پاکستان کا نیرو کون ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قوم لندن سے آنے والی نواز شریف کی ایک تصویر پر قیاس آرائیاں کررہی ہے اور حکومت شوگر اسکینڈل کا الزام مسلم لیگ (ن) پر عائد کرکے آگے بڑھنا چاہتی ہے۔ ملک میں کورونا متاثرین کی تعداد 70 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ مرنے والوں کی تعداد ڈیڑھ ہزار سے زیادہ ہے۔ یہ اعداد و شمار کسی طرح بھی قابل اعتبار نہیں ہیں لیکن اس سے ملک کے عوام اور حکمرانوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔

 یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ مارچ اور اپریل کے دوران کورونا وائرس کے خلاف احتیاطی تدابیر کو عوام دشمن قرار دینے کے بعد اب حکمرانوں نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ آسمانی آفت کا کون مقابلہ کر سکتا ہے، جس کا وقت آ گیا ہے، اسے تو جانا ہی ہے۔ عوام کی اکثریت کو صاحبان اقتدار کی اس سوچ سے کوئی خاص اختلاف نہیں ہے۔ ملک کے قابل قدر ملاّؤں نے پہلے رمضان المبارک اور پھر عید الفطر کی برکات کی تفصیل بتا کر ملک میں کورونا کو ’جوتی کی نوک پر رکھنے‘ کی ذہن سازی کرلی ہے۔ اب ’عوام دشمن‘ عناصر کا ایک چھوٹا سا گروہ اس بات پر پریشان ہے کہ ملک میں کورونا وائرس سے متاثرین کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تعداد خطرناک رجحان ہے۔ اور لاک ڈاؤن ختم کر کے کورونا کے راستے کی آخری رکاوٹ بھی دور کر دی گئی ہے۔ ’موت سے خوفزدہ‘ یہ لوگ ملک میں حاوی رائے کے مطابق گمراہ قرار دیے جا سکتے ہیں یا اللہ پر ان کا ایمان کمزور ہے۔ ایسے لوگوں کی اصلاح کا کوئی نہ کوئی منصوبہ ملک کے پارسا وزیر اعظم کی سرکردگی میں ضرور شروع کیا جا سکتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ارطغرل غازی قسم کی کوئی نئی ڈرامائی تشکیل ایسے مردہ دلوں میں ایمان کی حرارت پیدا کرسکے تاکہ کورونا سے لاحق خوف کی آخری رکاوٹ کو بھی دور کیا جاسکے۔

کورونا وائرس پر شروع ہونے والے مباحث کے آغاز میں وزیر اعظم عمران خان نے جو مؤقف اختیار کیا تھا، وقت نے اسے ’درست ‘ ثابت کردیا ہے۔ یعنی اوّل تو کورونا کوئی خاص آزار نہیں ہے، اگر چند ہزار لوگ اس کا نشانہ بن بھی گئے تو بھی اکثریت بہر حال محفوظ رہے گی۔ اس کے علاوہ اگر یہ وبا کوئی سنگین معاملہ ہو بھی تو بھی پاکستانی حکومت کے پاس اس کے پھیلنے کی صورت میں علاج فراہم کرنے اور حفاظتی اقدمات کرنے کے وسائل نہیں ہیں۔ اس لئے عوام صبر کریں اور راضی برضا رہیں۔ پاکستان کے پاس آبادی کی صورت میں انسانی وسائل کی فراوانی ہے لہذا اسی کی ’قربانی‘ دی جا سکتی ہے۔

 ملک میں کورونا کے خلاف عوام کو یوں تیار کیا گیا ہے کہ ہسپتال بھرے ہونے اور چہار طرف سے اس مہلک وائرس کے پھیلنے کی اطلاعات موصول ہونے کے باوجود معمولات زندگی بحال کرنے، دکانیں اور کاروبار کھولنے اور معیشت کی گاڑی کا پہیہ رواں رکھنے کے اقدامات پر جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ شروع میں ’آپ نے گھبرانا نہیں ہے‘ کا تسلسل سے مشورہ دینے کے بعد اب وزیر اعظم نے بھی چپ سادھ لی ہے۔ شاید اس ’وظیفہ‘ کی مطلوبہ تعداد پوری ہوچکی ہے یا عوامی جہالت کو ملکی تقدیر بنا دینے کا کام پورا ہوجانے کے بعد اب مزید ڈھارس بندھانے یا رہنمائی کی ضرورت نہیں رہی۔

بظاہر پاکستان میں ستر ہزار افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں اور مرنے والے تو محض 1500 ہیں۔ یعنی دنیا کے متعدد ترقی یافتہ اور امیر ممالک کے برعکس ہماری تعداد کہیں کم ہے۔ کسی کو اس پہلو پر غور کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ کورونا ٹیسٹ نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان میں اس وبا کے پھیلاؤ کی حقیقی صورت حال واضح نہیں ہوسکتی۔ اس نے البتہ حکومت کے ترجمانوں کو یہ دعوے کرنے کا سنہرا موقع فراہم کیا ہے کہ پاکستان میں کورونا پر قابو پا لیا گیا اور امریکہ جیسے امیر ترین ملک کے مقابلے میں ہمارے ہاں کورونا متاثرین کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ طفل تسلی کے لئے یہ خواب دیکھنا کیا کم ہے کہ پاکستان کسی معاملہ میں ہی سہی امریکہ سے ایک قدم آگے تو ہے۔ اسی لئے سرکاری ترجمان یہ دعویٰ کرتے ہوئے کوئی حجاب محسوس نہیں کرتے کہ اب امریکہ جیسا ملک بھی عمران خان کی لاک ڈاؤن مخالف حکمت عملی اختیار کر رہا ہے۔ معاملہ سچ جھوٹ کا نہیں رہا بلکہ ترجمانوں کو یقین ہے کہ عوام کی ذہنی تربیت کچھ یوں کی جا چکی ہے کہ وہ ہر جھوٹ کو سچ مان لینے پر تیار ہو جاتے ہیں۔ بس اسے اس جذباتی کیفیت سے ہم آہنگ ہونا چاہئے جو عوام کی اکثریت کے دلوں میں راسخ کی جاچکی ہے۔

عالمی ادارہ صحت سمیت دنیا کا کوئی ادارہ یا ماہر خود کو یہ بتانے کی پوزیشن میں نہیں سمجھتا کہ اس وبا کے فوری اثرات کے علاوہ انسانی زندگی اور صحت پر دیر پا اثرات کیا ہوں گے۔ اگر معاملہ محض چند لاکھ لوگوں کے بیمار ہونے یا ساڑھے تین لاکھ لوگوں کے مرنے تک ہی محدود ہوتا تو شاید دنیا تمام کاروباری اور معاشی سرگرمیاں تج کر لوگوں کو گھروں، محلوں یا شہروں یا اپنے ملکوں تک محدود ہونے کا مشورہ نہ دیتی۔ چار ماہ کی مدت میں کووڈ۔19 سے 61 لاکھ لوگ بیمار ہوئے جبکہ مرنے والوں کی تعداد اب 3 لاکھ 70 ہزار کے لگ بھگ ہے۔ کیا کرہ ارض کی پونے آٹھ ارب نفوس کی آبادی میں یہ شرح بہت زیادہ ہے؟ اگر یہ وبا نازل نہ ہوتی تو لوگ دوسری بیماریوں اور عارضوں یا وجوہ مثلاً ٹریفک حادثات یا ماحولیاتی آلودگی وغیرہ سے نہ مرجاتے؟ ان سوالوں کا جواب دنیا بھر کے ماہرین کے پاس تو نہیں ہے۔ وہ تو اس وبا کا علاج / ویکسین تلاش کرنے کی کوشش میں ہیں یا اس خوف میں مبتلا ہیں کہ اگر کوئی ویکسین تلاش نہ ہو سکی، اگر اس وائرس کی ہلاکت خیزی کم نہ ہوئی یا اگر انسانی جسم پر دیرپا اثرات مرتب ہوئے تو بنی نوع انسان کی حفاظت کے لئے کیا اقدام کیا جاسکے گا۔ البتہ قوت ایمانی سے مالامال اہل پاکستان اور ان کے باہمت لیڈر اس یقین کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں کہ اگر کورونا نہ ہوتا تو کوئی دوسری وجہ موت کا سبب بن جاتی۔ آخر موت کا ایک دن معیّن ہے۔

اسی یقین کا شاخسانہ ہے کہ کورونا کی بے قابو ہوتی صورت حال میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر یہ ثابت کرنے پر مامور ہیں کہ چینی کا بحران اگرچہ اس حکومت کے دور میں سامنے آیا تھا لیکن اس کی بنیاد دراصل سابقہ حکومت کے دور میں رکھی گئی تھی۔ ملک کی احتساب عدالتیں ’مفرور‘ سابق وزیر اعظم کی گرفتاری کے حکم جاری کر رہی ہیں اور قوم کو اس بحث میں الجھا دیا گیا ہے کہ نواز شریف کی بیرون ملک روانگی محض بہانہ تھا ورنہ وہ لندن کے کسی کیفے میں اپنے خاندان کی بچیوں کے ساتھ بیٹھے گپ شپ نہ کر رہے ہوتے۔ جن لوگوں کو اس تصویر میں دلچسپی نہ ہو اور جو اب بھی میڈیا کو کسی حد تک معلومات فراہم کرنے کا اہم ادارہ سمجھنے کی غلط فہمی کا شکار ہوں، ان کے لئے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض کی صاحبزادیوں کا ایک اداکارہ کے گھر پر مبینہ حملہ، بحث کا دلچسپ موضوع ہوسکتا ہے۔ نواز شریف کی تصویر سے ان کی بیماری کی ’اصلیت‘ آشکار کرنے کے بعد اس سوال پر گفتگو کی جاسکتی ہے کہ ملکی میڈیا اتنا ’بزدل اور مفاد پرست‘ ہے کہ وہ ملک ریاض کی بیٹیوں کے ’جرم‘ کا ذکر کرنے کا بھی حوصلہ نہیں رکھتا۔ اب ایسی اپوزیشن اور ایسے میڈیا پر کون اور کیوں اعتبار کرے؟

یہ مباحث ایک ایسے وقت میں قوم و ملک اور حکمران نمائیندوں کے مرغوب موضوعات ہیں جب انسانی صحت اور زندگیوں پر کورونا وبا کے اثرات کے علاوہ اس کے سبب پیدا ہونے والے قومی اور عالمی بحران کی وجہ سے پاکستان کی معیشت تباہی کے کنارے آ پہنچی ہے۔ قومی پیداوار میں خوفناک کمی واقع ہورہی ہے اور ٹڈی دل کا حملہ فصلوں کو تباہ کرکے ملکی معیشت کی آخری امید، زراعت کو بھی تباہ کرنے کے درپے ہے۔ حکومت کے پاس ان سب پریشانیوں کا ایک ہی علاج ہے کہ سابقہ حکمرانوں کی بدعنوانی اور قومی دولت لوٹنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے نعرے کو نئے انداز میں بلند کیا جاتا رہے۔ تاکہ یہ سوال نہ اٹھایا جاسکے کہ کرپشن کے نام پر سیاسی بیانیہ استوار کرکے ملکی پیداواری صلاحیت میں اربوں ڈالر کی کمی کو چوری قرار دیا جائے گا، نااہلی کہا جائے گا یا بدنیتی شمار کیا جائے گا۔

ان میں سے کوئی بھی عذر درست مان لیا جائے، یہ سوال نوشتہ دیوار ہے کہ قوم کو پیداواری ذرائع سے محروم کرنے اور سرمایہ کاری کا راستہ روکنے والے زیادہ قصور وار ہیں یا ملک کے مروج نظام میں ذاتی یا گروہی مفاد کا اہتمام کرنے والوں کی بے اعتدالی زیادہ بڑا جرم ہے؟ نوٹ کرلیا جائے کہ ملکی معیشت میں لگائی گئی نقب کا تعلق براہ راست کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی مالی مشکلات سے نہیں ہے۔ قومی معشیت میں انحطاط کی بنیاد اگست 2018 میں مرضی کی حکومت مسلط کرکے رکھ دی گئی تھی۔ یہ کہنا عجیب ضرور محسوس ہوگا لیکن پاکستان کی حد تک یہ روز روشن کی طرح عیاں حقیقت ہے کہ کورونا بحران کی وجہ سے ملنے والی غیر ملکی امداد و مراعات اور عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں کمی سے وفاقی حکومت کی مالی حیثیت مستحکم ہوئی ہے۔ البتہ ابھی تک وہ ان وسائل کو سیاسی نعرے بازی سے زیادہ کسی دوسرے مقصد کے لئے استعمال کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔

اب بجٹ سے پہلے پیٹرولیم مصنوعات میں کمی سے عوام کو ایک نیا کھلونا دینے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ عام شہری کی قوت خرید میں پیدا ہونے والی لگ بھگ 25 فیصد کمی کا شکوہ نہ کیا جا سکے۔ حکمران ایسے ہتھکنڈوں سے کب تک اپنی سنگین غلطیوں کو چھپا سکتے ہیں؟ احتساب کا نعرہ لگانے والی حکومت خود کو ہر طرح کی جوابدہی سے بالا تر سمجھتی ہے۔ پارلیمنٹ کو غیر مؤثر بنا دیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے جج سوموٹو کے نام پر چند نعرے نما ریمارکس دینے کے بعد خاموش ہیں اور ملکی وزیر خارجہ کی سفارتی معراج یہ امید ہے کہ کسی طرح چین اور بھارت کے درمیان جنگ چھڑے تو پاکستا ن، دشمن کی ہزیمت پر خوشی سے سرشار ہو سکے۔

تاریخ نے انیس صدی پہلے روم کی عظیم آگ کا الزام  اس وقت کے حکمران نیرو پر دھرا تھا۔ حالات و واقعات سے کہانی مکمل کرنے والے ماہرین یہ یقین نہیں کرتے کہ یہ آگ نیرو نے لگوائی تھی یا جب روم کا شہر ہفتہ بھر تک جلتا رہا تھا تو نیرو فصیل پر بیٹھا بانسری بجا رہا تھا۔ زبان زد عام ہونے والے محاورے میں البتہ نیرو روم شہر کا قاتل اور عوام کا دشمن ثابت ہے۔ یقین کیا جا سکتا ہے کہ پاکستانی معیشت میں تباہی کا بارود بھرنے والے ’نیرو‘ کو زندہ نسل کے سامنے ہی تلاش کر لیا جائے گا۔  البتہ شہر ویران ہوجانے کے بعد ہونے والی یہ تلاش قومی زوال کے اس باب کو تبدیل نہیں کرسکے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1553 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *