کامریڈ چوہدری فتح محمد۔۔۔ اک چراغ اور بجھا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ٹوبہ ٹیک سنگھ کی کہانی بڑی مختصر ہے۔ جس جگہ اس وقت ٹوبہ ٹیک سنگھ کا ریلوے اسٹیشن ہے اس کے پاس ہی پانی کا ایک ٹوبہ ہوا کرتا تھا۔ اس پر ادھر اُدھر کے لوگ اپنے جانوروں کو پانی پلاتے تھے۔ خود ان کے لئے وہاں پانی کا کوئی بندوبست نہیں تھا۔ یہ علاقہ ابھی آباد نہیں ہوا تھا۔ ایک درویش منش بوڑھا ٹیک سنگھ اس ٹوبہ کے کنارے آبیٹھا۔ وہاں اس نے جھگی ڈالی اور رہنا شروع کر دیا۔ سکھ، مسلمان مسافروں کو پانی پلانا اس کی زندگی کا مشن ٹھہرا۔ وہ صبح سویرے میلوں دور گھڑوں میں پانی لاتا اور مسافروں کے انتظار میں بیٹھا رہتا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے زمینوں کی الاٹمنٹ ہوتی رہی مگر اس درویش نے ادھر نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھا۔ اپنے کام میں مگن رہا۔

ایک شام وہ چپکے سے دوسری دنیا کو چل دیا۔ کوئی نہیں جانتا کہ وہ کہاں سے آیا تھا؟ وہ کس خاندان قبیلے سے تعلق رکھتا تھا؟ اس کی شناخت محض اتنی ہے کہ وہ ایک انسان تھا۔ وہ ٹوبہ اب بھی موجود ہے۔ لوگوں نے اس کے گرد اک جنگلہ بنا دیا ہے۔ حریت کا پیکر بھگت سنگھ بھی یہیں کا رہنے والا تھا۔ سفاک قلمکار منٹو نے اپنے ایک افسانے میں ’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘ کو صرف قوت، حرارت اور بغاوت کی علامت کے طور پر استعمال کیا ہے۔ یہاں کے سیاسی شعور کا یہ عالم رہا کہ پورے پنجاب میں یہی ایک قصبہ تھا جہاں صدر ایوب نے مادر ملت کے مقابلہ میں صدارتی الیکشن صرف دو ووٹوں سے جیتا تھا۔

اس شہر اور ضلع کی وجہ شہرت عزت اور امتیاز 1970کی مولانا بھاشانی کسان کانفرنس بھی ہے۔ یہ شاید پاکستان کی آخری کامیاب کسان کانفرنس تھی۔ اس کانفرنس میں دور دراز کے علاقوں سے ہزاروں لوگ شریک ہوئے۔ آج اس کانفرنس کے انتظامات سن کر حیرت ہوتی ہے۔ مولانا بھاشانی میرے شہر گوجرانوالہ کی کنیز فاطمہ کے ساتھ ایک بیل گاڑی پر بیٹھ کر پنڈال پہنچے۔ پنڈال میں ہجوم کا یہ عالم تھا کہ آدمی سے آدمی الگ نظر نہیں آتا تھا۔ معلوم ہوتا تھا کہ ٹوبہ میں لاوے کا ایک ٹوبہ ابل پڑا ہے۔ کوئی آدمی کسی نعرے کو نہیں سن رہا تھا بلکہ خود نعرے مار رہا تھا۔ گلے پھٹے جا رہے تھے۔ آنکھیں ابل رہی تھیں۔ زبانیں باہر نکلی ہوئی تھیں۔ شہر میں میلے کا سماں تھا۔ تنوروں میں ایک آنے کی روٹی اور دال مفت کا بندوبست تھا۔ پھر یہ مفت کی دال چکن بریانی نہیں کہ ووٹر کی عزت نفس محفوظ نہ رکھے۔

سبھی گھروں کے دروازے کھلے تھے کہ جس کا جی چاہے کسی گھر میں مہمان ٹھہر جائے۔ نہ سلام، نہ تعارف، نہ شکریے کی آرزو۔ رواداری اتنی کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کا کوئی گھر ایسا نہ رہا جہاں مہمان نہ ٹھہرائے گئے۔ این ایس ایف کی معروف سٹوڈنٹ لیڈر غزالہ شبنم کو جماعت اسلامی کے مقامی عہدیدار کے گھر جگہ ملی۔ یہ ساری روداد کامریڈ فتح محمد نے روایت کی ہے۔ وہی اس کامیاب کسان کانفرنس کے روح رواں بھی تھے۔ عابد حسن منٹو نے لکھا ہے۔ کامریڈ فتح محمد 1948ء میں کیمونسٹ پارٹی آف پاکستان کے ممبر بنے۔ پھر ستمبر 1949ء میں انہوں نے مجھے اس کا ممبر بنایا۔ چوہدری صاحب روز اول سے کسان فرنٹ سے وابستہ ہوئے۔ پھر یہ وابستگی عمر بھر رہی۔ کیمونسٹ پارٹی خلاف قانون قرار پائی تو یہ ترقی پسند لوگ کسی نہ کسی رنگ ڈھنگ اور جماعت میں کام کرتے رہے۔

بابائے اردو مولوی عبدالحق نے اپنی لغت میں کیمونسٹ کی تعریف یوں کی ہے۔ ’’کیمونسٹ وہ شخص ہوتا ہے جو عوام الناس کی بھوک او ر ننگ کو ختم کرنے کیلئے ملکی وسائل کو ترقی دینے میں اپنے آپ کو اسطرح وقف کرے کہ ملک ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شمار ہونے لگے۔ جہاں ہر شخص کو اس کی صلاحیت کے مطابق روزگار کی گارنٹی اور اس کی ضروریات کے مطابق اجرت ملے۔ جو شخص ایسے نظام کے قیام کے لئے جدو جہد کرے اسے کیمونسٹ کہتے ہیں‘‘۔ سچی بات ہے کہ کیمونزم اسلام سے بہت قریب ہے۔ لیکن نہایت ہنر مندی سے اسے اسلام کے مقابلے میں لا کھڑا کیا گیاہے۔ پھر جاگیرداری کا جواز بھی محمد عربیؐ کی شریعت سے ڈھونڈا جاتا ہے۔ اب کیمونسٹ ہونے کا ایک ہی مطلب ہے کہ وہ لوگ جو خدا کو نہیں مانتے۔ پھر مذہب کو سرمایہ داری نظام کے لئے یوں استعمال میں لایا گیا کہ حیرت ہوتی ہے۔

حیدر آباد میں ایک مرتبہ ایک مل میں مطالبات منوانے کیلئے مزدوروں نے ہڑتال کی۔ جب ہڑتال طول پکڑ گئی تو مل مالکان نے کراچی سے ایک معروف عالم دین کو بلوایا۔ اس نے مزدوروں کو صبر و قناعت کی فضیلت بیان کرتے ہوئے کہا۔ ’’تم اس مل مالک سے کیوں مانگتے ہو؟ جوخود عاجز ہے اور کچھ نہیں دے سکتا۔ دو جہانوں کے مالک اپنے اللہ سے مانگو۔ جس کے خزانے بھرے ہوئے ہیں۔ یاد رکھو !اس مل مالک کو بھی وہی دیتا ہے‘‘۔ ہندوستان نے آزادی کے فوراً بعد جاگیرداری سے نجات پا لی تھی۔ لیکن پاکستان میں حکمران جماعت مسلم لیگ پر جاگیرداروں کے قبضے کے باعث ایسا نہ ہو سکا۔ مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر میں شیخ عبداللہ نے وزیر اعظم بنتے ہی سب سے پہلا کام یہی کیا تھا کہ ’زمین کاشتکار کی’ کا قانون پاس کروایا۔ جاگیرداروں کو بیس ایکڑ زمین صرف اس شرط پر دی گئی کہ وہ اسے خود کاشت کریں۔ انہوں نے ایک لاکھ ترپن ہزار تین سو ننانوے بے زمین کسانوں میں زمین تقسیم کی۔

پاکستان میں جاگیرداروں کا سبھی سیاسی جماعتوں پر قبضہ ہے۔ شاید جاگیرداری کاخاتمہ اب کسی سیاسی جماعت کے منشور میں بھی نہیں رہا۔ آج پورے پاکستان میں زمین کی ملکیت کی صورتحال یہ ہے کہ ایک فیصد کے قریب لوگ آدھی سے زیادہ زمین کے مالک ہیں۔ جب دھرتی ماتا کی گود صرف ایک بچے کے لئے خاص رہ جائے تو اسے سگی کیسے سمجھا جا سکتا ہے؟ آج سب سے اہم مسئلہ ان لوگوں کے حقوق کا تعین ہے جن کے نام ملک بھر میں کاغذات مال کے خانہ ملکیت میں کہیں درج نہیں۔ ان بے مالک لوگوں کو رہائش چھوڑیں تدفین کیلئے بھی زمین میسر نہیں رہی۔ جب تک زمین کی کوئی حد مقرر نہیں ہوتی دھرتی ماں کے سبھی بچوں کو گود میں سے جگہ ملنی ممکن نہیں۔ پھر ہماری سیاست کی ساری گندگی دور کرنے کا بھی صرف یہی ایک علاج ہے۔ جاگیرداری کے خلاف عابد حسن منٹو کی پٹیشن برسوں سے سپریم کورٹ کے کسی سرد خانے میں پڑی ہوئی ہے۔ معزز جج صاحبان اسے ٹٹول کر دیکھ لیں کہ اس میں زندگی کی کوئی رمق باقی رہ بھی گئی ہے یا نہیں؟

16 مئی 2020ء کو اس بوڑھے کامریڈ چوہدری فتح محمد نے اپنے بیٹوں پوتوں اور عزیز واقارب کے جھرمٹ میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ٹوبہ ٹیک سنگھ میں لرزتے کانپتے کپکپاتے ہاتھوں سے اپنی پچانویں سالگرہ کا کیک کاٹا۔ پھر نو دن بعد 25 مئی کو یہ کامریڈ موت کی ان گمنام وادیوں کو چل دیئے جہاں سے آج تک کوئی لوٹ کر نہیں آیا۔ اسی دن سورج ڈوبنے سے پہلے انہیں ان کے گائوں کی مٹی میں دفن کر دیا گیا

اندر بھی زمیں کے روشنی ہو

مٹی میں چراغ رکھ دیا ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *