یوول نوح حراری: اکیسویں صدی کے اکیس سبق (قسط نمبر6)۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اکیسویں صدی کے اکیس سبق – باب نمبر 2

آرٹ سے لے کر ہیلتھ کیئر تک ہر فیلڈ میں روایتی ملازمتوں کو جزوی طور پر نئی انسانی ملازمتوں کی تخلیق سے پورا کیا جائے گا۔ آج جو میڈیکل ڈاکٹر بیماریوں کی تشخیص اور ان کے علاج پر توجہ دیتے ہیں، شاید ان کی جگہ مصنوعی ذہین ڈاکٹر لے لیں۔ خاص اسی امر کی بدولت انسانی ڈاکٹروں اور لیب معاونین کو اہم تحقیقات کرنے، نئی ادویات کی تیاری اور جراحی کے جدید طریقہ کار وضع کرنے کے لیے زیادہ رقم دستیاب ہوگی۔

مصنوعی ذہانت مختلف انداز میں نئی انسانی ملازمتیں پیدا کرنے میں مدد کر سکتی ہے۔ اس لیے ہمیں مصنوعی ذہانت سے مقابلہ کرنے کی بجائے، اس سے خدمات لینے اور فائدہ اٹھانے پر توجہ دینی چاہیے۔ مثال کے طور پر ڈرون کی وجہ سے بہت سے انسانی پائلٹوں کی ملازمت ختم ہو گئی ہے، لیکن ڈرونوں کی مرمت کرنا، انہیں ریموٹ کنٹرول سے قابو کرنا، ان کے مہیا کیے گئے ڈیٹا کا تجزیہ کرنا اور سائبر سکیورٹی سمیت دیگر شعبوں میں ملازمت کے بہت سے مواقع پیدا ہوچکے ہیں۔

امریکی مسلح افواج کو شام میں اڑنے والے ہر بغیر پائلٹ ’پرڈیٹر‘ یا ’ریپر ڈرون‘ کو چلانے کے لیے تیس افراد کی ضرورت ہے، جبکہ دستیاب معلومات کا تجزیہ کرنے کے لیے مزید کم از کم اسی لوگوں کی ضرورت ہے۔ 2015 میں امریکی فضائیہ کے پاس ان تمام عہدوں کو پر کرنے کے لیے مناسب تربیت یافتہ افراد کی کمی تھی، اس لیے پائلٹ کے بغیر اڑنے والے طیاروں کے استعمال میں اسے بحران کا سامنا تھا۔

اگر یہ بات درست ہے تو 2050 کی جاب مارکیٹ میں انسان اور مصنوعی ذہانت کے درمیان مقابلہ کی بجائے تعاون کرنے کی خصوصیت ہوگی۔ پالیسی سازی سے لے کر بینکاری تک کے شعبوں میں انسانوں اور مصنوعی ذہانت کی ٹیمیں انسانوں اور کمپیوٹر دونوں کو مات دے سکتی ہیں۔ 1997 میں آئی بی ایم کمپنی کے شطرنج کے پروگرام ’ڈیپ بلیو‘ کے ’گیری کاسپاروف‘ کو شکست دینے کے بعد انسانوں نے شطرنج کھیلنا چھوڑ نہیں دیا۔ بلکہ مصنوعی ذہانت کو تربیت دینے والوں کی ہی بدولت شطرنج کے ماہرین پہلے سے بہتر ہو گئے۔ کم از کم ایک دفعہ مختصر وقت کے لیے ہی سہی، مگر وہ وقت بھی آیا جب انسانی اور مصنوعی ذہانت سے لیس ’سینٹورس‘ کے نام سے جانی جانے والی شطرنج کی ٹیموں نے انسان اور کمپیوٹر دونوں کو شکست دی۔ اسی طرح مصنوعی ذہانت تاریخ کے بہترین جاسوسوں، بینکروں اور سپاہیوں کی صلاحیت کو مزید نکھار سکتی ہے۔

تاہم اس طرح کی تمام نئی ملازمتوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ شاید اعلیٰ سطح کی مہارت کا تقاضا کریں گی اور اس لیے بے روزگار ہنرمندوں کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنا، انسانوں کو دوبارہ تربیت دے کر ان کے قابل بنانے کی نسبت زیادہ آسان عمل ہو سکتا ہے۔ آٹومیشن کی سابقہ تبدیلی کے دوران لوگ کم ہنر والی نوکری سے نسبتاً زیادہ ہنر والی نوکری میں چلے گئے تھے۔ 1920 میں زراعت کے میدان میں مشینری کے استعمال کے سبب بیروزگار ہونے والے افراد کو ٹریکٹر تیار کرنے والی فیکٹری میں ملازمت مل گئی۔ 1980 میں ایک بے روزگار فیکٹری ملازم ایک سپر مارکیٹ میں کیشیر کے طور پر کام کرنا شروع کر سکتا تھا۔ یعنی اس طرز کی پیشہ ورانہ تبدیلیاں ممکن تھیں، کیونکہ کھیتوں سے فیکٹری اور فیکٹری سے سپر مارکیٹ تک ملازمت کے حصول کے لیے محدود تربیت کی ضرورت تھی۔

لیکن 2050 میں اگر ایک کیشیر یا ٹیکسٹائل فیکٹری کا مزدور کسی روبوٹ کی وجہ سے ملازمت سے محروم ہوجاتا ہے تو شاید ہی وہ شخص سرطان کے محقق کے طور پر، ڈرون آپریٹر کی حیثیت سے یا پھر انسانی مصنوعی ذہانت کی بنکاری ٹیم کے ممبر کے طور پر کام کرنا شروع کر سکے گا۔ کیونکہ اس کے پاس ان شعبوں میں کام کرنے کے لیے ضروری پیشہ ورانہ مہارت نہیں ہوگی۔ آج ڈرون آپریٹر اور اعداد و شمار کے تجزیہ کاروں کی شدید کمی کے باوجود امریکی فضائیہ ’والمارٹ‘ سے خارج شدہ لوگوں سے یہ خلا پر کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ آپ کسی بھی غیر تجربہ کار فرد کی تقرری پسند نہیں کریں گے کیونکہ عین ممکن ہے کہ وہ غلطی سے اعلی سطح کی طالبان کانفرنس کی بجائے افغان شادی کی تقریب کو نشانہ بنا لے۔

ان حقائق کے پیش نظر بہت ساری نئی ملازمتوں کے وجود میں آنے کے باوجود ہم ایک نئے بیکار طبقے کے عروج کو دیکھ سکتے ہیں۔ شاید ہمیں دونوں اطراف میں بدترین حالات کا سامنا ہو، یعنی بیک وقت بہت زیادہ بے روزگاری اور ہنرمند افراد کی کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ بہت سے لوگ انیسویں صدی کے ان ویگن ڈرائیوروں کی طرح خوش نصیب نہیں ہوں گے جنہوں نے ٹیکسی ڈرائیوری کی طرف رخ کر لیا تھا، بلکہ ان کا حال انیسویں صدی کے گھوڑوں جیسا ہوگا جنہیں جاب مارکیٹ سے مکمل طور پر نکال باہر کیا گیا۔

اس کے علاوہ، مستقبل میں کوئی بھی نوکری آٹومیشن کے خطرے سے محفوظ نہیں ہوگی، کیونکہ مشین لرننگ اور روبوٹکس اپنے آپ کو اپ ڈیٹ کرتے رہیں گے۔ ایک چالیس سالہ بے روزگار والمارٹ کیشیر جو سپرمین کی کوششوں سے خود کو ڈرون پائلٹ کے طور پر قابل بنانے میں کامیاب ہوگیا تھا، اسے دس سال بعد پھر اپنے آپ کو اپ ڈیٹ کرنا ہوگا کیونکہ شاید اس وقت تک ڈرون کی اڑان بھی خود کار ہوچکی ہوگی۔ اس اتار چڑھاؤ سے یونینوں کو منظم کرنے یا مزدوروں کے حقوق کا تحفظ کرنے میں دشواری ہوگی۔ جدید معیشت میں بہت ساری نئی ملازمتیں عارضی کام، فری لانسنگ اور جزوقتی غیر محفوظ کام کے گرد گھومتی ہے۔ آپ کسی بھی ایسے پیشے میں یونین کیسے بنا سکتے ہیں جو ایک دہائی کے اندر پروان چڑھتا ہے اور ختم ہوجاتا ہے؟

شطرنج کی دنیا پر گہری نظر ڈالنے سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ بالآخر چیزوں کا رخ کس سمت میں ہوگا۔ یہ حقیقت ہے کہ ’ڈیپ بلیو‘ نے ’کاسپاروف‘ کو شکست دینے کے بعد کئی سالوں تک شطرنج کے میدان میں انسان اور کمپیوٹر کے باہمی تعاون کو فروغ دیا۔ تاہم حالیہ برسوں میں کمپیوٹر شطرنج کھیلنے کے لیے اتنے اچھے ہو گئے ہیں کہ ان کے انسانی دوست اپنی قدر کھو بیٹھے ہیں اور شاید جلد ہی یہ اس میدان سے بھی باہر ہوں گے۔

دسمبر 2017 کو ایک اہم سنگ میل طے پایا۔ جب کمپیوٹر نے کسی انسان کو شکست نہیں دی (کیونکہ اب یہ کہانی پرانی ہوچکی ہے ) بلکہ گوگل کے ’الفا زیرو پروگرام‘ نے ’اسٹاک فش 8‘ پروگرام کو شکست دی۔ 2016 میں کمپیوٹر کی شطرنج کی دنیا کا چیمپئن ’اسٹاک فش 8‘ تھا۔ اس پروگرام کو شطرنج کے میدان میں انسانوں کے کئی صدیوں کے تجربات کے ساتھ ساتھ کئی دہائیوں کے کمپیوٹر تجربات تک بھی رسائی حاصل تھی۔ یہ ایک سیکنڈ کے اندر شطرنج کی ستر لاکھ ممکنہ پوزیشنوں کا حساب لگا سکتا ہے، جبکہ اس کے مقابلے میں ’الفا زیرو‘ فی سیکنڈ صرف 80,000 پوزیشنوں کا حساب کتاب کر سکتا ہے۔

اس کے انسانی تخلیق کاروں نے اسے کبھی بھی شطرنج کی کوئی حکمت علمی نہیں سکھائی (حتی کہ کھیل شروع کرنے کے مستعمل ابتدائیہ گر بھی نہیں بتائے ) ، بلکہ ’الفا زیرو‘ نے سب کچھ مشین لرننگ کے جدید ترین اصولوں کو استعمال کرتے ہوئے اپنے خلاف کھیل کر سیکھا ہے۔ اس کے باوجود، ’اسٹاک فش 8‘ کے خلاف ’الفا زیرو‘ نے کھیلے گئے ایک سو مقابلوں میں اٹھائیس مرتبہ کامیابی حاصل کی اور باسٹھ بار کھیل برابر رہا، جبکہ یہ ایک بار بھی نہیں ہارا۔ چونکہ ’الفا زیرو‘ نے کسی انسان سے کچھ نہیں سیکھا تھا، لہذا اس کے بہت سارے فاتحانہ اقدامات اور حکمت عملی غیر روایتی نظر آتے ہیں۔ ’الفا زیرو‘ کے ان اقدامات کو ذہانت کی بجائے تخلیقی سمجھا جائے گا۔

کیا آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ’الفا زیرو‘ کو شطرنج کے ابتدائی اصول سیکھنے، ’سٹاک فش 8‘ کے خلاف میچ کھیلنے کی تیاری کرنے اور اپنی جبلی ذہانت کو پروان چڑھانے میں کتنا وقت لگا؟ اسے صرف چار گھنٹے لگے۔ ایسا غلطی سے نہیں کہا جا رہا ہے۔ صدیوں سے شطرنج کو انسانی ذہانت کا تاج سمجھا جاتا ہے۔ الفا زیرو نے کسی انسانی ہدایت اور مدد کے بغیر صرف چار گھنٹوں میں مکمل لاعلمی سے تخلیقی ذہانت کا سفر طے کر لیا۔

اس وقت الفا زیرو کوئی خیالی سافٹ وئیر نہیں ہے، بلکہ اس کے علاوہ بھی بہت سارے کمپیوٹر پروگرام انسانی شطرنج کے کھلاڑیوں کو نہ صرف حساب کتاب میں ہرا سکتے ہیں بلکہ تخلیقی چالیں بھی چل سکتے ہیں۔ اب تو شطرنج کے انسانی مقابلوں میں ججز مسلسل ایسے کھلاڑیوں کی کھوج میں رہتے ہیں جو خفیہ طور پر کمپیوٹر سے مدد لے کر جیتنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس دھوکا دہی کو پکڑنے کا ایک طریقہ کار یہ ہے کہ جج صاحبان کھلاڑی کی چال چلنے کے انداز پر نظر رکھیں کیونکہ کمپیوٹر اور انسان کے شطرنج کی چال چلنے میں واضح فرق ہے۔ کم از کم شطرنج کے میدان میں نت نئی چالوں کی تخلیق انسانوں کی بجائے کمپیوٹر کا ٹریڈ مارک ہے۔ اس وقت ہمیں یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ آج جس طرح مصنوعی ذہین شطرنج کی ٹیمیں انسانوں پر سبقت لے جا رہی ہیں، اسی طرح پالیسی بنانے، طب اور بینکاری میں بھی مصنوعی ذہانت انسان سے آگے نکل جائے گی۔

اس لیے نئی ملازمتوں کو پیدا کرنے اور ان پر لوگوں کی بھرتی کرنے کا عمل صرف ایک بار نہیں ہوگا، کیونکہ مصنوعی ذہانت کا انقلاب صرف ایک بار کا حادثہ نہیں ہوگا۔ یہ بیوقوفی ہوگی اگر انسان امید رکھیں کہ جاب مارکیٹ میں ایک نیا توازن قائم ہو جائے گا۔ بلکہ یہ رکاوٹوں بڑھتی ہوئی آبشار کی مانند ہوگا۔ آج کے وقت میں پہلے ہی بہت سارے ملازمین ایک ہی جگہ ساری زندگی کام کرنے کی توقع نہیں کرتے ہیں۔ 2050 تک انسان کی ’زندگی بھر کے لیے ایک ہی نوکری‘ کرنے کی ناصرف سوچ ختم ہو جائے گی بلکہ ’زندگی بھر ایک ہی پیشے سے وابستہ رہنے‘ کا خیال بھی فرسودہ ہوچکا ہوگا۔

لیکن اگر ہم باقاعدگی سے نئی نوکریاں نکالتے رہیں اور افرادی قوت کو دوبارہ سے تربیت دے سکیں، تو کیا یہ ایک حیران کن امر نہیں ہوگا کہ ایک عام انسان میں اس قدر جذباتی صلاحیت ہو کہ وہ اس طرز کے نا ختم ہونے والے اتار چڑھاؤ کو برداشت کرسکے۔ تبدیلی کا عمل ہمیشہ ہی انسان کو دباؤ کا شکار کرتا ہے۔ اکیسویں صدی کے ابتدائی حصہ میں مصروف ترین دنیا نے پہلے ہی تناؤ کی عالمی وبا پیدا کی ہوئی ہے۔ جونہی جاب مارکیٹ اور انفرادی نوکریوں کا اتار چڑھاؤ پیدا ہوگا تو کیا لوگ اس کا مقابلہ کر سکیں گے؟

غالباً ہمیں دباؤ کو کم کرنے والی (اعصاب کو پرسکون کرنے والی ادویات سے لے کر مراقبہ کی مشق تک) موثر طریقہ کار پر عمل پیرا ہونا پڑے گا، تاکہ انسانوں کو دماغ کی ٹوٹ پھوٹ سے بچایا جا سکے۔ 2050 تک ایک بیکار کلاس جنم لے گی جس کا سبب نوکریوں کی مکمل طور پر عدم دستیابی یا متعلقہ نوکری کے لیے مطلوب قابلیت کی کمی نہیں ہوگا بلکہ اس کا سبب ناکافی ذہنی برداشت ہوگی۔

بلاشبہ اس وقت جتنی بھی باتیں کی جا رہی ہیں یہ مستقبل سے متعلق پیشین گوئیاں ہیں۔ جس وقت یہ تحریر لکھی جا رہی ہے (یعنی 2018 کے ابتدائی حصہ میں ) اس وقت تک آٹو میشن کے عمل نے بہت ساری صنعتوں کو تباہ و برباد کر دیا ہے۔ لیکن فی الحال اس کے نتیجے میں ایک بڑے پیمانے پر بیروزگاری نہیں پھیلی ہے۔ درحقیقت بہت سارے ممالک میں (جیسا کہ امریکہ) بیروزگاری تاریخ کی سب سے کم ترین سطح پر ہے۔ لیکن اس سلسلے میں کوئی بھی یقینی طور پر نہیں جانتا ہے کہ مستقبل میں مشین لرننگ اور آٹومیشن کے مختلف پیشوں پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔

اب چونکہ متعلقہ پیش رفتوں کا انحصار خا ص طور پر ٹیکنالوجی کی ترقی اور کامیابی کی بجائے سیاسی فیصلوں اور ثقافتی روایات پر ہوتا ہے، اس لیے یہ اندازہ لگانا قدرے مشکل ہے کہ ہر معاشرے میں تبدیلی کی رفتار کس قدر تیز یا سست ہوگی۔ اسی طرح جب خود کار گاڑیاں انسانوں کی نسبت خود کو زیادہ محفوظ اور سستا ترین ثابت کردیں گی تو شاید سیاست دان اور صارفین کئی سالوں تو کیا کئی دہائیوں تک اس تبدیلی کو روک رکھیں۔

تاہم جہاں ہم کھڑے ہیں وہی کھڑے رہ کر اپنے آپ کو مطمئن نہیں کر سکتے ہیں۔ یہ فرض کرنا خطرناک ہے کہ کسی بھی نقصان کی تلافی کے لیے کافی زیادہ ملازمتیں وجود میں آ جائیں گی۔ یہ بات سچ ہے کہ آٹومیشن کی سابقہ ترقی میں ایسے مواقع پیدا ہو گئے تھے، مگر اس بات کی بالکل بھی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ اکیسویں صدی کے بالکل مختلف حالات میں بھی ویسا ہی ممکن ہوگا۔ ممکنہ معاشرتی اور سیاسی اتھل پتھل کافی تشویشناک ہے، اگرچہ بڑے پیمانے پر بیروزگاری کے امکان کم ہیں، لیکن پھر بھی ہمیں اس مسئلے کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔

انیسویں صدی میں صنعتی انقلاب نے نئے حالات اور مسائل پیدا کیے، جن کا مقابلہ اس وقت کے سماجی، معاشی اور سیاسی ادارے نہ کرسکے۔ جاگیرداری، بادشاہت اور روایتی مذاہب کو بڑی بڑی صنعتوں، لاکھوں بیروزگار مزدوروں اور جدید معیشت کی مسلسل تبدیل ہوتی ہوئی صورتحال کے مطابق نہیں ڈھالا گیا تھا۔ اس لیے انسانیت کو کلی طور پر لبرل جمہوریتیں، اشتراکی آمریت اور فاشسٹ حکومتوں جیسے نئے ماڈل تیار کرنے پڑے اور ان ماڈلوں کے ساتھ تجربات کرنے، خام مال سے کارآمد مواد اخذ کرنے اور بہترین حل پر عمل پیرا ہونے میں ایک صدی سے زیادہ کی جنگوں اور انقلابات کا وقت لگا ہے۔ ان سب کاوشوں میں سے ڈکنسن کی کوئلہ کی کان میں بچوں کی مزدوری، پہلی جنگ عظیم اور 1932۔ 33 میں یوکرائن میں آنے والے شدید نوعیت کے قحط انسانیت کی طرف سے ادا کی جانے والی قیمت کا تھوڑا سا حصہ ہیں۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی اور بائیو ٹیکنالوجی کی وجہ سے اکیسویں صدی میں انسانیت کو درپیش چیلنج سابقہ دور میں بھاپ کے انجن، ریلوے اور بجلی سے بہت زیادہ بڑا ہے۔ ہماری تہذیب کی اس انتہائی تباہ شدہ حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم مزید تباہ حال نمونہ، عالمی جنگیں اور خونی انقلابات کے متحمل نہیں ہوسکتے، کیونکہ اگر اس بار ہم ناکام ہو گئے تو اس کا نتیجہ ایٹمی جنگ، جینیاتی طور پر تیار کردہ آفات اور نظام زندگی کی مکمل تباہی ہے۔ اس لیے ہمیں اس قدر بہترین حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے، جتنی ہم نے صنعتی انقلاب کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنائی تھی۔

اس سیریز کے دیگر حصےاکیسویں صدی کے اکیس سبق: موزارت بمقابلہ مشینروبوٹکس ٹیکنالوجی اور روز گار کا بحران
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *