وجاہت مسعود صاحب یہ بھی حقائق ہیں!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرے گزشتہ لکھے گئے کالم ”عمران خان کا وژن اور خرم حمید روکھڑی“ پرتنقیدی و اصلاحی تبصرہ کرتے ہوئے محترم وجاہت مسعود نے راقم کو اپنی علمی بصیرت سے ایسے حقائق سے آشنا کیا جس سے یقیناً مجھ سمیت کوئی بھی صاحب علم ان تاریخی مستند حقائق سے مفر اختیار نہیں کر سکتا۔ میرے کالم پر تبصرہ سے قبل محترم وجاہت مسعود نے مجھے فون کال کر کے آگاہ کیا کہ آپ کے کالم میں کچھ تسامحات سر زد ہوئی ہیں جن کا میں جواب لکھوں گا مجھ سے بات کرتے ہوئے ان کی گفتگو میں نہ حسن نثار کی سی گرج تھی اور نہ ہی ہارون رشید جیسی تمکنت بلکہ ایک رکھ رکھاؤ تھا وہ برخوردار کے طور پر اپنی گفتگو سے راقم کے لئے اپنی راہنمائی کے در وا کر رہے تھے۔

میرے گزشتہ لکھے گئے کالم پر اپنے تبصرے میں وجاہت مسعود لکھتے ہیں کہ میانوالی کے میجر (ر) خرم حمید روکھڑی کے لئے راقم نے وزارت اطلاعات تجویز کی ہے جو شبلی فراز اور جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ صاحبان میں تقسیم ہو ئی ہیں شاید فاضل سنئیر کالم نگار یہ سمجھتے ہیں کہ راقم کی جنبش قلم ان کی نظر میں غبار راہ دیکھتی ہے نہ ہی تناسب اشتیاق جانتی ہے راقم کا خرم روکھڑی کو اس صف میں لانا ہر گز مقصود نہیں کہ ان کی کابینہ میں نمائندگی عمران خان کی بہتر طرز حکمرانی کے لئے ناگزیر ہے سوال یہ ہے کہ ملک میں جتنی بھی قومی سیاسی جماعتیں جمہوریت کی دعویدار ہیں کسی ایک سیاسی جماعت کے اندر ایسا ادارے کی نشاندہی کر دیں جو اپنے کارکنان کی نظریات کی بنیاد پر سیاسی شعور کی پختگی کے لئے کام کرتا ہو المیہ ہے موروثی سیاست کے باعث اس قوم کو آج تک کوئی اہل اور قابل وژنری قیادت میسر نہیں آئی ٹنل وژن کے حامل سیاستدانوں نے نظریاتی سیاسی کارکنان کو کارنر کر دیا کتنے خرم حمید روکھڑی جیسی سیاسی سمجھ بوجھ رکھنے والی ملک کی تمام بڑی قومی سیاسی جماعتوں میں اہل شخصیات موجود ہیں جن کی قابلیت اور اہلیت ان جمہوریت کی علمبردار سیاسی جماعتوں کے در پر دستک دیتی ہے۔

نمل کالج کی افتتاحی تقریب کے بعد حامد میر اپنے کالم ’زمانے کے زیر و زبر‘ میں تذکرہ کرتے ہیں کہ علیمہ خان اور خرم روکھڑی اس تقریب کے دوران ان لوگوں کی زیادہ عزت افزائی کر رہے تھے جو پہلے دن سے نمل کالج کے ساتھ کھڑے تھے بہر حال خرم حمید روکھڑی کی خدمات ’عمران خان اور ان کی جماعت تحریک انصاف سے وابستگی کے دعوؤں پر اٹھتے سوالات کی حقیقت کیا ہے یہ ارشاد بھٹی‘ حامد میر ’ڈاکٹر اجمل نیازی اور حفیظ اللہ نیازی بہتر جانتے ہیں یہ خرم حمید روکھڑی کا دعویٰ ہے۔

وجاہت مسعود صاحب میرے کالم پر آپ کا تبصرہ بجا لیکن کالم نگار واجد علی گوہر کا جواب کے بعد بھی کیا آپ سیاستدانوں کو صادق اور امین کی صف میں کھڑا کریں گے یا صرف آپ اسٹیبلشمنٹ کو ہی قصور وار ٹھہرائیں گے یقیناً ان دونوں طبقات نے اس ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ محترم وجاہت مسعود لکھتے ہیں کہ اقتدارسیاست کا ناگزیر حصہ ہے اور عوام کی امانت ہے پاکستان کے لوگ جسے چاہیں یہ امانت سونپ دیں آپ نے بجا فرمایا لیکن سوال یہ ہے کہ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ یہ عوام کا حق ہے کہ جسے چاہیں اقتدار کی امانت سونپ دیں آپ کی بات سے مکمل اتفاق لیکن یہ سیاستدان اقتدار کے ایوان میں جب براجمان ہوتے ہیں تو قوم کی دی گئی امانت میں خیانت کے مرتکب کیوں ہوتے ہیں؟

