جنرل ضیا الرحمن اور بنگلہ دیش میں طاقت کی کشمکش کی خون ریز تاریخ

ریحان فضل - بی بی سی ہندی سروس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

25 مئی سنہ 1981 کو بنگلہ دیش کے صدر جنرل ضیا الرحمن نے اپنے فوجی سیکریٹری سے کہا کہ وہ 29 مئی کو چٹاگانگ کا دورہ کریں گے۔ اس فیصلے سے سکیورٹی ایجنسیوں میں تشویش پیدا ہو گئی کیونکہ جب ضیا نے چٹاگانگ جانے کا فیصلہ کیا تو انھوں نے چٹاگانگ کے جی او سی میجر جنرل محمد ابوالمنظور کا تبادلہ ڈھاکہ کرنے کے حکم پر بھی دستخط کردیے۔

جنرل منظور کو یہ تبادلہ پسند نہیں آیا۔ حالانکہ انھیں اس عہدے پر فائز ہوئے ساڑھے تین سال ہوچکے تھے۔ ان کے زخموں پر نمک چھڑکتے ہوئے جنرل ضیاء نے انھیں یہ بھی کہلوا دیا تھا کہ 29 مئی کو جب وہ پاٹینگا ہوائی اڈے پر پہنچیں تو انھیں وہاں موجود رہنے کی ضرورت نہیں۔

اس کے لیے یہ عذر پیش کیا گیا کہ صدر سیاسی دورے پر جارہے ہیں لہذا جی او سی کا ہوائی اڈے پر ہونا ضروری نہیں ہے۔ منظور نے جنرل ضیا کے اس حکم کو اپنی ذاتی بے عزتی کے طور پر لیا۔ اس کے پیچھے کچھ وجوہات تھیں۔

ایک تو بنگلہ دیش کی بحری فوج کے سربراہ ریئر ایڈمرل ایم اے خان جنرل ضیاء کے جہاز میں آ رہے تھے۔ دوسرے ایر وائس مارشل صدرالدین محمد حسین پاٹینگا ہوائی اڈے پر جنرل ضیاء کا استقبال کرنے والے تھے۔

جنرل منظور اور ان کے ماتحت افسران نے کئی بار ڈھاکہ میں جنرل ضیاء کے فوجی سیکریٹری کو فون کرکے پوچھا کہ انھیں ہوائی اڈے کی استقبالیہ کمیٹی سے الگ کیوں کیا جارہا ہے حالانکہ وہ اس علاقے میں فوج کے سب سے بڑے افسر ہیں۔

آخر کار ضیاء کےفوجی سیکریٹری میجر جنرل صادق الرحمن چودھری کو کہنا پڑا ‘آپ کیوں نہیں سمجھتے؟ اگر ضیا آپ کو وہاں نہیں چاہتے تو آپ وہاں جانے کی ضد کیوں کررہے ہیں۔’

خفیہ محکمے نے نظر انداز کیا

فورسز انٹیلیجنس کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل محبت جان چودھری نے بار بار جنرل ضیاء کو مشورہ دیا تھا کہ آپ اپنا چٹاگانگ دورہ یکم جون تک ملتوی کردیں۔

اُسی دن جنرل منظور کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنی نئی پوسٹنگ پر ڈھاکہ رپورٹ کریں۔ نہ صرف یہ بلکہ جب ضیاء چٹاگانگ جارہے تھے تو چودھری نے ان سے درخواست کی کہ وہ رات چٹاگانگ میں نہ گزاریں اور اسی شام ڈھاکہ واپس چلے جائیں لیکن ضیا نے ان کی یہ بات بھی نہیں مانی۔

جب 25 مئی کو ایک انٹرویو کے سلسلے میں منظور کے نزدیکی دوست لیفٹیننٹ کرنل مطیع الرحمان ڈھاکہ گئے تو ان کے پرانے دوست لیفٹیننٹ کرنل محفوظ الرحمان نے (جو اس وقت جنرل ضیا کے ذاتی عملے کے افسر تھے) انھیں میجر جنرل منظور کے تبادلے کے بارے میں بتایا۔

مطیع الرحمان اس خبر سے بہت ناراض ہوئے اور جب انھیں بتایا گیا کہ ضیا 29 مئی کو چٹاگانگ جارہے ہیں۔ اسی کے بعد جنرل ضیاء کے قتل کی سازش شروع ہوئی۔

25 مئی کی جنرل ضیا کا مصروفیت

اس دنیا میں جنرل ضیاء کے آخری دن کی شروعات آسان تھی۔ صبح نو بجے وہ بنگلہ دیش بیمان کی خصوصی پرواز سے چٹاگانگ کے لیے روانہ ہوئے۔ اس کے بعد وہ چٹاگانگ کے سرکٹ ہاؤس پہنچنے جہاں انھوں نے ہلکا پھلکا ناشتہ کیا۔ چائے اور بسکٹ کھانے سے پہلے ان کے ذاتی معالج لیفٹیننٹ کرنل مہتاب الاسلام نے اس کھانے کو چکھا، صدر کے ڈاکٹر ان کے فوڈ ٹیسٹر کا کردار بھی ادا کررہے تھے۔

اپنی کتاب ‘بنگلہ دیش اے لیگسیسی آف بلڈ’ میں ، مشہور صحافی اینتھونی میسکرینہاس نے جنرل ضیا کی اس دن کی تفصیل میں لکھا ہے کہ ‘ہلکے ناشتے کے بعد سرکٹ ہاؤس کی پہلی منزل کے برآمدے میں ضیا نے اپنے پارٹی ورکرز کے ساتھ دو گھنٹے میٹنگ کی۔ اس کے بعد جمعہ کی نماز کے لیے میٹنگ کو روک دیا گیا۔ جب جنرل ضیاء سفید کرتا پاجاما پہن کر چاک بازار کی چندن پورہ مسجد گئے تو وہاں موجود لوگوں نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔

نماز کے بعد وہ اپنی پارٹی کے ساتھیوں کے ساتھ دوپہر کا کھانا کھانے سرکٹ ہاؤس واپس آئے۔ ضیا کو تیل اور مصالحے والا کھانا پسند نہیں تھا لہذا ن کے لیے ہلکا کھانا تیار کیا گیا اور سرکٹ ہاؤس کے برامدے میں ہی کھانے کا انتظام کیا گیا۔ اس کے بعد انھوں نے ڈیڑھ گھنٹہ آرام کیا۔ وہ شام پانچ بجے چائے کے لیے اٹھے تھے۔ اس کے بعد انھوں نے گراؤنڈ فلور پر کانفرنس روم میں شہر کے نامور لوگوں کے اجتماع سے خطاب کیا۔

صبح نو سے گیارہ بجے کے درمیان انھوں نے اپنی پارٹی کے نو اراکان سے بات کی۔ اسی دوران چٹاگانگ کمشنر سیف الدین احمد اور پولیس کمشنر اے بی ایم بدرالزمان بھی کچھ منٹ کے لیے ان سے ملنے آئے۔ رات کے تقریباً گیارہ بجے انھیں رات کا کھانا دیا گیا۔ کھانے سے پہلے ان کے ڈاکٹر نے ایک بار پھر ان کا کھانا چکھا۔ آدھی رات کو انھوں نے ڈھاکہ فون کر کے اپنی اہلیہ خالدہ ضیا سے 15 منٹ بات کی۔ یہ ان کی آخری گفتگو تھی۔ جب تقریباً ساڑھے بارہ بجے ضیا نے اپنے کمرے کی بتی بجھائی تو چٹاگانگ کے آسمان میں ایک شدید طوفان نے دستک دی اور موسلا دھار بارش شروع ہوگئی۔

قاتلوں کی میٹنگ

ضیا نے اپنے عملے سے کہا کہ صبح 6.45 پرانھیں بیڈ ٹی کے لیے جگا دیں۔ فیصلہ کیا گیا کہ اگر تب تک طوفان تھم گیا توایک گھنٹے بعد ڈھاکہ کے لیے روانہ ہوجائیں گے۔

اسی دوران شہر کے باہر چھاونی میں ان کے قاتل انھیں مارنے کی تیاری کر رہے تھے۔ ہر شخص کو الگ الگ ذمہ داری سونپی گئی تھی۔

112 سگنل کے میجر معروف رشید کی ذمہ داری تھی کہ وہ صبح سویرے ڈھاکہ سے تمام مواصلاتی رابطوں کو توڑ ڈالیں۔

جنرل ضیاء الرحمن کے قتل کے بعد جاری کردہ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ‘کرنل مطیع نے اس رات صدر کے پرنسپل سٹاف آفیسر اور اپنے پرانے دوست لیفٹیننٹ کرنل محفوظ الرحمان سے ٹیلی فون پر بات کر کے بتا دیا تھا کہ اس رات جنرل ضیا کو راستے سے ہٹانے کی کوشش کی جائے گی اور کرنل محفوظ نے ضیا کے کمرے کے باہر تعینات دو مسلح پولیس محافظوں کو ہٹا دیا تھا۔

قرآن مجید پر حلف

کرنل مطیع الرحمان نے 11 اور 28 مشرقی بنگال کے تمام افسران کی ایک میٹنگ شام 11:30 بجے طلب کی۔

اس میٹنگ میں میجر مومن، میجر غیاث الدین احمد، کیپٹن مُنیر، کیپٹن جمیل حق، کیپٹن معین الاسلام اور کیپٹن غیاث الدین احمد سمیت کل چھ افسران شریک ہوئے۔ کرنل مطیع نے اندر سے کمرہ بند کیا اور قرآن شریف لے کر آئے۔

انھوں نے کمرے میں موجود لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ‘دوستو ہم جو کچھ بھی کرنے جا رہے ہیں وہ اپنے ملک اور اس کے عوام کے مفاد اور انصاف کے لیے کر رہے ہیں اگر آپ ہمارے ساتھ ہیں تو قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر کہیں کہ جو بھی ضروری ہوگا ہم وہ کریں گے۔ اگر آپ میں سے کوئی یہ نہیں کرنا چاہتا ہے تو وہ اس کمرے سے باہر جاسکتا ہے۔ لیکن میری صرف ایک گزارش ہے کہ وہ اس کے بارے میں کسی کو کچھ نہ بتائے۔’

کسی نے بھی اختلاف نہیں کیا۔ سب نے باری باری قرآن پر ہاتھ رکھ کر یہ حلف اٹھایا۔ اس کے بعد سب نے فوجی وردی پہنی اور ایک ایک مشین گن اٹھا لی۔

تین جماعتیں تشکیل دیں

جب ان آفسران کی ٹیم کلورگھاٹ پہنچی تو موسلا دھار بارش ہو رہی تھی۔ سب سے پہلے وہاں پہنچنے والے لیفٹیننٹ کرنل محبوب تھے جو اپنے تین ساتھیوں کے ساتھ اپنی سفید ٹویوٹا کار میں وہاں پہنچے تھے ۔

ایک گھنٹے میں 18 آفسران اور دو جے سی او بھی وہاں پہنچ گئے۔ لیفٹیننٹ کرنل مطیع الرحمان ان سب کی قیادت کر رہے تھے۔ ان سب کے پاس 11 سب مشین گنیں، تین دستی راکٹ لانچر اور تین دستی بموں سے چلنے والی رائفلیں تھیں۔ وہ سب مکمل طور پر بھری ہوئی تھیں اور وہ کارروائی کے لیے تیار تھے۔

اس حملے کے لیے تین ٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں، پہلی دو جماعتوں کی ذمہ داری سرکٹ ہاؤس کے اندر جانا تھا۔ تیسری پارٹی سرکٹ ہاؤس کے پیچھے الماس سنیما کے نزدیک تعینات تھی۔ کہا یہ گیا تھا کہ اگر کوئی سرکٹ ہاؤس سے فرار ہونے کی کوشش کرتا ہے تو اسے فوراً گولی مار دی جائے۔

ضیا پر حملہ کرنے کے لیے مطیع الرحمان نے چھ لوگوں کا انتخاب کیا، محبوب، لیفٹیننٹ کرنل فضل حسین، خالد اور کیپٹن جمیل حق، کیپٹن محمد عبدالستار اور لیفٹیننٹ رفیق الحسن خان۔

کمرہ نمبر نو میں جہاں جنرل ضیاء الرحمان تھے وہاں حملے کی ذمہ داری فضل حسین اور کیپٹن ستار کو سونپی گئی تھی۔

دوسری ٹیم میں مطیع کے ہمراہ میجر قاضی مومن الحق، مظفر حسین، کیپٹن الیاس اور صلاح الدین احمد اور لیفٹیننٹ مصلح الدین بھی تھے۔ یہ بیک اپ ٹیم تھی اور ان کا کام باہر سے کسی مداخلت کو روکنا تھا۔

ہینڈ راکٹ لانچر سے حملے کی شروعات

یہ تینوں ٹیمیں صبح 3:30 بجے کلورگھاٹ سے دھیمی رفتار سے موسلا دھار بارش کے دوران سرکٹ ہاؤس کی طرف روانہ ہوگئیں۔

بنگلہ دیش کے سابق صدر جنرل ضیا

Getty Images

بعد میں شائع ہونے والے دستاویز کے مطابق سب سے آگے چلنے والی جیپ میں سوار لیفٹیننٹ رفیق الحسن خان نے لیفٹیننٹ کرنل فاضلی سے پوچھا ‘کیا آپ صدر کو مارنے جا رہے ہیں؟ جس پر لیفٹیننٹ کرنل فضیلی نے کہا نہیں ہم انہیں صرف پکڑیں گے۔’

حملہ آور دونوں ٹیمیں بغیر کسی روک ٹوک کے سرکٹ ہاؤس میں داخل ہوگئیں۔ اس عمارت کا مرکزی دروازہ جان بوجھ کر کھلا چھوڑ دیا گیا تھا۔

وہاں تعینات چار فوجیوں نے حملہ آوروں کو اندر آنے کی اجازت دے دی۔ جب وہ سرکٹ ہاؤس کے سامنے پہنچے تو لیفٹیننٹ کرنل فضل حسین نے ایک کے بعد دو راکٹ لانچر فائر کیے۔ اس کی وجہ سے ضیا کے کمرے کے نیچے والے کمرے کی دیوار میں ایک بڑا سا سوراخ ہوگیا۔ اس فائرنگ کا مقصد سرکٹ ہاؤس میں رہنے والے لوگوں کو خوفزدہ کرنا اور اپنی پارٹی کے لوگوں کو یہ اشارہ دینا تھا کہ آپریشن شروع ہوچکا ہے۔

اس کے بعد دستی بم، راکٹ اور مشین گن سے فائرنگ شروع ہوگئی۔ سب سے پہلے مرنے والے پہلے پولیس کانسٹیبل لال میاں تھے جو وہاں ڈیوٹی کر رہے تھے۔

ان کے سر میں گولی لگی تھی۔ اس کے بعد وہاں ڈیوٹی پر موجود مسلح پولیس اہلکاروں نے احتجاج نہیں کیا۔ کچھ لوگ بھاگ گئے اور کچھ چھپ گئے۔

قتل کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کے مطابق لال میاں کے علاوہ صرف تین پولیس اہلکار گولیوں سے زخمی ہوئے تھے۔

سرکٹ ہاؤس میں تعینات صدر گارڈ رجمنٹ کے سپاہی بھی کچھ نہیں کرسکے۔ دو محافظ جنھیں صدر کے بیڈروم کے سامنے کھڑے ہونا چاہیے تھا وہ بھی نیچے ملے۔

سول انکوائری کمیشن کی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ایک دوسری ٹیم نے صبح چار بجے ان لوگوں کی جگہ لے لی تھی لیکن یہ لوگ ان کی آمد سے پہلے ہی نیچے چلے گئے تھے۔

جب فائرنگ شروع ہوئی تو ضیا کی حفاظت کرنے والے کچھ فوجیوں نے ان کے کمرے کی طرف جانے کی کوشش کی۔ لیکن وہ زیادہ آگے نہیں بڑھ سکے۔

حملے کے ابتدائی لمحات میں ہی ان میں سے چار ہلاک ہوگئے اور دو بُری طرح زخمی ہوئے۔ جنرل ضیا کے بیڈ روم کی حفاظت کے لیے پہلی منزل پر ایک بھی سکیورٹی گارڈ نہیں تھا۔

اس ساری کارروائی میں حملہ آوروں میں سے کوئی بھی سرکٹ ہاؤس کے سکیورٹی گارڈز کے ہاتھوں ہلاک یا زخمی نہیں ہوا۔ زخمی ہونے والے دو افراد کو اپنے ہی ساتھیوں کی گولی لگی۔

بنگلہ دیش کے سابق صدر جنرل ضیا

Getty Images

لیفٹیننٹ کرنل فضل حسین بیک اپ ٹیم کی فائرنگ سے بری طرح زخمی ہو گئے۔ اسی طرح کیپٹن جمیل حق کو بھی اپنے ہی ساتھیوں کی گولی لگی۔

زخمی ہونے کے باوجود، جمیل پہلی منزل کے برآمدے تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئےجہاں انھوں نے صدر کے ذاتی محافظ نائک رفیق الدین کو گولی مار کر زخمی کردیا۔

صدر کے چیف سکیورٹی آفسر لیفٹیننٹ کرنل معین الاحسن اور صدر گارڈ رجمنٹ کے کیپٹن اشرفی خان پہلی منزل کے پیچھے کے کمروں میں سو رہے تھے اور دھماکے کی آواز سن کر جاگ اٹھے وہ اپنی بندوق لےکر صدر کی حفاظت کے لیے بھاگے لیکن اس سے پہلے کہ وہ اپنی بندوقیں استعمال کرپاتے حملہ آوروں نے راہداری میں ہی انھیں مار گرایا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 14115 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp