وہ دن پھر لوٹ کر آئیں گے


زندگی سہم گئی ہے محبوس ہو کر رہ گئی ہے! ہر قدم پھونک پھونک کر اٹھایا جاتا ہے کہ کہیں کوئی ”خوف“ گھات لگائے نہ بیٹھا ہو۔ مگر ایسا جینا کب تک؟ ہمیں اس افسردہ و آزردہ فضا سے نجات کب ملے گی، کچھ معلوم نہیں؟ اتنا مگر ضرور ہے کہ ملے گی سہی، کیونکہ کہا جا رہا ہے کہ ایسا سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہوا ہے، لہٰذا وہ منصوبہ ناکام ہو گا!

اب حالت یہ ہے کہ لوگ ایک طرح سے مقید ہیں، وہ پہلے کی طرح زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں مگر انہیں ایسا نہیں کرنے دیا جا رہا۔ کیوں؟ کیوں کہ کہا جا رہا ہے ان کی زندگیوں کو خطرہ ہے جی بالکل خطرہ ہے، مگر اتنا نہیں جتنا بتایا جا رہا ہے، اگر وہ چند اصولوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہیں، پھر سب ٹھیک ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ انہیں روشنیوں میں آنے دیا جائے، سورج کو دیکھنے دیا جائی!

یہ طے ہے کہ جو پیدا ہوا ہے اس نے ایک روز مرنا ہے مگر غیر طبعی موت کا دکھ اور افسوس شدید ہوتا ہے لہٰذا پابندی پر پابندی عائد کی جا رہی ہے مگر زندگی کی سانسوں کو بحال کرنے کا سامان بھی تو چاہیے اس کے لیے کچھ راستے کھلے رکھے گئے ہیں جہاں لوگ محنت مشقت کے بعد چند نوالے روٹی کے حاصل کرتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ بازاروں میں شاہراؤں میں لوگ جس طرح پھرتے ہیں کہیں کوئی المیہ جنم نہ لے لے، مگر دوسری جانب یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ قوت مدافعت انہیں محفوظ بھی رکھ سکتی ہے۔ ایسا ہو بھی رہا ہے، بہت سے لوگ جو متاثر ہو رہے ہیں صحت یاب بھی ہو رہے ہیں۔

مگر خوف بعض کی زندگیاں نگل رہا ہے۔ معذرت کے ساتھ حکمران اس پہلو کی جانب توجہ نہیں دے رہے۔ وہ گھروں کے اندر رہنے کی ہدایات جاری کر رہے ہیں، جب کہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سبھی کو متاثر ہونا ہی ہے۔ عرض تو اتنی کہ ان بے بسوں کو ان غریبوں کو ان محکوموں اور غمگینوں کو سرکاری سطح پر حوصلہ دینے کا اہتمام کیا جائے، پھر نظر آئے گا، قوت مدافعت عود آئی ہے، وہ تازہ دم ہو گئے ہیں، اندیشوں اور وسوسوں کی فصیل سے باہر آ گئے ہیں۔ ایک گزارش یہ بھی ہے کہ سیر گاہوں کو کھول دیا جائے۔ ایک طریقہ کار وضع کر لیا جائے۔ چلیے سارا دن نہ سہی صبح و شام ہی سہی چند گھنٹوں کے لیے ہی کھلا رکھا جائے، تا کہ خالص آکسیجن پھیپھڑوں میں لی جا سکے۔ مگر نہیں، یہ کا م نہیں کیا جا رہا۔ سب کچھ کھول دیا گیا ہے مگر کھلے نہیں تو پارک! اب تو کھلی فضا جہاں کچھ لوگ بیٹھ رہے ہوں، انہیں بھی اٹھا دیا جاتا ہے۔ نہر کنارے بھی کسی کو بیٹھنے نہیں دیا جا رہا۔

ادھر صحت کے اداروں کا حال پہلے ٹھیک تھا، نہ اب ہے۔ پہلے بھی غریب کراہ رہا تھا، آج بھی زندگی کی بازی ہار رہا ہے۔ مہنگی دوائیں اور غذائیں اس کے بس میں نہیں وہ جائے تو کہاں جائے! گھٹ گھٹ کر مرنے والی بات ہے۔

تصور میں بھی نہیں تھا کہ ایسے دن آئیں گے۔ خاک نشینوں نے تو سہانے خواب دیکھے تھے، وہ چاند کی چاندنی میں مل کر بیٹھنا چاہتے تھے۔ نوجوانوں نے اپنے جیون کو حسین اور توانا بنانے کا سوچ رکھا تھا، مگر یہ کیا ہو گیا۔ آناً فاناً سب بدل گیا۔ ہم ایک دوسرے سے بچھڑ گئے۔ ملنے کو غیر اہم سمجھنے لگے۔ سب کچھ نئی ٹیکنالوجی سمیٹ کر لے گئی۔ بھلا انسان ایسے کیسے زندہ رہ سکتے ہیں اور اگر یہ سلسلہ آگے بڑھتا ہے تو پھر دنیا واقعتاً پاگل کہلائے گی۔ کوئی کسی کا نہ ہو گا کوئی کسی کو نہیں جانے گا۔ ہاں تو پھر خوف کہاں کھڑا ہو گا۔ ذرا سوچیے۔

؎ اب کہ ہم بچھڑے تو کون کسے پہچانے گا
وقت کی اڑتی دھول ہمارے چہروں پر جم جائے گی

احتیاط برتی جائے مگر اس حد تک نہیں کہ انسان کا اندرونی نظام ڈگمگا جائے۔ وہ ذہنی مریض بن جائے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ حکومت ان باتوں کو با ضابطہ طور سے عام کرے اور لوگوں کی ڈھارس بندھائے۔ ویسے اب تک ایسا بندوبست نہ ہونے کے باوجود بھی عوام تھوڑے بے خوف بھی ہو گئے ہیں۔ انہیں اپنی زندگی سے محبت بھی ہے مگر ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر بھی اختیار کریں گے اور سفر حیات بھی جاری رکھیں گے۔

یہ دیکھ کر اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ بہت جلد ہر طرف سے قہقہوں کا شور بلند ہونا شروع ہو سکتا ہے کیونکہ تحقیق کا عمل بہت آگے جا چکا ہے جو اس اداسی اور چہروں پر چھائی پژمردگی کو ختم کر دے گا۔ ایک کیفیت کبھی برقرار نہیں رہ سکتی کے مصداق وہ دن ضرور لوٹیں گے، جن میں بانسریا کی صدا دور دور تک سنی جاتی تھی۔

Facebook Comments HS