اقوام متحدہ کے چارٹرڈ آئین پاکستان میں موجود آرٹیکل پاکستان کے عام فرد کو یہ ضمانت فراہم کرتا ہے کہ روٹی‘ کپڑا ’مکان‘ تعلیم اور صحت کے بنیادی حقوق فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری میں شامل ہے لیکن عوام کو بنیادی حقوق فراہم کرنے والا یہ آرٹیکل سات دہائیاں گزرنے کے باوجود معطل کیوں پڑا ہے۔ محترم وجاہت مسعود یہ حقائق ہیں کہ ملک کا سیاسی نظام موروثیت کی گرہ سے بندھا عوام کو انسانی بنیادی حقوق سے محروم رکھ کر استحصال کر رہا ہے اس ملک میں ایسے سیاسی نظام کی ضرورت ہے جس کی نظریاتی اساس عوام کو طاقت کا سر چشمہ تسلیم کرتے ہوئے انسانی بنیادی حقوق بہم پہنچائے۔

اگر موجودہ نظام میں عوام کی امنگوں کے مطابق اصلاحات نہ لائی گئیں تو یہ نظام ہماری آنے والی نسل کو غلامانہ سوچ کی زنجیروں میں تو جکڑ سکتا ہے لیکن اسے جمہوری ثمرات سے محروم رکھتے ہوئے معاشرے کا باوقار اور مہذب شہری بناتے ہوئے اس کا معیار زندگی بلند نہیں کر سکتا۔ سیاسی موروثیت کے باعث یہ نظام جمہوریت کی کسوٹی پر پورا نہیں اترتا بحیثیت پاکستانی میں دعویٰ کرتا ہوں کہ میرے احساسات و جذبات کی عکاس یہ تحریر اس بات کی ضا من ہے کہ میں بھی اس بائیس کروڑ عوام کا حصہ ہوں جو اس استحصالی نظام کے زیر عتاب ہے۔

آپ کے تاریخی اعداد و شمار درست لیکن ملک میں اس موجودہ نظام کے تحت دولت اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کے باعث امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا جا رہا ہے یہی وجہ ہے کہ ملکی سیاست اور معیشت عدم استحکام کا شکار ہے اور یہ صورتحال کسی بھی ملک کی ترقی و خوشحالی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہوتی ہے۔ ملک کا سیاسی نظام بہت بڑے آپریشن کا متقاضی ہے نظریہ ضرورت کے تحت سیاسی و مقتدر اشرافیہ نے ہمیشہ اپنے مفادات کا تحفظ کیا۔

بلا شبہ ملک عزیز کو کرپشن سے پاک اور میرٹ پر مبنی معاشرے کے قیام کی اشد ضرورت ہے اس ملک میں کرپشن و بد عنوانی کے باعث میرٹ ’قانون اور آئین کو بلڈوز کیا جاتا رہا جس کے باعث بنیادی انسانی حقوق سے محروم یہ بے وسیلہ عوام نا انصافیوں کے بوجھ تلے دب کر راندہ درگاہ ہوتے رہے جبکہ حکمران اشرافیہ طبقات کی من مانیاں اور ناجائز ذرائع سے لوٹ مار کی کہانیاں زبان زد عام ہیں۔ محترم وجاہت مسعود بڑے کرب کے ساتھ یہ الفاظ سپرد قرطاس کر رہا ہوں کہ عوام کو حروف تہجی میں بٹی سیاسی جماعتوں کے قائدین سے کوئی سروکار نہیں اگر موجودہ حکومت (تحریک انصاف) بھی عوام سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری میں ناکام رہی تو تحریک انصاف کی تبدیلی سے مزین نیا پاکستان عوام کے لئے سوہان روح بن جائے گا اس وقت متوسط طبقے سمیت غریب عوام دو وقت کی روٹی کے لئے ترس رہی ہے اور مسائل کا جن بے قابو ہو کر عوام کی شہ رگ سے لہو نچوڑ رہا ہے میں پھر ایک بار لکھ رہا ہوں عمران خان کے ارد گرد آج بھی ایسے افراد موجود ہیں جو سب اچھا کے آگے فل سٹاپ لگا رہے ہیں عمران خان کو اپنے گردو پیش کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے پاکستان کی سیاسی حکمرانی کی تاریخ ایک نو آموز حکمران کے لئے سابقہ حکومتوں کی کارکردگی کا زائچہ کھولے ہوئے ہے دنیا کے معاشروں میں کسی بھی ملک کی مضبوط جمہوریت کے لئے ایماندار اور باوقار سیاسی قیادت‘ متحرک اور با شعور سول سوسائٹی ’انتھک بلدیاتی نمائندے‘ شہری انتظامیہ ’ذمہ دار پریس‘ خواتین ’نوجوانوں اور اقلیتوں کی شرکت درکار ہوتی ہے۔ عمران خان کو اب ادراک ہو جانا چاہیے کہ جب تک حکومت معاشی حالات کو درست کرتے ہوئے عوام کو ریلیف فراہم نہیں کرے گی تب تک حکومت کے لئے مشکلات بد ستور قائم رہیں گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *