وبا کے دنوں میں سیاحت کی اجازت، مگر قیمت کون چکائے گا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عید سے پہلے لاہور میں کیے گئے ایک تحقیقی جائزے میں مجموعی طور پر کم از کم چھ لاکھ سے زیادہ لوگ شہر میں کرونا کے وائرس سے متاثر پائے گئے ہیں۔ یہ شرح بعض علاقوں میں کل آبادی کی ساڑھے چودہ فیصد تک ہے اور کم سے کم چھ فیصد بتائی گئی ہے جو ماہرین طب کے نزدیک باعث تشویش ہے۔ یہ بات بھی ذہن نشین کرنے کی ہے کہ اس جائزے میں وبا کی روک تھام کے لئے بندشوں میں عید پر خریداری کے لئے دی گئی چھوٹ کے نتیجے میں متاثر ہونے والے شامل نہیں۔ اس سے بڑی تشویش کی بات یہ ہے کہ کرونا سے متاثر زیادہ تر لوگ بیماری کی بغیر کسی علامت کے پائے گئے جو خاموشی سے دوسروں کو وائرس کی منتقلی کا ذریعہ بن رہے ہیں۔

کراچی کے حالات لاہور سے کم خراب ہرگز نہیں یہاں تو عوامی نمائندے اور قانون سازی کرنے والے بشمول بنفس نفیس گورنر کسی قسم کے وائرس کی موجودگی سے انکاری رہے ہیں اور صوبائی حکومت کی طرف سے وبا کی روک تھام کے لئے عائد بندشوں کے خلاف روز اول سے محاذ آرائی کیے ہوئے ہیں۔

دوسری طرف پاکستان کے کم ترقی و تعلیم یافتہ اور دور دراز کے علاقے خود اختیار کردہ حفاظتی اقدامات کی بدولت ابھی تک اس وبا سے کسی حد تک محفوظ رہے ہیں۔ صوبہ خیبر پختونخوا جہاں اس بیماری سے ہونے والی شرح اموات ملک بھر میں سب سے زیادہ ہونے کے باوجود یہاں کے دور دراز نیم قبائلی اضلاع کالا ڈھاکہ، کوہستان بشمول چترال کے ابھی تک وبا سے زیادہ متاثر نہیں ہوئے ہیں۔ بلوچستان میں بھی صورت حال اس سے مختلف نہیں کیونکہ وہاں کے دور دراز کے کم ترقی یافتہ اضلاع موسیٰ خیل اور کوہلو بارکھان وغیرہ سے بری خبریں سننے کو نہیں آ رہی ہیں۔

چاروں صوبوں کے بعد آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی کرونا کی وبا کے دوران لوگ متاثر ضرور ہوئے ہیں مگر ان کی تعداد اور شرح کراچی، لاہور اور پشاور سے کم رہی ہے۔ جب پورے ملک میں رمضان اور عید کے دوران مساجد میں با جماعت نماز و تراویح اور بازاروں میں خریداری کی چھوٹ دی گئی تو آزاد کشمیر میں بندشیں جاری رہیں۔ ایسا کرنا یہاں کی حکومت کے لئے یقیناً کوئی آسان کام نہیں تھا مگر حکومتوں کو مشکل حالات میں غیر مقبول فیصلے کرنے پڑتے ہیں تاکہ نقصان کم سے کم ہو۔ یہ آزاد کشمیر کی حکومت کے وہ سخت فیصلے تھے جن کے نتیجے میں یہاں کرونا سے متاثر ہونے والوں کی تعداد ملک بھر میں سب سے کم رہی ہے۔

گلگت بلتستان اس وبا کے ابتدائی دنوں میں سب سے زیادہ متاثر ہوا جس کی وجہ تفتان کے راستے ایران کے سفر سے آنے والے اور لاہور کے تبلیغی مرکز میں شرکت کرنے والے یہاں کے مقامی باشندے تھے۔ حکومت بڑی دانشمندی کے ساتھ متعلقہ برادریوں کے زعما اور مشاہیر کی مشاورت اور ان کے تعاؤن سے اس وبا کے پھیلاؤ کو محدود کرنے میں کسی حد تک کامیاب ہو گئی تھی۔ اس دوران کراچی، لاہور اور راولپنڈی کے شہروں میں لگی بندشوں سے متاثر گلگت بلتستان کے لوگوں خاص طور پر طلبہ کی گھروں کو واپسی کا فیصلہ کیا گیا جس کی وجہ سے یہ وبا ایک بار پھر پھیلنے لگی ہے۔

گلگت بلتستان میں صحت کی سہولیات ناپید ہیں۔ پورے علاقے میں عامتہ الناس کے لئے کوئی ٹیچنگ ہسپتال تو درکنار صحیح معنوں میں ثانوی درجے کا کوئی ہسپتال بھی موجود نہیں۔ سرکاری طور پر گلگت کے ضلعی ہسپتال (ڈی۔ ایچ۔ کیو) کو صوبائی ہیڈ کوارٹر میں واقع ہونے کی وجہ سے صوبائی ہیڈ کوارٹر (پی۔ ایچ۔ کیو) ہسپتال کہا جاتا ہے جو صحت کی سہولتوں میں پورے ملک میں ایک منفرد نام اور درجہ ہے۔ کرونا وائرس کے ٹسٹ کرنے کی صلاحیت اور رفتار پورے ملک میں سب سے کم ہونے کی وجہ سے بروقت تشخیص اور علاج کے مسائل کے علاوہ وبا کے پھیلاؤ کا تدارک بھی ممکن نہیں ہو پاتا۔

وزیر اعظم پاکستان عمران خان دنیا کے ان معدودے چند حکمرانوں میں سے ایک ہے جو کرونا کی وبا کو زیادہ خطرناک اور جان لیوا نہیں سمجھتے۔ اس وبا کو پھیلنے سے روکنے کے لئے واحد متفقہ صلاح لاک ڈاؤن یا لوگوں کو اپنے گھروں تک محدود رکھنے کو معاشی قتل سمجھنے والے ان حکمرانوں کا خیال ہے کہ چونکہ ٹریفک حادثات اور دیگر بیماریوں سے اموات کرونا سے کہیں زیادہ ہوتی ہیں اس لئے لوگوں کو اس سے گھبرانے کی ضرورت نہیں۔

رمضان میں مساجد، عید پر خریداری کے لئے مارکیٹیں کھولنے اور شاپنگ کی آزادی دینے کے بعد اب وزیر اعظم نے ملک میں سیاحت کی اجازت دینے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ گرمیوں کے موسم میں سیاحت کا زور صوبہ خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے پہاڑی مقامات پر ہوتا ہے اس لئے وہاں کی حکومتوں سے کہا گیا ہے وہ سیاحت کو کھولنے کے لئے ایس او پیز بنائیں۔

سیاحت کی اجازت دینے سے ان علاقوں میں لوگوں کی آمد و رفت زیادہ ہوگی جو کم ترقی یافتہ اور بنیادی شہری سہولیات بشمول صحت کے مراکز سے محروم ہیں۔ اب تک ان علاقوں میں لوگوں نے رضاکارانہ بندشوں سے خود کو محفوظ کیا ہوا تھا جو اب حکومت کی طرف سے سیاحت کی اجازت کے بعد ممکن نہیں رہے گا۔ ٹورازم بورڈ کی ایس او پیز کے مطابق ہوٹل سینی ٹائزر اور ماسک کا انتظام کریں گے جس کو حفاظت کے لئے کافی سمجھا گیا ہے۔ پورے ملک میں نام نہاد ایس او پیز پر جیسے دیگر شعبوں میں عمل ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔

ہسپتالوں پر پڑنے والے کرونا کے مریضوں کا بوجھ کوئی دیکھ نہ پایا، اس وبا سے گرتے مرتے ڈاکٹروں اور طبی عملہ کی چیخ و پکار کسی کو سنائی نہ دی جو اب ان بے عمل ایس او پیز کی آڑ میں زیارت، سوات، نتھیا گلی، ناران، کاغان، گلگت، سکردو، ہنزہ، چترال اور دیگر دور دراز مقامات تک کرونا پھیلانے کی اجازت دی جا رہی ہے۔

جناب وزیر اعظم! معیشت کا پہیہ چلانے کے لئے آپ کے اقدامات سر آنکھوں پر مگر انسانی زندگی اور صحت کی بھی ایک قیمت ہوتی ہے جو کسی نہ کسی کو چکانی پڑتی ہے۔ ہوٹل میں صرف پیسہ خرچ کرنے والا گاہک اور منافع کمانے والا مالک ہی نہیں دیگر عملہ بھی ہوتا ہے جو روز اپنے گھر جاکر دیگر افراد تک وائرس منتقل کر سکتا ہے۔ گاڑی چلانے والا ڈرائیور، اس کا کلینر اور وہ دکاندار جس کے پاس جاکر سیاح خریداری کریں گے وہ بھی روز اپنے گھروں تک وائرس لے جا سکتے ہیں۔ ان سب کا تحفظ بھی حکومت کی ذمہ داری ہے جس کے سربراہ آپ ہیں۔

سیاحت کے لئے صرف ایس او پیز کی نصیحت سے کام نہیں چلے گا اس لئے اس شعبے کو کھولنے کی اجازت دینے سے پہلے مندرجہ ذیل اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے

ٹور آپریٹرز: سیاحت کے کاروبار کرنے والوں کی دوسروں کی صحت، تندرستی اور بہبود کے بارے میں ذمہ داریوں کا تعین کریں اور ان کی وجہ سے پہنچنے والے نقصانات کے ازالہ کا پابند بنا دیا جائے۔

ہوٹل مالکان: ہوٹل مالکان کو پابند بنا دیا جائے کہ نہ صرف گاہک بلکہ ان کے پاس کام کرنے والوں کو بھی وائرس لگ جائے تو و نوکری سے فارغ کرنے کے بجائے ان کے معاشی نقصان کے ازالہ کے علاوہ علاج معالجہ پر اٹھنے والے اخراجات بھی ہوٹل مالک کی ذمہ داری ہوگی۔

سیاح : صرف کسی لیبارٹری سے کرونا فری سرٹیفکیٹ پر اکتفا نہ کیا جائے بلکہ ہر سیاح سے لکھوا کر پابند کر دیا جائے کہ اگر اس کی وجہ سے کہیں کسی تک کرونا کا وائرس پہنچ گیا تو تمام تر جانی و مالی نقصان کا ازالہ اس کی ذمہ داری ہوگی۔

جناب وزیر اعظم! کرونا کی وبا سے نمٹنے کے لئے آپ سرمایہ درانہ نظام کے سرخیل امریکہ کے نقش قدم پر چل پڑے ہیں تو وہاں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کوئی لنچ مفت میں نہیں ہوتا کسی کو تو قیمت چکانی پڑتی ہے۔ پھر سیاحت کی قیمت غریب لوگ کیوں چکائیں وہ کیوں نہیں جو اس سے منافع کماتے ہیں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

علی احمد جان

علی احمد جان سماجی ترقی اور ماحولیات کے شعبے سے منسلک ہیں۔ گھومنے پھرنے کے شوقین ہیں، کو ہ نوردی سے بھی شغف ہے، لوگوں سے مل کر ہمیشہ خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر شخص ایک کتاب ہے۔ بلا سوچے لکھتے ہیں کیونکہ جو سوچتے ہیں, وہ لکھ نہیں سکتے۔

ali-ahmad-jan has 220 posts and counting.See all posts by ali-ahmad-jan

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *