ڈاکٹر آصف فرخّی کا ریڈیو پاکستان کے لئے انٹرویو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر آصف فرخی ایک ہمہ جہت تخلیق کار ہیں۔ انہیں ایک پختہ افسانہ نگار، سنجیدہ نقاد اور قابل مدیر کے طور پر شناخت کیا جاتا ہے۔ تراجم کے میدان میں بھی انہوں نے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ جہاں بین الاقوامی ادب کو اردو کے قالب میں ڈھالا، وہیں پاکستان کے مقامی ادب کا انگریزی میں ترجمہ کیا۔ ستمبر 1959 ء میں کراچی میں آنکھ کھولی۔ وہ معروف معلم اور ادیب ڈاکٹر اسلم فرخی کے صاحب زادے ہیں۔ کم سنی میں وا الد کے حلقے میں شامل کئی قد آور شخصیات سے ملاقات کا موقع ملا۔ گھر کے ماحول اورا سکول کے اساتذہ نے ادب کی جانب متوجہ کیا۔ 74 ء میں سینٹ پیٹرک اسکول سے میٹرک کرنے کے بعد ڈی۔ جے کالج سے انٹر کیا۔ بعد کے مراحل ڈاؤ میڈیکل کالج سے طےکیے ۔ ہاؤس جاب کے بعد ”کمیونٹی ہیلتھ“ کے شعبے کی جانب متوجہ ہوئے۔ 89 ء میں ہارورڈ یونیورسٹی سے ماسٹرز کیا۔ اُردو میں لکھنے کا آغاز ”نیا ناول“ نامی مضمون سے ہوا۔ آنے والے برسوں میں باقاعدگی سے لکھا۔ انگریزی کو بھی اظہارکا ذریعہ بنایا۔ ابتدائی تحریریں ”مارننگ نیوز“ اور ”کرنٹ“ میں شائع ہوئیں۔ پھر ”ہیرالڈ“ اور ”ڈان“ کے لئے لکھا۔ ریڈیو پاکستان کے پروگرام بزمِ طلباء میں باقاعدگی سے شرکت کرتے رہے۔ انٹرویو نگار کی حیثیت سے بھی مصروف رہے۔ انٹرویو پر مبنی کتاب ”حرف من وتو“ کے زیرِ عنوان شائع ہوئی۔

ہارورڈ یونیورسٹی کے زمانے میں تراجم کا سلسلہ شروع ہوا۔ اپنے ہم عصر شعراء کے کلام کو انگریزی میں ڈھالا، جو AN EVENING OF CAGED BEASTS کے نام سے کتابی شکل میں شائع ہوا۔ آنے والے برسوں میں ترجمے کے میدان میں جم کر کام کیا۔ کشور ناہید کی نظموں کا انگریزی میں ترجمہ کیا۔ عطیہ داؤد کے کلام کو ”RAGING TO BE FREE“ کے زیرِ عنوان پیش کیا۔ قیام پاکستان کے پچاس سالہ جشن کے موقع پر ”افسانہ: بہ طور پاکستان کی تاریخی دستاویز“ کاخیال سامنے رکھتے ہوئے کہانیاں اکھٹی کیں، FIRES IN AN AUTUMN GARDEN کے زیرِ عنوان شایع ہوئیں۔ شیخ ایاز کے منتخب کلام کو انگریزی میں پیش کیا۔ شاہ محمد پیرزادہ کے ساتھ شیخ ایازپر دو کتابیں ”ذکرِ ایاز“ اور ”فکرِ ایاز“ مرتب کیں۔ ہرمین ہیسے کے لازوال ناول ”سدھارتھ“ کا اردو میں ترجمہ کیا۔ نجیب محفوظ کی تخلیقات کو ”یادوں کی باز گشت“ اور ”خواب نامہ“ کے زیرِ عنوان پیش کیا۔ ساتھ ہی ستیہ چیت رے، عرب مصنف رفیق شامی اور لاطینی امریکی ادیب عمر راوابیلا کے ناولوں کا بھی اردو میں ترجمہ کیا۔ ان کے تنقیدی مضامین کے دو مجموعے ”عالم ایجاد“ اور ”نگاہ آئینہ ساز میں“ کے زیر عنوان شائع ہوئے۔

”آتش فشاں پر کھلتے گلاب“ افسانوں کا مجموعہ ہے۔ 99 ء میں افسانوں کا مجموعہ ”ایک آدمی کی کمی“ شائع ہوا۔ پھر ”شہر بیتی“، ”شہر ماجرا“، ”میں شاخ سے کیوں ٹوٹا“ اور ”میرے دن گزر رہے ہیں“ کی اشاعت عمل میں آئی۔ ”سمندر کی چوری“ ان کی منتخب کہانیوں کا مجموعہ ہے۔ ادبی جریدے ”دنیا زاد“ کے 43 شمارے آ چکے ہیں۔ 2005 ء میں انہیں تمغہ امتیاز سے نوازا گیا۔ لاطینی امریکہ کی کہانیوں کے ترجمے ”موت اور قطب نما ’] پر انہیں 95 ء میں وزیر اعظم ادبی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ پبلشر بھی ہیں۔ ان کے ادارے“ شہرزاد ”سے سو کے قریب کتب شایع ہو چکی ہیں۔ دس سے زائد کتابیں وہ ایڈٹ کر چکے ہیں۔ میرا جی کے کلام کا انتخاب اور منٹو کے بارے میں ممتاز شیریں کی لکھی ہوئی کتاب ایڈٹ کر کے“ منٹو نوری نہ ناری ”کے نام سے شایع کروائی۔ 71ء کے واقعات کے تناظر میں لکھی جانے والی اردو کہانیوں کا انتخاب اور ترجمہ کیا، جو“ فالٹ لائن ”کے نام سے شائع ہوا۔ (ڈاکٹر آصف فرخّی کا یہ انٹرویو سجاد پرویز صاحب نے 2015 میں کیا)

٭٭٭     ٭٭٭

سوال: ڈاکٹر آصف فرخی صاحب آپ نے تعلیم تو طب کی حاصل کی لیکن کامیابیوں کے جھنڈے ادب کے میدان میں گاڑے، تو نشتر کی جگہ قلم کے ذریعے اِن کامیابیوں کا سفر کیسے گذارا؟

جواب: یہ سفر خوشگوار ہے، شکریہ آپ نے میری تعریف میں اتنی بہت سی باتیں کہیں۔ لیکن مجھے بھی تھوڑا سا اپنا تعارف کرانا چاہیے ان باتوں کے علاوہ جو آپ نے بتائی ہیں۔ یہ درست ہے کہ میں نے MBBS کی تعلیم حاصل کی پھر اس کے بعد میں نے ماسٹرز کیا پبلک ہیلتھ میں ہارورڈیونیورسٹی سے، اورمیرا جو پیشہ ورانہ کام ہے سارا وہ پبلک ہیلتھ اور پبلک ہیلتھ پالیسی کے حوالے سے چلتا رہا ہے لیکن ادب کا شوق مجھے بہت بچپن سے تھا۔ میرے والدین کا تعلق بھی ادب سے تھا۔ میرے والد ڈاکٹر اسلم فرخّی کراچی یونیورسٹی میں پڑھاتے رہے اور معروف ادبی شخصیت ہیں۔ تو میں نے اپنے اردگرد کتابیں، ادیب، شاعر اور یہ سارا معمول دیکھا تو شاید یہ بہت مشکل تھا کہ میں اس طرح کی چیز سے بچ جاتا، جیسے میڈیسن میں ایک اصطلاح ہوتی ہے نا موروثی بیماریوں کی (INHERITED DISORDER) تو ادب میرے لئے اسی قسم کی ایک حالت ہے۔ کہ جس سے گریز یا جس سے بچنے کا یا اجتناب کا کوئی امکان نہیں تھا۔

سوال: جینز میں تھیں آپ کے؟

جواب: ہاں وہ جینز جو ورثے میں ملتی ہے، پہنی نہیں جاتی۔

سوال: آپ نے ریڈیو پاکستان کے لئے لاتعداد انٹرویوزکیے تو آج آپ کو انٹرویو دینا کیسا لگ رہا ہے؟

جواب: مجھے بہت مختلف اور مشکل لگ رہا ہے کیونکہ میں انٹرویو کرنے والا رہا ہوں اور ریڈیو سے میں نے طالبعلمی کے زمانے سے پروگرامکیے ۔ پھر ادبی پروگرام کیا احمد ہمدانی اور سلیم احمد صاحب کے ساتھ۔ اور اس میں بعض بڑی اہم اور جغادری شخصیات کے انٹرویوز کرنے کی میں تو کہوں گا کہ سعادت حاصل ہوئی۔ اور مجھے ریڈیو کا وہ زمانہ یاد ہے جب ریڈیو کے سامعین کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ اور اس سے بڑھ کر ریڈیو کی کارکردگی کچھ ایسی تھی کہ ریڈیو ایک طرح سے جسے کہنا چاہیے کہ ایک بہت کڑا معیار سمجھا جاتا تھا، ڈرامے میں، ادب میں، شاعری میں، طلبا کے پروگرام میں، وہ معیار اب جیسا کہ ہمارے ہاں بہت سی چیزیں تبدیل ہورہی ہیں۔ تو ریڈیو کے سامعین کی وہ تعداد نہیں رہی تو شاید اس وجہ سے بہت سے لوگ یہ محسوس نہ کر سکیں کہ ریڈیو صرف ایک ادارہ ہی نہیں یا صرف ایک انٹرٹینمنٹ یا تفریح سے وابستہ کوئی شعبہ نہیں تھا بلکہ ایک بہت بڑی تربیت گاہ تھی، جس طرح کا ڈسپلن ریڈیو کے ذریعے یا جس طرح ایک اپنی صلاحیتوں کو بہتر کرنے کا موقع ریڈیو سے ملا، وہ شاید کسی اور جگہ سے ممکن نہیں تھا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سجاد پرویز

سجاد پرویز ڈپٹی کنٹرولر نیوز، ریڈیو پاکستان بہاولپور ہیں۔ ان سے[email protected] پر بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

sajjadpervaiz has 36 posts and counting.See all posts by sajjadpervaiz

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *