نسل پرست امریکی قیادت دنیا کو کیسے انصاف دلائے گی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تین دن کے شدید مظاہروں، املاک کو نقصان اور لوٹ مار کے متعدد واقعات کے بعد امریکی ریاست منی سوٹا کے دارالحکومت منی پولس میں ایک سیاہ فام شخص کو تشدد سے مارنے کے الزام میں سفید فام پولیس افسر کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ڈیرک چاون نامی اس پولیس افسر نے 8 منٹ تک چالیس سالہ جارج فلوئیڈ کی گردن کو گھٹنے سے دبائے رکھا حالانکہ وہ مسلسل درخواست کرتے رہے کہ انہیں سانس لینے میں دشواری ہے اور گھٹنا ہٹا لیا جائے۔

 گھٹنے سے فلوئیڈ کی گردن دبانے اور اس کارروائی میں مداخلت نہ کرنے کے ذمہ دار چاروں پولیس افسروں کو اس ہفتے کے شروع میں ہی ملازمت سے برخاست کر دیا گیا تھا لیکن استغاثہ نے کسی پولیس افسر پر جارج فلوئیڈ کو تشدد سے ہلاک کرنے کا مقدمہ درج نہیں کیا تھا۔ البتہ اس واقعہ کے بعد منی پولس کے علاوہ متعدد دیگر مقامات پر احتجاج اور لوٹ مار کا بازار گرم ہوگیا۔ مرنے والے سیاہ فام خاندان کے علاوہ متعدد سیاہ فام لیڈروں نے تشدد اور لوٹ مار سے گریز کرنے کی اپیل کی اور مظاہرین سے پر امن رہتے ہوئے احتجاج رجسٹر کروانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ البتہ فلوئیڈ کے خلاف پولیس تشدد کی ویڈیو اور صدر ٹرمپ سمیت متعدد سفید فام لیڈروں کے غیر ذمہ دارانہ بیانات اور واقعہ میں ملوث پولیس افسروں کے خلاف کارروائی سے گریز کی وجہ سے لوگوں کا غم و غصہ بڑھتا رہا اور مظاہرے کنٹرول سے باہر ہوگئے۔

ان مظاہروں کی شدت اور امن و امان کی سنگین صورت حال کو کنٹرول کرنے کے لئے ہی اب جارج فلوئیڈ کی ہلاکت میں ملوث پولیس افسر کو گرفتار کرکے اس پر قتل کا الزام عائد کیا گیا ہے ۔ امید کی جارہی ہے کہ اس واقعہ میں ملوث باقی تین سابقہ پولیس افسروں کے خلاف بھی مناسب کارروائی کی جائے گی اور ریاستی اور وفاقی حکام اس سانحہ کی وجہ سے پیدا ہونے والے غم و غصہ پر قابو پانے کی کوشش کریں گے۔ اگرچہ کسی طرف سے بھی جارج فلوئیڈ کی ہلاکت کے بعد ہونے والے مظاہروں میں سامنے آنے والے تشدد، لوٹ مار اور آتشزنی کے واقعات کی تائد نہیں کی گئی لیکن سیاہ فام لیڈروں کی طرف سے یہ بات زور دے کر کہی جاتی رہی ہے کہ امریکہ کا نظام انصاف سیاہ فام شہریوں کو ویسا تحفظ نہیں دیتا جیسا سفید فام شہریوں کو فراہم کیا جاتا ہے۔ انعام یافتہ صحافی اور اینکر ڈون لینن نے دوٹوک الفاظ میں اس واقعہ کو ملک میں پائی جانے والی نسل پرستی کا شاخسانہ قرار دیا ہے۔ سی این این پر اپنے پروگرام میں ان کا کہنا تھا کہ’ ملک میں دو وائرس لوگوں کو ہلاک کررہے ہیں: ایک کووڈ۔19 اور دوسرا نسل پرستی‘۔

واقعہ میں ملوث پولیس افسر کے خلاف تیزی سے کارروائی کا سہرا اپنے سر باندھنے والے استغاثہ کے نمائندے اب دعویٰ کررہے ہیں کہ جارج فلوئیڈ کی ہلاکت میں ملوث سابق پولیس افسر کے خلاف سرعت سے کارروائی کرتے ہوئے قابل قبول شواہد جمع کرلئے گئے ہیں۔ اس طرح قانون کی تاریخ میں مثال قائم کی گئی ہے۔ اس سے پہلے کبھی کسی معاملہ میں اتنی تیزی سے کارروائی دیکھنے میں نہیں آئی۔ لیکن استغاثہ کے یہی نمائندے کل شام تک کہہ رہے تھے کہ اس واقعہ کی مکمل تحقیقات ہونے اور تمام حقائق سامنے آنے تک کسی کے خلاف کارروائی نہیں کی جاسکتی۔ ایک پریس کانفرنس میں منی سوٹا اور ایف بی آئی کے وکیلوں نے مزید شواہد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ واقعہ کے گواہوں کو سامنے آنا چاہئے تاکہ پولیس اور استغاثہ مضبوط مقدمہ قائم کرکے ملزموں کو سزا دلوا سکیں۔ کئی گھنٹے انتظار کے بعد کل سہ پہر کے وقت منعقد ہونے والی اس پریس کانفرنس میں قانون نافذ کرنے اور سزا دلوانے کے ذمہ داروں کی طرف سے کی جانے والی باتوں سے یہی قیاس کیا جارہا تھا کہ ابھی اس معاملہ کو مزید لٹکایا جائے گا اور عوام کا غم و غصہ ختم ہونے کے بعد پولیس تشدد کے اس واقعہ کو بھی بھلا دیا جائے گا۔

جارج فلوئیڈ پر پولیس تشدد کی سنسنی خیز ویڈیو اور ہتھکڑی لگے ہوئے شخص کو سڑک پر گرا کر اسے گھٹنے سے دبائے رکھنے کے واقعہ نے سیاہ فام لوگوں کے ان تمام زخموں کو تازہ کردیا جو ملک میں وسیع پیمانے پر پھیلی ہو ئی نسل پرستی، صدیوں پر محیط متعصبانہ و امتیازی سلوک اور نظام کے یک طرفہ جبر کی وجہ سے لگے ہیں۔ اس واقعہ نے عوام کے غم و غصہ کو اظہار کا موقع دیا۔ اگرچہ سماج دشمن عناصر نے پولیس اسٹیشن کو نذر آتش کرکے اور دکانوں میں لوٹ مار کے واقعات سے اس جائز اور شدید تحریک کو خراب کرنے کی کوشش کی لیکن احتجاج کرنے والوں کی اکثریت ایک ہی بات دہراتی رہی کہ سب کو مساوی انصاف ملنا چاہئے۔ مظاہرین کے کسی لیڈر، سیاہ فام قیادت، مبصرین یا تجزیہ نگاروں کی طرف سے کسی مرحلہ پر بھی تشدد اور لوٹ مار کی حمایت نہیں کی گئی لیکن تسلسل سے یہ کہا گیا کہ امریکی معاشرے میں قانون کو سب کے لئے مساوی ثابت کرنے کے لئے سیاہ فام آبادی کے ساتھ برتے جانے والے سلوک کو تبدیل کرنا ہوگا۔

 لوٹ مار کے چند واقعات کے باوجود مظاہرین کی ناراضی اور مایوسی کو سمجھنا مشکل نہیں ہونا چاہئے۔ خاص طور سے اس واقعہ کے متعدد ویڈیو سامنے آچکے تھے اور مرنے والا شخص بار بار سانس رکنے کی شکایت کررہا تھا اور پولیس افسر پوری قوت سے اسے اپنے گھٹنے سے دبائے ہوئے تھا۔ ان مناظر نے ہر خاص و عام کو متاثر کیا لیکن استغاثہ اور ریاستی حکام کی طرف سے ملزموں کے خلاف کارروائی میں مسلسل تاخیر کی جاتی رہی۔ اب یہ بات تقریباً یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ منی پولس استغاثہ حکام کی طرف سے کل منعقد ہونے والی پریس کانفرنس میں اگر شدید بے حسی کے مظاہرے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سنگین اشتعال انگیزی کے جواب میں مظاہروں میں شدت پیدا نہ ہوتی تو حکام اب بھی سفید فام پولیس افسر کو کٹہرے میں کھڑا کرنے پر تیار نہ ہوتے۔

اس ہفتہ کے آغاز میں منی پولس میں پیش آنے والے اس انسانیت سوز واقعہ کے علاوہ انہی دنوں امریکہ میں کووڈ۔19 سے مرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کرگئی۔ اس کے باوجود امریکی صدر ٹوئٹر کی طرف سے اپنے بعض ٹوئٹس پر ’حقائق پرکھنے‘ کا نوٹس لگانے پر اس قدر برافروختہ تھے کہ وہ سوشل میڈیا آؤٹ لیٹس کو دھمکیاں دینے یا ان کے خلاف اقدام کے لئے صدارتی حکم جاری کرنے میں مصروف رہے۔ امریکی میڈیا اور مبصرین کے لئے یہ بات شدید حیرت کا سبب تھی کہ امریکہ میں کورونا وبا سے مرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ پہنچنے کے12 گھنٹے بعد تک صدر ٹرمپ کی طرف سے کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا تھا۔ اگرچہ بعد میں انہوں نے مرنے والوں کے اہل خاندان کے ساتھ اظہار ہمدردی کا پیغام جاری کیا۔ البتہ ان بارہ گھنٹوں کے دوران وہ اپنے مخالفین، ٹوئٹر یا چین کے خلاف بیان جاری کرنے میں مصروف رہے لیکن وبا سے مرنے والوں کی ہمدردی میں افسوس کا ایک لفظ ادا نہیں کرسکے۔

اسی طرح جارج فلوئیڈ کے قتل کے بعد شروع ہونے والے احتجاج کو بھی انہوں نے غنڈہ گردی قرار دیا اور میڈیا کے سوال پر بھی اس قتل کی مذمت کرنے یا پولیس کو نسلی نفرت کا ذمہ دار قرار دینے سے گریز کیا۔ دراصل صدر ٹرمپ خود امریکی نسل پرستوں کے اس مزاج کی نمائندگی کرتے ہیں جو دوسری نسلوں کو کم تر سمجھتے ہیں ۔ صدر ٹرمپ ملک کو درپیش تمام مسائل کا ذمہ دار سیاہ فام لوگوں کے علاوہ تارکین وطن کو قرار دے کر اپنے ووٹ بنک کو خوش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ منی پولس میں پیش آنے والے واقعہ میں بھی ان کا یہی رویہ رہا تھا۔ خاص طور آج صبح کا غصیلا ٹوئٹ صدر ٹرمپ کی انتہا پسند سوچ اور متعصبانہ حکمت عملی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس ٹوئٹ میں انہوں نے احتجاج کے دوران ہنگامہ آرائی کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا :’ یہ بدمعاش، جارج فلوئیڈ کی یاد کی بے حرمتی کر رہے ہیں اور میں ایسا نہیں ہونے دوں گا۔۔۔ اگر مشکل ہوئی تو ہم کنٹرول سنبھال لیں گے۔ جب لوٹ مار شروع ہو گی تو گولیاں چلنا شروع ہوں گی۔ شکریہ‘۔

ٹوئٹر نے اس پیغام کو تشدد آمیز قرار دیتے ہوئے شروع میں اسے جاری کرنے سے انکار کردیا لیکن بعد میں عوام کو معلومات فراہم کرنے کے مقصد سے اسے پڑھنے کا موقع دیا گیا۔ اس پیغام کی زبان اور لب و لہجہ نہ صرف تشدد پر اکساتا ہے بلکہ اس میں پر امن مظاہرہ کرنے والے تمام لوگوں کے خلاف ریاستی طاقت استعمال کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کے واقعہ کو مسترد کرنے کی بجائے امریکی صدر نسل پرست نظام کی حفاظت کاعلم بردار بن کر سامنے آئے ہیں۔ امریکی صدر کے اس رویہ سے اندازہ کیا جاسکتا ہے معاشرے میں نسلی تقسیم اور امتیازی سلوک کی روایت کے درپردہ عناصر کس قدر طاقت ور ہیں اور کیوں امریکی معاشرہ میں نسل پرستی ایک سماجی علت کے طور پر مسلسل پروان چڑھ رہی ہے۔

امریکہ آزاد دنیا کا لیڈر ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے انسانی حقوق کے تحفظ کا علمبردار ہے۔ لیکن ڈونلڈ ٹرمپ جیسے سیاست دان کی قیادت میں انسان دوست ملک کے طور پر امریکہ کی شہرت داغدار ہوئی ہے۔ دنیا کے لوگ بجا طور سے پوچھ سکتے ہیں کہ اپنے ملک میں نسلی تعصب و منافرت کی سرپرستی کرنے والا صدر دنیا کے مظلوم لوگوں کو کیسے مساوی حقوق اور انصاف دلائے گا؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1547 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *