‌چین اپنی معیشت کی بنیاد پرعالمی طاقت بننے جا رہا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

‌امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سیکریٹری آف سٹیٹ مائیک پومپیو کی طرف سے 28 مئی 2020 کو روز گارڈن وائٹ ہاؤس میں منعقد کی جانے والی پریس کانفرنس میں ٹرمپ نے امریکہ کے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن سے مکمل طور پر علیحدگی اور ہانگ کا نگ کے خصوصی تجارتی سٹیٹس کو ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس پریس کانفرنس کے حوالے سے بین الاقوامی ماہرین خدشات کا اظہار کر رہے تھے کہ ٹرمپ اس میں چین کے خلاف سخت تجارتی، سفارتی اور سیاسی اقدامات اٹھانے کے اعلانات کر سکتا ہے۔

لیکن پریس کانفرنس سے کچھ دیر قبل یہ غیرمعمولی خبر لیک کرائی گئی کہ ٹرمپ نہ ہی چین کے ساتھ تجارتی معاہدہ ختم کر رہا ہے اور نہ ہی اسں پر کوئی نیا ٹیرف لگانے جا رہے ہے۔ ٹرمپ کی طرف سے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن سے علیحدگی اختیار کرنے کا اعلان کرکے ٹرمپ نے ایک اور یو ٹرن لے لیا کیونکہ اس سے قبل انہوں نے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کو مذاکر ات کے لئے ایک ماہ کا وقت دیا ہوا تھا۔ لیکن پندرہ دن گزرنے کے بعد ہی ان کی طرف سے ڈبلیو ایچ او سے علیحدگی کے یک طرفہ اعلان کو دنیا بھر میں ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے اور سمجھا جا رہا کہ یہ اقدام امریکہ کی لیڈر شپ کی ساکھ کو نقصان پہنچانے اور چین کے ڈبلیو ایچ او میں اثرورسوخ میں اضافے کا باعث بنے گا۔

ٹرمپ نے الزام لگایا کہ ڈبلیو ایچ او کو چین کنٹرول کر رہا ہے اور اب امریکہ ڈبلیو ایچ او کے فنڈز دیگر بین الاقوامی ہیلتھ آرگنائزیشن کو فراہم کریے گا۔ یوروایشیا کے صدر نے ٹرمپ کے اقدام پر تبصرے کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”ٹرمپ نے ڈبلیو ایچ او کے ساتھ مل کر کرونا وبا کے خلاف لڑنے کے بجائے ڈبلیو ایچ او کو وبا بنا کر اس کے خلاف جنگ شروع کردی ہے۔“ ماہرین یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ دنیا میں ڈبلیو ایچ او کی سطح کی مہارت اور سکوپ کی حامل کوئی اور ہیلتھ آرگنائزیشن نہیں ہے۔

ٹرمپ اس سے پہلے ایران امریکہ نیوکلیئر ڈیل ’موسمیاتی تبدیلی معاہدے‘ پیرس معاہدے ’نیوکلیئر فورسز معاہدے اور اوپن سکائیز معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی کا اعلان کرچکا ہے۔ ماہرین کی رائے ہے کہ ٹرمپ کے اس قسم کے اقدامات دنیا میں امریکی اثرات اور سیاسی اثرورسوخ میں کمی کا باعث بنے ہیں۔ اور یہ تاثر پیدا کر رہے کہ ٹرمپ دنیا کے اجتماعی مسائل میں کوئی دلچسپی نہیں ر کھتا اور وہ کندھے اچکا کر ان سے فرار حاصل کرنا چاہتا ہں ے۔

ہانگ کانگ کے خصوصی تجارتی حیثیت کو ختم کرنے کے اعلان کو بین الاقوامی ماہرین انتخابی مقاصد کے حصول کے لئے چین کے خلاف نمائشی اور اپنی ساکھ قائم رکھنے کا اقدام اور طاقت کا مظاہرہ قرار دے رہے ہیں کیونکہ پریس کانفرنس سے قبل وہ کرونا کے حوالے سے چین سے شدید ناراضگی اور اس کے خلاف سخت اقدامات کا مطالبہ اور دھمکیاں دے چکے ہیں۔ اور اسی وجہ سے بین الاقوامی امور کے ماہرین توقع کر رہے تھے ٹرمپ اس پریس کانفرنس میں چین کے خلاف سخت پاپندیوں کا اعلان کریں گے جس میں کرونا کے پھیلاؤ کے الزام پر چین کے خلاف کارروائی کا مطالبہ‘ چین سے تجارتی معاہدے پر نظر ثانی ’نئے محصولات لگانے‘ چینی سٹوڈنٹس کو واپس بیھجنے اور نئے سٹوڈنٹس کو سائنس و ٹیکنالوجی کے مخصوص شعبوں میں داخلے نہ دینے ’ہانگ کانگ میں چینی پالیسیوں کی مذمت اور تبت کی علیحدہ حیثیت کا بل بیش کرنے جیسے اقدامات شامل ہو سکتے ہیں۔

لیکن پریس کانفرنس میں ایسا کچھ دیکھنے میں نہیں آ یا اور ٹرمپ سی بی سی چینل کی چینی نژاد خاتون صحافی کے ایک سوال کو بے ہودہ قرار دے کر کسی سوال کا جواب دیے بغیر پریس کانفرنس ادھورا چھوڑ کر چلے گئے۔ امریکہ اور چین کے مابین اس سیاسی و تجارتی کشمش کے باعث برطانیہ اور یورپین ممالک بھی پریشان ہیں کیونکہ چین اپنی معاشی طاقت کی بنیاد پر دنیا کی سپر پاور کی حیثیت سے امریکہ کا نعم البدل بن سکتاہے۔ ادہر ٹرمپ حکومت کو اندرون ملک ریاست مینوپولیس میں پولیس کے ہاتھوں سیاہ فام کی ہلاکت کے واقعات پر مختلف ریاستوں میں شدید احتجاج کا سامناہے۔

ہیوسٹن‘ پورٹ لینڈ اور مینوپولیس میں ایک پولیس افسر سمیت دو افراد فسادات سے ہلاک ہو چکے ہیں اور دو سو زائد گرفتاریاں ہوچکی ہیں۔ ٹرمپ کی طرف سے کی جانے والے اس ٹویٹ ”جب لوٹنگ ہوگی تو شوٹنگ بھی ہوگی“ کو شدید تنقید اور مظاہرین کی مخالفانہ نعرے بازی کا سامنا ہے۔ ٹرمپ نے مئیرز کو مظاہرے کنٹرول نہ کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اٹارنیز کو ذمہ داران پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ہدایات دی ہیں جبکہ ذمہ دار پولیس اہلکار کو گرفتار کرکے کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

ٹرمپ کے بیانات اور اقدامات نے دنیا میں ان کی ساکھ ایک غیر سنجیدہ اور ایمیچیور لیڈر کے طور پر بنادی ہے۔ جس کی وجہ سے عالمی قیادت اور ان کے اتحادی ان کے ساتھ کھڑے ہو نے سے ہچکچارہے۔ تاہم ٹرمپ اپنے مخصوص ڈیزائن کے مطابق معاملات کو آگے بڑھانے میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں اس کا فیصلہ آنے والا وقت ہی کرے گا اور اس کا دار و مدار اس پر بھی ہوگا کہ کہ جنوبی ایشیاء میں انڈیا اس کے مفادات کو کس حد تک پورا کرنے کی پوزیشن میں ہوتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *