وزیراعظم گیلانی کا ایک جھوٹا وعدہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان پیپلزپارٹی کی مہربانی ہے کہ جس نے ”گلگت بلتستان امپاورمنٹ اینڈ سلف گورننس آرڈر 2009“ کی شکل میں خطے کو ایک انتظامی اصلاحاتی پیکیج کے ذریعے تھوڑے بہت اختیارات دیے۔ اب ان اختیارات کواستعمال میں لاکر عوام کو فائدہ پہنچانے کے لئے مقامی قیادت کے انتخاب کا اختیار ہمارے انگوٹھوں کو حاصل تھا۔ چنانچہ ہم سب نے ڈنکے کی چوٹ پراپنے اس اختیار کا استعمال کیا۔ جس کے نتیجے میں گلگت بلتستان میں پاکستان پیپلزپارٹی برسراقتدار آ گئی اور سید مہدی شاہ خطے کے اولین وزیراعلیٰ کی مسند پر جلوہ افروز ہوئے۔ اس کے بعد جوکچھ ہوا اس سے علاقے کا بچہ بچہ واقف ہے۔

قبل از انتخابات 29 ستمبر 2009 کو اس وقت کے وزیراعظم سیدیوسف رضا گیلانی نے اپنی سیاسی جماعت کی الیکشن مہم کے سلسلے میں گلگت کا دورہ کیا۔ جہاں انہوں نے لالک جان شہید (نشان حیدر) اسٹیڈیم جوٹیال میں جلسہ عام سے خطاب میں گلگت بلتستان کے لئے بارہ ارب روپے کی خطیر رقم سے ایک ترقیاتی پیکیج کا اعلان کیا۔ اس پیکیج کے زیلی اعلانات میں گلگت بلتستان میں میڈیکل کالج کے قیام کا وعدہ بھی شامل تھا۔ وزیراعظم کی تقریر پر جلسہ گاہ تالیوں سے گونج اٹھا۔ مہمان خصوصی گلگتی ٹوپی اور چوغے میں سمائل دے کر پنڈال سے رخصت ہوئے اور عوام مٹی اور گردوغبارمیں دھکے کھاتے ہوئے گھروں کو چل پڑے۔

واپسی پر وزیراعظم صاحب کواپنے اعلان کو عملی جامع پہنانے کی توفیق ہوئی نہ ہی پاکستان پیپلزپارٹی کی صوبائی قیادت نے اس بارے میں فالواپ لینے کی زحمت گوارا کی۔ وہ دن آج کا دن وزیراعظم صاحب کا وہ اعلان محض اعلان کی حد تک ہی رہ گیا۔

اپریل 2011 میں وزیراعظم گیلانی آزاد جموں وکشمیرقانون ساز اسمبلی کے انتخابات کی کمپین کے سلسلے میں مظفرآباد پہنچ گئے۔ جہاں انہوں نے روایتی اعلانات کے ساتھ ساتھ پاکستان کے زیرانتظام کشمیرمیں میڈیکل کالج کے قیام کا بھی اعلان کیا۔

26 جون 2011 کو منعقد ہونے والے آزاد جموں وکشمیر قانون سازاسمبلی کے انتخابات میں بھی پاکستان پیپلزپارٹی کو بھرپور کامیاب ملی اور چوہدری عبدالمجید خطے کے وزیراعظم منتخب ہوئے۔ عہدہ سنبھالنے کے فوری بعد چوہدری عبدالمجید نے پاکستانی وزیراعظم یوسف رضاگیلانی کے اعلانات پر عملدرآمد کے لئے اس وقت کے صدر پاکستان و پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کا پیچھا کرنا شروع کر دیا۔

صدر صاحب نے ابتدا میں تو روایتی انداز میں آئیں بائیں شائیں کرکے ٹرخاؤ پالیسی اپنائی۔ مگر ہوشیار کشمیری چھوڑتا کہاں تھا۔ کافی سوچ بچار کے بعدذہن میں ایک نئی ترکیب سوجھی۔ فوراً آصف زرداری کے دربار میں حاضرہوئے۔ مودبانہ گزارش کی کہ بی بی شہید نے بریڈ فورڈ برطانیہ میں منعقدہ اپنے آخری جلسے میں اقتدار میں آتے ہی کشمیریوں کی قربانیوں کے اعتراف میں میرپور کے عوام کو میڈیکل کالج اورانٹرنیشنل ائرپورٹ تحفے میں دینے کا وعدہ کیا تھا۔

آصف زرداری کے سامنے شہید بی بی کا نام لینا ہی کافی تھا۔ چنانچہ انہوں نے بغیر کسی چوں چرا کے مطالبے کی منظوری دیدی۔ زداری صاحب کی اس قدر فیاضی پرچوہدری صاحب کا حوصلہ بڑھ گیا۔ بی بی شہید کی دوچار اور یادوں کا تذکرہ کرتے ہوئے فوراً ایک کے بدلے دو میڈیکل کالجز کی منظوری دینے پر بضد رہے۔ صدر صاحب نے اس پر بھی بغیرکسی بحث وتکرار کے یک جنبش قلم بیک وقت میرپور اور مظفرآباد میں میڈیکل کالجوں کے قیام کی منظوری دیدی۔

مگر کشمیری عوام اس کے باوجود مطمئن نہ ہوئے۔ میرپور اور مظفرآباد میں میڈیکل کالج کاقیام راولاکوٹ اورپونچھ کے لوگوں کے لئے باعث مضطرب بن گیا۔ چنانچہ یہاں سے بھی میڈیکل کالج کے مطالبے سامنے آنا شروع ہوگئے۔ راولاکوٹ سے تعلق رکھنے والے آزاد جموں وکشمیرکے اس وقت کے صدر سردارمحمد یعقوب خان مطالبات لیکرصدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم یوسف رضاگیلانی کے دربار میں حاضر ہوئے۔ ساتھ ساتھ عسکری اور سول بیوروکریسی میں موجود آزاد جموں وکشمیرکے افسران نے بھی بھرپور لابنگ کی تو بالآخر راولاکوٹ میں بھی میڈیکل کالج بن گیا۔

اس وقت آزاد جموں وکشمیر کے ان تین میڈیکل کالجز سے ہزاروں لوگوں کا روزگار اور میڈیکل کی تعلیم وابستہ ہے اور گلگت بلتستان کے حصے میں صرف جئے بھٹو کے نعرے آ گئے۔

سال 2015 کے عام انتخابات کے نتیجے میں گلگت بلتستان میں جب پاکستان مسلم لیگ نواز اقتدار میں آ گئی۔ وزیراعلیٰ حافظ حفیظ الرحمٰن روز اول سے ہی علاقے میں میڈیکل کالج کے ساتھ ساتھ انجنیئرنگ یونیورسٹی کے قیام کے لئے بھی متحرک رہے۔ انہوں نے مرکزمیں اپنی جماعت کے دور حکومت میں میڈیکل کالج کے قیام کے سلسلے میں کافی تگ و دو کرکے منصوبہ منظور کروایا۔ مگربقول ان کے بعدازاں وفاق میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اس اہم منصوبے کو پی ایس ڈی پی کی اسکیموں سے خارج کرکے کام تمام کر دیا۔

چنانچہ فی الوقت گلگت بلتستان میں کوئی میڈیکل کالج بنتا ہوا نظر نہیں آ رہا جب تک کہ عوام خود اپنا حق چھیننے کے لئے کمر کس نہ لیں۔ گلگت بلتستان میں میڈیکل کالج کا قیام اس قدر ضروری جس قدر گندم سبڈی کی بحالی۔ مقامی سطح پر میڈیکل کالج کی عدم دستیابی کے سبب نہ صرف علاقے کے ہونہار طلبا و طالبات میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے سے محروم ہو جاتے ہیں بلکہ آبادی کے لحاظ سے عوامی خدمت کے لئے ڈاکٹروں کی کمی بھی شدت سے محسوس کی جارہی ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے دیگرصوبوں میں اب میڈیکل کے شعبے میں ایک نئے قانون کے تحت میڈیکل کالجوں میں اسپیشلائزیشن کے لئے متعلقہ صوبوں کے شہریوں کے علاوہ کسی کو بھی داخلہ نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس صورت میں صوبائی وضلعی کوٹے کے تحت ملک بھرکے میڈیکل کالجوں میں زیرتعلیم گلگت بلتستان کی نوجوان نسل کے لئے اعلیٰ تعلیم کی راہ میں بھی سخت رکاوٹیں حائل ہو سکتی ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر ایک ملین کی آبادی کے لئے ایک میڈیکل کالج کا ہونا لازمی ہے۔ اس حساب سے گلگت بلتستان کی دو ملین سے زائد آبادی کے لئے کم سے کم دو میڈیکل کالجز وقت کی اہم ضرورت ہے۔ گلگت میں تو اس مقصد کے لئے سلطان آباد دنیور میں اچھی خاصی اراضی بھی مختص کی گئی ہے۔ مگر افسوس اس بات کا ہے کہ عوام کی جانب سے اس سلسلے میں کوئی اجتماعی مطالبہ تاحال سامنے نہیں آ رہا ہے۔

آج سوشل میڈیا پر ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن گلگت بلتستان کے صدر ڈاکٹراعجاز ایوب نے اس مسئلے کو اٹھایا تو ہم نے بھی اس تاریک رات میں اپنے حصے کا دیا جلانے کی حقیر سی کوشش کی۔ گزارش پھر یہی ہے کہ جب تک عوام اسے اپنا اجتماعی مسئلہ سمجھ کر گندم سبسڈی کی بحالی تحریک کی طرح ایک منعظم جدوجہد نہیں کریں گے تب تک ہرآنے والی حکومت انتخابات کے دنوں میں جھوٹے وعدوں اورہوائی اعلانات کے ذریعے ٹرخاتی رہے گی اور ہم ان اعلانات کی خوشی میں محض تالیاں بجاتے رہ جائیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply