میری نانی کا گھر


بچپن کی یادیں نانی کے گھر کے بغیر مکمل نہیں ہوتیں۔ یہ ایک ایسا مقناطیسی مرکز ہوتا ہے جس کے گرد سب بہن بھائیوں اور ان کے بچے گھومتے رہتے ہیں یہاں تک کے ایک دن نا نانی رہتی ہے نا نانی کا گھر۔ ہماری نانی نے اپنی سات بیٹیاں پورے پاکستان میں جگہ جگہ بیاہی ہوئی تھیں۔ دو بیٹوں میں سے ایک کا خاندان تو عرصے سے پردیس میں آباد تھا اور ایک بیٹا بہو اپنے تین بچے چھوڑ کر اللٰہ کا پیارے ہو گئے تھے۔ ہر سال گرمیوں کی چھٹیوں میں کراچی سے لے کر لاہور تک سب کی سب بیٹیاں اپنے بال بچے لے، ٹرین میں بیٹھ ملتان آ وارد ہوتی تھیں۔

سب ہی کے تین تین، چار چار، بچے تو تھے ہی۔ ملتان کی سلگا دینے والی گرمی میں بھی نانی کے گھر میں رش لگا ہوتا تھا۔ دو بیٹیاں پچھلی گلی میں رہتی تھیں۔ سب یہیں اکٹھی ہو جاتیں۔ بچے کبھی خالہ کے گھر کبھی نانی کے گھر۔ سارا دن کھانے پکتے اور چائے کی دیگچی چولہے سے نہ اترتی۔ آم اور فالسے کا دور چلتا۔ رات ہوتی تو سونے کو جگہ نہ ملتی۔ ایک بیڈ پہ چھے چھے سات سات لوگ اور کئی بار تو ڈائننگ ٹیبل اور ڈریسنگ ٹیبل تک پہ سونا پڑا۔

مگر سوتے تو کم ہی تھے۔ نانی سے چھپ کر رات رات بھر جاگتے، باتیں کرتے۔ کبھی چپکے سے چھت پہ چلے جاتے۔ کبھی خاموشی سے کچن میں نوڈلز، اور حلوے بنا کے کھاتے۔ نانی فجر سے پہلے اٹھ جاتی تھیں۔ تو ہم بھی تمام کارروائیاں ان کے اٹھنے پہلے پہلے کر کہ سونے کی جگہ ڈھونڈا کرتے۔ کبھی جگہ مل جاتی۔ اور زیادہ تر بنانی پڑتی۔

نانی کو ہم نے ہمیشہ ڈنڈے کے ساتھ چلتے دیکھا۔ وہ ڈنڈا ان کا چلنے کا سہارا بھی تھا اور ہمیں ڈرانے کا اوزار بھی۔ ایک عرصے سے گھٹنوں کا مسئلہ ٔ رہا تھا اس لیے سیڑھیاں نہیں چڑھ پاتی تھیں۔ مگر ایک بار جب ہم سب کزنز اوپر دھیمگا مشتی کر رہے تھے تو عین ہمارے سر پہ آ وارد ہوئیں۔ ڈانٹتی بہت تھیں مگر پیار انتہا کا تھا۔ ان کے ہاں سے کبھی کوئی بندہ بغیر تحفے کے نہ جاتا تھا۔ نواسے نواسیاں کے بعد ان کے بچوں تک کے لیے کوئی نہ کوئی چیز تیار رکھتی تھیں۔ میری بیٹی کی پہلے سائیکل میری نانی نے ہی لے کر دی تھی۔

بیوگی کے 25 سال اور پھر جوان بیٹے اور بہو کی ناگہانی موت جیسی بڑی تکلیف نے ان کو وقت سے پہلے بہت بوڑھا کر دیا تھا۔ اپنے یتیم پوتوں اور ایک پوتی کے لیے سانسیں بچا بچا کہ رکھتی تھیں۔ قسمت امتحان لیتی رہی اور ایک جواں بیٹی اپنے چار بچے چھوڑ کر کینسر کی بھینٹ چڑھ گئی۔ کچھ ہی مہینوں میں ایک بیٹی بیوہ ہو گئی۔ سب کے سب اپنے دکھوں کی پٹاری لے کر نانی کے پاس آتے تھے۔ وہ گھنے سایہ دار درخت کی طرح ان سب جواں سالہ پودوں کو اپنے سائے میں چھپا لیتی تھیں۔

بیٹے کے تین بچوں کو ان میں اپنا پورا گھر نظر آتا تھا اور مرحوم بیٹی کے بچوں کو ان میں اپنی ماں دکھائی دیتی تھی۔ بیوہ بیٹی کے لیے اب ان کی دعاؤں کا ہی سہارا تھا جو اس کو گرنے نہیں دیتا تھا۔ مگر یہ گھنا سایہ دار درخت اتنے دکھوں کے مارے کھوکھلا ہو گیا تھا۔ اب زندگی کی ڈور چھٹتی دکھائی دیتی تھی۔ دو ماہ پہلے مجھے فون پہ کہا کہ ملنے آ جاؤ۔ سب دور بیٹھی بیٹیوں کو بلا لیا۔ وہ جو باغ لگایا تھا اس کے سب پھول پودے اپنی نانی کے پاس آگئے۔

آہستہ آہستہ اتنی نحیف ہو گئیں کہ بستر پہ ہی لگ گئیں۔ پھر سب کے سب پاس موجود تھے اور چپکے سے اپنے مالک کے پاس جا پہنچیں۔ نہ کوئی آواز دی نہ آہٹ کی۔ وہ گھر جو صرف ان سے آباد تھا وہ لمحوں میں بھر گیا مگر آباد نہ رہا۔ وہ سب رونقیں جو ان کے ہونے سے تھیں وہ یک دم سنسان ہو گئیں۔ اب اس گھر میں گرمی لگنے لگی جہاں کبھی تپتی گرمیوں میں بھی پسینہ نہ آتا تھا۔ بیٹیوں کا میکہ ختم ہو گیا، پوتے پوتی دوبارہ یتیم ہوگئے اور ہمارا نانی کا گھر چھوٹ گیا۔

خالی خالی جو گھر تھا ایک دم بھر گیا
اداس بیٹھا وہ شخص کل رات مر گیا۔ ۔ !

Facebook Comments HS