جہاں بیٹی ماں کی کوزہ گری کرتی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک عجیب سے خلجان میں مبتلا ہیں ہم! سمجھ ہی نہیں پاتے کہ اس سے ہمارا رشتہ ہے کیا؟

ایسا کب ہوا؟ احساس میں تبدیلی کب آئی،کچھ خبر نہیں۔ گزرے برسوں میں پلٹ کے دیکھتی ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ بہت نامعلوم طور پہ ہم دونوں نے ایک دوسرے سے اپنی جگہ بدلی ہے اور روایتی رشتہ کہیں پیچھے رہ گیا ہے۔

زندگی کے اس سفر میں بے شمار ذمہ داریوں کی گھٹڑی زاد سفر کے طور پہ ساتھ ساتھ رہی۔ گھر کے اندر پھرکی بنی ماں اور پروفیشنل زندگی میں مریضوں کے جمگھٹ میں گھری ڈاکٹر ایک ہی زمانے کی کہانی ہے۔ گود میں آنے والی پری اور ہاتھ میں تھمائی جانے والی ڈگری دونوں دل و جان سے اس قدر عزیز ٹھہریں کہ دونوں سے جدائی کبھی بھی گوارا نہ ہوئی۔ اور پھر یوں ہوا کہ دونوں چاند میں بیٹھی بوڑھی نانی اماں کے گرد گھومتے گھومتے آپس میں سہیلیاں بن بیٹھیں۔

جب وہ گود سے نکل کے پاؤں پاؤں چلی تب ہی ڈاکٹری نے بھی پاؤں پسارنے شروع کر دیئے۔ جب وہ قاعدہ تھامے سکول داخل ہوئی وہاں ڈاکٹری نے بھی اگلی ڈگری کے حصول کی کتابیں ماں کے ہاتھ میں تھما دیں۔ جہاں اس نے گھر آ کے میز پہ اپنے سکول کا کام ختم کرنا چاہا، وہیں ساتھ والی میز پہ ماں نے اپنا ریسرچ پیپر لکھا۔ جہاں ماں نے کتابوں میں گم بیٹی کو دودھ کا گلاس دیا، وہیں بیٹی نے پریزنٹیشن بناتی ماں کے سامنے چائے کا کپ لا رکھا۔ سالانہ امتحان نے بیٹی کو سبق یاد کرنے پہ مجبور کیا تو ماں بھی اپنے امتحانات کے لئے بھاری بھرکم کتابوں میں گم پائی گئی۔

خوب یاد ہے کہ جب ہم پہلے سپیشلائزیشن کے زبانی امتحان کا رزلٹ جاننے کے لئے سنٹر کی سیڑھیاں چڑھ کے اوپر پہنچے تو وہ انگلی تھامے ہمارے ساتھ تھی۔ کامیاب امیدواروں کے ناموں کی لسٹ بہت اونچائی پر لگی تھی اور بے چینی میں ہمیں کچھ ٹھیک سے دکھائی نہیں دیتا تھا۔ ہم نے اسے گود میں اٹھا کے اماں کے نام کے سپیلنگ لسٹ میں تلاش کرنے کو کہا تھا۔ اس کی مسرت بھری چیخ آج بھی کان میں گونجتی ہے، “اماں آپ پاس ہو گئیں “

اور کیسے بھولیں کراچی میں کالج آف فزیشینز اینڈ سرجنز کے وسیع و عریض لان، جہاں ہر امیدوار کے ہاتھ میں رزلٹ کا لفافہ دیا جاتا تھا۔ عجیب ہی منظر ہوتا تھا۔ ایک طرف لفافہ کھولنے پہ خوشی سے آنسوؤں کی جھڑی لگتی تو دوسری طرف ناکامی کا درد آنکھوں میں اتر آتا۔ ہم نے کانپتے ہاتھوں سے وہ لفافہ تھاما ضرور تھا لیکن اسے کھولا اسی نے تھا جو چمکتی آنکھوں سے لان میں گول گول گھومتے اونچی آواز میں اعلان کیے جاتی تھی، “میری اماں پاس ہو گئیں “

کہانی کچھ ایسے آگے بڑھی کہ وہ اور پروفیشن ساتھ ساتھ چلے، وہ بڑی ہوتی گئی اور پروفیشن ترقی کرتا گیا۔ اس نے اپنی بے انتہا مصروف ماں کو گود لے کر ماں کی ہر ذمہ داری بغیر کہے اپنے سر لے لی۔ ریسرچ آرٹیکلز ڈھونڈنے ہوں یا پاور پوائنٹ پریزنٹیشن بنانی ہو، آرٹیکل پرنٹ کرنا ہو یا ڈیٹا شیٹ بنانی ہو، ہمیں کبھی مشکل پیش نہیں آئی، وہ تھی نا ہمارے ساتھ!

ہم کیپ ٹاؤن ایک کانفرنس میں پیپر پڑھنے جا رہے تھے۔ کمپیوٹر کے معاملات میں اناڑی پن کے خدشات کی وجہ سے کچھ فکر مند تھے۔ اس نے ہماری پریشانی بھانپ کے ایک چھوٹی سی ڈائری تیار کی تھی جس میں ممکنہ مسائل کا حل بیان کیا گیا تھا کہ کونسا بٹن دبا کے کونسا کام کیا جا سکتا ہے۔ وہ ڈائری دیکھ کے اب آنکھ بے اختیار نم ہو جاتی ہے۔

آہستہ آہستہ گھر میں ملازمین نے جان لیا تھا کہ “آج کیا پکے گا” سے لے کر “گھر میں کیا چیز ختم ہے” کی اطلاعات اس چھوٹی سی لڑکی کو دینی ہیں جو عمر میں تو بچی ہے لیکن محبت کے ہاتھوں شعور کی ان گنت سیڑھیاں اکھٹی ہی پھلانگ چکی ہے۔ مہمانوں کے سامنے”ٹرالی میں کیا رکھا جائے گا” سے لے کر دھوبی، مالی، درزی کے معاملات اس نے خوشی سے اپنے کھاتے میں لکھ لئے تھے۔

چھوٹے دونوں بچے بہت بعد میں آئے سو انہوں نے آنکھیں کھول کے گھر میں دو مائیں پائیں۔ ایک بھاگتی دوڑتی زندگی میں پروفیشن کی سیڑھیاں چڑھتی ہوئی اور دوسری ان دونوں کی ہر احتیاج کو نباہتی ہوئی۔

سعودی عرب میں جب ہم رات کی ڈیوٹی کرتے، اگلی صبح وہ تیرہ چودہ سالہ بچی نہ صرف خود سکول کے لئے تیار ہوتی بلکہ چھ اور چار سالہ کی تیاری پہ بھی نظر رکھتی۔ انڈونیشین ہیلپر کو یونی فارم کی ہدایات سے لے کر لنچ باکس کی تیاری تک اسے سب یاد رہتا۔ جب ہم شام پانچ بجے تھکے ہارے گھر میں داخل ہوتے تو ہمیں کمرے میں کچھ آرام کی خاطر دھکیل کے بچوں کو ہمارے دروازے تک نہ آنے دینا بھی اسی کا سوچا سمجھا کارنامہ تھا۔

ایسے احساس بھرے دن جینے کا نتیجہ یہ ٹھہرا کہ آج وہ تینوں محبت کی ایسی ڈور میں بندھے ہیں کہ دیکھ کے ہمیں رشک محسوس ہوتا ہے۔ آپا کی جنبش لب دونوں چھوٹے بہن اور بھائی کے لئے پتھر پہ لکیر ہوا کرتی ہے اور ان دونوں کا معمولی سا اضطراب آپا کے دل کی دھڑکن اتھل پتھل کر دیتا ہے۔

یادوں کا جنگل ہر طرف پھیلا ہے جس میں احساس محبت اور ذمہ داری کے ایسے مہکتے پھول کھلے ہیں جو مشام جاں کو معطر کرتے ہیں۔ لیکن وہ سوال، وہ کنفیوژن تو اپنی جگہ باقی ہے کہ وہ ہماری بیٹی ہے یا ماں!

اس سے پوچھا جائے تو وہ ایک بلند آہنگ قہقہہ لگا کے کہتی ہے،

” یہ میری ماں تو ہیں لیکن انہیں میں نے اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے”

آج اس کے جنم دن پہ سرحدوں اور فاصلوں کی دوری یقیناً ہمارے الفاظ کو اس تک پہنچنے سے نہیں روک سکتی!

“میری ہمزاد!

ہر برس جب یہ دن آتا ہے ہمیں محسوس ہوتا ہے، جیسے کل کی بات ہو کہ تم ہماری گود میں آئی تھیں۔

اور ہر برس مجھے پھر سے یہ سوچ کے مزا آتا ہے کہ میں تمہاری ماں ہوں, ایسا بڑا اعزاز!

میرا اور تمہارا تعلق بھی بہت عجیب ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ تم بیٹی نہیں، میری ماں ہو جو میری انگلی تھامے مجھے دنیا سے بچانے کی فکر میں ہلکان ہو رہی ہے۔

مجھے اعتراف کرنے دو کہ میں نے تم سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ میرے اندر تیسری آنکھ بیدار کرنے میں تمہارا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ تم نے مجھے بہتر ماں بننے میں میری مدد کی ہے۔

تم جیسے جیسے بڑی ہو رہی ہو، میرا دل تمہاری محبت سے بھرتا ہی جا رہا ہے۔ میرا دل چاہتا ہے، میں دنیا کی سب خوشیاں تمہارے قدموں میں ڈھیر کر دوں اور تمہاری سب بلائیں اپنے سر لے لوں۔

تمہارے منحنی سے جسم میں بے پناہ محبت سے لبریز دل ہے، جو ہر کسی کی تکلیف دیکھ کے تڑپ جاتا ہے، میری آرزو ہے، زندگی کی کلفتیں اس پہ اپنا سایہ نہ ڈال سکیں۔

رہتی دنیا تک جیو اور زمانے پہ اپنے نقش ثبت کرو!

تمہاری کوزہ گری کا نمونہ،

تمہاری ماں!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *