اسلامی بیماریاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرونا پہلے پہل چمگادڑ کا سوپ پینے سے ہوتی تھے۔ چینی دہریے جو ہر بلا کھا جاتے ہیں اللہ کی پکڑ میں آ گئے تھے۔
یورپ اور امریکہ میں سور کا گوشت کھانے سے یہی بیماری پھیل گئی۔ کئی علاقوں میں شرابی اس عذاب کے مستحق ٹھہرے۔
پاکستان کے سچے پکے مسلمانوں میں یہ بیماری بقول ایک ممتاز عالم دین ماڈرن لڑکیوں میں بے حجابی اور فحاشی سے پھیلی۔ کیونکہ ایسی عریانی اللہ کے غضب کو دعوت دیتی ہے۔

ایڈز بالکل غیر اسلامی بیماری ہے۔ یہ غلط جنسی روابط رکھنے سے ہوتی ہے۔ اور پاکستانی پاکباز لوگ ہیں۔ بائیس کروڑ کی آبادی میں لاکھ دو لاکھ پاکستانی ایڈز کا شکار ہوئے ہیں، یعنی باقی اکیس کروڑ اٹھانوے لاکھ لوگ ایڈز سے محفوظ ہیں۔ پاکستان کے اسلامی ملک ہونے کے لیے یہی ثبوت کافی ہے۔

ٹی بی اسلامی اور خالص پاکستانی بیماری ہے۔ یہ بیماری یورپ اور امریکہ سے ختم ہو چکی۔ بابائے قوم محمد علی جناح بھی اسی موذی مرض کا شکار ہوئے۔ حکومت میں شامل بہت سے لوگ کئی سال اس بیماری کو قومی بیماری قرار دینے کی خفیہ کوشش کرتے رہے۔ تاریخ ایسے قوم پرستوں کے نام صیغہ راز میں رکھے ہوئے ہے۔ ٹی بی سے محبت کی وجہ سے ان خفیہ لوگوں نے قائد کی ایمبولنس خراب کرائی، حتیٰ کہ اس کا ڈیزل بھی ختم کرا دیا۔ انہیں ڈر تھا کہ قائد محترم ہسپتال پہنچنے میں کامیاب ہو گئے تو ڈاکٹر کہیں موت کی وجہ ہی نہ بدل ڈالیں۔

یرقان بھی خالص اسلامی بلکہ پاکستانی بیماری ہے۔ پاکستان میں ہر چھٹا ساتواں شخص اس بیماری کا شکار ہوتا ہے۔ یہ بیماری گندا پانی پینے سے ہوتی ہے۔ گندے پانی کے ذخائر پاکستان میں بکثرت پائے جاتے ہیں۔ یہ ذخائر ہماری قومی و ملکی ضروریات سے کہیں زیادہ ہیں۔ حکومت اگر سبسڈی دے تو ایکسپورٹ کرنے میں آسانی رہے گی۔

میں تو سگریٹ بھی اس لیے نہیں پیتا کہ یہ کافروں کا بنایا ہوا ہے۔ کئی دہائیاں پہلے میرے والد محترم سموکر تھے۔ تب انہیں دین کی اتنی سمجھ نہیں تھی۔ پھر ایک عالم دین کے کہنے پر وہ سگریٹ چھوڑ گئے۔ باقی زندگی حقہ پیتے رہے۔ مجھے اس حوالے سے والد محترم کی خدمت کرنے کا کافی موقع ملا۔ ان کے لیے حقے کا انتظام میرے ہی ذمہ تھا۔ کئی بار تمباکو زیادہ ڈالنے پر مجھے ڈانٹ پڑی۔ پھر مجھے ایک حقہ نوش نے جو والد صاحب کا حقہ نوشی میں مفت کا ساجھے دار تھا، حقے کی چلم میں تمباکو کے اوپر گڑ ڈالنے کا مشورہ دیا۔

گڑ ڈالنا آسان تھا، حقہ بناتے ہوئے منہ بھی میٹھا کر لیا کرتا۔ ایک بار والد صاحب نے مجھے سمجھاتے ہوئے کہا ”یار اتنے بڑے ہو گئے ہو ابھی تک حقہ بنانا نہیں آیا“ تفصیل بتاتے ہو سمجھایا تمباکو کے اوپر گرم دہکتے ہوئے انگارے نہ ڈالا کرو۔ تمباکو اور گڑ سڑ جاتا ہے اور حقے کا کش گرمی کرتا ہے۔ تب سے دوستو اور کوئی کام آئے نہ آئے حقہ اچھا بنا لیتا ہوں۔ میں حقہ بنا کر آگ ٹھنڈی ہونے تک خود کش لگانے لگا، آگ ذرا دھیمی پڑتی تو والد صاحب کو دے آتا۔

واقعی حقے کے کش کا سگریٹ سے کوئی مقابلہ نہیں۔ آپ یقین مانیں حقے کے موجد کا نام اگر کسی کو معلوم ہوتا تو بو علی سینا اور حکیم لقمان اس کے سامنے چھوٹے پڑ جاتے۔ تمباکو نوشی کے عالمی دن کے موقع پر میرا آپ کو مشورہ ہے، سگریٹ نوشی سے پرہیز کریں، بہت خطر ناک ہے، بے شک حقہ پیتے رہیں مگر وہ بھی ٹھنڈی آگ والا۔ شراب کو ہاتھ بھی نہ لگائیں، حرام ہے۔ چرس اور افیون کا کوئی حرج نہیں، یہ پاکستانی نشہ ہے، پاکستانی ہونے کا ثبوت دیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *