وبا کا اداس موسم، کچھ یادیں، کچھ پچھتاوے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


کچھ جی کے بہلانے کو، اور کچھ پیش بندی کے طور پر گھر کے کونے کھدروں، میز کی درازوں، بریف کیس اور لیپ ٹاپ کو کھنگالنا شروع کیا ہے۔ وبا کی اس اداس کر دینے والی شب کے اندر تاریک کونے کھدروں میں بہت کچھ ہے کہ جس کو ٹھکانے لگانا ضروری ہے۔ ریحام خان کی خود نوشت کو کئی ماہ پہلے ڈاؤن لوڈ کیا تھا، ابتدائی چالیس پچاس صفحات کے بعد مشقت کی مزید ہمت نہ ہوئی۔ اگرچہ وہ مواد کہ جس نے خود نوشت کو شہرت بخشی، اس کے بارے میں تجسس برقرار رہا اس بیچ مگر کچھ خفت، کچھ بے زاری اور کچھ احساس زیاں نے آن لیا۔ منٹو نے جج صاحب سے درخواست کی تھی کہ فحش نگاری کا الزام اس پر دھرنے کی بجائے ان سے سوال کیا جائے جو مذہبی کتابوں سے بھی لذت کشید کرتے ہیں۔

جنرل ضیا کے مارشل لا کا غالباً پہلا سال تھا کہ ایک مذہبی جماعت نے جوش صاحب کی ’یادوں کی بارات‘ کو فحش کتاب قرار دے کر اس پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ میری عمر یہی کوئی تیرہ چودہ برس تھی۔ اخبار میں کتاب سے لے کر کچھ اقتباسات چھاپے گئے تھے۔ وہ فقرے یا الفاظ جو ناقابل بیان سمجھے گئے، ان کو نقطوں کے ذریعے دکھایا گیا تھا۔ انگریزی محاورے کے مطابق، نقطوں کو ملانے کے لئے ضخیم کتاب میں نے چند ہی روز میں اول سے آخر تک پڑھ ڈالی۔ جوش صاحب کے پے در پے، یکسانیت کے شکار اور بظاہر بے ضرر معاشقوں سے حاصل ہونے والی شدید مایوسی کے علاوہ، مجھے تو اس کتاب سے کچھ ہاتھ نہ آیا۔

آنے والے دو چار گلابی ماہ و سال میں گالوں پر بنتے پھوٹتے گرم دانے ہی منٹو اور عصمت چغتائی سے تعارف کا بنیادی محرک بنے۔ دور لفٹینی میں سڈنی شیلڈن، ہیرالڈ رابنز اور ان جیسوں کی طرف متوجہ ہونے کے پس پشت بھی بنیادی طور پر یہی جذبہ کار فرما رہا۔ ہمارے گھر میں ہماری بلی ہڈی کی تلاش میں پوری کیاری کھود ڈالتی ہے۔ انگریزی فکشن پڑھنے کے پیچھے مجھے تو میری یہی جستجو نظر آتی ہے۔ کیاری کھودتے کھودتے ہی ان برسوں میں ڈی ایچ لارنس کو بھی پڑھا۔ ان کی باتیں کم ہی پلے پڑیں۔ بھلا ہو گوروں کا کہ ان کے ناول پر اوپر تلے فلمیں بنا ڈالیں۔ اب تو اس دور میں پڑھی جانے والے کتابوں کے محض دھندلے خاکے ہی دماغ میں بوسیدہ جالوں کی طرح لٹکتے رہ گئے ہیں۔ منٹو کو کھولے ایک زمانہ بیت گیا۔

اگرچہ نوجوانی کے دور میں اردو کے کئی مشاہیر سے بھی تعارف حاصل ہوا تاہم ان آتشیں سالوں میں کتابوں کو پڑھنے کے پیچھے اکثر حیوانی جذبات ہی کار فرما رہے۔ چار عشروں کے بعد جو ایک بار پھر ریحام خان کی کتاب کو ڈاؤن لوڈ کرنے کا محرک بنے تھے۔ وبا کے موسم میں اس کتاب کی فائل اپنے لیپ ٹاپ سے ڈیلیٹ کرتے ہوئے، مجھے یہ اعتراف کرنے میں کوئی عار نہیں کہ گزرے چار عشروں میں میرا ادبی ذوق بلند ہونے کی بجائے پست ہی ہوا ہے۔ ’یادوں کی بارات‘ سے لے کر ’ریحام خان‘ تک کے سفر کی داستان ہمارے معاشرے کے اکثر نوجوانوں کی کہانی ہے۔ اکثر زندگی کے مفید ماہ و سال کھو دیتے ہیں۔ وقت برباد کرنے کا کام اب انٹرنیٹ سے لیتے ہیں۔

گئے سالوں اوپر تلے جمع ہونے والی کتابوں کے ڈھیر کے سامنے عمر کی بچی کچھی نقدی کا حساب دیکھتا ہوں، تو اداسی کا احساس ہوتا ہے۔ ہر نئی ہجرت میں میری جو ہم سفر رہیں۔ ہر بار سوچا فرصت ملے گی تو پڑھیں گے۔ کچھ سروسز بک کلب سے ملتی رہیں ان میں سے کچھ پڑھیں، کچھ آدھی پڑھیں، تو کچھ اب بھی نئی نویلی پڑی رہیں۔

جہاں کئی کتابوں کو بار بار پڑھا تو وہیں کئی کتابیں ایسی بھی ہیں کہ جو ہزار جتن کے بعد ہاتھ لگیں مگر کھولا تو بیکار پایا۔ 2007 میں چھپنے والی عائشہ صدیقہ کی کتاب بہت تردد کے بعد ملی تھی۔ میں ان دنوں سوڈان میں تعینات تھا۔ کاش بھارتی ساتھیوں کی وساطت سے کوئی کام کی چیز منگوا لیتا۔ فوج کے اندر لوکل آڈیٹر ہوتے ہیں جو یونٹوں اور فارمیشنز کا آڈٹ کرتے ہیں۔ معمولی نکات اور آڈٹ اعتراضات پر مبنی ان آڈیٹروں کی ابتدائی رپورٹس میں بہت دلچسپ مواد ہوتا ہے۔ افسوس کہ عائشہ صدیقہ کی کتاب اس خصوصیت سے بھی عاری نظر آئی۔ ایک اور ممنوعہ کتاب جسے کسی زمانے میں بہت تگ و دو سے حاصل کیا تھا، بھٹو صاحب کی ’اِف آئی ایم اساسینیٹڈ‘ کے نام سے بھارت میں چھپی تھی۔ کتاب کے مندرجات کے درست ہونے یا نا ہونے سے قطع نظر محض یہ امر کہ کتاب انتہائی نا مساعد حالات کے اندر لکھی گئی، مصنف کی غیر معمولی ذہانت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

بھٹو صاحب کے علاوہ بھی دنیا بھر میں زندانیوں نے لاتعداد کتابیں لکھی گئی ہیں۔ ان میں سے کئی جیل سے لکھے گئے مکاتیب پر مبنی ہوتی ہیں۔ دوران اسیری، جواہر لال نہرو کے اپنی بیٹی اور مولانا ابوالکلام آزاد کے نواب صدر یار جنگ کو لکھے گئے خطوط پر مبنی بالترتیب ’مختصر تاریخ اقوام عالم‘ اور ’غبار خاطر‘ ایسی ہی کتابوں میں شامل ہیں۔ انگریزی میں لکھے گئے خطوط پر مبنی کتاب میں نہرو محض اپنی یاداشت کے بل بوتے پر پوری دنیا کی تاریخ کا احاطہ کرتے ہیں۔ ان کے مد نظر یقیناً سولہ سالہ اندرا گاندھی کا مستقبل ہوگا۔

کہا جاتا ہے کہ بھٹو صاحب بھی کچھ اسی مقصد کے پیش نظر اکثر نوجوان بے نظیر کو بیرونی دوروں اور اہم عالمی رہنماؤں سے ملاقاتوں میں شامل رکھتے تھے۔ اپنے نواز شریف دو ہاتھ آگے بڑھ کر نا صرف بیٹی بلکہ نواسے نواسیوں کو بھی بیرونی دوروں میں ساتھ رکھتے تھے۔ غالب امکان یہی ہے کہ ایک سے زیادہ نسلوں کی تربیت ان کے پیش نظر رہی ہو گی۔

مولانا آزاد کی کتاب اس لحاظ سے منفرد ہے کہ وہ اس کڑی قید میں لکھی گئی کہ جہاں ان کا بیرونی دنیا سے رابطہ منقطع اور خطوط کا تبادلہ تک ناممکن تھا۔ نہرو کی طرح ہی محض اپنی یادداشت پر انحصار کرتے ہوئے مگر ان سے کہیں بڑھ کر عمیق اور متنوع معاملات کا احاطہ مولانا نے اپنے چوبیس خطوط میں کیا ہے۔ رات کے پچھلے پہر تین برس کی اسیری کے دوران لکھی گئی نثر کا اسلوب ایسا تھا کہ جسے پڑھ کر حسرت موہانی کے لئے اپنی نظم میں مزا جاتا رہا۔

قیام پاکستان کے فوراً بعد دونوں رہنما نئی بھارتی حکومت کو میسر آئے۔ نو آزاد ملک کے وزیر اعظم کی حیثیت سے پنڈت نہرو نے نا صرف خود کو ایک مدبر عالمی رہنما کے طور پر منوایا بلکہ اپنے سولہ سال دور وزارت عظمیٰ میں تمام تر مشکلات کے باوجود ایک طاقتور اور منظم فوج کی آنکھوں کے سامنے سولین جمہوری اداروں کو مضبوط بنیادوں پر استوار کیا۔ مولانا آزاد نے ان کی کابینہ میں ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم کا عہدہ سنبھالا۔

یادش بخیر، ہماری طرف غالباً 1953 میں مذہبی جماعتوں کی طرف سے قادیانی وزیر خارجہ کو برطرف کرنے اور پھر قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیے جانے کا مطالبہ اس شدت سے اٹھایا گیا تھا کہ پر تشدد ہنگاموں پر قابو پانے کے لئے فوج کو طلب کرنا پڑ گیا۔ لاہور میں پاکستان کی تاریخ کا پہلا مارشل لا نافذ ہوا۔ امن بحال ہوا تو مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کی قیادت میں فوج کو شہر میں صفائی ستھرائی کی مہم کی ذمہ داری سونپی گئی۔ مہم کی کامیابی پر ہمارے ’ڈان‘ اخبار نے لکھا، ’۔ لاہور میں مارشل لا کی یادیں آنے والے طویل عرصے تک تازہ رہیں گی۔ شہر کو دی گئی نئی شکل جنرل اعظم اور ان کے جوانوں کی شاندار کارکردگی کا واضح ثبوت ہے۔‘
وبا کی اس اداس رات میں بہت سے اندھیرے کونے کھدرے ہیں، جن کو کریدنا، ان میں بکھری یادوں اور کچھ پچھتاووں کو سمیٹنا اور اگر ہو سکے تو بروقت ٹھکانے لگانا اشد ضروری ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *