تکون (سندھی افسانے کا اردو ترجمہ)۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تحریر: حمید سندھی
ترجمہ: یاسر قاضی
”ایک دو تین، چار، پانچ۔ ۔ ۔“
”بس، اب مزید نہیں“

”زری، یہ پتھر جب پانی سے لہر اور لہر سے دائرہ بناتا ہے، تب مجھے یہ خیال آتا ہے کہ جب زندگی کے اس بحر عمیق میں انسان اپنا جسم چھوڑتا ہے، تب کوئی بھی لرزش پیدا نہیں ہوتی۔ کوئی بھی لہر کسی دوسری لہر کو نہیں ہلاتی اور زندگی کا کوئی بھی مسئلہ، دائرہ بن کر نہیں گھومتا۔“

”توبہ، آخر تمہیں ہوا کیا ہے۔ تم مجھے یہاں اس لیے لائے تھے کہ میں یا تو بیٹھی تمہارا منہ تکتی رہوں اور تم لہریں گنتے رہو، یا پھر میں بیٹھ کر تمہاری تقریریں سنتی رہوں۔“

”یہی تو بات ہے زری، تم مجھ سے مطمئن نہیں ہو۔ مجھ سے کوئی بھی مطمئن نہیں ہے۔ مگر یقین مانو کہ میں بھی کسی سے مطمئن نہیں ہوں۔ ۔ ۔ سوائے ایک ہستی کے، جس سے لاپروا ہو کر میں خود کو جیسے دوسری الجھنوں میں الجھا دیتا ہوں۔ اگر وہ ہستی میری الجھن ہو تو میں ان دوستی کے مسائل کی طرف توجہ ہی نہ دوں۔“

”وہ ہستی کون ہے؟“
”تم جانتی ہو زری۔“

”مگر سلیم، تمہاری الجھن آخر ہے کیا! دوستوں کے درد ہوتے بھی تو ڈھیر سارے ہیں تمہارے پاس۔ نہ تم ان کی جانب توجہ دو، نہ ہی وہ تمہیں دکھ دیں گے۔“

”زری، تمہیں پتا ہے ناں، کہ میں انتہا پسند ہوں۔ ۔ ۔ پیار میں، دوستی میں، اپنائیت میں اور جینے میں بھی۔ میں فراخ دلی کے ساتھ جینا جانتا ہوں اور بڑے دل کے ساتھ مات کھاتا ہوں۔“

”سلیم، سچ بڑا زہر ہے۔ مگر اگر میں یہ کہوں کہ تم جینا نہیں جانتے۔ تم ہر قدم پر صرف شکست کھانا جانتے ہو۔ اور نہ تم، زندگی سے مطمئن ہو، نہ زندگی کے دائرے تم سے مطمئن ہیں۔“

”زری۔ ۔ ۔ میں۔ ۔ ۔ میں۔ ۔ ۔ رہنے دو زری، اٹھو چلیں۔“
”وہی میں میں نہ کرو۔ تم بتاؤ کہ تم پریشان کیوں ہو؟“

”زری۔ اگر کوئی میری نظریں چوری کر کے ان نگاہوں سے تمہیں دیکھے اور تم سے بات کرے تو میرا دکھی ہونا تو بنتا ہے ناں ؟“

”تم تو خواہ مخواہ کی غلط فہمیوں میں پڑ رہے ہو۔ تمہاری نظر میری نگاہ کا پہلا رخ ہے۔ جس کو چرانے کی ہمت خود مجھے نہیں ہو رہی تو اور کوئی کیسے تمہاری نظر چرا لے گا؟“

”مگر زری، میں دوستوں میں سے یا دنیا میں سے کسی کی بھی تمہیں دیکھتی نظر برداشت نہیں کر سکتا۔“
”سلیم، تم یقین رکھو، زندگی کا ہر مسئلہ ہم ساتھ مل کر طے کریں گے۔“
”اتنا تو میں بھی جانتا ہوں۔ اتنا یقین تو میں بھی کرتا ہوں۔“
”پھر سلیم، یہ سب ہوتا کیوں ہے؟ تم اپنے آپ سے باہر کیوں نہیں آتے؟“

”یہی دنیا ہے۔ یہی انداز زیست ہے۔ شاید کوئی وقت ایسا آئے کہ میں تمہیں دکھاؤں کہ تم کسی راستے پہ کھڑی ہو اور میں ان درختوں کے جمگھٹوں میں اس پانی میں پانی ملا رہا ہوں گا۔“

”ایسے مت کہو سلیم، زری دنیا نہیں ہے۔ زری تمہاری محبوبہ نہیں ہے۔ زری تو تمہاری عاشق ہے۔ زری تمہارے ہونٹوں کی روٹھی ہوئی مسکراہٹ ہے۔ زری تم اور تم زری ہو۔ ۔ ۔ سمجھے؟“

”زری، پیار کے جھولے کو اتنا مت جھلاؤ کہ کسی وقت رسی ٹوٹنے پر میں خود کو سنبھال بھی نہ سکوں۔ میں ڈر رہا ہوں زری، میں ڈر رہا ہوں۔“

***********************************************************

”ریشماں یہاں روشنی نہیں ہے تو اندھیرے کا راج بھی نہیں ہے۔ میرے پاس تبسم نہیں ہے تو اشک بھی نہیں ہیں۔ میری آنکھوں میں کوئی سائے نہیں ہیں، جن سے تم ڈرو۔ تم ڈرو نہیں۔ میں تمہیں اس ویرانے میں، اس بہتی نہر کے کنارے ڈرانے نہیں آیا۔ میں اپنے آپ کو تنہائی سے نکالنا چاہتا ہوں اور تم ہو کہ بات ہی نہیں کر رہیں۔ تم کچھ تو کہو، مجھے یہ محسوس نہ ہو کہ میں اس سارے عالم میں تنہا ہوں۔“

”جی۔ ۔ ۔ جی۔ ۔ ۔ آپ کا نام کیا ہے؟“

”میں سلیم ہوں، مگر صرف نام کا، نہ صورت کا، نہ دل کا، نہ حالات کا، نہ پیار کا۔ میں بس نام کا سلیم ہوں۔“

”ایک بات پوچھوں؟“
”پوچھو، تم ہر وہ بات پوچھو، جس سے تم مجھے پہچانو اور میں تمہیں پہچان سکوں۔“
”آپ اس طرح بات کیوں کر رہے ہیں؟ مجھے تو کچھ بھی سمجھ نہیں آ رہا۔“

”تم چاہتی ہو کہ میں تمہارے ساتھ پیار بھری باتیں کروں اور پیسے وصول کروں؟ یہی ناں۔ ریشماں، اگر تم جانا چاہو تو جا سکتی ہو۔ میں تمہاری رات خراب کرنا نہیں چاہتا۔ یہ لو پیسے۔“

”سلیم صاحب، آپ تو ناراض ہو گئے، سلیم صاحب“

”ریشماں، تم چلی جاؤ۔ میں اکیلا ہی ٹھیک ہوں۔ مجھے تنہا چھوڑ دو کہ میں ان پرچھائیوں پر غور کر سکوں، جس میں زری اور ظفر کے سایوں کو ایک دوسرے میں گم ہوتا ہوا دیکھوں۔ میں ان پرچھائیوں کی تاریکی اپنے چہرے پر بچھانا چاہتا ہوں۔ میں اس زری کے ہونٹوں پر وفا کی نشانیوں سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں۔ میں ظفر کی اپنائیت اور پیار میں خود کو تلاش کرنا چاہتا ہوں۔ میں اسے زری کی آغوش میں دیکھ نہیں سکتا۔ مجھے ظفر چاہیے۔ ۔ ۔ مجھے زری چاہیے۔ ۔ ۔ مگر مجھے شاید کوئی نہیں چاہیے۔ میں اکیلا ہی ٹھیک ہوں۔“

”زری کون ہے؟“

”ریشماں، وہ کوئی نہیں ہے۔ تم چلی جاؤ۔ میں تمہیں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ تم چلی جاؤ گی تو میں خیالوں کے جال بنتا رہوں گا۔“

”یہ ٹھیک ہے کہ میں ریشماں ہوں اور زری نہیں ہوں، مگر اگر میں خود غرض بن کر چاہوں تو زری کی جگہ لے سکتی ہوں۔ اور شاید لے بھی لوں۔“

”شاید نہیں۔ تمہاری گفتگو میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ تم رات گزار کر چلی جاؤ گی اور شاید پھر مجھے کبھی بھی یاد نہ کرو۔ میں اگر اس تاریکی میں گہرا ڈوب جاؤں گا تو شاید آنکھ بھی نہ کھول سکوں۔“

”ایسے نہ کہیں۔ آپ کی تاریکی، آپ کی روشنی ہے۔ اگر آپ نے زری کو خلوص دیا ہوگا، تو وہ بھی آپ کو خلوص دے گی۔ سلیم صاحب، عورت اگر وفا کا مجسمہ نہیں ہے تو پیار کی طغیانی تو ہے۔ اگر وہ پلٹ جائے، تو پیار کے دریا بہہ پڑیں اور حیات کی آنکھوں میں مشعلیں جل جائیں۔“

”پیار۔ ۔ ۔ پیار کی طغیانی۔ ۔ ۔ حیات، حیات کی مشعلیں۔ ۔ ۔ ایسا مذاق میرے ساتھ کبھی ہوا نہیں ہے۔“

”آپ نے پیار کا جھولا جھولا ضرور ہے، مگر شاید اس کا جھونکا برداشت کرنے کی آپ میں طاقت نہیں ہے۔ آپ کا پیار آپ کو ملے گا۔ ظفر آپ کو ملے گا۔ زری لوٹ کر آئے گی اور دوستی اور پیار ہمیشہ قائم رہے گا۔ پر میں آپ کو فراموش نہیں کر پاؤں گی۔ میں جا رہی ہوں۔ اور شاید ہم پھر کبھی نہ ملیں۔ میں یہاں پیار اور اپنائیت کے سائے دیکھ رہی ہوں۔ شاید آپ اپنے آپ کو ان خیالات کے جال سے چھڑا سکیں اور اپنی غلط فہمیوں کو دور کر سکیں۔ آپ بہت اچھے ہیں، مگر الجھے ہوئے ہیں۔ آپ اچھے لگ رہے ہیں، مگر میرا جسم آپ سے دور ہی اچھا ہے۔“

”ریشماں۔ ۔ ۔ ریشماں۔ ۔ ۔ تم کہاں چلی گئیں؟ یہ اندھیرا۔ ۔ ۔ یہ پانی۔ ۔ ۔ یہ چمک۔ ۔ ۔ یہ دھیمی روشنی۔ ۔ ۔ یہ آب چشم۔ ۔ ۔ یہاں تو کوئی بھی نہیں ہے۔ شاید یہ میرا اپنا ہی جال ہے۔ میری اپنی انا ہے، جو ہر فرد اور ہر ماحول کے ساتھ الجھتی ہے۔ یہاں بھی تسکین نہیں ہے۔ میں شاید میں ہوں۔ اپنی انا کا غلام، اپنی سرکش انا کا کھلونا۔ ہر جگہ وفا اور پیار کا مجسمہ۔ اور مل رہی تھی بے وفائی کسی پیار کی۔ شاید یہی ہے بیوفائی انا کی۔ ۔ ۔ خودی کی۔“ !

”یہ میری قمیص کیوں پھٹ گئی ہے؟ یہ میرے سر سے خون کیوں بہہ رہا ہے؟ یہ میرے خون میں لال پتھر۔ ۔ ۔ یہ پوری فضا لال کیوں؟ شاید اپنی ہی انا زخمی ہو گئی ہے۔ انا مر رہی ہے۔ ۔ ۔ ہر طرف اندھیرا۔ ۔ ۔ کوئی روشنی کرو۔ ۔ ۔ یہ اندھیرا۔ ۔ ۔ یہ تاریکی۔ ۔ ۔“

”روشنی کہاں ہے؟ یہ آنکھوں کو چندھیانے والا کیا ہے؟ مستطیل۔ ۔ ۔ چوکور۔ ۔ ۔ تکون۔ ۔ ۔ میرا جسم اس تکون میں پھنس گیا ہے۔ مجھے یہاں سے نکالو۔ ۔ ۔ روشنی کرو۔ ۔ ۔ سویرا کرو۔ ۔ ۔ روشنی!“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply