بحریہ ٹاون کی دیواریں گراتے ارطغرل غازی


بچپن میں ”سچ میں برکت ہے“ ، ”ایمانداری بہترین حکمت عملی ہے“ اور ”نیکی کر دریا میں ڈال“ جیسی کہاوتیں سن اور پڑھ کر لگنے لگا، یہی زندگی کا نصب العین ہے۔ زندگی کا پہیا وقت کی لہروں کے دم پر آہستہ آہستہ آگے بڑھنے لگا تو اشفاق احمد صاحب کی طرز پر لکھی گئی یہ کہانیاں بودی اور بے اثر معلوم ہونے لگیں۔ تقریباً دو سال قبل خود لکھنے کا فیصلہ کیا تو معلوم ہوا کہ کہانیاں تو وہ ہیں جو خاموش ٹھنڈی رات میں بھی کہرام برپا کر دیں۔ خیر یہ ایک الگ موضوع ہے۔

کچھ دن قبل اداکارہ عظمی خان اور آمنہ عثمان کا اسکینڈل سامنے آیا، تو پل بھر کے لئے رک کر اس بحث کو دیکھنے تک کا دل نہ کیا لیکن جس طرح خیراتی بھائیوں نے سوشل میڈیا پر باجی بچاؤ اور ملک کو بچاؤ کے ہیش ٹیگز کا استعمال شروع کیا تو سوچا لنڈے کے محمد بن قاسموں اور ارطغرل غازیوں کو آئینہ صاف کر کے حقیقت سے آشنائی کروائی جائے۔

اداکارہ عظمی خان اور آمنہ ملک کے معاملے کے بعد مجھے بچپن کی وہ کہانی یاد آ گئی، جس میں دو بلیاں ایک دوسرے سے روٹی کے ٹکڑے کی خاطر لڑتی ہیں، لڑائی کے دوران میں ایک بندر انصاف کرنے کے بہانے وہ روٹی کھا جاتا ہے۔ اب اس کہانی میں وہ دو بلیاں کون ہیں، یہ تو پتا نہیں مگر خاموشی سے سلامتی کی روٹی عثمان ملک کھا گیا۔

مجھے یہ سمجھ نہیں آیا کہ دنیا کی کون سی ایسی بیوی ہے، جو اپنے شوہر ہفتے میں چار دن اپنے پاس اور تین دن کسی اور عورت کے پلو سے باندھنے پر آمادہ ہو گی۔ یقیناً مشرقی عورت کیا مغربی عورت بھی اب گھر بچانے کی خاطر کیا کچھ نہیں کرے گی، تو آمنہ عثمان نے کیا غلط کیا۔ اگر یہ سوشل میڈیا والے لنڈے کے ارطغرل اپنے آس پاس نظر دوڑائیں گے تو پاکستان میں کم و بیش یہ ہر گھر کی کہانی ہے۔ پھر ہنگامہ ہے کیوں برپا؟ جب آمنہ عثمان جیسی خواتین خلع لے کر اپنی زندگی اپنی محنت اور دم پر گزارنے کی ٹھان لیں تو وہ فیمنسٹ؟

پھر بات کر لیں عظمی خان کی تو ان کو آمنہ عثمان کے حامی، عظمی کو ویشیا تک کے القابات سے نواز رہے ہیں۔ لنڈے کے غازیو! کوٹھے پر کام کرنے والے مہنگی شراب اور ٹھنڈے ململ کے بستروں ہی پر اپنا سودا نہیں کرتی۔ ان میں سے کبھی ٹاٹ پر لیٹ کر جسم بیچنے کے والی کے انداز بھی تو دیکھو۔ میں دعوا کرتا ہوں ایسی عورت کو دیکھ کر مردے کی رگوں میں جما خون بھی ہلکی سی آہ بھرے گا۔

اس ملک میں سوشل میڈیا پر بیٹھ کر گندے اور بے ہودہ طریقے سے تماش بینی کرنے والوں مجھے یہ بتاؤ کہ اس ملک میں کون سی ایسی چیز ہے جو نہیں بکتی اور منصف سے لے کر ملا تک، مکان سے لے کر مسجد تک ایسی کون سی چیز ہے جو ملک ریاض نے خرید کر نہیں دکھائی؟

ایک بات میں آپ کے گوش گزار کر دوں کہ ٹویٹوں اور ہیش ٹیگز سے انقلاب نہیں آتا اور اس معاملے کا بھی کچھ نہیں ہو گا۔ ملک ریاض عظمی خان کو دو فلمیں دلوا دیں گے، آمنہ عثمان پھر طاقت کے نشے میں گم ہو گیں، عثمان ملک نئی ماڈل کی تلاش میں دیوانے ہوں گے اور لنڈے کے ارطغرلوں کی تلواریں پھر بحریہ ٹاؤن فتح کرتے کرتے ٹھنڈی پڑ جائیں گی۔

Facebook Comments HS