ہم نے ”ریجیں“ اتارنی ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرونا کا رونا تو پوری دنیا میں جاری ہے اور نہ جانے کب تک جاری رہے گا لیکن بعض رونے ہم لوگوں نے خود تیار کر رکھے ہیں کہ جن پر ہم خود بھی روتے ہیں اور دوسروں کو بھی رلانا بخوبی جانتے ہیں۔ وائرس پوری دنیا میں اپنے پنجے مضبوطی سے گاڑ چکا ہے اور نہ چاہتے ہوئے بھی ہم روز بروز کیسز کی بڑھتی ہوئی تعداد دیکھ رہے ہیں۔ ابھی تک اس کی ویکسین کا نام و نشان نظر نہیں آ رہا تو اس کا واضح مطلب ہے ہمیں پتہ نہیں کتنا عرصہ اس مہلک وبا کے ساتھ گزارنا پڑے گا۔

اس وبا نے لوگوں کو کئی طرح کے سبق دے چھوڑے ہیں۔ کچھ سیکھ گئے اور کچھ بیچارے ابھی تک نادان رہ گئے۔ ہم نے دیکھا پاکستان سمیت دنیا بھر میں لوگوں نے اس وبا کی وجہ سے بڑی سادگی سے اپنے فرائض پورے کر دیے جن میں سے شادی کا ذکر ہو رہا ہے۔ کئی ماں باپ ایسے تھے جنہوں نے وسائل کی کمی کی وجہ سے کم لوگوں میں اور کم خرچے میں بیٹیاں رخصت کر کے اللہ کا شکر ادا کیا۔ اور کئی لوگوں نے اپنے ملنے جلنے والے لوگوں کے ڈراموں کی وجہ سے کم لوگوں میں شادی کرنے کی عقلمندی کی۔ اس بات کا الزام اگر کروناوائرس کو دیا جائے تو وہ بھی ملنے والوں کے ڈرامے دیکھنے کے بعد خوشی سے اقرار جرم کر لے۔

اور اگر ایک سروے بھی کروایا جائے تو 95 % لوگ اس وائرس کی موجودگی میں شادی کرنے کی تجویز دیں گے۔ ہمارا مذہب بھی سادگی سے شادی کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ لیکن گچھ لوگوں کو نجانے کیوں دھوم دھام سے شادیاں کرنے کا شوق رہتا ہے۔ حالانکہ یہ سب رسم و رواج جو ہم لوگ اپنا چکے ہیں بے حد فضول اور بے بنیاد ہیں۔ اگر آپ کے پاس ان رسم و رواج پہ بے جا اڑانے کو اتنا پیسہ ہے تو اس کو بہو کے بنیادی سامان لانے میں خرچ کردیں نہ کہ بیٹی سے کہیں اپنا جہیز اور کپڑے خود لے کے آئے۔

بیٹیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں چاہے امیر گھر کی ہو یا غریب گھر کی۔ بیٹی والوں پہ کسی بھی قسم کا بوجھ ڈالنا اچھی بات نہیں ہے۔ مروت میں آکر لڑکی والے اچھے سے اچھا کرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں لیکن اس دوران انہیں کن مصائب کا شکار ہونا پڑتا ہے ان سے بڑھ کر کوئی نہیں جانتا۔ سب سے زیادہ تکلیف اور پریشانی اس وقت ہوتی ہے جب کسی یتیم کے گھر شادی کی تیاریاں ہو رہی ہوتی ہیں۔ اللہ سب کے پردے رکھنے والا ہے لیکن احساس بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔

آپ کا بیٹا چاہے اکلوتا ہو یا آپ پر اللہ کا فضل ہو آپ صاحب استطاعت ہوں، یہ طریقہ ہی نہیں ہے کہ آپ کسی کے گھر والوں پر کسی قسم کا بوجھ ڈالیں۔ چاہے آپ نے منہ سے کہہ کر جہیز نہیں مانگا لیکن جب آپ نے لڑکی والوں سے کہہ دیا کہ جی ”ہم نے تو ریجیں پوری کرنی ہیں“ ، آپ کی ریجوں کی فکر تو انہیں اسی وقت شروع ہو گئی۔ اب انہیں کیا پتہ آپ کی ”ریجوں“ میں کیا کیا شامل ہے؟ جہیز شامل ہے، رسومات شامل ہیں یا کوئی اور چونچلے۔

ریجوں کا بم تو آپ شادی سے کچھ عرصہ پہلے ہی پھوڑیں گے لیکن اس بم کے پھٹنے کے حفاظتی اقدامات تو لڑکی والوں کو کرنے ہی پڑیں گے۔ کئی دفعہ دیکھا جاتا ہے ان ریجوں کی وجہ سے بہت سے لوگ احساس کمتری کا شکار بھی ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ اپنے بچوں کی شادیوں پہ ایسی ریجیں نہیں اتار سکتے تو اس کا ذکر بھی کرنا بہت فارغ بات ہے۔

اس وقت تک لڑکے کی شادی کرنے کا مت سوچا کریں جب تک لڑکا خود اتنا نہ کمائے کہ اپنے کمرے کا فرنیچر خود نہ بنا پائے۔ اس پہ ذمے داری ڈالیں۔ اور ویسے بھی جہیز الیکٹرانکس کا ہو، فرنیچر کا ہو یا کپڑوں کا ، ایک لعنت ہے۔ اور اگر آپ اس سے بھی بڑی کوئی چیز مانگنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو آپ ”نیکسٹ لیول“ کے انسان ہیں۔ چونکہ لڑکا خود اپنے استعمال جتنا سامان نہیں بنا سکتا تو ریجوں والے پیسے لڑکے کو ہی دے دیں۔ کم از کم ان پیسوں سے وہ آنے والی بچی کی ریجیں ہی پوری کر دے گا۔

اگر آپ بھی کسی قسم کی فالتو ریجیں اتارنے کا ارادہ رکھ کے بیٹھے ہوئے ہیں تو آپ کو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ ہاں جو پیسے آپ بچائیں گے کل کو وہ آپ کے ہی کام آئیں گے۔ اچھے سوٹ بنا لیں گے اچھا زیور پہن لیں گے۔ اور پیسے پھر بھی بچ جائیں تو کسی غریب بچی کی شادی یا کسی کے علاج کے لئے دے دیں ۔ یا اپنے بچوں کو ہی کوئی تحفہ دے دیں ۔ صاحب استطاعت لوگ بے جا اڑا سکتے ہیں لیکن اگر آپ نے پیسے جمع ہی اڑانے کے لئے کیے ہیں تو پھر سے سوچ لیں۔ میں یہ نہیں کہہ رہی کہ کروناوائرس کے عرصہ میں ہی شادی کردیں۔ جب مرضی کریں لیکن سادگی سے کریں تو اللہ کرم فرمائے گا۔ اپنی فالتو قسم کی ریجوں سے بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *