کرونا وائرس کی مادہ کہاں ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مبلغ اڑھائی مہینے گھر میں مقید رہنے کے بعد یکایک آج مجھ پر القا ہوا ہے کہ میں نے اب تک کووڈ 19 کا شکریہ ادا نہیں کیا۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ اور کہوں، یہ واضح رہے کہ اشرافیہ میں اس بیماری کا نام کووڈ 19 جبکہ عوام میں کرونا ہے، سو دھوتی سے جینز میں آنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ آپ کووڈ 19 کہنا سیکھ لیں۔ یہ اور بات ہے کہ اگر آپ وائرس کا نام بدل کر امراؤ جان ادا بھی رکھ دیں گے تو وہ بیماری ہی دے کر جائے گا مجرا نہیں کرے گا۔ یہ خیال بھی ابھی میرے ذہن میں آیا ہے کہ یہ مردود وائرس مذکر ہے، کوئی مادہ وائرس ہوتی تو بیویوں نے اپنے شوہروں کو بغیر کسی ویکسین کے خود ہی اس سے بچا لینا تھا۔

کووڈ 19 کا شکریہ ادا کرنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ اس کی وجہ سے میرا ماہانہ خرچہ خاصا کم ہو گیا ہے، کہیں آنا جانا نہیں ہوتا اس لیے پٹرول کی بچت ہو رہی ہے، شاپنگ مالز بند ہیں (تھے ) سو غیر ضروری شاپنگ سے بھی نجات ملی ہوئی ہے، ورنہ اکثر ہوتا تھا کہ گھر سے صابن کی ٹکیا لینے نکلے اور خود کار استری خرید کر لوٹے اور کئی مرتبہ تو محض مٹر گشت کرنے نکل جاتے تھے اور خواہ مخواہ تین سیر مٹر بندھوا کر لے آتے تھے، نمی دانم چہ منزل بود شب جائے کہ من بودم (نہ جانے اس کا کیا مطلب، یوں ہی ڈال دیا ہے، اساتذہ سے سنا ہے کہ اس تحریر با رعب ہو جاتی ہے ) ۔

اس بیماری کی وجہ سے غیر ضروری معانقوں سے بھی جان چھوٹ گئی ہے، ورنہ ہر شخص پہلی ہی ملاقات میں جپھی ڈالنے کی کوشش کرتا تھا اور آپ کے پاس بچاؤ کا طریقہ بھی نہیں ہوتا تھا، نہ نہ کرتے بھی آپ ’مرد مقابل‘ کی بانہوں میں جھول جاتے تھے۔ ایک دو حضرات تو خیر اس سے بھی دو قدم آگے جاتے ہوئے باقاعدہ چومنے کی کوشش کرتے مگر ظاہر ہے کہ فدوی نے ان کی یہ کوشش کبھی کامیاب نہیں ہونے دی۔ ان میں سے ایک صاحب آج کل کبڈی ایسوسی ایشن کے عہدے دار ہیں اور دوسرے کیلی فورنیا میں مردانہ مقابلہ حسن کروانے والی تنظیم کے سیکریٹری۔

ایک مہربانی کووڈ 19 نے یہ بھی کی ہے کہ غیر ضروری اور اضافی بیماریوں سے ہماری جان چھڑوا دی ہے، اسپتال میں دوسری بیماریوں کے مریض کم ہو گئے ہیں، ایسے احباب بھی اب بیماری کی شکایت کرتے نظر نہیں آتے جو پہلے ہر ملاقات میں اسپتال میں گزاری ہوئی رات کا احوال یوں سناتے تھے جیسے کبھی یار لوگ شادی کی پہلی رات کا احوال سناتے تھے۔ اب تو دمے کا مریض بھی چھاتی پھلا کر کہتا پھرتا ہے کہ میں بالکل فٹ ہوں بے شک اولمپک میں دوڑ لگوا لو!

ڈاکٹر اتائی الزمان ہمارے دیرینہ کرم فرما ہیں، فارن کوالی فائڈ ہیں، آپ نے شمالی کوریا کی یونیورسٹی سے آن لائن طب کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے، بھونڈ پورا میں ماشا اللہ چلتا ہوا کلینک ہے جہاں خلق خدا کا علاج فقط درد دل کے واسطے کرتے ہیں، آپ کے دل میں اکثر درد رہتا ہے سو اس کے آپریشن کے لیے پیسے جوڑ رہے ہیں، کلینک کرنے سے پہلے آپ بھاٹی چوک میں سانڈے کا تیل فروخت کرتے تھے۔

ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ یہ کرونا وائرس سوائے وہم کے کچھ نہیں، لوگ وائرس سے نہیں بلکہ اس کے خوف سے مر رہے ہیں، ان کے پاس کلینک میں روزانہ دو چار مریض ایسے آتے ہیں جنہیں بخار کے ساتھ کھانسی کی شکایت ہوتی ہے، ڈاکٹر صاحب انہیں اپنی فارمیسی کی تیار کردہ دوا پلاتے ہیں، آپ کی فارمیسی کلینک کے بالکل ساتھ واقع ہے جہاں بین الاقوامی اصولوں کے مطابق جوتے اور لباس اتار کر ہی داخل ہوا جا سکتا ہے، اسی لیے ڈاکٹر صاحب اکثر لنگوٹ باندھ کر وہاں تشریف لے جاتے ہیں اور اپنے کمپوڈر کے ساتھ مل کر ہاون دستے میں جڑی بوٹیاں کوٹ کر ادویات بناتے ہیں۔ ڈاکٹر اتائی الزمان کا کہنا ہے کہ الحمدللہ تین میں سے دو مریض ان کی دوا سے صحت یاب ہوتے ہیں۔ ”تیسرے مریض کا کیا بنتا ہے؟“ میں نے پوچھا۔ ”وہ خوف سے مر جاتا ہے!“ ڈاکٹر صاحب نے اطمینان سے جواب دیا۔

ڈاکٹر صاحب کا ذکر تو خیر یونہی بیچ میں آ گیا حالانکہ آ ج میرا ارادہ صرف کووڈ 19 کی شکر گزاری تھی۔ لیکن عجیب بات ہے کہ ہزار کوشش کے باوجود میں اس بیماری کے مزید احسانات گنوانے سے قاصر ہوں۔ ہمارے ایک فلسفی دوست ملک بقراط ارائیں جو بکر منڈی میں سٹیشنری کی دکان چلاتے اور ایک یو ٹیوب چینل کے مالک ہیں، اکثر کرم فرمائی کرتے ہیں اور اپنے افکار عالیہ سے اس ہیچمدان کا دامن موتیوں سے بھرتے رہتے ہیں، ایک مرتبہ تو اتنے موتی اکٹھے ہو گئے کہ مجھے اونے پونے داموں کباڑیے کو فروخت کرنے پڑے۔

آپ کا تھیسز یہ ہے کہ اس وبا نے ہمیں پرانی روایات سے جوڑ دیا ہے، خاندان قریب آ گئے ہیں اور پیسے کی وقعت یک دم کم ہو گئی ہے۔ میرے پاس ملک صاحب کی بات سے متفق ہونے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ واقعی روپے کی قدر کم ہو گئی ہے، ڈالر بڑھ گیا ہے۔ انسانی رشتوں کی پہچان ہو گئی ہے، اب لوگ کرونا سے مرنے والے رشتہ داروں کے جنازوں میں بھی نہیں جاتے۔ ترقی کی دوڑ میں ہمارے پاس اپنے بچوں کو دینے کے لیے وقت نہیں تھا، اب ہم سارا دن بچوں کے ساتھ بیٹھ کر موبائل فون استعمال کرتے ہیں۔

اسی طرح موسمی آلودگی بھی کم ہو رہی ہے، انسان نے قدرت کے نظام میں بگاڑ پیدا کر دیا تھا، ہوائی جہازوں، کارخانوں اور دوڑتی بھاگتی گاڑیوں نے فضا کا بیڑا غرق کر دیا تھا، سو میرا خیال ہے کہ ہمیں عہد کرنا چاہیے کہ جونہی کرونا ختم ہوگا ہم کبھی ہوائی جہاز میں نہیں بیٹھیں گے، کسی برینڈڈ کمپنی کی مصنوعات استعمال نہیں کریں گے اور گاڑیوں کی بجائے گھوڑوں اور خچروں پر سفر کریں گے۔ ملک بقراط ارائیں کی یہ بات بھی پھینکنے کے قابل (نہیں ) ہے کہ اس وبا سے پہلے ہر شخص اپنی شان بڑھانے کے چکر میں گھن چکر بنا رہتا تھا اور تمام انسان ایک عجیب نفسا نفسی کے عالم میں تھے، انسانیت کا تو جنازہ ہی اٹھ گیا تھا، ایسے میں کرونا نے آ کر ہمیں بریک دی ہے۔ سولہ آنے درست بات ہے، اب انسانیت نہیں انسانوں کے جنازے اٹھ رہے ہیں۔ اور اس سوچ سے کون انکار کر سکتا ہے کہ کرونا نے ہمیں زندگی میں سوچنے سمجھنے کا موقع دیا ہے، ہمیں چاہیے کہ اس موقع کا فائدہ اٹھائیں اور ہمیشہ خالص اور دیسی گھی سے تیار کرد ہ پہلوان کی ریوڑیاں کھائیں۔

اگر کرونا وائرس دنیا میں نہ پھیلتا تو انسان کو کبھی یہ احساس نہ ہوتا کہ وہ کس اندھے کنویں کی طرف جا رہا ہے اور نہ ہی یہ جان پاتا کہ کیسے سرمایہ دارانہ نظام اس کا خون چوس رہا ہے، اب جبکہ کرونا نے ہمیں یہ تمام سبق سکھا دیے ہیں تو ہمیں اس معصوم اور ننھے منے سے وائرس کا شکر گزار ہونا چاہیے اور ان لوگوں کو شہید کہہ کر مطمئن ہو جانا چاہیے جو اس بیماری کے ہاتھوں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں!

ملک بقراط ارائیں کا تھیسز کافی دقیق ہے، علمی زبان استعمال کی گئی ہے اور صرف نکتہ رس لوگ ہی اسے سمجھ سکتے ہیں، آپ نے مقالے میں اشارتاً یہ بھی کہا ہے کہ کرونا وائرس کی اگر مادہ تلاش کر لی جائے تو یہ وائرس ہماری جان چھوڑ دے گا اور اپنی مادہ کی فکر کرے گا۔ ملک صاحب کا ارادہ اس تحقیق کو سماجی علوم کے کسی مستند جریدے میں شائع کروانے کا ہے، میں نے انہیں مشورہ دیا ہے کہ وہ فوراً اسے پیٹنٹ کروا لیں مبادا کسی غیر ملکی یونیورسٹی کا کوئی پروفیسر اسے چرا لے۔ انہیں میرا یہ مشورہ بہت پسند آیا ہے اور اظہار تشکر کے طور پر انہوں نے نوے گرام اے فور سائز کے دو رم مجھے بھجوائے ہیں۔ اگلے ماہ ان کا یہ مقالہ ٹنڈو الہ یار کے جریدے میں شائع ہوگا، سنا ہے اس جرنل کا امپیکٹ فیکٹر پورے ضلع میں سب سے زیادہ ہے۔
کالم کی دم: براہ مہربانی جرنل کو جنرل نہ پڑھا جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 105 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *