ردا (سندھی افسانے کا اردو ترجمہ)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


تحریر: تنویر عباسی – ترجمہ: یاسر قاضی

میں نے اسے پہچانا ہی نہیں۔ اس میں میرا قصور نہ تھا۔ وہ واقعی کافی بدل چکا تھا۔ ملا بھی برسوں بعد تھا۔ اس کے گالوں میں کھڈے پڑ گئے تھے۔ بال اجڑے سے تھے، جن میں شاید کئی دنوں سے اس نے تیل نہیں ڈالا تھا۔ اس کا رنگ، دھوپ میں پڑے کسی پتے کی طرح جھلس گیا تھا۔ اس کے کپڑے بھی میلے ہوگئے تھے۔ جن کے اندر سے پسینے میں میلی اس کی بنیان تک نظر آ رہی تھی۔

مجھے یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ یہ وہی رفیق ہے، جو پورا ایک سال میرے ساتھ پڑھا تھا، جس کا چہرہ بھرا بھرا اور رنگ نکھرا نکھرا سا ہوا کرتا تھا۔ جس کے بال ہمیشہ سنورے ہوئے رہتے تھے۔ اور جس کی پیشانی پر ہمیشہ ایک لٹ لہراتی نظر آتی تھی، اور ہمیشہ صاف پینٹ اور رنگین ”بش۔ شرٹ“ میں ملبوس نظر آتا تھا۔

میں اور رفیق چھٹی کلاس میں ایک ساتھ پڑھے تھے۔ اس زمانے میں جب ماسٹر جی ہمیں پڑھاتے تھے، تو یہ اپنی نوٹ بک میں ماسٹر صاحب کے کارٹون اور ہم کلاس لڑکیوں کے اسکیچ بنانے میں مشغول نظر آتا تھا۔ اور جب کلاس پوری ہونے کے بعد مجھے وہ کارٹون دکھاتا تھا، تو ہم دونوں مل کر ان پر بڑے بڑے قہقہے لگایا کرتے تھے، اور تھوڑی دیر بعد اس کے ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ کھلتی نظر آتی تھی، جیسے ان قہقہوں کی صورت اسے اس کی محنت کی قیمت مل گئی ہو۔

پورا سال اس نے استادوں کے کارٹونز اور لڑکیوں کے اسکیچز بنانے میں گزار دیا، اور جب امتحان کا نتیجہ آیا تو ظاہر ہے کہ وہ پاس نہیں ہو سکا۔ اس کے بعد اس سے ملنے کا موقع کم ہی ملتا تھا۔ کیونکہ میں پاس ہو گیا تھا، اور رفیق اسی کلاس میں بیٹھا ٹیچرز کے کارٹون اور لڑکیوں کے اسکیچ بناتا رہتا تھا۔ اس کے کچھ دنوں بعد معلوم ہوا کہ اسے اسکول سے نکال دیا گیا ہے۔ اس نے بورڈ پر ہیڈ ماسٹر صاحب کا کارٹون بنا دیا تھا۔ اس جرم میں اسکول سے نکلنے کے بعد، پھر مجھے وہ نظر نہیں آیا، اور پھر جلد ہی میں نے کراچی چھوڑ کر حیدرآباد میں اپنی تعلیم جاری رکھی۔

آج تین برس بعد جیسے ہی میں چائے پینے کے لیے میں ریستوران میں داخل ہو رہا تھا، تو اس نے مجھے بازو سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا۔ واقعی پہلے میں نے اسے بالکل نہیں پہچانا، مگر پھر غور سے دیکھنے کے بعد معلوم ہوا کہ یہ وہی رفیق ہے۔ ۔ ۔ اسکیچز اور کارٹونز والا رفیق۔ ۔ ۔ جس کا منہ بھرا بھرا ہوا کرتا تھا۔ جو میرے ساتھ بڑے بڑے قہقہے لگایا کرتا تھا۔

میں اس کو اپنے گھر لے آیا۔ اس نے بتایا کہ اسے اپنے گھر سے نکال دیا گیا ہے۔ اسی فن کے شوق کی وجہ سے۔ اس کے والد کا کہنا تھا کہ وہ رنگوں اور برشز پر بیکار کا خرچہ کرتا ہے اور ہمیشہ اس کے کپڑوں پر رنگوں کے داغ نظر آتے ہیں۔ ۔ ۔ وہ اپنا وقت بیکار ضائع کر رہا ہے۔ ۔ ۔ اس لیے وہ یہ شوق چھوڑ دے۔ ۔ ۔ مگر وہ بدستور تصویریں بناتا رہا۔ کبھی دریا کی مست لہروں کی۔ ۔ ۔ تو کبھی مشرق کی جانب اٹھنے والی شفق کی دلفریب لالائی کی۔ ۔ ۔

اس کے بعد گفتگو کا موضوع بدلا اور ہم اس وقت کے حالات پر بات کرنے لگے۔ یہ وہ وقت تھا، جب لوگوں میں اپنی قومیت کا احساس ابھر چکا تھا، اور ہر جانب سے اپنی تہذیب کو بچانے کی آوازیں اٹھ رہی تھیں۔ نؤجوان طبقہ کافی بیدار ہو چکا تھا، مگر رفیق کافی جذباتی ہو چکا تھا۔ اس نے کہا: ”اب سب کچھ چھوڑ کر، میں نے اپنے وطن کو تصویروں میں پینٹ کرنا شروع کر دیا ہے۔“ اس نے مجھے کچھ تصویریں بھی دکھائیں۔ سکھر بیراج۔ ۔ ۔ لینسڈاؤن پل۔ ۔ ۔ سندھی لڑکیوں کے کنویں پر جھرمٹ۔ ۔ ۔ ایک سندھی چرواہا، اپنی بکریوں کے ساتھ۔ ۔ ۔ کوٹری بیراج کے کنارے پر خانہ بدوشوں کے ڈیرے۔ ۔ ۔ ان تمام ں ظاروں کو اس نے رنگوں میں قید کر لیا تھا۔ اس نے حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی کے ابیات کو تصویروں میں پیش کرنا شروع کیا تھا۔ ”نوری“ ، ”سسئی“ ، ”مارئی“ یہ تمام اس نے پینٹ کی تھیں۔ ان میں سے مجھے ”مارئی“ کی پینٹنگ بے حد پسند آئی۔ اس میں دکھایا گیا تھا کہ ایک عالیشان محل میں مارئی، زمین پر لیٹی ہوئی ہے۔ اس کے بال پریشان ہیں۔ اور اس کے سادہ اور میلے کپڑے تار تار ہو گئے ہیں۔ اور وہ ان پھٹے میلے کپڑوں میں سے نظر آنے والے اپنے بدن کو اپنی ردا سے ڈھانپنے اور چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔

”اس تصویر کی قیمت کتنی ہوگی؟“
میں نے ویسے ہی اس سے پوچھا۔
”اس تصویر کی قیمت؟“
اس کے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ دوڑ گئی۔

”لوگوں کے پاس پیسہ کہاں ہے ایسی تصویروں پر خرچ کرنے کے لیے! ان کو تو فلم ایکٹریسز کی نیم برہنہ تصویریں چاہییں۔“

یہ کہتے ہوئے اس کا دل بھر آیا اور کہا:

”ہمارے عوام بھوکے ہیں بھائی جان! ان کو جنسی بھوک بھی ہے۔ ۔ ۔ تو روح کی بھوک بھی۔ ۔ ۔ ان کا بھی تو کوئی قصور نہیں ہے۔ ان کو تو کسی نہ کسی طرح اپنی بھوک مٹانی ہے۔ اور آرٹسٹ؟ وہ بھی بھوکے ہیں۔ پیٹ کے بھوکے۔ گویا یہ بھی ایک بھوک کا سودا ہے۔ آرٹسٹ عوام کی بھوک مٹاتے ہیں۔ ۔ ۔ اور عوام آرٹسٹوں کی۔ ۔ ۔“

دو تین دن میرے پاس رہنے کے بعد وہ روزگار کی تلاش میں نکل گیا۔ اور اس کے خط مجھے موصول ہوتے رہے۔ کبھی لاڑکانے سے تو کبھی سکھر سے۔ ۔ ۔ کبھی کہیں سے۔ تو کبھی سے۔ ۔ ۔ پہلے وہ جلدی جلدی خط لکھا کرتا تھا اور پھر آہستہ آہستہ یہ خطوں کا سلسلہ اس کی جانب سے منقطع ہو گیا۔ اس کے خطوں میں ہمیشہ فن کی قدر نہ ہونے کا مستقل شکوہ ہوا کرتا تھا۔

ایک برس بعد اچانک ایک دن اس کا خط موصول ہوا، جس میں اس نے اپنے آنے سے متعلق لکھا۔

جس دن وہ آنے والا تھا، اس دن میں اسے لینے ریلوے اسٹیشن گیا۔ گاڑی پہنچتے ہی میں نے ”تھرڈ کلاس“ اور ”انٹر“ والے ڈبے دیکھنا شروع کیے۔ خلاف توقع وہ ایک ”سیکنڈ کلاس“ کے ڈبے سے سوٹ کیس لیے اترا۔

میں نے دیکھا کہ وہ وہی رفیق تھا۔ ۔ ۔ اسکول والا رفیق۔ ۔ ۔ جس کے گال بھرے ہوئے تھے اور بال سلیقے سے سنورے ہوئے تھے۔ اور ایک لٹ اس کی پیشانی پر لٹک رہی تھی۔ اور وہ ایک قیمتی سوٹ میں ملبوس تھا۔ اس نے ریل گاڑی سے اترتے ہی اپنا سوٹ کیس قلی کے حوالے کیا، اور آ کر مجھ سے لپٹ گیا۔

گھر لانے کے بعد میں نے اسے کہا: ”تمہاری حالت اب سدھر گئی ہے۔ شاید اب دنیا تمہارے فن کی قدر کرنے لگی ہے۔“

”ہاں۔ ۔ ۔“
اس نے ایک بے رونق مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا۔
”کیونکہ اب میں نے بھی دنیا کے ’جذبات‘ کی قدر کرنا شروع کر دی ہے۔“

یہ کہہ کر اس نے اپنا سوٹ کیس کھولا اور اپنی ایک پینٹنگ نکال کر ٹھنڈا سانس لے کر، اس پر حسرت بھری نگاہ ڈالی۔ اور مجھے دیکھنے کو دی۔

میں نے اس سے پینٹنگ لی اور دیکھی۔ ۔ ۔ یہ وہی ”مارئی“ والی تصویر تھی۔ وہی پیٹنگ۔ ۔ ۔ جو اس نے مجھے گزشتہ برس دکھائی تھی۔ فرق بس اتنا تھا کہ اس کے تار تار پھٹے کپڑوں سے اس کے بدن کا ستر نظر آ رہا تھا۔ اس کی ”ردا“ اتر گئی تھی۔

( 1956 ء میں لکھا افسانہ)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *