناگزیر ہو چکی ہے

عصر حاضر میں قوم کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیم دے کر ہی دنیا سے مقابلہ کیا جا سکتا ہے اور جو قومیں اپنے نظام تعلیم کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں کر پاتیں ان قوموں کی بقاء چند برسوں میں ہی دوسری جدید تقاضوں سے لیس نظام تعلیم رکھنے والی اقوام کے مرہون منت ہو جاتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے پاکستان کا بھی نطام تعلیم عصر حاضر کے تقاضوں اور آنے والی جدت سے بالکل ہم پلہ

Read more

تبدیلی ہم سے

کچھ چیزیں بظاہر ہمیں سکھائی نہیں جاتیں بلکہ لاشعوری طور ہم سیکھ رہے ہوتے ہیں اور یہ سیکھ دیرپا بھی ہوتی ہے اور ہماری عادت بھی بن جاتی ہے جیسے طالب علم کے لئے اس کا استاد آئیڈیل ہوتا ہے۔ استاد کی حرکات و سکنات اور عادات طلباء کے لئے سب سے مؤثر سیکھ ہوتی ہیں۔ اگر استاد کلاس میں دیر سے آئے، لیکچر میں ڈنڈی مارتے ہوئے وقت سے پہلے کلاس چھوڑ کے چلا جائے تو آپ اس استاد

Read more