مسئلہ کہاں ہے؟ تربیت کی کمی یا نظام کی خرابی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارا تعلیمی نظام نہایت بوسیدہ اور خستہ حال ہو چکا ہے۔ جو صرف رٹے رٹائے کون سی پٹ ٹھونستا ہے۔ جو نا اخلاقی قدریں سکھا پا رہے ہیں اور نا ہی کوئی ایسا نظام ہے، جس سے طالبعلموں کو صحیح طور پر پرکھا جا سکے۔ کہ وہ کس طرح فیلڈ چنے۔ پہلی بات تو یہ ہم اپنی انرجی کا صحیح استعمال نہیں کر رہے۔ ہمیں یہی نہیں پتا ہوتا کہ ہمارا بیٹا کیا بننا چاہتا ہے۔ مگر ہمیں یہ پتا ہوتا ہے ہم اسے کیا بنانا چاہتے ہیں۔

ہم اپنی اولاد کو سمجھے بغیر ہی یہ کہتے رہتے ہیں کہ تم پائلٹ بنو گے، ڈاکٹر یا انجینئر وغیرہ بنو گے۔ جب کہ اس کا لگاؤ کس شعبے میں ہے اس کی صلاحیتیں کیا ہیں اور اپنی خواہش کیا ہے یہ نہیں سمجھتے۔ اس لیے ہم ڈاکٹر، انجینئر یا استاد بنا تو رہے ہیں مگر اس لیول کے نہیں جو واقعی اپنی فیلڈ میں کوئی خاطر خواہ کام کر سکیں۔ اس سب کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن میرے خیال میں جو قابل ذکر ہیں وہ یہ ہیں۔ 1۔ ہمارے والدین، 2۔ ہمارا تعلیمی نظام، 3۔ معاشرتی رویہ، 4۔ اور ہم لوگ خود۔

پہلی بات تو یہ ہے ہمارے والدین کو یہ سب پتا ہو کہ ہمارے بچے کو کیا کرنا ہے۔ اس کے لیے والدین کی تربیت ہو ان کو پتا ہو۔ اس کے بعد آتا ہے ہمارا تعلیمی نظام، سکول لیول پر ایسا کام کیا جائے یا ایسے لوگ ہائر کیے جائیں جو بچوں کے ٹیلنٹ اور صلاحیتوں کو پرکھیں کہ یہ بچہ کس فیلڈ میں اپنی انرجی بہتر طریقے سے لگا سکتا ہے۔ بہت سے ترقی یافتہ ممالک میں یہ کام کافی دیر سے ہو رہے ہیں ہم ان سے بھی سیکھ سکتے ہیں۔

ہمارے ہاں اگر کچھ لوگ اپنے ٹیلنٹ یا صلاحیت کی بدولت اوپر آ جاتے ہیں وہ بھی صرف والدین کی اچھی تربیت اور رہنمائی کی وجہ سے، ورنہ ہمارا جو سسٹم ہے وہ سفارش پر ہائرنگ کرتے ہیں۔ جب سفارش پر چیزیں چلیں گی میرٹ کا قتل ہو گا تو ان اداروں سے فارغ التحصیل لوگ جگہ جگہ نوکری کے لیے دھکے ہی کھائیں گے۔ مطلب خراب نظام کی وجہ سے ایک سو کالڈ کوالیفائڈ بندہ ذلیل ہوتا ہے۔

اس کے لیے ہمیں چاہیے کہ والدین کے طور پر بچوں پر توجہ دیں۔ ان کی تربیت آج کے دور میں میرے خیال سے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ ہم سوسائٹی کو خراب تو کہتے ہیں مگر یہ نہیں سمجھتے کہ معاشرہ ہم ہی لوگ مل کر بناتے ہیں۔ والدین اگر لڑائیاں کم کر کے یا اگر کچھ چھوٹے موٹے ایشوز چل بھی رہے ہوتے ہیں ان کو اولاد کے سامنے سلجھانے کی بجائے الگ سے ڈسکس کر لیں، تو بچوں کے لیے کافی بہتر رہے گا۔ والدین کی نوک جوک کا گہرا اثر اولاد پر پڑتا ہے۔ کیوں کہ یہی عمر ان کی تربیت کی ہوتی ہے۔ ہم لوگ اول تو ان کی دیکھ بھال بھی ماسیوں اور نوکرانیوں سے کرواتے اور اس کے بعد تربیت کی ساری ذمہ داری سکول اور ٹیوشن والوں پر ڈال دیتے ہیں۔

اس کے علاوہ بچوں کو اسکولوں میں پانچ، سات سال تک پڑھائی سے الگ رکھا جائے۔ کوئی ایسا نظام ہو جہاں ان کی تربیت پر زور دیا جائے۔ ان کو اخلاقیات سکھائی جائیں۔ ان کو مختلف فنون متعارف کروائے جائیں۔ جو کہ دوسرے ممالک میں اور شاید ہمارے ملک میں بھی چند اسکولوں میں ہے۔ یہ بھی بتایا جائے کہ حصول علم کا مقصد صرف حصول رزق نہیں ہوتا۔ ایسی تبدیلیاں کرنے سے شاید ہم بھی بڑے ذہن نکال سکیں۔ اور ایک پرسکون معاشرے کے لیے تربیت یافتہ لوگ پیدا کر سکیں۔ جو اخلاقی قدروں کو سمجھنے والے ہوں، اور اچھے شہری کی طرح تمام رولز کی پیروی کرنے والے ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *