” اپنے حق میں بولنا نہ آئے تو ہر کوئی بے عزتی کرتا ہے“ قسط نمبر 12

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک دن رات کھانے کے بعد انہوں نے مجھے سٹنگ روم میں ہی روک لیا کہ کوئی اہم بات کرنی ہے۔

”نفیس ہماری شادی کو تین سال ہونے والے ہیں۔ اور میرا خیال ہے کہ آج ہم اس موضوع پہ بات کر لیں تو بہتر ہے۔“ مجھے اندازہ ہوگیا کہ وہ شاید ہمارے ازدواجی تعلقات کے بارے میں بات کرنا چاہتے ہیں اور میرا اندازہ درست نکلا۔

”کیا تم نے کبھی مجھ میں ایک شوہر کے حوالے سے کشش محسوس کی؟“ بہت واضح، مختصر اور جامع سوال تھا۔ اس کا جواب بھی بہت جامع ہو سکتا تھا مگر کیسے؟ میں ان کے اتنے احسانات تلے ہونے کے بعد کیسے کہہ سکتی تھی کہ مجھے ان میں کبھی کشش محسوس نہیں ہوئی۔ میری خاموشی دیکھ کر وہی آگے بولے۔

”دیکھو اتنا وقت اس لیے لگ گیا کیونکہ ہم دونوں کو اس سوال کا جواب پتا ہے مگر ہم دونوں کو واضح طور پہ یہ ماننے میں اخلاقیات آڑے آ رہی ہے۔ نہ میں نے پیش قدمی کی نہ تم نے تقاضا کیا۔ یعنی ہم دونوں کی کیفیت ایک ہے۔ اور یہ بات اب واضح ہو جائے تو بہتر ہے۔ مجھے پتا ہے کہ میں ایک نارمل مرد ہوں اور تم ایک نارمل عورت۔ ہمیں ایک دوسرے سے کوئی اختلاف کوئی لڑائی نہیں مگر اس کے باوجود ہم دونوں ایک دوسرے میں کشش محسوس نہیں کرتے۔“

وہ کچھ لحظہ رکے
”پہلے تم سے یہ بات نہ کرنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ میں چاہتا تھا تم سائنسی اعتبار سے اس معاملے کو سمجھ سکو۔ ہم ہر کسی سے محبت کر سکتے ہیں، احترام کر سکتے ہیں مگر ہر کسی سے جسمانی کشش محسوس نہیں کر سکتے۔“

میں نے سمجھنے والے انداز میں سر ہلا دیا۔ یہ مجھے بھی اچھی طرح پتا تھا کہ ہم عموماً اسی میں کشش محسوس کرتے ہیں جس سے صحت مند نسل آگے بڑھ سکے۔

”دیکھو نفیس میں پہلے بھی اس رشتے کے حق میں نہیں تھا، ہمارے خاندان میں جینیاتی بیماریاں بہت بڑھ گئی ہیں۔ تمہیں پتا ہے میری اپنی دو بہنیں ذہنی مسائل کا شکار ہیں اس کے باوجود ان کی شادی خاندان میں ہی کی گئی۔ اب وہ دونوں صلاحیت نہ ہونے کے باوجود اپنے مکمل ذہنی معذور بچوں کو سنبھالنے کی کوشش کرتی ہیں۔ دیکھو معذور بچے برے نہیں ہوتے مگر جانتے بوجھتے انہیں ایسی زندگی دینا ظلم ہے۔ ہمیں ایک دوسرے میں قدرتی کشش ہوتی تو بات الگ تھی۔ مگر اس کا نہ ہونا مجھے یہ سوچنے پہ مجبور کر رہا ہے کہ یقیناً اس کا کہیں تو تعلق اس فیکٹ سے ہے کہ ہم ایک صحت مند نسل دنیا میں نہیں لا سکتے۔“

یا تو ان کی بات بہت جامع تھی یا شاید میری اپنی سائنس کے متعلق معلومات نے یہ باتیں سمجھنا آسان کر دیا تھا۔ مگر ان کی دلیل حقیقت پہ مبنی تھی۔

”تو آپ دوسری شادی کریں گے؟“
مجھے اور کچھ سمجھ نہیں آیا کہ کیا پوچھوں۔

”ہمم۔ ۔ ۔ یہیں آکر مسئلہ اٹک رہا ہے۔ میں تو دوسری شادی کر کے اپنی زندگی بنا لوں گا تم کیا ہمیشہ اس کاغذی رشتے کی قید میں رہو گی؟ اگر میں طلاق دیتا بھی ہوں تو تمہیں واپس اسی ماحول میں جانا پڑ جائے گا جہاں ناصرف تمہاری تعلیم چھڑوا دی جائے گی بلکہ دوبارہ تمہاری رائے کا احترام کیے بغیر کسی سے شادی کردی جائے گی۔ اگر تم سے پوچھ کے رشتہ طے کیا جانا ہوتا تو میں کب کا یہ رشتہ ختم کرچکا ہوتا۔“

”ایسا بھی تو ہو سکتا ہے کہ فی الحال صرف آپ شادی کر لیں۔ میں تعلیم مکمل کرتی ہوں، تب تک کوئی نہ کوئی حل سمجھ آ جائے گا۔“

پھر یہی طے پایا۔ میں نے قانونی طور پہ انہیں دوسری شادی کی اجازت دے دی دونوں کے گھر کی طرف سے اعتراضات ہوئے کیونکہ لڑکی کسی اور خاندان کی تھی۔ اور متقی سے اس کی ملاقات دونوں کے جابز کے سلسلے میں ہوتی تھی۔ تعلیم یافتہ اور سلجھی ہوئی لڑکی تھی اور اس کے گھر والے بھی اس کی رائے کا احترام کرتے تھے۔

مجھے ہمیشہ متقی کی اس بات نے متاثر کیا کہ وہ بغیر کوئی کشیدگی بڑھائے اپنے دلائل سے روایتی اعتراضات کرنے والوں کو مطمئن کر دیتے تھے۔ وہ اپنی زندگی کے فیصلوں میں دوسروں کی رائے کا احترام ضرور کرتے مگر انہیں اپنی زندگی میں بگاڑ کی اجازت نہیں دیتے اور بہت معاملہ فہمی کے ساتھ انہیں مطمئن کر کے وہی کرتے جو ان کا فیصلہ ہوتا اگر کبھی دوسرے کا مشورہ قابل قبول اور مثبت ہوتا تو اسے مانتے بھی ضرور تھے۔

یہ بتانے کا مقصد یہ کہ دوسری شادی کسی اور خاندان میں کرنے کی اجازت بھی انہوں نے لے لی اور فائزہ سے ان کی شادی کے بعد اسے بھی خاندان میں وہی احترام ملا جو مجھے متقی کی خاندانی بیوی ہونے کی حیثیت سے ملتا تھا۔

اس کے بعد کچھ ہی عرصے میں سب کچھ بہت تیزی سے بدلا۔ متقی کی دوسری بیوی، فائزہ مجھ سے کافی بڑی ہی تھی مگر میری بہترین دوست بن گئی۔ وہ تعلیم کے معاملے میں میری بہت مدد کرتی تھی۔ میں نے اس سے اعتماد، اپنے آپ سے محبت کرنا اور اپنی صلاحیتوں کا استعمال کرنا سیکھا۔ ان کی شادی کے تیسرے مہینے ہی فائزہ نے ایک نئی زندگی کی خبر سنا دی۔ وقت تیزی سے گزر رہا تھا میرا ماسٹرز شروع ہوگیا اور ہمارے گھر میں ایک پیاری سی گڑیا کا اضافہ ہوگیا۔

سیدہ تطہیر متقی۔ وہ بالکل فائزہ جیسی ہی تھی۔ مگر پھر وہ ہوا جس کا کسی نے شاید سوچا بھی نہیں تھا۔ تطہیر 4 ماہ کی تھی جب متقی اور فائزہ اسے میرے پاس چھوڑ کر تھوڑی دیر کے لیے بازار گئے مگر وہیں کسی نے ان پہ فائرنگ کردی۔ یہ کبھی پتا نہیں چل سکا کہ فائرنگ کرنے والا کون تھا مگر ڈھکی چھپی بات یہ سننے میں آئی کہ انہیں انہی کے چھوٹے بھائی نے مروایا تھا تاکہ والد کی موت کے بعد گدی نشینی اسے مل سکے وہ عموماً اس رائے کا اظہار کرتا رہتا کہ متقی اگر گدی نشین بن جاتے تو وہ تمام روایات کو ختم کردیتے اور سید گھرانے کا نام مٹی میں ملا دیتے۔

میرے پاس دو راستے تھے ایک تو یہ کہ میں واپس گھر والوں کے پاس چلی جاؤں اور دوسرا یہ کہ میں متقی کی دی ہوئی زندگی جیوں۔ اپنی زندگی جیوں۔ میں نے وہی کیا جو مجھے بہتر لگا۔ میں نے دو سال اپنی تعلیم میں وقفہ دیا اور تطہیر کی پرورش کا بہانا کر کے اسی گھر میں رکی رہی۔ میں نے بہت سوچا، میں ایک باحیا روایتی عورت کی طرح متقی کے نام اور تطہیر کے ساتھ اپنی پوری زندگی گزار سکتی تھی۔ مگر کیوں؟ معاشرے میں ایک ایسا امیج بنانے کے لیے میں ایسا فیصلہ کیوں کروں جس سے مجھے اور تطہیر کو کوئی فائدہ نہ ہو۔

جب کہ قانون اور شریعت کے مطابق میرے پاس ایک بہتر حل موجود تھا۔ لہٰذا میں نے متقی کا انداز اپنایا بہرحال میں عورت ہوں تو مجھے زیادہ مشکل کا سامنا ہوا مگر میں گھر والوں کو راضی کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ ماسٹرز کے آخری سال میری ملاقات ظفر منصور سے ہوئی اور ہمیں ایک دوسرے میں وہی کشش محسوس ہوئی جس کی مجھے اب تک کمی لگتی تھی۔ فیصلہ کرنے میں زیادہ وقت اس لیے نہیں لگا کیونکہ عموماً فیصلے لوگ کیا کہیں گے کی وجہ سے تعطل کا شکار ہوتے ہیں۔ جلد ہی میری شادی ظفر سے ہو گئی۔ اسے بہتر انداز میں کہوں تو ہم دونوں نے شادی کرلی۔ شادی کو موسمی بدلاؤ کی طرح نہیں ہونا چاہیے کہ ہو گئی اور اس پہ کرنے والوں کا کوئی بس نا ہو۔

ایک بہت عجیب بات یہ ہوئی کہ کئی بار میں تطہیر کو فائزہ کہہ جاتی۔ اس کے قریب ہونے سے مجھے فائزہ کے پاس ہونے کا احساس ہوتا۔ پھر میں نے بہت سوچ کر تطہیر کا نام فائزہ ہی رکھ دیا۔ اسے ہر بار فائزہ کہہ کر بلانا مجھے اندرونی اعتماد دیتا ہے۔ فائزہ میں متقی کی ذہانت اور اپنی ماں کا اعتماد پیدائشی ہے۔ اسے پتا ہے کہ وہ میری سگی بیٹی نہیں کیونکہ کسی کی سوتیلی بیٹی ہونا کوئی جرم نہیں اسے اس بات پہ بھی فخر ہے کہ وہ متقی اور فائزہ کی بیٹی ہے اور اس پہ بھی کہ میں اور ظفر اس کے قانونی والدین ہیں۔

فائزہ کی اپنی چھوٹے تین بہن بھائیوں سے بہت بنتی ہے انہیں ہوم ورک کرانا نئی چیزیں سیکھنے میں مدد کرنا فائزہ کا پسندیدہ مشغلہ ہیں۔ مجھے پتا ہے اس میں اور ارمغان میں وہی قدرتی کشش ہے اور یہی سب سمجھتے ہوئے میں نے فائزہ کو ہر لحاظ سے ذہنی طور پہ تیار کر دیا ہے۔ اسے ارمغان سے بات کرنے کے لیے ہم سے جھوٹ نہیں بولنا پڑتا۔ ارمغان ہمارے ساتھ غریب بچوں کو پڑھانے کے دوران بھی شامل تھا وہ دونوں ہی اتنے سمجھدار ہیں کہ اپنی پسندیدگی کو اچھی طرح سمجھتے ہوئے ایک دوسرے کو وقتی تسکین کے لیے استعمال کرنے کی بجائے ایک دوسرے کی شخصیت کو نکھارنے میں مدد کر رہے ہیں وہ دونوں ہر مثبت کام میں ایک ساتھ ہوتے ہیں۔ دیکھا جائے تو ان کے اس تعلق میں کچھ عرصے کی دوری آئے گی مگر ہمیں پتا ہے کہ ہم واپس یہیں آنا ہے کیونکہ ہماری صلاحیتوں کی سب سے زیادہ ضرورت ہمارے اپنے لوگوں کو ہے۔

————————————————

بسمہ اپنی ذات میں مقید ہوتی جا رہی تھی۔ میکے جائے نہ جائے کسی کو پروا ہی نہیں ہوتی کہ پوچھے وہ کیوں نہیں آئی جب کہ باقی دونوں بہنوں کے کسی ہفتے نہ آنے پہ امی خود فون کر کے پوچھتی تھیں اور اگر نہ پوچھ پائیں تو اگلی دفعہ آنے سے پہلے وہ جتانے کے لیے فون کرتیں کہ آپ لوگوں کو ہماری پروا ہی نہیں تو آنے کا کیا فائدہ؟ پھر باری باری امی، ابو، دادی، بڑے بھیا فون کر کر کے مناتے اور خاص دعوت کا اہتمام کیا جاتا۔ بسمہ کو کبھی بھی شکایت کی عادت ہی نہیں تھی تو نہ وہ شکایت کرتی تھی نہ کسی کو احساس ہوتا تھا کہ اس کی خیریت بھی پوچھنی چاہیے۔

زندگی یونہی معمول پہ گزر رہی تھی۔ اتنے مہینے گزرنے کے باوجود بچے کے بارے میں پوچھ تاچھ اس لیے شروع نہیں ہوئی تھی کیونکہ باسط نے ہی صاف الفاظ میں کہہ دیا تھا کہ دو سال تک کوئی ان سے اس متعلق نہ پوچھے اس کی تنخواہ اتنی نہیں کہ بچوں کے خرچے پورے کرسکے۔ وہ کیا چاہتی ہے اس سے پوچھنے کی زحمت ہی نہیں کی گئی۔

ایک دن معمول سے ہٹ کر دوپہر میں ہی باسط کا فون آ گیا
”بسمہ آج شام میں تیار رہنا ایک دوست کے گھر دعوت ہے“

بسمہ کافی حیران ہوئی کیونکہ باسط عموماً اسے، دوستوں کے گھر نہیں لے کر جاتا تھا۔ یہ سب دوست باہر ہی مل لیتے تھے۔ بس اس کی شادی پہ اس کے کچھ دوست اپنی بیگمات کو لائے تھی اور ایک آدھ ہی کے گھر شادی کے بعد دعوت ہوئی تھی۔ مگر یہ شاید وہ دوست نہیں تھا۔ باسط شام کو آفس سے آیا تو موڈ کافی خوشگوار تھا تیار ہوتے ہوتے خود ہی بتاتا جا رہا تھا

” احمد اور میں نے ایک ہی اسکول سے میٹرک کیا تھا پھر یہ لوگ دوسرے محلے میں شفٹ ہو گئے تھے۔ کالج تک رابطہ تھا پھر اس کی جاب لاہور میں ہو گئی تھی باقی گھر والے تو یہیں ہوتے ہیں۔ میری آج آفس میں ملاقات ہوئی تو پتا چلا اس کی بھی شادی ہو گئی دو سال پہلے، اتنا اصرار کر کے دعوت پہ بلایا ہے میں منع ہی نہیں کر پایا۔ ویسے بھی بہت اچھی فیملی ہے ہمارا کافی آنا جانا تھا ایک دوسرے کے گھر۔ امی صرف اسی کو آنے دیتی تھیں گھر میں اتنا شریف لڑکا ہے۔ بلکہ یہ کیا اس کے سب گھر والے ہی بہت شریف اور مہذب ہیں تم ملو گی تو تمہیں بھی اچھا لگے گا۔“ جتنی تفصیل سے باسط سب بتا رہا تھا اسی سے لگ رہا تھا کہ احمد اس کا کافی قریبی دوست ہے اور وہ اس سے مل کر بہت خوش بھی ہے۔

باسط کھانے کے وقت سے کافی پہلے ہی احمد کے گھر پہنچ گیا۔ سب سے پہلے احمد کی امی سے ملاقات ہوئی انہیں دیکھ کر بسمہ کو لگا انہیں کہیں دیکھا ہے کچھ عجیب سا ناخوشگوار سا احساس ہوا۔ انہوں نے بہت محبت سے لاونج میں لے جاکر بٹھایا احمد کی بیوی اپنی چند ماہ کے بیٹے کو بھی لائی وہ بھی کافی ملنسار لڑکی تھی۔ کچھ ہی دیر بعد احمد بھی آ گیا اسے دیکھ کر بسمہ کچھ لمحے کے لیے شاک میں رہ گئی بالکل ایسا لگ رہا تھا جیسے اسلم 26 یا 27 سال کا ہوگیا ہو۔ اسے اندازہ ہوا کہ احمد کی امی میں بھی انہی نقوش کی جھلک تھی۔ ان کے بہت ملنسار رویے کے باوجود بسمہ بہت بے چین ہو گئی۔ احمد کی بیوی ہی باتیں کیے جا رہی تھی بسمہ بس ہوں ہاں میں جواب دے رہی تھی۔

انہیں بیٹھے آدھا گھنٹا ہوا ہوگا کہ پیچھے سے کافی مانوس آواز آئی
”ارے باسط بھائی کہاں سے برآمد ہو گئے اتنے دن بعد“
آواز تھی یا کوئی بم بسمہ نے مڑ کے پیچھے دیکھا لاونج کے دروازے سے اسلم اندر آ رہا تھا۔

اسلم کو دیکھ کر بسمہ کا دل بیٹھ گیا۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ زندگی میں دوبارہ اس کا اسلم سے سامنا ہوگا اور وہ بھی اس طرح۔ بسمہ کے ہاتھ پاؤں ایک دم ٹھنڈے پڑ گئے۔ اسلم آگے آیا اس نے ایک نظر بسمہ پہ ڈالی صرف ایک لمحے کے لیے اس کی نظروں میں شناسائی کی جھلک آئی جو شاید صرف بسمہ کو ہی محسوس ہوئی ہو پھر وہ باسط کی طرف متوجہ ہوگیا۔

باسط بہت گرم جوشی سے اسلم سے ملا۔

” اور بھئی اسلم کیا ہورہا ہے آج کل؟ احمد کیا گیا شہر سے تم نے بھی دعا سلام چھوڑ دی ورنہ تو ہر وقت باسط بھائی باسط بھائی لگائے رکھتے تھے“ ۔ باسط نے ہلکے پھلکے انداز میں شکوہ بھی کیا۔

”بس باسط بھائی تب تو چھوٹا اتنا تھا میرے اپنے پاس تو موبائل تھا ہی نہیں۔ پھر آپ کا نمبر نہیں مل پایا۔ بھائی کے پاس جو نمبر تھا وہ بھی شاید آپ نے بدل لیا تھا۔“

”ہاں اصل میں آفس کی طرف سے دوسرا نمبر مل گیا تھا کچھ عرصے تو وہ سم بند ہی رہی پھر منگنی کے بعد وہ نمبر بسمہ کو دے دیا بس تب سے اسی کے پاس ہے۔“

”واہ آپ نے بھی شادی کرلی۔ مبارک ہو بہت۔ نہ بلانے کا شکوہ ہم کریں گے نہیں کیونکہ ہم بھی نہیں بلا پائے آپ کو بھائی کی شادی میں۔“

”ہاں اچھا یاد دلایا اس پہ تو ابھی میری احمد سے لڑائی رہتی ہے۔ شادی کر کے بیٹھ گیا بتانے کی زحمت ہی نہیں کی۔ تم بتاؤ آج کل کیا کر رہے ہو؟“

”بی ای میں ایڈمیشن کی تیاری کر رہا ہوں۔ دعا کریں ہو جائے“
”ارے تم نے انٹر کر لیا۔ لو بھلا بتاؤ ہمارے سامنے کے بچے کیسے بڑے ہو جاتے ہیں پتا بھی نہیں چلتا۔“
اس جملے پہ اسلم اور بسمہ نے غیر ارادی طور پہ ایک دوسرے کو دیکھا۔ پھر شاید اسلم ہی کو احساس ہوا۔
” باسط بھائی تعارف تو کرا دیں“

”ارے ہاں سوری یار یہ میری وائف ہیں تمہاری بھابھی، بسمہ۔ اور بسمہ یہ احمد کا سب سے چھوٹا بھائی اسلم، بلکہ سمجھو میرے لیے بھی بھائیوں جیسا ہی ہے تمہاری دیور کی کمی پوری کردے گا۔“

بسمہ بہ مشکل مسکرائی۔

اسلم ایک دو باتیں کر کے اپنے کمرے میں چلا گیا کھانا کہنے کو خوشگوار ماحول میں کھایا گیا مگر بسمہ کی حالت ایسی تھی کہ اس سے کچھ بھی نہیں کھایا گیا۔ احمد کی بیوی اصرار ہی کرتی رہی۔ خدا خدا کر کے واپسی کا وقت آیا۔ اور تب تک بسمہ کا دم سولی پہ اٹکا رہا کہ کہیں سے بھی کوئی ایسی بات نہ نکل آئے جس سے پتا چل جائے کہ اسلم اور بسمہ ایک ہی اسکول میں پڑھے ہیں۔ اس نے گھر آکر سکون کا سانس لیا۔ اس نے دل میں پکا عہد کر لیا کہ اب دوبارہ کبھی اسلم کے گھر نہیں جائے گی چاہے کوئی بھی جھوٹ بولنا پڑے۔

جیسے جیسے دن گزرتے جا رہے تھے بسمہ اور باسط اور دور ہو رہے تھے۔ باسط اب بسمہ سے صرف بہت ضرورت کی بات ہی کرتا۔ اس کا ماننا تھا کہ بسمہ میں اتنی عقل ہی نہیں کہ اس سے بندہ کوئی بات کر سکے۔ ہاں وہ اور نازیہ بھابھی شام میں لمبی لمبی گفتگو کیا کرتے تھے جس میں کئی بار وہ جتاتیں کہ تمہاری بیوی ابھی ناتجربہ کار ہے اس لیے اسے زیادہ نہیں پتا۔ اور کچھ لاپروا بھی۔ میں جب تک نہ بتاؤں وہ کوئی کام ڈھنگ سے کر ہی نہیں پاتی۔

ساتھ ہی ان دونوں کے آپس میں عجیب قسم کے مذاق بھی چلتے رہتے جو بہت دفعہ کافی معیوب قسم کے ہوتے تھے۔ بسمہ کا شدت سے دل چاہتا کہ امی نے اسے کم از کم اپنے حق کی بات کہنے کی تو عادت ڈالی ہوتی۔ پہلے تو فائزہ اسے ہمیشہ ایسے موقعوں پہ اچھی طرح جھاڑتی تھی کہ جب کسی کو جواب دینے کی باری آتی ہے تو تم کوما میں چلی جاتی ہو۔ صرف نازیہ بھابھی ہی کیا اس کا یہ رویہ دیکھ کر اب کوئی بھی اسے کچھ بھی بول جاتا اور وہ کھڑی منہ دیکھتی رہ جاتی۔ کیا ساس، کیا سسر، سنیہ دونوں جیٹھ زیبا باجی نازیہ بھابھی رافیعہ بھابھی ہر کوئی اس کی کم عقلی پہ کوئی نہ کوئی کمنٹ ضرور کرتا اور وہ چپ چاپ سنے جاتی۔

ایک دن وہی معمول کے مطابق وہ سالن پکا رہی تھی کہ نازیہ بھابھی کچن میں آئیں

”لو تم اب سالن پکا رہی ہو۔ بسمہ اتنی سستی اچھی نہیں ہوتی میری جان۔ میں تمہاری ہی بھلائی کے لیے ٹوکتی ہوں۔ اب دیکھو رات کے کھانے میں صرف ایک گھنٹہ رہ گیا ہے۔ کب سالن پکے گا کب روٹیاں پکیں گی۔ پھر باسط کو غصہ آتا ہے تو تمہارا منہ بن جاتا ہے۔ بھئی دیکھو مرد تو ہوتا ہی غصہ کا تیز ہے عورت کو ہی خیال کرنا پڑتا ہے کہ اسے غصہ نہ آئے۔“

”اور کیا جیسے بڑی چاچی رکھتی ہیں خیال، روز بازار سے ناشتہ منگوا کر ۔“
پتا نہیں کب فہد کچن میں آ گیا تھا۔
”فہد میرے تو تم منہ لگو ہی مت، تم جیسے جیسے بڑے ہو رہے ہو ساری تمیز ادب بھولتے جا رہے ہو۔“

”بڑی چاچی ادب کروانے کے لیے بندے میں کوئی ایک تو ایسی خصوصیت ہو آپ کوئی ایک بتا دیں“ نازیہ غصے میں کچن سے ہی نکل گئی

”فہد وہ بڑی ہیں آپ سے اس طرح نہیں کہا کریں“
بسمہ نے ایک بڑے کی حیثیت سے اسے ٹوکا

”چھوٹی چاچی ان کی عادت ہے جو ان کو جواب نہیں دیتا یہ اس کا جینا مشکل کر دیتی ہیں۔ شروع شروع میں سنیہ پھپھو کو بھی بہت تنگ کیا پھر امی نے سنیہ پھپھو کو سمجھایا تو کہیں جاکر ان کی جان چھوٹی۔“

”مگر میری عادت ہی نہیں ایسی میں کیا کروں“

”عادت نہیں ہے تو بدل لیں۔ اپنا میاں ان سے سنبھلتا نہیں آپ کے میاں کی فکر میں رہتی ہیں۔ اور آپ اتنی سادہ ہیں کے سامنے سب ہوتا دیکھ کر انجان بنی ہوئی ہیں۔“ اسے لگا فہد جو کہہ رہا ہے وہ اتنے دن اسی بات سے تو آنکھیں چرا رہی تھی۔

******۔ ۔ ۔ ۔ ۔ (جاری ہے ) ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ******

اس سیریز کے دیگر حصےمیک اپ اور پردہ، نسوانیت کے متضاد یا لازم جزو؟ قسط نمبر 11عورت ذات بہکنے کو ہر وقت تیار؟
Latest posts by ابصار فاطمہ (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ابصار فاطمہ

ابصار فاطمہ سندھ کے شہر سکھر کی رہائشی ہیں۔ ان کا تعلق بنیادی طور پہ شعبہء نفسیات سے ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ناول وافسانہ نگار بھی ہیں اور وقتاً فوقتاً نفسیات سے آگاہی کے لیے ٹریننگز بھی دیتی ہیں۔ اردو میں سائنس کی ترویج کے سب سے بڑے سوشل پلیٹ فارم ”سائنس کی دنیا“ سے بھی منسلک ہیں جو کہ ان کو الفاظ کی دنیا میں لانے کا بنیادی محرک ہے۔

absar-fatima has 88 posts and counting.See all posts by absar-fatima

Leave a Reply