ایام ”حجر“ اور شامیوں کا عقیدہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دوستان گرامی، دمشق سے ایک بار پھر آداب عرض ہے۔ گزشتہ مراسلے میں ذکر ہوا تھا کہ شام میں کورونا کی وبا کے خطرے کے پیش نظر دفاتر، تعلیمی ادارے، عبادت گاہیں، سنیما، تھیٹر، ریستوران، قہوہ خانے، کتب خانے اور سامان خورد و نوش و دوا کی دکانوں کے سوا بازار بھی بند کر دیے گئے تھے۔ ملک بھر میں شام چھے سے صبح چھے تک کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا۔ رمضان المبارک کے آغاز کے ساتھ ہی اس معمول میں نرمی کر کے کرفیو کا دورانیہ شام ساڑھے سات سے صبح چھے بجے تک کر دیا گیا۔

شاید ملک میں کورونا کے مریضوں کی سرکاری طور پر اعلان کردہ کم تعداد کے تناظر میں اور غالباً یہ سوچ کر کہ آخری عشرے کی برکات کا دائرہ مزید پھیلایا جائے، رفتہ رفتہ دیگر کاروباروں کو بھی کھلنے کی اجازت مل گئی اور عید کی خریداری اژدحام ہو گیا۔ بہر کیف، اہل دمشق تعلیم و تہذیب میں ہم سے برتر ہیں سو ویسے مناظر کہیں دیکھنے کو نہ ملے جو سوشل میڈیا پر پاکستان میں کپڑوں کی کچھ دکانوں پر دھکم پیل دکھا رہے تھے۔

عید کے بعد سے رہا سہا کرفیو بھی ختم کر دیا گیا ہے۔ ریستوران، سنیما، تھیٹر اور سکول البتہ اب تک بند ہیں۔ سکولوں کے سالانہ امتحانات جون میں ہونا ہیں جن میں شرکت کے لیے حکومتی اثر سے باہر کے علاقوں میں مقیم ہزاروں طلباء و طالبات کی آمد متوقع ہے اور ان کے لیے چیک پوسٹس سے گزرنے اور انہیں اجتماعی قیام گاہوں میں ٹھہرانے کے خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ حکومت حکمت عملی بنا رہی ہے کہ جسمانی دوری اور حفظان صحت کو اس دوران کیسے یقینی بنایا جائے۔

عید کے بعد سے مساجد اور گرجا گھر بھی کھول دیے گئے ہیں اور پادری و امام صاحبان کو عبادت گاہوں کی صفائی اور عبادت گزاروں میں فاصلہ ملحوظ رکھنے کا طریقہ کار جاری کیا گیا ہے جس پر عمل درآمد کے وہ ذمہ دار ہیں۔ یاد رہے کہ اکثر پادری اور تمام پیش نماز سرکاری ملازمین ہیں اور پبلک سروس کمیشن کے ذریعے امتحان کے بعد بھرتی کیے جاتے ہیں۔ یہ خادم تو اب تک مسجد میں نماز با جماعت میں شرکت کا حوصلہ نہیں جٹا پایا۔ لیکن سنا ہے کہ نمازیوں اور صفوں میں دو میٹر فاصلے کا التزام فرش پر رنگین ٹیپ چپکا کر کیا گیا ہے۔ اہل شام سے توقع ہے کہ وہ احتیاط اور قانون کی پابندی سے کام لیں گے۔

ہمارے ادارے نے بھی مشاورت کے بعد دفاتر کو جزوی طور پر کھول دیا ہے۔ ترتیب یوں بنائی گئی ہے کہ کچھ لوگ مقررہ دنوں میں دفتر آئیں اور باقی گھر سے کام کریں۔ اور قرآنی محاورے میں یہ ”تداول بین الناس“ چلتا رہے۔ ایک کمرے میں دو سے زیادہ لوگ نہ بیٹھیں اور وہ بھی اس صورت میں کہ درمیانی فاصلہ کم از کم دو میٹر ہو۔ ایک اچھی بات یہ ہوئی کہ ”بے کاغذ“ دفتر کا طریقہ کار جڑ پکڑ گیا ہے اور اس خادم کے دفتر کی راہداری میں پہلے ہر دم گھوں گوں کرتے پرنٹر اب اکثر و بیشتر خاموش رہتے ہیں۔ قلم کا استعمال صرف چیک پر دستخط کرنے تک رہ گیا۔

پاکستانی اور افغان طرز کی شلوار کا رواج یہاں ہے نہیں سو حبیب جالب کا بتایا ہوا مصرف ”اب قلم سے ازار بند ہی ڈال“ بھی رونما نہیں ہو سکتا۔ رسمی اجلاس بھی اب اکثر انٹر نیٹ پر ”زوم“ ، ”ویبیکس“ ، ”مائیکرو سافٹ ٹیم“ وغیرہ کی طرز کے سافٹ ویئر کی مدد سے ہوتے ہیں۔ لگتا ہے کہ وبا ادارہ جاتی کلچر کو بڑی حد تک تبدیل کرنے میں ایک اہم عامل کا کردار ادا کر رہی ہے۔ ہمارے کچھ ہم کار دو ماہ سے دنیا کے مختلف ممالک سے گھروں پر بیٹھے کام کر رہے ہیں لیکن پیشہ ورانہ امور میں کوئی رخنہ محسوس نہیں ہورہا۔ اس طرز کار سے منسلک بہت سا سماجی تناؤ بھی ہے جس کی درست جانچ ہونا ابھی باقی ہے۔

آخر میں عربی زبان کی تحصیل کا تازہ ترین چٹکلا۔ اس خادم کا پاکستانی ہم کار بی بی حرا ہاشمی اور بھارتی ہم کار بی بی انیتا گھوٹگے کے ہمراہ ہوٹل کے کمرے میں پخت و پز کا سلسلہ جاری ہے۔ اس لیے خریداری کی خاطر بازار جانا کبھی کبھی ضروری ٹھہرتا ہے۔ رمضان کی ابتدا میں ایک یورپی خاتون دوست نے کندھے پر تھیلا لٹکائے باہر جاتے دیکھا تو پوچھا کہ کیا میں ان کے لیے بازار سے ایک چیز لا سکتا ہوں؟ خادم نے عرض کیا کہ ضرور۔ بولیں کہ کہیں سے ”ویکس“ لیتے آنا۔

یہ خادم حیران ہوا کہ ان بی بی کو محی الدین نواب کی کہانی ”دیوتا“ پڑھنے کا موقع کیسے ملا جو شمع بینی کا شوق پیدا ہوگیا۔ تس پر انہوں نے مزید وضاحت کی کورونا کے سبب بیوٹی پارلرز بند ہیں سو انہیں چہرے وغیرہ کے فاضل بال اتارنے کے لیے ”ویکس“ کی ضرورت ہے۔ ظاہر ہے کہ اس خادم کا سامان آرائش کی خریداری کا تجربہ نہ ہونے کے برابر ہے اور بزبان عربی تو صفر ہے۔ سو ایک جنرل سٹور پر پہنچ کر پہلے تو ”شمع“ مانگی تو موم بتی کا پیکٹ سامنے دھر دیا گیا۔ پھر کچھ ٹوٹی پھوٹی عربی اور کچھ اشاروں کی زبان میں کام چلایا کہ بھائی وہ چیز چاہیے کہ ”عزال الشعر من وجوہ النساء“ کے کام آتی ہے۔

گزشتہ مراسلات کے قارئین داد دیں گے کہ اس سے پہلے لفظ ”عزل“ کے مشتقات پر کی گئی تحقیق کیسے کام آئی۔ خیر، اس پر وہ مردک سمجھ گیا اور سیلز گرل کو آواز دے کر شامی لہجے میں ”عئیدہ“ لانے کو کہا۔ اس خادم نے رفع شک کی خاطر دوبارہ پوچھا کہ اسے کیا کہتے ہیں؟ تو اس نے لہجہ فصحی کی لیاقت بروئے کار لاتے ہوئے کہا ”عقیدہ“ ۔ یہ سن کر یہ خادم اپنے، اردو والے، عقیدہ کو بہ مشکل سنبھال پایا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *