راجہ عادل غیاث: ایک صلح جُو اور رابطہ کار صحافی کی موت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کہتے ہیں کہ بیسویں صدی انقلابات کی صدی تھی اور اکیسویں صدی مذاکرات، مفاہمت اور مکالمہ کا دور لے کر آئی ہے۔ گزشتہ صدی میں کئی ممالک میں انقلابات اور دو عظیم جنگیں لڑنے کے بعد دنیا اس نتیجے پر پہنچی کہ ہر مسئلے کا حل بہتر رابطہ کاری اور صلح جوئی کے ساتھ مذاکرات اور مکالمہ کے ذریعے ممکن ہے۔

سیاست کی طرح صحافت کی بھی دو اقسام ہیں، مزاحمتی صحافت اور مفاہمتی یا مصالحتی صحافت۔ مگرسیاست کی طرح صحافت میں بھی مفاہمت اور مصالحت کبھی آسان نہیں رہی۔ اپنی سوچ، نظریے اور فکر کو بالائے طاق رکھ کر فریق ثانی کے نکتہ نظر کو جگہ دینا بعض لوگوں کے لئے نظریاتی اور فکری خود کشی کے مترادف ہوتا ہے مگر اس فن سے آشنا لوگ سب کی جیت پر یقین رکھتے ہیں اور اس کو یقینی بنا لیتے ہیں جس کو بزبان انگریزی ون ون کہا جاتا ہے۔

گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے مفاہمت پسند، امن، بھائی چارہ اور ترقی کے علمبردار صحافی راجہ عادل غیاث کی بے وقت موت نے پورے علاقے کی فضا کو سوگوار اور ہر آنکھ کو اشکبار کر دیا ہے۔ عادل غیاث کے جنازے میں شریک لوگوں کی تعداد اور تنوع دیکھ کر کوئی نابینا بھی مرنے والے کی ہر طبقہ، ہر سطح اور ہر جگہ مقبولیت کا اندازہ لگا سکتا ہے۔ فورس کمانڈر ناردرن کمانڈ سے لے کر تمام سیاسی جماعتوں اور مذہبی گروہوں کی بھر پور نمائندگی کے علاوہ مزدوروں، دکانداروں، کسانوں، دہقانوں سے لے کر علاقے کے معتبرین نے بھی اپنی شرکت سے مرحوم کے ساتھ جس والہانہ محبت کا اظہار کیا وہ کم کسی قلمکارکے نصیب میں آتی ہے۔

صحافت کی سمت کا تعین الفاظ کے چناؤ اور استعمال میں ترکیب و ترتیب سے ہوتا ہے۔ بسا اوقات صحافی کے چنے الفاظ اجتماعی بیانیہ کا درجہ حاصل کر جاتے ہیں۔ راجہ عادل غیاث صحافت میں مفاہمت اور مصالحت پر یقین رکھتے تھے۔ ان کے الفاظ کا چناؤ اور ترکیب استعمال سے ہمیشہ مکالمہ کا اظہار ہوتا تھا۔ اپنے مصالحانہ انداز صحافت کی وجہ سے وہ جس فکری گروہ سے تعلق رکھتے تھے نہ اس کے توقعات پر پورے اتر پائے اور نہ اس گروہ سے اختلاف رکھنے والوں کے۔ ان سے اختلاف رکھنے والوں کا ان پر اعتماد نہ ہونا ایک فطری بات تھی مگر جن کی وہ بات کرتے تھے وہ بھی ان کے مفاہمانہ روئے کی وجہ سے ان سے شاکی رہے جس پر یہ شعر ان پر ہمیشہ صادق آتا تھا

اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں، بیگانے بھی ناخوش
میں زہر ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند

ایک ایسا شخص جس کا بڑا بھائی ضلع کی سب سے بڑی جامعہ مسجد کا خطیب ہو اس کے لئے ثقافتی محافل اور کھیل کود کے میدانوں میں میزبانی کرنا کیونکر آسان ہو سکتا تھا۔ اس کے اپنے لوگ بعض معاملات میں جب کسی کے خلاف صف آرا ہوں تو وہ مخالفین کے ساتھ ہنستا کھیلتا رہے یہ قابل قبول کیونکر ہو سکتا تھا۔ مگر مصالحت اور مفاہمت پر یقین رکھنے والا عادل غیاث ہمیشہ یہ کہتا پایا گیا کہ یہ وقت بھی گزر جائے گا۔

ضلع غذر کی تحصیل پونیال جس کو باہر کے لوگ ًپونیالً اور مقامی لوگ خود ’پویاں‘ کہتے ہیں، یہاں شینا بولنے والے شین اور یشکن قبائل کے لوگ آباد ہیں جن کا مرکز دردستان رہا ہے جو ماضی میں یاغستان یا آزاد قبائل کا علاقہ تھا۔ لوگوں نے اس علاقے سے ہجرت معاشی اور اقتصادی وجوہات سے زیادہ یاغستان میں آپس کی دشمنیوں سے تنگ آکر کی تھی جو ہنوز جاری ہے۔ یاغستان کے لوگوں نے اس علاقے میں آباد ہونے کے بعد آپس کی دشمن داری چھوڑ دی اور ایک معاہدہ عمرانی کے تحت اپنے قبائل سے باہر کسی شخص کو اپنا سربراہ بنا کر اس کو حاکم اور ثالث تسلیم کر لیا۔ اس سربراہ کو وہ ًراش ً یا ’را‘ کہتے تھے جو مہاراجہ کشمیر کی اس علاقے پر عملداری کے بعد سرکاری طور پر ہندوستان کے دوسرے علاقوں کی طرح راجہ کہلایا۔

راجہ عادل غیاث کا تعلق بھی پونیال کے راجہ خاندان سے تھا جو اپنے ثالثی کے کردارسے بخوبی آگاہ تھا۔ لوگوں کے آپس میں تنازعات کو بطور ثالث غیر جانبداری سے طے کروانے میں وہ ہر وقت اپنا کردار ادا کرتے رہے۔ ان کے لئے اپنی غیر جانبداری برقرار رکھنا کبھی کبھار مشکل بھی ہو جاتی تھی خاص طور پر ان کے قریب کے لوگوں کے آپس میں یا دوسرے لوگوں کے ساتھ تنازعات ہوں اور ان کو ثالثی کرنی پڑ جائے۔ مگر انھوں نے اپنی غیر جانبداری کو ہمیشہ برقرار رکھنے کی کوشش کی۔

پونیال حالیہ تاریخ میں کئی سیاسی واقعات سے گزرا ہے۔ پونیال کے بروش راجہ عیسیٰ بہادر نے مہاراجہ کشمیر کو گلگت بلا لیا جس کے ساتھ انگریز بھی آئے۔ پونیال کے لوگوں نے سب سے پہلے 1895ء میں عیسیٰ بہادر کے خلاف بغاوت کی جب اس نے مہاراجہ کشمیر کہ شہ پر مروج معاہدہ عمرانی کے بر خلاف لوگوں کو رعایا سمجھ کر سختی کرنے کی کوشش کی۔ اس بغاوت کے نتیجے میں پونیال کا پہلا دستورالعمل وجود میں آیا جس میں عوام اور راجہ کے حقوق و فرائض طے کیے گئے۔

1935ء میں پونیال کے لوگوں نے ایک بار پھر راجہ کے خلاف بغاوت کی جس کے نتیجے میں دستورالعمل میں ترمیم ہوئی جس کی رو سے راجہ کے اختیارات میں مزید کمی واقع ہوئی۔ تیسری بغاوت اس علاقے کی پاکستان کے ساتھ الحاق کے بعد ایف سی آر کے نفاذ کے خلاف 1952ء میں ہوئی۔ یہ بغاوت بظاہر ناکام ہوئی مگر اس واقعہ نے ایف سی آر کے خلاف ایک بیانئے کو جنم دیا جو 1972ء میں ذوالفقار علی بھٹو کے ہاتھوں راجگی نظام کے خاتمے تک جاری رہا۔

پونیال کے لوگوں نے یاغستان کی آپس کی دشمن داری کی رسم تو چھوڑ دی ہے مگر ان کے خون سے مزاحمت اب بھی اب بھی ختم نہ ہو پائی جس کا اظہار یہاں کی سیاست، سماجیت اور معاشرت میں ہوتا ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں مزاحمت اور عدم مفاہمت کا رجحان موجود ہو وہاں مکالمہ کی ضرورت ہمیشہ رہتی ہے۔ معاشرے کی سیاسی، سماجی اور معاشرتی بے چینی کو محسوس کرنے والے عادل غیاث نے مکالمہ اور رابطہ کاری کے ذریعے ترقی، امن اور بھائی چارہ کی فضا کو قائم رکھنے کی مرتے دم تک کوشش جاری رکھی۔

راجہ عادل غیاث کی بے وقت موت نے لوگوں کو ایک ثالث، صلح جو، رابطہ کار اور معاشرے میں مکالمہ کو فروغ دینے والے ایک صحافی اور اس کے ساتھی صحافیوں کو ایک صلح پسند، مفاہمت پر یقین رکھنے والے دوست سے محروم کر دیا ہے۔ راجہ عادل غیاث کی بے وقت موت سے ہمارے تلاطم خیز معاشرے میں ثالثی، رابطہ کاری، مکالمہ، مصالحت اور مفاہمت کا جو خلا پیدا ہوا ہے وہ شاید پر نہ ہو سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

علی احمد جان

علی احمد جان سماجی ترقی اور ماحولیات کے شعبے سے منسلک ہیں۔ گھومنے پھرنے کے شوقین ہیں، کو ہ نوردی سے بھی شغف ہے، لوگوں سے مل کر ہمیشہ خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر شخص ایک کتاب ہے۔ بلا سوچے لکھتے ہیں کیونکہ جو سوچتے ہیں, وہ لکھ نہیں سکتے۔

ali-ahmad-jan has 221 posts and counting.See all posts by ali-ahmad-jan

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *