شبنم گل کا سندھی مجموعۂ کلام ”درد جی لے“

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شبنم گل سندھی کی معروف و منفرد افسانہ نویس، ناول نگار، کالم نویس، شاعرہ اور دانشور کے طور پر پچھلی کم و بیش تین دہائیوں سے اپنی منفرد و ممتاز پہچان رکھتی ہیں۔ گوکہ شبنم بنیادی طور پر ایک فکشن نگار ہیں، مگر شاعری کے میدان میں بھی انہوں نے برسوں سے قلم آزمایا ہے، اور قارئین خواہ نقاد کی توجہ بھی حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہیں۔ ان کی شاعری کی پہلی کتاب ”آخری لفظ“ کے عنوان سے شایع ہوئی تھی اور حال ہی میں ان کی شاعری کی دوسری کتاب ”درد جی لے“ کے سر شاعرانہ سے شایع ہوئی ہے، جس کا اردو میں ترجمہ ہوگا ”درد کی لے“ ۔

ان دو کتب کے علاوہ شبنم گل نے سندھی ادب کو ”مکھی کھاں موکلانڑی“ (مکھی جھیل سے الوداع) کے عنوان سے ایک ناول، ”خالی ہنج جو ڈکھ“ (خالی گود کا دکھ) کے عنوان سے ایک افسانوں کا مجموعہ، ”منہنجو سورج مکھی“ (میرا سورج مکھی) کے عنوان سے یادداشتوں کی ایک کتاب، ”منتخب افسانے“ کے عنوان سے اردو میں ترتیب و ترجمے کی ایک کتاب، ”خود شناسیٔ جو جوہر“ (خود شناسی کا جوہر) کے عنوان سے سماجی نفسیات پر ایک کتاب اور ”لفظن جا دیپ“ (الفاظ کے چراغ) اور ”انڑجاتل شہر جو نقشو“ (انجان شہر کا نقشہ) کے عنوان سے دو اور کتب دی ہیں، جن تمام میں ان کی عرق ریزی کے ساتھ ساتھ ان کی تخلیقی اڑان واضح طور پر دیدنی ہے۔ لیکن آج شبنم گل کی جو کتاب زیر نظر اور موضوع تذکرہ ہے، وہ ہے ان کا دوسرا مجموعۂ سخن ”درد جی لے“

240 صفحات پر مشتمل اس کتاب کو رواں برس ہی (سال 2020 ء میں ) پوپٹ پبلیکشن خیرپور نے شایع کیا ہے۔ اس مجموعۂ کلام میں 23 غزلیات، سندھی کلاسیکی صنف ”وائی“ کے 5 عدد اسم، 10 عدد ہائیکو اور 83 نثری منظومات شامل ہیں۔ اس کتاب میں مجموعی طور پر 121 تخلیقات شامل ہیں۔ میں بنیادی طور پر شبنم کو نظم (بالخصوص نثری نظم) کا شاعر سمجھتا ہوں۔ لحٰذا میں سمجھتا ہوں کہ اس مجموعۂ کلام میں اگر باقی تین اصناف سخن شامل ناں بھی ہوتی، اور صرف 83 نثری نظموں پر مشتمل ہی یہ کتاب ہوتی، تب بھی یہ مقدار خواہ معیار کے لحاظ سے ایک مکمل کتاب ہی ہوتی۔ غزلیات کہتے ہوئے شبنم گل نے اپنی بیشتر غزلیات ”بحر متدارک“ (فعلن فعلن فعلن فعلن) میں کہی ہیں۔ اب یہ ان کی شعوری کوشش ہے، یا لاشعوری طور پر یہ بحر ان کی طبع آزمائی میں آسان رہی ہے، یہ تو شاعرہ خود ہی بتا سکتی ہیں۔

کسی بھی شاعر پر تخیل، اپنی صنف کا جامہ اوڑھ کر ہی اترتا ہے، اور ایک تخلیقکار کے لیے یہ ناممکن اور غیر فطری سا عمل ہوتا ہے کہ وہ کسی فکر کو اس حلیے سے ہٹ کر کسی اور روپ میں پیش کرے، جو وہ فطری طور پر پہن کر اس کے نطق پر اترا ہے۔ اس تعریف کے مطابق آپ اس کتب میں شامل، مندرجہ بالیٰ مختلف اصناف سخن کی تعداد پر نظر ڈالیں، تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ بیشتر خیالات شبنم پر ”نظم“ کی صورت وارد ہوئے ہیں، اور وہ اپنے اظہار کو نثری نظم کی صورت میں بیان کرنے میں زیادہ ”کمفرٹیبل“ محسوس ہوتی ہیں۔ (ایک قاری کی حیثیت سے کم از کم میرا تو یہ اندازہ ہے۔ ) ان کی کئی نثری نظموں میں بنی ہوئی کہانیاں بھی ہیں، جن سے قاری دوران مطالعہ محظوظ ہوتا ہے۔ چونکہ شبنم بنیادی طور پر ایک فکشن رائٹر ہی ہیں، لحٰذا وہ رنگ ہمیں ان کی نظم میں بھی نظر آتا ہے۔ ان کی ایک مختصر نظم ”خود فریبی“ کا ترجمہ پڑھیے :

محبتوں کی
شدتوں کو
نظربد سے بچانے کے لیے
موسم اعتبار کے لیے
ضروری ہو جاتی ہے
کبھی کبھار بے یقینی بھی!
ان کی ایک اور نظم ”دعا“ کا ترجمہ ملاحظہ کیجیے :
تمہاری مسکراہٹ
جیسے ہر زخم کی
تلافی ہو
تمہارا ہونا
میرے لیے
جیسے کوئی خاموش دعا ہو!

شبنم گل کی ان تمام نثری منظومات کے موضوعات ہی بڑے تخلیقی اور شاعرانہ ہیں، جن عنوانات کو پڑھتے ہی پوری نظم پڑھنے کو دل کرتا ہے۔ ان موضوعات کو اردو میں قارئین کی دلچسپی کے لیے درج کر رہا ہوں، تاکہ وہ اندازہ کر سکیں کہ کتاب کے حصۂ منظومات میں کس قدر حسین کہانی نما نظمیں شامل ہیں۔ ان نظموں میں ”گورکھ کے کچھ مناظر“ ، ”ہر موسم نہ جانے کیوں اداسی کا موسم ہے“ ، ”لینڈ سکیپ“ ، ”گورکھ کی کجراری آنکھیں“ ، ”ادھوری بات“ ، ”محبت“ ، ”سخن۔

کہانی“ ، ”ہالیجی جھیل پر گزرے لمحے“ ، ”گورکھ کی خاموشی“ ، ”گورکھ کی شام“ ، ”گورکھ کی ہوا“ ، ”رات کے پچھلے پہر کے ساتھ مکالمہ“ ، ”عذاب نطق“ ، ”پارا چنار“ ، ”رات مٹھی (شہر) میں“ ، ”ادھوری بات کا سحر“ ، ”عورت“ ، ”گڑھی (خدا بخش خان بھٹو) کے پھولوں کی خوشبو“ ، ”روح کی بند کھڑکیوں سے باہر“ ، ”اعتبار تھا خواب کی تعبیر کا“ ، ”اداس لڑکی“ ، ”وحشت“ ، ”لؤ“ ، ”اے خدا!“ ، ”تم کائنات کی مسکراہٹ میں بستے ہو“ ، ”امید“ ، ”خاموشی“ ، ”اب تو منظر بھی ستاتے ہیں“ ، ”بلیک آؤٹ“ ، ”فلائنگ کس“ ، ”بیسویں صدی کا عشق“ ، ”حفاظت“ ، ”بیراگی من“ ، ”کھلے روزن سے باہر کوئی موسم نہیں ہے“ ، ”تنہا پل“ ، ”ان کہی باتیں“ ، ”خود فریبی“ ، ”دعا“ ، ”دو متضاد نظمیں“ ، ”جدائی“ ، ”ایک عام سوچ“ ، ”ادراک“ ، ”ناتہ“ ، ”جسٹیفکشن“ ، ”ناسمجھی“ ، ”انکم ٹیکس“ ، ”مصلحت“ ، ”بے یقینی“ ، ”ہرچیز مدار سے ہٹی ہوئی ہے“ ، ”سمندر کے پاس کوئی راستہ نہیں ہے“ ، ”تضاد“ ، ”انکار“ ، ”المیہ“ ، ”پت جھڑ“ ، ”انتظار“ ، ”یاد“ ، ”غیرت“ ، ”وقت“ ، ”دھوپ میں چھاؤں جیسا احساس“ ، ”الوداعی نظم“ ، ”کمال“ ، ”خود کلامی۔

بوقت صبح“ ، ”آخری لفظ“ ، ”تسلی“ ، ”آئینے سچ بولتے ہیں“ ، ”میری مسکراہٹ میں اشکوں کی خوشبو ہے“ ، ”دریافت“ ، ”تجدید“ ، ”سزا“ ، ”تازگی“ ، ”موسم کی پہلی برسات“ ، ”میری شناخت میں تم ہو“ ، ”موسم چیت میں کس نے ساز چیھڑا تھا“ ، ”زندگی۔ ؟“ ، ”نئے موسم کی پھیلی ہے خوشبو“ ، ”خزاں کا موسم“ ، ”شہر کے موتی“ ، ”پو پھوٹنے کے منظر جیسی“ ، ”میں نے تمہیں چاہا تھا“ ، ”تمہاری یاد بھی اب منانے نہیں آتی“ ، ”مجھے اچھا لگتا ہے“ ، ”گلاب کا چناؤ“ اور ”ریت کا گھر“ شامل ہیں۔

شبنم گل نے درد کی لے پر نغمہ سرا اپنی اس کتاب کو بنام ”درد“ ہی منسوب کیا ہے۔ اس کتاب کا دیباچہ، سندھی کے معروف شاعر امداد حسینی نے ”درد کی لے پر جیون کا ادھورا گیت“ کے عنوان سے تحریر کیا ہے۔ پنجابی اور اردو کے معروف شاعر، دانشور و مترجم، احمد سلیم کی ”شبنم گل کی شاعری کے افق“ کے عنوان سے نگارش بھی اس کتاب میں بعد از پیش لفظ شامل ہے۔ جبکہ شاعرہ نے منجانب خود، اپنی شاعری کے حوالے سے ”بکھرے پھول کی طرح مہکتے احساس“ کے عنوان سے ساڑھے دس صفحات پر مشتمل ایک نوشت لکھی ہے، جو ان دونوں تحریروں کے ساتھ کتاب میں شامل ہے۔

پبلشر نوٹ کے طور پر پوپٹ پبلیکشن کے روح رواں قربان منگی نے بھی اپنی جانب سے چند سطریں تحریر کی ہیں۔ امداد حسینی اور احمد سلیم کی مذکورہ تحریروں سے اقتباسات کے ساتھ ساتھ شیخ ایاز اور ادل سومرو کی جانب سے تحریر شدہ، شبنم گل کی شاعری کے حوالے سے تاثرات، کتاب کی پشت پر شایع کیے گئے ہیں۔ شیخ ایاز کے کلام شبنم کے حوالے سے یہ تاثرات سندھی زبان میں 90 ء کی دہائی میں شایع شدہ اس دور کے نؤجوان شاعروں اور شاعرات کی شاعری کے مشترکہ مجموعۂ کلام بعنوان ”ڈیئا ڈیئا لاٹ اساں“ (ہم چراغ در چراغ لؤ ہیں ) کے طویل مقدمے سے اقتباس کے طور پر لیے گئے ہیں۔ سندھی کے عظیم شاعر، شیخ ایاز، شبنم گل کی شاعری کے حوالے سے لکھتے ہیں : ”شبنم وہ شاعرہ ہے، جس میں اس نے اس مرد کے غلبہ آور سماج کے خلاف لب کشائی کی ہمت کی ہے۔ اس کی نثری نظمیں ’مصلحت‘ اور ’خاموشی‘ خوبصورت ہیں۔ شبنم کی نثری نظم ’خاموشی‘ برصغیر میں جدید نظم کی صنف میں جگہ لے سکتی ہے۔“

امداد حسینی ”شبنم کی شاعری کی بابت لکھتے ہیں :“ شبنم گل سادہ محبتوں، اجلے احساسات اور نازک جذبات کی شاعرہ ہے۔ ’ہر موسم نہ جانے کیوں اداسی کا موسم ہوا کرتا ہے‘ نظم اس کی مثال ہے۔ جس میں سطروں کا آپس میں ایسا ربط ہے، کہ ان کو الگ کرنا ناممکن ہے۔ یہ پوری نظم پڑھنے اور پانے جیسی ہے۔ شبنم گل کی زیادہ تر ں ظموں کی بنت تخلیقی تجربے کے اؤج پر کی گئی ہے۔ ان میں سے کچھ میں اداسی کا تسلسل ہے۔ شروع سے آخر تک۔ جو کہیں نہیں ٹوٹتا! تو کچھ منظومات میں درد کی لہر ہے۔ شبنم گل ایک پر امید شاعرہ ہے۔ مختصر الفاظ میں تفصیلی بات کہنے کے ہنر ہی کو شاعری کہا جاتا ہے۔ شبنم گل کی نظم ’امید‘ اس کی مثال ہے۔ ”

احمد سلیم، شبنم گل کی شاعری کے حوالے سے رقم طراز ہیں : ”جدید سندھی شاعری میں شبنم گل ایک ممتاز حیثیت رکھتی ہیں۔ ’درد کی لے‘ میں شامل شاعری احساس، درد اور دردمندی کی حامل ہے۔ سہل ممتنع یعنی گہری بات کو مختصر الفاظ میں کہنے والا رجحان اردو شاعری میں تو عام ہے، مگر شبنم گل نے جس ڈھب میں اس انداز کو نبھایا ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ اس کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے قاری خوشگوار حیرتوں سے دوچار ہوتا ہے۔“

جبکہ ادل سومرو، شبنم کے انداز سخن پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ”ستائش کے لیے ضروری نہیں ہے کہ پندرہ بیس کتب شایع ہوں۔ میرے خیال میں شبنم کی دو نظمیں ’آخری لفظ‘ اور ’خود کلامی‘ ہی ان کی شناخت ایک اچھی شاعرہ کی حیثیت سے کرانے کے لیے کافی ہیں۔“

سندھی جدید ادب کے دلدادہ قارئین، بالخصوص سندھی شاعری کے شائقین کو شبنم گل کے اس مجموعہ سخن ”درد کی لے“ کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *